اوکاڑہ کی سیاسی صورتحال۔۔۔۔۔محمد عتیق اسلم رانا

این ۔اے 141 اوکاڑہ 1 یہ حلقہ دریائے راوی کے ساتھ ہوتا ہوا رینالہ خورد شہر اور گردونواح کے علاقوں پر مشتمل ہے۔اس حلقہ میں ووٹوں کی تعداد 452061 ہے۔جب کہ یہ حلقہ دو صوبائی سیٹوں پر مشتمل ہے ۔پی پی 183-1 یہاں ٹوٹل ووٹ 219837جن میں مرد ووٹر   کی تعداد 120540اور لیڈی ووٹر کی تعداد 190678ہے۔PP-183میں PTI کے مہر جاوید،ن لیگ کے جاوید علاؤ الدین اور آزاد ملک اکرم بھٹی جن کا تعلق PTIسےہی ہے میں گھسمان کا رن پڑےگا۔ اس حلقے میں راجپوت،آرائیں ،بلوچ،کمیانہ برادری  کی اکثریت ہے۔ پی۔پی 190۔8 میں ووٹوں کی تعداد۔232244جن میں مرد ووٹروں کی تعداد۔131295 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد۔100629.اس حلقہ میں قاری مظہر فریدPAT, رائے علی نور ازاد،رائے حماد اسلم کھرل PTI، چوہدری رضا ربیرہ ن لیگ اورڈاکٹر لیاقت علی کوثرMPA کے امیدوار ہیں۔رائے علی نور کھرل سدا بہار MPA کے بیٹے ہیں جنہیں ن لیگ نے اس مرتبہ ٹکٹ نہیں دیا اور ندیم عباس ربیرہ اپنے بھائی رضا ربیرہ کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اس طرح ن لیگ کا ووٹ واضح طور پر تقسیم ہوگیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ سابق ایم این اے رائے محمد اسلم خاں کھرل کے بیٹے رائے حماد اسلم کھرل کو ہورہا ہے۔ جیسے کھرل،آرائیں،وٹو،جوئیہ اور برادریوں کی حمایت حاصل ہے۔اس حلقہ میں رائے علی نور اور رائے حماد اسلم کھرل کے درمیان مقابلہ ہےاور رضا ربیرہ  ن لیگ کے امیدوار کی اس حلقے میں پہلی انٹری ہے۔

این۔اے 141میں پی پی پی کے امیدوار سابق ایم این اے کیپٹن ریٹائرڈ رائے غلام مجتبیٰ کھرل،ن لیگ کے چوہدری ندیم عباس ربیرہ سابق ایم این اے،اذار چوہدری خلیل الرحمٰن،چوہدری مسعود شفقت ربیرہ اور پی ٹی آئی کے سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات سید صمصام بخاری مد مقابل ہیں۔

الیکشن کے بعد جمہوریت کا جنازہ۔۔۔۔نذر حافی
کیپٹن ریٹائرڈ غلام مجتبیٰ کھرل،ندیم عباس اور مسعود شفقت کا تعلق راوی کی مشہور قوم کھرل برادری سے ہے جو تھانہ کلچر کی رسیاہےمگر غلام مجتبیٰ کھرل اس کلچر کے خلاف ہیں اور ترقیاتی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں اسی لیے اہلیان راوی میں مقبول نہیں  مگر کھرلوں کے ووٹ کو تقسیم کرنے کا سبب ضرور بنیں گے۔ندیم عباس اور مسعود شفقت دونوں فرسٹ کزن ہیں اور ایک ہی گاؤں اور علاقے سے تعلق رکھتے ہیں کھرلوں میں یہ دونوں مقبول ہیں اور تھانہ کلچر کے حمایتی ہیں دونوں اپنے ووٹ تقسیم کریں گے اور اس کا بڑا فائدہ پیرصمصام بخاری کو ہوگا جو ون ایل اور 2ایل کے چکوں ،شہررینالہ اور گردونواح میں مقبول اور مذہبی راہنما ہیں۔

لیگی امیدوار ندیم عباس کو حلقہ کی آرائیں برادری کی سپورٹ رہی ہے جو اب آزاد امیدوار چوہدری خلیل الرحمٰن کی حمایتی ہےاور سابق ایم پی اے رائے نور محمد کھرل بھی ندیم عباس ربیرہ کے خلاف ہیں اوروہ خلیل الرحمٰن کی حمایتی ہیں ۔اس طرح ن لیگ این اے 141میں کامیاب دکھائی نہیں  دیتی اور بظاہر پی ٹی آئی کے امیدوار صمصام بخاری کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے جیسے رائے حماد اسلم کھرل جو پی ٹی آئی کے صوبائی حلقہ پی پی190سے مضبوط امیدوار ہیں ،کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔حماد اسلم رائے اسلم خاں کھرل سابق ایم این اے کے بیٹے ہیں اگر آج وہ زندہ ہوتے تو تحریک انصاف کے    امیدوار ہوتے۔

این اے 142اوکاڑہ 2 اوکاڑہ شہر،کینٹ اورگردونواح کے دیہات پر مشتمل ہے اس کے کل ووٹوں کی تعداد 421873جن میں مرد ووٹرز کی مجموعی تعداد۔231195اور خواتین ووٹرز کی تعداد۔190678.یہ قومی اسمبلی کا حلقہ بھی دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مشتمل ہے جن میں پی پی 188.6جس میں کل ووٹوں کی تعداد 193193جن میں مرد ووٹروں کی تعداد۔107727جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد۔85460.پی پی189-7کل ووٹرز کی تعداد 228680جن میں مرد ووٹرزکی تعداد۔123468اور خواتین ووٹرز کی تعداد۔105212.
پی پی 189 میں سابق صوبائی وزیر میاں یاور زمان اور پی ٹی آئی کے چوہدری عبد اللہ طاہر کے درمیان ہے۔عبداللہ طاہر پہلی مرتبہ کسی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ انکے مدمقابل منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور حلقے میں کافی مقبول ہیں لیکن عبداللہ طاہر جسے مہر عبد الستار انجمن مزارعین کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔عبداللہ طاہر نے دن رات محنت کر کے مقابلہ بنادیا ہے۔

پی پی 189 میں تحریک لبیک کے راؤ مقصود،ن لیگ کے منیب الحق جو کونسلر منتخب ہوئے ہیں اب صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں جبکہ چوہدری سلیم صادق انجمن تاجران اوکاڑہ کے سدا بہار صدر ہیں وہ بھی پہلی مرتبہ کسی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں،سلیم صادق کو ذہبی حلقوں میں ایک مقام حاصل ہے اور شہر کی سبھی برادریاں اسکی سپورٹ کر رہی ہیں بلکہ ن لیگی قومی اسمبلی کاووٹ ریاض الحق جج اور صوبائی اسمبلی کاووٹ سلیم صادق کو دے رہےہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ 142 سے تحریک لبیک پاکستان کی شمائلہ شوکت ،میاں عبدالرشیدبوٹی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑرہےہیں جیسے سابق لیگی ایم این اے عارف چوہدری کی بھرپور حمایت کے ساتھ ساتھ ارائیں برادری کا بڑا دھرا حمایت کر رہا ہے۔اس حلقہ میں اصل مقابلہ دو مضبوط امیدواروں ریاض الحق جج اور راؤ حسن سکندر میں متوقع ہے ۔ریاض الحق جج سابق لیگی ایم این ہیں۔ریاض الحق جج نے علاقے میں ٹف ٹائل اور سوئی گیس کے کام کروائے اور ان کو بلدیہ اوکاڑہ کے چیئرمین اور کونسلر کی حمایت حاصل ہے مگر جن لوگوں اور دھڑوں نے ریاض الحق جج کو آزاد حیثیت سے جیتوایا وہ سب ان سے ناراض ہیں اور وہ راؤ حسن سکندر جو سابق وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال مرحوم کے بیٹے اور تحریک انصاف کے امیدوار ہیں کو سپورٹ کر رہے ہیں راؤ حسن سکندر کو راجپوت برادری کی مکمل آشیر باد کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی ،رحمانی برادری،شیخ۔ملک اور تاجر برادری کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔

شفاف الیکشن کا خواب۔۔۔ٹی ایچ بلوچ

حسن سکندر کے دو صوبائی اسمبلی کے امیدواراروں کا تعلق حلقے کی اکثریتی آرائیں برادری سے ہے اور انجمن مزارعین کے مہر عبد الستار کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ ریاض الحق جج سمیت اس کے دونوں ایم پی ایز کا تعلق آرائیں برادری سے ہے۔اس طرح آرائیں برادری کی تقسیم اور دیگر برادریز کا عدم تعاون ان کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ ریاض الحق جج کی مشکلات میں ایک سبب ان کزن خلیل الرحمٰن کا این اے 141 سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑناہے اور وہاں سے قومی اسمبلی کے ن لیگ کے امیدوار چوہدری ندیم عباس ربیرہ خلیل الرحمٰن کی انتخابی حکمت عملی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور خلیل الرحمٰن کی وجہ سے ہی ندیم عباس ربیرہ کی یہ لیگی ایم این اے کی سیٹ انتہائی خطرے میں ہے۔ اسی وجہ سے چوہدری ندیم عباس ربیرہ 3R کے چکوں سے ریاض الحق جج کی مخالفت کررہے ہیں۔اس علاقے میں چوہدری ندیم عباس ربیرہ کے حمایتی 6یوسی چیئرمین کے ساتھ ساتھ ضلعی چیئرمین کھلے عام راؤ حسن سکندر کی حمایت کر رہے ہیں۔ جس کا نقصان ریاض الحق جج کوہورہاہے۔ریاض الحق جج کے کزن یوسی چئیرمین چوہدری طارق صدیق بھی مخالفت کررہے ہیں۔انجمن مزارعین کے مہر عبد الستار بھی ریاض الحق جج کو فور ایک اور فارم کے دیہات میں ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔

ریاض الحق جج نے ضمنی الیکشن ن لیگی ایم این اےعارف چوہدری کی نا اہلی پر لیگی امیدوار علی عارف چوہدری سے آزاد حیثیت سے جیت کر ن لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔اس الیکشن میں راجپوت برادری نے ریاض الحق کا ساتھ دیا تھا جو آج تحریک انصاف کےامیدوار راو حسن سکندرکی حمایت کررہی ہے۔ریاض الحق جج کے دونوں صوبائی ونگ آرائیں ہیں لہٰذا قوی امکان آرائیں برادری کے ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ حسن سکندر کو ہوسکتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *