آئین میں ناگزیر تبدیلیاں۔۔۔محمد اقبال دیوان

میرے وطن،میرے مجبور، تن فگار وطن
میں چاہتا ہوں تجھے تیری راہ مل جائے
میں نیویارک کا دشمن، نہ ماسکو کا عدو
کسے بتاؤں کہ اے میرے سوگوارر وطن
کبھی کبھی تجھے،،تنہائیوں میں سوچا ہے
تو دل کی آنکھ نے روئے ہیں خون کے آنسو۔۔(مصطفےٰ زیدی مرحوم کی نظم بے سمتی سے)
تہتر کا آئین بناتے وقت اس وقت کے مرد آہن اور پاکستان کے عیار ترین ،انتقام پسند اور ناعاقبت اندیش وزیر آعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے پیش نظر پانچ بڑے مقاصد تھے۔
پہلا مقصد تو یہ تھا کہ پارلیمنٹ کی سیاست کے میدان میں وہ اپنے بیشتر پیش رو سیاست دانوں سے بہت آگے تھے۔مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا مودودی،مفتی محمود مذہب کے نام پر سیاست کے عادی تھے۔ ان تینوں میں مولانا مودودی وہ واحد رہنما تھے جنہیں دین اور تاریخ کا قابل قدر علم تھا مگر ان کا ایک مسئلہ تھا۔وہ دین میں جبر اور Self-Righteousness کا شکار تھے۔یونیورسٹی تعلیم کا بیڑہ غرق ان کی جماعت نے کیا جن میں جاوید ہاشمی،منور حسن، شفیع نقی جامعی، اعجاز شفیع گیلانی اور حسین حقانی جیسے موقع پرست قائدین تھے جن کا دین اور کردار سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا مدر تھریسا کا بھارت ناٹیم سے۔
سقوط ڈھاکہ سے پہلے اور بعد میں جو بڑے سیاسی نام سامنے تھے وہ اپنی اپنی جماعت کے سربراہان تو ضرور تھے مگر ان کا پارلیمانی طرز کی جمہوریت میں کوئی سابقہ تجربہ نہ تھا۔عبدالولی خان اور غوث بخش بزنجو،نوابزادہ نصر اللہ خان علاقائی سطح پر بڑے لیڈر تھے مگر وہ بھی کسی پارلیمنٹ کا بطور ممبر کبھی حصہ نہ رہے تھے۔یہ سب رموز سیاست سے تو بخوبی آگاہ تھے مگر طرز حکومت کا ان میں سے کسی کو بھی پریکٹکل تجربہ نہ تھا۔

Image may contain: 2 people

ان کے برعکس اس وقت کی پیپلز پارٹی میں حفیظ پیرزادہ،احمد رضا قصوری،یوسف بچ، عبدالحمید خان جتوئی،غلام مصطفے خان جتوئی،عزیز احمد،معراج محمد خان، ممتاز بھٹو،سائیں قائم علی شاہ اور رفیع رضا جیسے منجھے ہوئے قانون دان اوراہل سیاست شامل تھے۔یوں پارلیمانی طور پر ان تمام پارٹیوں پر پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری تھا۔
یوں جیسا تیسا آیئن بھی ان کا یہ مقصد پوار کرتا تھا کے وہ پارلیمنٹ کے ذریعے جمہوریت کے نام پر ان کی حکومت کا دفاع کرتا تھا۔وہ جانتے تھے کہ فوج سقوط مشرقی پاکستان کی وجہ سے ادھ موئی ہوئی پڑی ہے۔ بھٹو صاحب اس امر سے بخوبی واقف تھے کہ پنجاب کو زیر دست رکھنے کے لیے لازم ہے کہ وہ سندھ میں اپنا کھونٹا مضبوط رکھیں اور اس کے لیے مہاجروں کو کچلنا لازم ہوگا جس کا سب سے بہتر ذریعہ سول سروس سے ان کا اخراج اور آئندہ کے لیے کوٹہ سسٹم کا نفاذ ہے۔کہنے کو سندھ اربن میں مہاجروں کو حقوق دیے جائیں گے مگر جب دیہاتی سندھ کے افسران ڈومی سائل اور پی آر سی بیچیں گے تو مہاجروں کا سرکاری ملازمتوں میں داخلہ بعید از قیاس ہوجائے گا۔

 

Image may contain: 9 people, people standing and wedding
بھٹو صاحب جنرل گل حسن خان کو ہٹا کر 3 مارچ سن1972میں جنرل ٹکا خان کو اپنا چیف آف آرمی بناچکے تھے۔گل حسن کی سفارش پر یحیی خان نے بریگڈئیر ضیا الحق کا اردن میں کیا ہوا فلسطنیوں کا قتل عام معاف کیا تھا۔انہوں نے بطور انسٹرکٹر فلسطینی مہاجروں کے کیمپ پر ٹینکوں سے گولہ باری کی تھی۔یہ جی ایچ کیو کے تحریری احکامات کی بہیمانہ خلاف ورزی تھی۔پاکستان کا فوجی دستہ اپنے اردن کے قیام میں کسی طور ایک Combat Unit نہ تھا بلکہ وہ خالصتاً تربیت کے مقاصد کے لیے بھیجا گیا تھا۔فلسطینی اس سے بہت ناراض ہوئے۔عرب نوجوانوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیل گئی۔گل حسن پاکستان کے آخری کمانڈر ان چیف تھے۔وہ پہلے سربراہ تھے جن کا کورٹ مارشل حمود الرحمن کمیشن کی سفارشات پر ہوا اور وہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ وہ سب سے کم عرصے کے لیے فوج کے سربراہ رہے۔سوچیں اگر بریگڈیئر ضیا الحق کو معاف نہ کیا جاتا۔ان کا کورٹ مارشل ہوجاتا تو ان کے جنرل ٹکا خان کے بعد سربراہ بننے کی کوئی امید نہ تھی اور یہ نہ ہوتا تو وہ بھٹو کو تختہء دار تک گھسیٹ کر نہ لے جاتے۔جنرل گل حسن ان سے مشرقی پاکستان کے دنوں میں بہت قریب آچکے تھے۔اس کے باوجود بھٹو صاحب کو جرنیلوں پر کچھ زیادہ اعتماد نہ تھا۔نجی محافل میں وہ اکثر اپنے والد شاہ نواز بھٹوریاست جوناگڑھ کے وزیر اعظم سے وہاں کے درباروں میں سنی ہوئی ایک مثال دیا کرتے تھے کہ جرنیل اور داماد گدھے کی پچھلی لات ہوتے ہیں کسی وقت بھی وہ دولتی جھاڑ سکتے ہیں۔ بہت بعد میں جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف جنہیں دو مختلف جمہوری حکومتیں جونیئر ہونے کے باوجود نیچے سے اوپر لاکر فوج کے منصب اعلی پر فائز کرچکی تھیں ان کے ان خدشات کو درست ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ بھٹو صاحب سمجھتے تھے کہ ان جرنیل صاحبان کے ان کی اپنی ایک محبوب اصطلاح Bonapartism (فوج کی اقتدار پر قبضہ کرنے کی عادت) جوانہوں نے جنرل گل حسن اور ائیر مارشل عبدالرحیم کی برطرفی کے وقت استعمال کی تھی۔ ایسی صورت میں آئین اور پارلیمنٹ سب سے مضبوط خط دفاع ثابت ہوگی۔
ان کا تیسرا بڑا اور اہم مقصد یہ تھا کہ وہ ایک مضبوط مرکزی بیوروکریسی سے خائف تھے۔یہ سب بیورکریٹس جن میں فدا حسین،الطاف گوہر،مسرور حسن خان،ممتاز حسن وغیرہ شامل تھے انہیں بہت جعلی اور چالباز سمجھتے تھے۔اسی لیے ان کا مطمع نظر یہ تھا کہ اس بیوروکریسی میں میں نہ صرف اپنے من پسند افراد کو داخل کرلیں بلکہ دیہی سندھ جس کی مرکز میں نمائندگی بہت قلیل تھی اس میں کوٹا سسٹم کے ذریعے ابتدائی اور وسطی سطح پر وفادار بیورکریٹس کی ایک مناسب اور محفوظ حلقہء بندی قائم کرلیں۔ قیام پاکستان سے اپنی ذات میں انجمن اور خود سر سی ایس پی کلاس کو وہ اپنے تئیں پارلیمنٹ میں زیر بحث لائے بغیر ہی20, اگست سن1973 کی انتظامی اصلاحات سے نکیل ڈال چکے تھے اور اس کا برطانوی راج والاآئینی احساس تحفظ اور کروفر ختم کرچکے تھے۔ اس کے علاوہ بھی حکومت آئین کے سن1973میں نفاذ سے ایک سال پہلے ہی دس بڑے شعبوں میں جن میں لینڈ،بینکنگ،لیبر،معاشی،نیشنالئیزیشن،تعلیم،صحت، پیپلز ورکس پروگرام،انشورنس پبلک کارپوریشنوں کا قیام تھا ان اصلاحات کو نافذ کرچکے تھے جس کی وجہ سے حکومت وقت کی سرکاری اداروں میں بہت مضبوط ہوچکی تھی۔یہ کام انہوں نے پاکستان کے چوتھے صدر کے طور پردسمبر 1971 سے اگست 1973 کے قلیل عرصے میں مکمل کرلیا تھا۔اس کے بعد کا ان کا چار سالہ دور پاکستان کے نویں وزیر اعظم کا ہے۔
ان کاچوتھا مقصد اس آئین کے نفاذ سے یہ بھی تھا کہ اب ان اصلاحات اور حکومت کے طریق کار پر اگر کبھی پارلیمنٹ میں بحث ہوتی بھی تو ان اصلاحات کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی بجائے محض ان شعبہ ہائے حکومت میں دوران نفاذ ظاہر ہونے والی نمایاں کمزوری کو دور کرنے پر بحث ہوتی۔اس حوالے سے جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کو Out-Wit کردیا تھا۔ اس بحث سے مخالفین کا احساس نمائندگی بھی مجروح نہ ہوتا اور ان کی دخل اندازی بھی ایک مناسب حد تک ہی رہ پائی۔اس کا پانچواں بڑا مقصد خودان سیاسی مخالفین کے آئین اور پارلیمنٹ سے وابستگی باعث تفاخر تھی اور انہیں عوام کی نگاہ میں ممتاز کرتی تھی۔

Image may contain: one or more people, people standing, beard and outdoor

 

 

پاکستان اور یورپ اور لاطینی امریکہ کے کچھ پسماندہ ممالک کے عوامی نمائندوں کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ارباب اقتدار اوپر پہنچ کر لفٹ بند کردیتے ہیں۔سسٹم کی جس رسی والی سیڑھی Rope-Ladderکو انہوں خود جمہوریت کے نام پر باندھ کر اوپر پہنچنے کا ذریعہ بنایا ہوتا ہے وہ اسی کو آگ لگا کر جلادیتے ہیں۔ان کو اپنی طاقت اور حالات پر کنٹرول کے حوالے سے یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے کہ ان کا اقتدار ایک دائمی حقیقت ہے اور وہ اپنے ہر پیش رو سے زیادہ زیرک اور باصلاحیت ہیں۔یہی غلطی بھٹو صاحب سے بھی ہوئی۔عراق کے سفارت خانے سے جب اسلحہ برآمد ہوا تو انہوں نے بلوچستان اسمبلی برطرف کردی جہاں ان دنوں نیپ کی حکومت تھی۔نیپ کے اہم لیڈروں پر پابندی لگا کر انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔جب 8 جنوری1977 ان کے کے سیاسی مخالفین نے قومی اتحاد بنایا تو وہ Panic کرگئے اور غیر متوقع طور پر الیکشن کا اعلان کردیا۔
بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ آئین کی موجودگی میں جمہوری عمل کو ایک دوام مل چکا ہے جنرل ضیا الحق کو وہ سات جرنیلوں پر ترقی دے کر فوج کا سربراہ بنا چکے ہیں لہذا اس سمت سے انہیں کوئی خطرہ نہیں۔اب آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف اگر فوج مداخلت پر اتر آئے تو آئین کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو خراب عورتوں کے شوہروں کی ہوتی ہے یعنی وہ محض ایک ٹاٹ کا پردہ ثابت ہوتے ہیں۔جن دنوں مملکت محفوظ ہوتی تھی یعنی سن انیس سو ستر تک تو گھر کے دروازے بند کرنے رکھنے کا رجحان محلے میں نہ تھا ۔ غریب محلوں میں پٹسن کی بوریوں کو سی کر ایک ٹاٹ کا پردہ لٹکادیا جاتا۔اس سے پردے کا تو اہتمام ہوجاتا تھا مگر یہ داخل ہونے والوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتا تھا۔
پاکستان میں آئین یوں بھی بہت عجلت میں بنا اور اس میں جتنی بھی ترامیم ہوئیں وہ بہت Person-Specific اورTurf -Securing تھیں۔آئین کی دفعہ 58(2) B جو صدر مملکت کو نامساعد حالات میں اسمبلی کو برطرف کرنے اور حکومت کو برخاست کرنے کا اختیار دیتی تھی۔یہصدر ضیا الحق نے اپنی  پسندیدہ اور چہیتی  مجلس شوری کے ذریعے سن1985 میں اس لیے پاس کرایا تھا کہ ان کی متعلق العنانی میں فرق نہ آجائے۔اس کے تحت پہلے محمد خان جونیجو، بعد میں دو مرتبہ بے نظیر صاحبہ اور ایک مرتبہ نواز شریف صاحب کو اس دور کے صدور نے فارغ کردیا۔یوں چار مرتبہ تین وزیر اعظم گھر بھیج دیے گئے۔بھٹو صاحب کو آئین بنانے کا سرخیل تو سب کہتے ہیں مگر جتنا نقصان اس آئین نے پاکستان کو پہنچایا اس کی عدم موجودگی نے نہیں پہنچایا۔اسے بنانے والے چھوٹے بڑے سب ہی سیاست دان یہ جانتے تھے کہ اس کے عین مقابل فوجی حکمران بندوقیں تان کرکھڑے ہیں۔ان سوئیلین سیاست کاروں کو جو کچھ بھی ملنا ہے اس آئین کے نام پر ملنا ہے۔اس کی آڑ میں جمہوریت کی ناجائز کوکھ سے جنم لینے والے ان کی رضیہ سلطان اور محمد شاہ رنگیلا بادشاہ بن سکتے ہیں۔ یوں آئین کے نام پر سیاست مافیا فیملیوں کا راج ہے۔

پاکستان میں موجودہ مروجہ آئین کی تشکیل سازی کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد جو نئی حکومت جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کی اس نے پہلے دو سال تک یعنی 1973 تک اس نے صدراتی نظام کے تحت اپنا کام صدر ایوب خان والے 1962 کے آئین کے تحت چلایا۔17.اپریل1972کو بھٹو صاحب نے ایک ہمہ گیر حیثیت کی آل پارٹی میٹنگ بلائی جس میں ہر رنگ و نظریے کی حامل سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان جمع ہوئے۔اس کا مقصد کسی نئے آئین کی تشکیل نہ تھا بلکہ 1956 کے آئین کے ضابطوں کو نئے حالات کے مطابق ایک آئین نو کا جامہ پہنانا تھا اور انہیں محض ریاست کے مختلف علاقوں کی حکومت سے بڑھ کر تجارت، مالیہ،وفاق کے قرضے اور مختلف اداروں میں اختیارات کو ایک واضح اور علیحدہ شکل دینی تھی۔مشہور سیاسی فلسفیJohn Locke اور اسلامی اقدار اور قوانین کو ہم آہنگ کرکے ایک مستند دستاویز کی صورت میں ڈھالنا تھا۔
اس کے مختلف اجلاسوں میں بالآخر یہ طے پاگیا کہ اسلام مملکت کا دین ہوگا۔وزیر اعظم ملک کا انتظامی سربراہ ہوگا جو اسمبلی اور صدر کو جواب دہ ہوگا۔پارلیمینٹ قومی اسمبلی اور سینٹ پر مشتمل ہوگی۔آئین میں قدامت پسند اسلامی ضوابط کی شمولیت پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پی پی ارکان اوردیگر سرخے غیر مطمئن تھے۔اس میں پہلا Amendment تو پاکستان کی علاقائی حدود اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے سے متعلق تھا تو دوسرا قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور اس کے ساتھ غیر مسلموں کے لیے چھ نشستیں مختص کرنے کے بارے میں تھا۔20 اکتوبر1972 کو اس مسودے پر اتفاق ہوگیا اور اس کے19 اپریل 1973, کو اسے کثرت رائے سے منظور کرنے بعد 14اگست1973 کو نافذ العمل کردیا گیا۔ اس کی نسبت اگر آپ ہندوستان اور امریکہ کے آئین کا جائزہ لیں تو وہاں برطانوی ماڈل سے بہت مماثلت رکھی گئی تھی۔
امریکی آئین کی تشکیل کا جائزہ لیں تو وہاں اس کی نئی مملکت میں موزونیت کا جائزہ لینے تھامس پین، ایمرسن، جیفرسن،بینجمن فرینکلن اور جان ایڈمز جیسے لوگ موجود تھے جو انگلستان کے باشندے ہونے کے باعث بادشاہ کی مطلق العنانی سے نفرت اور انسانی آزادی کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔یہ کئی کئی مہینے مختلف اخبارات میں کالموں اور خطوط کے ذریعے، اس بات پر بحث کرتے رہے کہ ان کے دستاویز جس کی بنیاد پر آئین نے وجود میں آنا تھا اس میں We A People لکھا جائے کہ We the people۔ یہ کیا زبردست دستاویز ہے۔
ان کے دوسرےAmendment میں ایک عام آدمی کے ہتھیار رکھنے کے حوالے سے Carry, اور Bear اور Regulated جیسی اصطلاحات پر بھی خوب بحث ہوئی۔یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی تھی جو کچھ یوں تھی کہ”A well regulated Militia, being necessary to the security of a free State, the right of the people to keep and bear Arms, shall not be infringed.”
آج تک یہ ترمیم امریکی طاقتور گن لابی کی وجہ سے عام امریکی شہری کی ہتھیاروں تک بے دریغ رسائی کے حوالے سے جو بے شمار ہلاکیتیں کم سن طالب علموں کے ہاتھوں ہوئی ہیں مختلف مقدمات میں ان کی سپریم کورٹ میں بھی بحث کا نکتہ بنتی ہے۔
ان کا یہ آئین بمشکل چھ سے سات   صفحات کی کتاب ہے جس نے انہیں ایک عالم کا مالک بنادیا جب کہ ایک عام کار جس میں بمشکل پانچ آدمی سماتے ہیں اس کا مینویل ہی دو سو صحفات سے کم نہیں ہوتا۔

زمانہ جلد ہی دشمن بن سا جاتا ہے
وہ اس لہجے میں، اردو بولتا ہے

معاشرے ہوں یا ان میں بسنے والے افراد، دونوں کے بدلنے کی ایک ہی صورت ہے کہ یہ تبدیلی اندر سے آئے۔کیوں کہ یہ دونوں ایک انڈے کی طرح ہوتے ہیں۔انڈہ اگر باہر کی ضرب سے ٹوٹے تو زندگی کا خاتمہ اور اندر سے ٹوٹے تو زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔پاکستان میں ایک سوال بہت کثرت سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا پاکستان انقلاب کے دہانے پر ہے تو میرا جواب نفی میں ہے۔نفی میں اس لئے کہ انقلاب سے پہلے ایک بہت بڑا Intellectual Thought Process جسے آپ عام اردو میں خیالات کا ایک بہت بڑا عمل کہہ سکتے ہیں۔اس کا موجود ہونا ضروری ہے۔میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں طبقاتی کشمکش، کسانوں کی زبوں حالی،ایک بڑا معاشی بحران، عوام میں ایک شدید بے چینی اور مایوسی اور ایسے دیگر تمام عوامل موجود ہیں جو ایک انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ مگر یہاں اس بہت بڑی فکری تحریک کی عدم موجودگی، ان حالات کی مستقل جاں لیوا موجودگی ایک انارکی کی طرف تو مڑ سکتی ہے اور اس راہ پر گامزن بھی ہے مگر وہ جو انقلاب کا راستہ ہے وہ معدوم اور غیر واضح ہے۔ہم جسے انقلاب کہتے ہیں وہ دراصل ایک شدید احتجاجی ردعمل کا نام ہے۔ جسمیں عوام الناس، ان اہل بست و کشاد لوگوں سے جن سے وہ اپنی بہتری کے لئے عمدہ فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں ان کی ناکامی اور بداعمالیوں سے تنگ آکراپنے فیصلے کرنے کا اختیار خود اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔
انقلاب کا جائزہ لیں تو اس کے لیے لازم ہے ملک کی زبان ایک ہو۔اس کی فوج ملکی تناظر کثیر الاقوام ہو اور عوام کی بڑی اکثریت تعلیم یافتہ ہو۔تاکہ اسے انقلابی لٹریچر پڑھایا جاسکے۔مارکس، والٹیر،ماؤزے تنگ ڈاکٹر علی شریعتی کے فکری نظریات اسی وجہ سے روس،فرانس، چین اور ایران جیسے ممالک میں انقلاب کی بنیاد بنے۔
آپ کہیں گے کہ پاکستان میں ایک شعوری انقلاب کا عمل میڈیا اور عدلیہ کے ذریعے برپا ہوگیا ہے۔اس بات میں اس حد تک تو صداقت ہے کہ یہ ایک سافٹ Soft انقلاب ہے۔کسی ملک کی عدلیہ چاہے کتنی ہی بااختیار کیوں نہ ہو اس کا دائرہ کار محدود اور انتظامیہ اور مقننہ کی پیہم امداد کا پابند ہوتا ہے۔عدلیہ یوں بھی ایک طرح کی بیوروکریسی کا خمیر،ڈی این اے اور سرشت رکھتی ہے۔اس میں فوج اور سول بیوروکریسی کی طرح Conformist افراد کی بھرمار ہوتی ہے۔ان افراد سے شیر شاہ سوری اورابراہام لنکن جیسی توقعات رکھنا چھلنی میں پانی بھرنے کی کوشش ہے
اب رہ گیا میڈیا،تو میڈیا آپ کو باخبر رکھتا ہے،آپ کے گرد و پیش کے بارے میں آپ کو اہم معلومات بھی بہم پہنچاتا ہے مگر ان معلومات کو وصول کرکے اسے ایک ضابطہء عمل میں ڈھالنے کا کام جو بہت پیچیدہ اور دشوار گزار عمل ہے، وہ بہت ہی محدود ہے۔ اس سے عوام میں ایک احساس بے چارگی جنم لیتا ہے۔یوں ایک بڑے طبقے میں جو یہ احساس عام ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان کا میڈیا مایوسیوں کا زچگی خانہ ہے۔یہ تاثر یوں بھی درست ہے کہ اس کی عام کی ہوئی معلومات کو نہ تو انتظامیہ کا سپورٹ حاصل ہے نہ تعلیم کا وہ عمل اس کی مدد کررہا ہے جو اس کی دی ہوئی معلومات کو ایک باعلم طبقے کے ذریعے عملی جامہ پہنائے۔ یوں بھی آپ کو شاید علم نہ ہو کہ امریکہ جیسے ملک میں صورتحال یوں ہے کہ 1500 اخبارات 1100 رسائل 9000 ریڈیو اسٹیشنز2400 اشاعتی ادارے1500ٹیلی ویژن اسٹیشنز کل چھ کارپوریشنوں کی ملکیت ہیں جن میں ڈزنی،ویاکوم،ٹائم وارنر،سی بی ایس، اورجی،ای شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے باہر پاکستان کے سب بڑے میڈیا مغل کو تو آپ سن ہی چکے ہیں کہ میڈیا بھی ایک دھندہ ہے۔۔سو یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو۔

سوچئے اگر صدر نکسن والے واٹر گیٹ اسکینڈل اور کلنٹن کا مونیکا لیونسکی والا اسکینڈل میڈیا عام کرتا رہتا اور اسے امریکی کانگریس ایک منطقی انجام تک نہ پہنچاتی اور نکسن اور کلنٹن کو بدستور صدر رہنے دیتی تو میڈیا کا رول ایک صدا بہ صحرا ثابت ہوتا۔ان دونوں صدور کو کانگریس نے Impeach کیا۔ قوم کے سامنے دنیا کے طاقتور ترین لیڈر صاحبان کو آنسوؤں سے رلایا۔اس کے برعکس آپ نے دیکھ لیا کہ سپریم کورٹ نے جسے نااہل کہا اسے اگلے دن اس کی پارٹی نے سربراہ اور اس کے جگہ آنے والے وزیر اعظم نے اسے وہی مان دیا جو بہادر شاہ ظفر استاد ذوق کو دیا کرتے تھے۔
عوام کو ان پر کئے جانے والے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے سنگین جرم پر معافی بھی منگوائی اور پھر دھتکار کر ایوان ِصدر سے باہر نکال دیا۔سو میڈیا کی عوام کو یہ معلومات کی فراہمی، اس وقت تک ایک پاگل کی چیخ ہے جب تک اس کو سہارا دینے کے لئے اور اس کے سامنے لائے ہوئے اسکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ایک باشعور اور باضمیر مقننہ اور ایک فعال انتظامیہ جو عدالت کے فیصلوں کا دل سے احترام کرتی ہو۔ اس کے بارے میں یہ یقین اپنا جزو ایمان سمجھتی ہو کہ اللہ کے بعد انصاف صرف عدالت کے ذریعے مل سکتا ہے، موجود نہ ہو۔ انقلاب ایک خیال خام ہے۔ایک مجذوب کی بڑ ہے۔اس لئے صاحبو انقلاب کے لئے وہ Atmoic War Heads کو ڈیلیور کرکے صحیح مقام پر گرانے والے ذہنی گروپ کا موجود ہونا بہت لازم ہے۔اسی لئے انقلاب سے پہلے ایک فکری تغیر کسی بھی معاشرے میں بہت ضروری ہے۔

ہم اب تک جمہوریت کے نام پر جو ڈکٹیٹر شپ کرتے رہیں اور ڈکٹیٹر شپ کی ناجائز کوکھ سے جسطرح کھینچ کھانچ کر جمہوریت برآمد کرتے رہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس آئین میں چند ترامیم کرلیں۔ یہ تبدیلیاں اس لیے لازم ہیں کہ جلد بازی میں بنا ہوا اور مختلف ترامیم کی روشنی میں ذاتی مفادات کو تحفظ دیتا آئین اب بڑی حد تک Dysfunctional اور Obslete ہوچکا ہے۔
ہمارا اسمیں رول ماڈل امریکہ کا آئین ہو تو اچھا ہے۔ میں چند گذارشات ان ترامیم کے سلسلے میں پیش کرتا ہوں۔آپ غور فرمائیں گے تو یہ ایک عہدے سے مختص نہیں۔یہ بہت Structural نوعیت کی ہیں۔
۱) جتنے ڈدیژن ہیں اتنے صوبے بنادیں، حکومت کو عوام کے دروازے تک لے جائیں۔ہندوستان جب آزاد ہوا تو اس میں اس وقت ان کے کل ہاں کل سات یا آٹھ صوبے تھے اب ان کے ہاں تیس کے قریب صوبے ہیں،ایران نے ٖحتیٰ کہ افغانستان نے اپنے ہاں کئی صوبے بنائے ہیں۔اس وقت ملک میں کم از کم پچاس صوبے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر صوبے سے دو سینٹر عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوں۔ یہ Nation building میں عصبیت، فرقہ واریت ختم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔

میرے ناقدین کہیں گے اس سے حکومت کا خرچہ بڑھ جائے گا۔ تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ صوبائی سطح پر زیادہ سے زیادہ پانچ اور کم از کم تین وزیر رکھیں۔امریکہ میں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اسوقت ان کے ہاں تیرہ کے قریب وزراء صاحبان ہیں جنہیں وہ سیکرٹری کہتے ہیں ان کا کانگریس یا سینٹ کا ممبر ہونا لازم نہیں۔مرکز میں یہ تعداد کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس ہوسکتی ہے۔۔ جنتا کے مسائل جنتا کے دروازے پر حل ہورہے ہیں۔ہمارے ہاں صوبوں کی موجودہ تقسیم ہندوستان میں انگریزوں کے زمانے کی ہے۔ اب اسمیں آبادی کے حساب سے نئے نئے مسائل اور محرومیوں نے جنم لیا۔ جب ہم ان کی تقسیم ڈویژن کی بنیاد پر کریں گے تو عوام کی شکایات کم سے کم ہوں گی۔
۲) وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی کابینہ کے وزراء اسمبلی کے ممبران نہ ہوں۔اس سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔یہ دونوں عہدے دار اسمبلی کو جواب دہ ہوں۔ان کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہو۔ ہاں یہ ضرور ی ہے کہ کسی بھی مرکزی وزیر کی تقرری کا عمل سینٹ کی متعلقہ کمیٹی سے سماعت کے بعد طے پائے۔
۳) ایک آزاد الیکشن کمیشن ہو۔جو انتخابات کے عمل کو شفاف رکھنے کا ضامن ہو۔آپ نے دیکھا کہ جب ٹی این سیشن صاحب کو ہندوستان میں چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا تو انہوں نے کس طرح ہندوستان میں انتخابات کے عمل کو شفاف اور قابل اعتبار بنا دیا۔
۴) آپ ہر صوبے سے امریکہ کی طرح دو سینٹر عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب کریں۔اس سے سیاست میں جو مختلف نوعیت کی فرقہ بندیاں ہوجاتی ہیں ان کی جڑیں کاٹنے میں مدد ملے گی۔قانون سازی اور محاسبے میں سینٹ کے صادر کردہ فیصلے حرف آخر ہوں۔ہمیں وفاق کی نمائندگی کے لیے ایک مضبوط اور فعال سینیٹ کی ضرورت ہے جس کے سینیٹر کا دفتر چوبیس گھنٹے کام کرے اس کی اپنی ویب سروس اور فون پر رابطے کی سروس مہیا ہو۔
۵) امریکہ کی طرح ہی آپ سینیٹ کی موضوعاتی کمیٹیاں بنادیں۔ جیسے ڈیفینس۔لا اینڈ جسٹس کمیٹی۔ خارجہ امور اور اسی طرح کی دوسری کمیٹیاں۔ان دنوں امریکی سینٹ کی کل ملا کر 88 کمیٹیاں اور ان کی ذیلی کمیٹیاں ان کی حکومت کے کام کی کڑی نگرانی کرتی ہیں۔پالیسی اور قانون سازی کے عمل میں لوگوں کو مستقل بنیادوں پر وہ مشورے کے لئے بلاتی ہیں۔یوں امریکہ کی حکومت اور اس کے اہل کار دنیا کے ان چند طاقتور افراد میں سے ہیں جہاں کم از کم لوگ ان کے خلاف عدالتوں میں جاتے ہیں۔جیسے ان کی سب سے بڑی کمیٹی United States Senate Committee on Appropriations جو۔اس میں حکومت کے صوابدیدی اختیارات کے حوالے سے اخراجات کی منظوری لی جاتی ہے۔اسی طرح ان کی توانائی اور قدرتی وسائل کی کمیٹی حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان میں مستقل درستگی کے عمل میں لگی رہتی ہے۔ان کی عدلیہ کی کمیٹی اٹھارہ مختلف معاملات پر دسترس رکھتی ہے جسمیں حکومت یا عدلیہ کے نامزد کردہ جج صاحبان کی تقرری کے حوالے سے ان کی موزونیت پر فیصلے ہوتے ہیں تاکہ بعد میں ان کے ماضی اور ان کی تقرری کے حساب سے کوئی اختلاف رائے نہ پیدا ہو۔یہ کمیٹیاں Legislative۔Oversight۔Investigative۔Confirmation۔Field۔ Subpoenas and depositions۔ Closing قسم کی سماعتیں کرتی ہیں۔ ان کی کاراوئی براہ راست عوام کی اطلاع کے لیے ٹیلی ویژن پر بھی نشر کی جاتی ہے۔آپ نے کلنٹن میاں بیوی، کونڈالیزا رائس اور حال ہی میں وزیر خارجہ جان کیری اور حالیہ دنوں میں فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کا احوال تو آپ نے دیکھ لیا ہوگا جس میں وہ ماتھے سے پسینہ پوچھ کر 87 ملین لوگوں کا ڈیٹا ایک نجی کمپنیCambridge Analytica کو فروخت کرنے پر معافی مانگتے دیکھے جاسکتے ہیں۔فیڈرل ٹریڈ کمیشن اگر سفارش کردیتا تھا تو فیس بک جسے ویسے ہی بہت نقصان ہوا ہے وہ فیس بک پر اربوں ڈالر کا جرمانہ چالیس ہزار ڈالر فی یوم فی صارف کے حساب سے لگا سکتا ہے۔شدید دباؤ میں سینٹ کی یہ تفتیشی سماعتیں ایک ایسی تربیت گاہ ہیں جہاں،ذہانت،جرات،رکھ رکھاؤ، فن گفتگو کے دریا بہتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

 

Image may contain: 1 person, sitting
۔
۶) ان Confirmationکمیٹیوں کے حوالے آپ یہ کام کردیں کہ حکومت کے ہر شعبے کے پانچ بڑے عہدہ داروں کا انتخاب جن میں پانچوں چیف جسٹس، ہر طرح کے سرکاری گورنر، مسلح افواج کے چیف۔ خفیہ اداروں کے سربراہ جب تک ان کمیٹیوں کی جانچ پڑتال کےسامنے سوال و جواب کے لیے پیش ہوں۔ جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔صدر ریگن رابرٹ بورک کو سپریم کورٹ کا جج بنانا چاہتے تھے مگر سینیٹ کی عدالتی کمیٹی نے منظور نہ کیا۔یہی معاملہ آٹھ دوسرے جج صاحبان کے ساتھ مختلف ادوار میں ہوا۔صدر صاحب جب امریکہ میں کسی کو اہم عہدے پر وہ اس کا نام متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیتے ہیں۔ وہ اس کے تمام معاشقے، معانقے، مصافحے،مغالطے سے وابستہ افراد اور ان پر معترضین کو بلالیتے ہیں۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صرف مرد میداں ہی اس عہدے پر فائز ہوسکتا ہے جو آگ کا یہ دریا عبور کرپائے۔اسکے بعد اس کا طرز عمل صرف آفس کی حد تک محدود رہ جاتا ہے اور وہ دل جمعی سے اپنی پبلک سروس سرانجام دیتا ہے۔یہ کمیٹیاں نہ صرف ان عہدوں کے لئے افراد کی تطہیر کرتی ہیں بلکہ حکومت کی پالیسیاں بھی مستقل ان کے زیر بحث رہتی ہیں۔
۷)ایسا عمل وضع کیا جائے کہ مملکت کا کوئی فرد یا ادارہ خود کو اس سے بالاتر نہ سمجھے، عدالت اور یہ کمیٹیاں اس فعل میں مکمل طور پر خود مختار ہوں۔ان کے سامنے جواب دہی سے کسی کو بشمول صدر کے استثناء حاصل نہ ہو وہ جس کسی کو چاہے طلب کرسکیں۔
۸)ارتکاز دولت روکنے کے لئے دو سے زیادہ کاروبار ایک گھرانے کے پاس رکھنے پر پابندی ہو۔۔

۔
۹) ایک سادگی، ٹرانسپرینسی اینٹی موناپولی اور تحفظ حقوق کا کمیشن بناجائے Simplicity, Transparency Anti Monopoly and Protection of Rights Commission تاکہ عوام سے متعلق امور میں قوانین سے لے کر ہر عمل میں سادگی اور کفایت شعاری کو اپنایا جاسکے ور پچھلی چند دہایؤں میں جو کارٹیل وجود میں آچکے ہیں ان کے چنگل سے حکومت اور عوام کو نجات دلائی جاسکے۔یہ ایک ایسا ادا
رہ ہو جس میں چنیدہ افراد کی خدمات پالیسی کی بنیاد پر معقول معاوضے کی بنیاد پر حاصل کی جاسکیں اور حکومت اور عوام سے متعلق کوئی امور اس کے دائرہ سفارشات سے باہر نہ ہوں۔
۰۱) فوجی تربیت ہر نوجوان مرد اور عورت کے لیے ترکی اور اسرائیل کی طرح لازم قرار دی جائے
یہ تو تھیں آئین کی باتیں مگر آپ کو اس آئین کے ساتھ دو تین قوانین میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔کچھ طریق کار ٹھیک کرنے ہوں گے۔ اس حوالے سے میری چند موٹی موٹی تجاویز یہ ہیں
۱) ہتک عزت کا قانون لایا جائے کیوں کہ معاشرے میں اس سے آزادی رائے کے نام پر جو ہرکسی کی پگڑی اچھالنے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ اس کی روک تھام ہوسکے۔ ہتک عزت کے مقدمے میں فیصلے کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی مدت مقرر ہو۔
۲) چھوٹی عدالتوں میں ججوں کا تقرر مقابلے کے ایک امتحان کے ذریعے ہو۔اسی فیصد اعلی عدالتی تقرریاں انہیں جج صاحبان کے پروموشن کے ذریعے ہوں۔اس سے اہل لوگ عدالتی منصب پر فائز ہوسکیں گے۔اسی طرح آپ ماتحت عدالتوں پر مْقدمات کا بوجھ کم کرنے اور لاء اینڈ آرڈر کے لیے Executive Magistracy کا پرانا نظام بحال کریں۔پاکستان میں سن 1993 اس نظام کے بعد لاء اینڈ آرڈر کے بہت مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
۳)کسی بھی سطح پر سرکاری ملازمت بغیر مقابلے کے امتحاں کے نہ دی جائے۔جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں متعلقہ اداروں کے تعیناتی بورڈز جس میں ایک Broad Based نمائندگی ہو۔یہ بورڈ بھرتی کا ایک شفاف اور سمجھ بوجھ سے وضع کئے گئے طریقہ کار کے مطابق یہ فریضہ سرانجام دیں
۴)اسلحہ لائسنس کے اجرا پر پابندی لگا کر لوگوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ یہ اسلحہ حکومت کے پاس
جمع کرادیں۔ممنوعہ بور کے ہتھیار اور لائسنس فوری طور پر ضبط اور منسوخ کردئے جائیں۔مقررہ مدت کے بعد اس طرح کے اسلحہ کی برآمدگی کی سزا دس سال قید کی صورت میں ہو۔
۵) ہیوی ٹریفک لائسنس کے لئے کم از کم تعلیم قابلیت میٹرک ہو۔ اس سے آپ کی سڑکوں پر موت کا جو رقص دکھائی دیتا ہے وہ کم ہوجائے گا اور تعلیم یافتہ لوگ اس پیشے میں آئیں گے۔
۶) اپنی سول سروس کو ٹھیک کریں۔اسے آئینی تحفظ دیں۔انگریز نے ہندوستان میں
میں تمام کارنامے اسی کے ذریعے سرانجام دئیے۔ وہ اسے اپنا اسٹیل فریم کہتا تھا۔اس کا سائز کم کریں۔لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے نئے محکمے بنالئے ہیں،جن کے پاس کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔اسکے علاوہ آپ کی پینتالیس فیصد بیوروکریسی علم سے ناآشنا ہے۔ اسمیں موجود کلرکوں،نائب قْاصدوں اور ڈرائیور حضرات کو لکھنا پڑنا نہیں آتا۔اس طرح کام کیسے چلے گا؟!!!!!! ان کی تعلیم کا بندوبست کریں۔اس میں بھرتی کے لئے ہر سطح پر پبلک سروس کمیشن کا رول ہونا چاہئے۔محکموں میں بھرتی کا اپنا نظام ختم کریں۔
۷) پولیس کو مقامی حکومت کے ماتحت کردیں۔ پولیس ایک مقامی فورس ہے اور خالصتاً آپریشنل نوعیت کی ایک تنظیم ہے۔ اس میں مرکز سے بھرتی کئے ہوئے افسران کا کوئی کام نہیں۔یہ جب مقامی حکومت کی تابع ہوگی تو اس میں مقامی منتخب نمائندوں کی وجہ سے جواب دہی کا عمل قائم ہوجائے گا۔اس میں ایس۔ پی سے اوپر کے عہدے ختم کردیں۔ یہ بہت ٹاپ ہیوی ہوگئی ہے۔پولیس آرڈر 2000 ؁ء نے اس اپنے معاملات کا مختار کل بنادیا ہے۔ ملک میں جتنی غارت گری اور بد امنی اس قانون کے جاری ہونے کے بعد ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔آپ نے دیکھا کہ بے نظیر صاحبہ کے انتقال کے سانحے پر جب ہر طرف غارت گری مچی تھی،یہ تھانوں میں تالے ڈال کر خود کو محفوظ کرکے بیٹھ گئی تھی۔اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں جو اس نئے قانون اور ان کی خو
د مختاری کے حوالے سے اس آرڈر کی ناکامی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔
۸) اپنی ملکی سطح کی منصوبہ بندی کے لئے مردم شماری کو بنیاد بنائیں۔ اب وقت آگیا ہے اور کام بھی بہت آسان ہے کہ آپ اپنے شناختی کارڈز کی مدد سے یہ کام باآسانی کرلیں۔ایک مدت کا اعلان کردیں کہ اس مدت کے بعد اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہوگا تو اسے مفت معالجے، بنک کے اکاؤنٹ،ریل کا ٹکٹ، بچے کے اسکول میں داخلہ اور ووٹ کی سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ اس شناختی کارڈ کو آپ اسمارٹ کارڈ میں بدل لیں۔اس پر تاریخ پیدائش، رہائش کا پتہ، ووٹ کا یونیورسل نمبر، سیل فون نمبر،تعلیمی قابلیت، ڈرائیونگ لائسنس کا نمبر، اس کی آنکھ کی پتلی کا نمونہ،خون کا گروپ، پاسپورٹ نمبراورایسے دیگر ضروری کوائف موجود ہوں۔ مردم شماری کی بنیاد شناختی کارڈ کو ہی ٹہرایا جائے ۔گھرگھر جاکر کوائف اکھٹا کرنا لازم نہیں۔ یوں آپ کو بہت سی جعل سازیوں سے نجات مل جائے گی۔ ووٹنگ الیکٹرانک مشینوں پر شناختی کارڈ میں درج ووٹرز نمبر سے ہو۔ جیسا بھارت میں ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں انتخابات دھاندلی اور بندوق کی سیاست سے پاک ہوجائیں گے۔ہر حلقے کے نتائج خود ہی الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ جائیں گے۔ یہ نہیں ہوگا جو شوکت عزیز کے تھرپارکر سے الیکشن میں ہوا تھا کہ پورے تھرپارکر میں جتنے ووٹر نہیں تھے اس سے زیادہ انہیں ووٹ ملے تھے۔صرف یہ ایک سمارٹ کارڈ آپ کو بے شمار پیچیدگیوں سے محفوظ رکھے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *