خوف کا آسیب،پروفیسر اور ہارون بلورشہید۔مدثر اقبال عمیر

یہ باچا خان یونیورسٹی پہ حملے کا اگلا دن تھا۔ان آنکھوں میں سرخی نمایاں تھی ، وہ آنکھیں صاف چغلی کھا رہی تھیں کہ رات بھر سوئی نہیں ۔ آپ اپنے تاثرات چھپانے کے جتنا چاہے ماہر ہوں ،کرب کی شدت کہیں نہ کہیں سے ظاہر ہو ہی جاتی ہے اور اس دن سر نوازصاحب کے چہرے سے نمایاں تھا کہ اندر درد کے جھکڑ چل رہے ہیں ۔ بات بڑھانے سے پہلے میں سر کا تعارف کروادوں۔

پروفیسر محمد نواز سومرو صاحب ہمارے پرنسپل ہیں ،بلوچستان کے تعلیمی حلقوں میں بڑے معروف ہیں ،عمر کی پچاس دہائیاں دیکھ چکے ہیں ،نیرنگی سیاست دوراں کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔باتوں پہ نہیں عمل پر یقین رکھتے ہیں ۔قلم ،مکالمہ،دلیل اور انسانیت کی طاقت اور حرمت کے داعی ہیں اور ان نایاب ہوتے ہوے افراد میں سے ایک ہیں جو کتاب،فرد اور معاشرے کا مطالعہ بھی رکھتے ہیں اور تجربہ بھی ۔

تو میں بیان کر  رہا تھا کہ وہ باچا خان یونیورسٹی پہ حملے کا اگلا دن تھا، تمام تعلیمی اداروں میں ہائی الرٹ جاری ہوچکا تھا ،میڈیا پہ ذمے داروں کے تعین کی اک لاحاصل بحث جاری تھی ،دکھ کی اک گہری چادر تھی جس نے ہرطرف اپنا دامن پھیلایا ہوا تھا  اور وہی دکھ آج سر کےلہجے میں صاف جھلک  رہا تھا ۔

اللہ تعالٰی ہارون بلور مرحوم کی مغفرت فرمائیں۔۔۔عاصم اللہ بخش

“مدثر ! یہ ہمیں خوف کا باسی بنانا چاہتے ہیں ,اور جب خوف رگوں میں سرائیت کر جائے تو انسان کے تمام حواس صرف ایک نقطے پر آکر ٹھہر جاتے ہیں اور وہ ہے تحفظ۔” اس دن سر کا لہجہ کچھ زیادہ ہی دھیما تھا ۔

“انھوں نے صرف ان بائیس لوگوں کو شہید نہیں کیا بلکہ انھوں نے بیس کروڑ لوگوں کے اندر کے اس احساس کو بھی متزلزل کر دیا ہے جو انھیں محفوظ ہونے کا یقین دلاتا ہے۔ اور اس کے لئے ان دہشت گردوں کا لگا کیا ؟صرف چار بندوں کی جان۔ جب یہ احساس تحفظ ہی  مرجائے یا متزلزل ہو جائے تو اسے زندہ یامضبوط کرنے میں بڑا وقت لگتا ہے ۔ آپ کی سا ری توجہ اسی جانب لگ جاتی ہے ، ترجیحات ،خواہشات کے سارے پیمانوں کی درجہ بندی تبدیل ہو جاتی ہے ،اعتبار اور اعتماد کی کسوٹی پہ ہر ایک کو پرکھا جاتا ہے ،اپنوں سے بھی خوف آتا ہے اور؛؛ہم نے خوف  کےاس  آسیب  کو شکست دینی ہے ۔” سر کے لہجے میں اب غصہ نمایاں تھا۔

مجھے علم تھا کہ یہ ان کی پہلی رات نہیں تھی جو  جاگتے گزری ،  وہ کیڈٹ کالج مستونگ کے پرنسپل تھے جب سانحہ اے پی ایس ہوا ۔خوف کے   آسیب سے واسطہ  تب سے ہی تھا۔لیکن  یہ کارنامہ بھی ان ہی کے سر تھا کہ آٹھ سال  کےوقفے کے  بعد انھوں نے کیڈٹ کالج مستونگ کا یوم والدین  منعقد کروایا(جو ان کے جانے کے بعد پھر نہ ہوسکا)۔ اس کے علاوہ کئئ وہ ناممکن کام کروا   دئیے جن میں  رکاوٹ  صرف خوف تھا۔پھر ہمارے پرنسپل بنے ۔

کیڈ ٹ کالج ہو اور تھریٹ الرٹ نہ ملیں ؟ ایسا ناممکن تھا ، سو ملے،لیکن جو مستونگ میں خوف کا شکار نہ ہوئےیہاں کیا ہوتے ؟ ادارے کے سربراہ ہوتے  ہوئے بھی خود  رات کو گشت کرتے۔یوں رت جگے کی عادت بنالی ۔انھی دنوں ایک تصویر بڑی وائرل ہوئی ایک اور پرنسپل کی ۔ کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کے پرنسپل کی کہ وہ ہاتھ میں گن لئے کھڑے تھے ،لوگوں نے بڑی پھبتیاں کسیں ،مذاق اڑایا لیکن کسی نے اس پر نوحہ گری نہیں کی کہ ایک استاد کو قلم کی حفاظت کے لئے بندوق کی ضرورت کیوں پڑی؟۔

اکیس جنوری 2016 کی وہ دوپہر گذر گئی۔خوف کے سائے کچھ کم ہونا شروع ہوئے ۔ احساس تحفظ انگڑائی لینے ہی لگاتھا کہ آٹھ اگست کی منحوس صبح آن پہنچی اور سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی وارڈ کے درو دیوار نے وکلاء کے لہو سے خوف کے آسیب کو پھر جنم دیا۔

دانیال بلور کا بلند حوصلہ۔۔۔۔صفی سرحدی

اس آسیب کا سایہ دھندلا ہوا ہی تھا  کہ چوبیس اکتوبر کو فضا پھر گولیوں سے گونج اٹھی ،اب کی بار نشانہ خود محافظ بنے،پولیس ٹریننگ سینٹر ہزارگنجی کوئٹہ میں ڈر ،دہشت ،موت کا وہ نوحہ لکھا گیا جس کی باز گشت کئی ماہ تک فضاؤں میں اپنا اثر چھوڑتی رہی۔
سر کے آفس میں لگی ٹی وی اسکرین پر جھلسی دیواریں دکھائی جارہی تھیں ، نہ جانے کیسا بارود تھا وہ کہ سب کچھ راکھ بنا گیا تھا ۔خوف کا آسیب فضا میں اپنی موجودگی کا بڑا پرزور یقین دلا رہا تھا۔
“مدثر !”سر کی آواز  کمرے میں گونجی۔”ان کی خواہش ہے کہ خوف کو ہمارے وجود کا حصہ بنادیا جائے۔ جو  انشاء اللہ کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ ہم لڑیں گے ہمیں خوف کے اس آسیب  کو زندگی کی مسکراہٹوں سے شکست دینی ہوگی ۔ورنہ ہم سب مارے جا ئیں گے۔ہم اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنائیں گے ۔ہم خوف کی کوکھ سے بے خوفی کو جنم دیں گے ۔ہم مسکرائیں گے ،ہم ہار نہیں مانیں گے ،ہم زندہ رہیں گے اور فضا میں پھیلے اس خوف کو اپنی نئی نسل کے وجود کا حصہ نہیں بننے دیں گے۔”پروفیسر صاحب کے دھیمے لہجے میں کرب تھا لیکن مایوسی نہیں تھی۔

2016 گذر گیا ،اس سال بھی ،اس سے اگلے سال بھی اور اس  سے  بھی  اگلے سال  کی گرمی کی تعطیلات تک ہم جئے ،بھرپور انداز میں جئے ،ہمارا کالج ایک سرکاری اقامتی ادارہ ہے ،یہ بھی بتاتاچلوں کہ پاکستان کے دیگر کیڈٹ کالجز اور بلوچستان کے کیڈٹ کالجز میں تھوڑا فرق ہے جسکی تفصیل پھر سہی ۔ہم  نے بچوں کو زندگی کی مسرتوں کا سبق ہی پڑھایا ۔ کم وسائل میں بھی ہماری ساری سرگرمیاں جاری رہیں ۔یوں کہیے خوف کے آسیب کو ہم نے کوشش کی کہ جتنا ہوسکے ہمارے طلباء کے قریب نہ پھٹکے۔
اور پھر دس جولائی 2018آگیا !!!
کل رات کو اچانک خبر ملی کہ ہارون بلور صاحب شہید کر دئے گئے ۔ مجھے یوں لگا کہ خوف کا آسیب اک بار پھر میرے سامنے دانت نکوسے کھڑا ہوگیا ہے۔کرب کے جھکڑ قلب و روح میں سب کچھ تتر بتر کرنے لگے ۔ناامیدی نے  دل  کی گہرائیوں میں لنگر ڈال  دیا ۔لیکن !!!!

صبح میں نے دانیال بلور کی وڈیو دیکھی ،عجیب سی بےخوفی تھی اس کے ماتم میں،اس کا کارکنوں کو تسلی دینے کا انداز،صبر کا درس ،اس کے لہجے کےکرب  میں لپٹا پیغام  دوبارہ  مجھے پروفیسر صاحب کے پاس لے گیا ،میرے کانوں میں ان کی آواز گونجنے لگی۔

“ان کی خواہش ہے کہ خوف کو ہمارے وجود کا حصہ بنادیا جائے۔ جو انشاء اللہ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ،ہم ہار نہیں مانیں گے ،ہم زندہ رہیں گے اور فضا میں پھیلے اس خوف کو اپنی نئی نسل کے وجود کا حصہ نہیں بننے دیں گے۔”مجھے لگا کہ خوف کے آسیب کا سایہ دھندلا رہا ہے۔

Mudassir Iqbal Umair
Mudassir Iqbal Umair
بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے شہر اوستہ محمد میں بسلسلہ ملازمت مقیم ہوں۔تحریر اور صاحبان تحریر سے محبت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خوف کا آسیب،پروفیسر اور ہارون بلورشہید۔مدثر اقبال عمیر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *