سرمایہ داری کے تضادات

ہمارے عہد کے لبرلز اور اس سے پہلے کے سوشل ڈیموکریٹس جو اصلاحات کے عمل پہ یقین رکھتے تھے، اور یہ سمجھتے تھے کہ سرمایہ داری میں اصلاحات کرکے اور خیر و شر کے الہیاتی فلسفے کی تبلیغ کرکے ہم اسی نظام،یعنی سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کو ایک فلاحی ریاست میں بدل سکتے ہیں۔ جس میں سرمایہ دار اور مزدور باہمی ہم آہنگی سے رہ سکیں گے۔ اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض خوش اسلوبی سے ادا کریں گے۔ لیکن اس مابعداطبعیاتی خوش فہمی سے پہلے سرمایہ داری کے نامیاتی تضادات کو نظرانداز کردیا گیا۔
اس نظام کا سب سے بڑا تضاد اور کرائسسز قدر زائد کی شکل میں سامنے آتا ہے، جس میں مزدور سے جان توڑ کام لیا جاتا ہے اور ناکافی اجرت دی جاتی ہے، اور پھر اس کی اجرت میں سے بھی ایک بڑا حصہ سرمایہ دار ہڑپ جاتا ہے۔جس سے ارتکازِ دولت چند ہاتھوں میں سکڑنے لگ جاتا ہے اور پھر یہ بڑا سرمایہ دار چھوٹے سرمایہ داروں کو بھی شکست دے کر اکیلا معاشرے کی ننانوے فیصد دولت کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ ارتکازِ دولت ایک طرف یا ایک کمپنی کی طرف ہوجاتا ہے۔ تمام معاشرہ غربت کی اندھی کھائی میں گرجاتا ہے اور سرمایہ دار کی دولت کا حجم بے تحاشا بڑھ جاتا ہے۔ ملکی اور عالمی سطح پہ یہ سرمایہ دار مل کر گروہ تشکیل دیتے ہیں اور سامراج کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
یہی گروہ کسی بھی ریاست کو ایک سامراجی ریاست میں تبدیل کرنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اپنے مزدوروں کی لوٹ مار کے بعد یہ سستی ترین لیبر کے حصول کے لیے پسماندہ ممالک کا رخ کرتے ہیں، جہاں معدنی وسائل کو سستے ترین داموں اپنے گماشتوں سے حاصل کرتے ہیں اور ان کو کمیشن کی مد میں پیسہ دیا جاتا ہے۔ جس سے یہ نوزائیدہ سرمایہ دار طبقہ جنم لیتا ہے، اور یہ نوزائیدہ سرمایہ دار طبقہ اور سامراج دونوں مل کر پسماندہ ممالک کے عوام کا دوہرا استحصال کرتے ہیں۔ اور یہی استحصالی سرمایہ پھر سامراجی ریاست کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔
ایک گم نام لکھاری نے لکھا تھا ، جس کا تعلق بلاشبہ ایشیا ، افریقہ یا لاطینی امریکہ کے کسی پسماندہ ملک تھا ”کہ یورپ کی بلند و بالا عمارتوں، محلات، پختہ سٹرکوں اچھے فٹ پاتھوں کے نیچے نہ جانے کتنے ہی تیسری دنیا کے لوگوں کے جسم سے نچوڑے ہوئے سرمایہ کی بنیاد ہے۔ ان کے بلند و بالا محلات کی بنیادیں ہمارے لہو پہ قائم ہیں“
یہ حتی الامکان ایک خیالی پلاو تھا کہ سامراج کی خودبخود موت ہوجائے گی اور پہلی جنگ عظیم سرمایہ داروں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوگی، جیسے بہت سے مارکسی اس بارے میں اپنا تناظر دیتے تھے۔ غلط ثابت ہوا اور لینن نے واشگاف انداز میں اس تناظر کو رد کیا اور سامراج کے مزید بڑھوتری کے بارے میں اپنا نکتہ نظر پیش کیا جسے وقت نے سچ ثابت کیا۔ اس جنگ سے یہ ہوا کہ چھوٹے سامراجیوں کو شکست فاش ہوئی یا جو دوسرے کی نسبتاً کچھ کمزور تھے وہ ناکام رہے اور برطانوی اور امریکی سامراج کی حیثیت سے جلوہ افروز ہوئے۔
دوسرا آئیڈیلسٹک نظریہ برنشٹائن کا تھا جس کے ہمارے سوشل ڈیموکریٹس پیرو ہیں، کہ سرمایہ داری میں بتدریج اصلاحات لا کر سوشلزم کو لایا جاسکتا ہے اور امن پسندانہ انداز سے بھی سوشلزم کی طرف مرجعت ممکن ہے۔ موجودہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹیاں اسی برنشٹائن کی پیرو ہیں۔ مگر پھر کیا ہوا کہ ان پارٹیوں نے صرف اصلاحات کی طرف ہی توجہ رکھی اور ٹھوس عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ اب ایک انتخاب جیت کر یہ آتے ہیں تو اگلا سرمایہ دار پارٹی جیت جاتی ہے، سوشل ڈیموکریٹس کی تمام اصلاحات کو وہ فوراً ختم کردیتے ہیں۔ اور حالات پہلے ہی جیسے رہتے ہیں۔ لیکن بعد میں ان ہی سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں نے سرمایہ دارانہ سیاست کے پینترے اختیار کرلیے اور کٹوتیوں کی سرمایہ دارانہ استحصال والی پالیسیوں کو مزید تقویت بخشنا شروع کردی۔ عوام پہ ٹیکسوں کا بار مزید بڑھا دیا۔ اس وقت سیکنڈے نیویا کے ملکوں میں سب سے زیادہ عام عوام سے ٹیکس وصولا جاتا ہے۔ ڈنمارک اور سویڈن میں یہ شرح 57% کے قریب ہے۔
برنشٹائن کہتا تھا کہ صرف جمہوریت ہی سماجی انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ جس کے لیے طبقاتی جدوجہد سے حکومت کا خاتمہ ضروری نہیں۔ اسی لیے طبقات کی گھیرا بندیوں سے نکلنا ضروری ہے کیونکہ جمہوریت سکھاتی ہے کہ تمام طبقات مل جل کر کام کریں۔ ریاستی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سوشل ڈیموکریسی بجائے کسی انقلاب کی امید کے، مزدور طبقے کو منظم کرے اور جمہوری قوت بنائے تاکہ ریاست میں اصلاحات کی جاسکیں۔ یہ تھیسیس اس کے اپنے دور میں ہی غلط ثابت ہوگیا۔ ایسے کہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹیاں جو مزدور طبقے کی روایات تھیں ان پہ سرمایہ دار حاوی ہوتے گئے اور مزدور طبقہ صرف تماشائی کی حیثیت سے ان پارٹیوں کا رکن رہ گیا۔
اب سوشل ڈیموکریسی کی یورپ میں یہ حالت ہوگئی ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ سائیرزا جو انتخابات جیتی ہی صرف کٹوتی مخالف نعروں کی وجہ سے تھی، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور یورپی اکنامک کمیشن کے ساتھ بیٹھی ہے، ان سامراجی اداروں نے 120 ارب ڈالر کا بیل آوٹ دیا ہے جس سے معیشت کو تقویت ملے گی لیکن شرائط یہ رکھی گئی ہیں کہ عوام کی تنخواہوں، پنشن، جائیداد میں زبردست کٹوتیاں ہوں گی۔ لوگوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا۔ 22% تک شرح بے روزگاری پہنچ چکی ہے۔ یہی حال اٹلی، سپین، آئیرلینڈ اور پرتگال میں ہونے والا ہے۔ اس حالت میں کیا سوشل ڈیموکریسی سرمایہ داری کو مزید سانس مہیا کرے گی ؟
عوام کا غصہ عروج پہ ہے۔ اور کٹوتی مخالف نعروں سے شہر گونج رہے ہیں۔ وال سٹریٹ پہ قبضہ کرو جیسی تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔
یہ سب وجوہات دراصل سرمایہ داری کے اندر چھپے نامیاتی تضادات کی وجہ سے ہیں۔ کرپشن اور قدر زائد کی زیادتی دولت کا ارتکاز ایک طرف کو موڑ دیتی ہے اور اکثریت ایک ایک پائی کو محتاج ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں صرف سوشلزم ہی ہے جو اس ارتکاز کو ختم کرسکتا ہے اور سرمایہ داری کی سڑاند زدہ لاش کو اس کی باقیات کے ساتھ ٹھکانے لگا سکتا ہے۔

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *