ووٹ ایک طاقت۔۔۔ اے وسیم خٹک

 میرا اور آپ کا ووٹ بہت قیمتی ہے اور اسی ووٹ کی وجہ سے ہمارے سیاست دان   عوام کو جھوٹے وعدوں پر ٹرخا کر ،سبز باغ دکھا کر ایوانوں میں پہنچ کر اپنی سوچوں میں غلطاں ہوکر اپنے خزانے بھرتے ہیں_ اور پھر پلٹ کر غریب عوام کا حال تک نہیں پوچھتے ،اس دفعہ پھر پرانے شکاری نئے لبادوں میں نئی پیکنگ کے ساتھ میدان میں موجود ہیں ـ کوئی عمران خانی کوئی باچا خانی کوئی بھٹو ازم تو کوئی کتاب کو قرآن مجید کا نام دے کر عوام کو اُلو بنانے میں مصروف ہے ـ مگر یہ 2018ہے اس میں عوام میں شعور بیدار ہوچکا ہے ـ بہت سے علاقوں میں سیاست دانوں کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے ـ بہت سے حلقوں میں پرانے سیاست دان غائب ہوچکے ہیں کیونکہ اُن کو اپنی اوقات معلوم ہے  کہ عوام کا سلوک اُنکے ساتھ کیا ہوگا جبکہ بعض ڈھیٹ سیاست دان اب بھی عوام میں جارہے ہیں، جہاں انہیں بے عزت کیا جارہا ہے مگر ان کو بے عزتی سے کوئی غرض نہیں ـ ۔

بائیکاٹ کے لئے بھی بہت سے علاقوں میں مہم جاری ہے کچھ ایریاز میں ووٹوں سے پہلے مسائل کے حل کی ڈیمانڈ کی جارہی ہے ـ کیونکہ مسائل کا حل ہی ووٹ کی قیمت ہے۔ ہمارے ستر فی صد لوگ غربت کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں انہیں بنیادی سہولیات زندگی میسر نہیں ،پانی ،گیس، بجلی، ہاسپٹلز سے وہ دور ہیں۔ اب موجودہ دور میں پاکستان کی پسی ہوئی عوام کو نئے ڈیمز ، جدید نصاب تعلیم، نئی یونیورسٹیاں، سیلیکون ویلی شہر، دو تین کروڑ درخت ، کروڑوں نوکریوں کی ضرورت ہے ‘جب کہ غریب کو دو وقت کی روٹی اور چھت کا سایہ چاہیے ـ اگر کسی بھی پھنے خان سیاست دان میں ہمت ہے تو  آکر مجھ سے یعنی ایک غریب ووٹر سے ملاقات کر لے کیونکہ میرا ووٹ اتنا سستا نہیں ہے۔

یہ 2018 ہے یہ سوشل میڈیا کا دور ہے یہاں میرے پاس خود کی سہولت ہے میں اپنا مسئلہ دنیا کے سامنے خود لاسکتا ہوں مجھے بکاؤ میڈیاکی اب ضرورت ہی نہیں ہے ۔ مجھے اب جھوٹی تسلیوں ، جھوٹے وعدوں سے خریدا نہیں جاسکتا ،مجھے اب  آگاہی ہے کہ تم لوگ ووٹ اپنے بینک اور اپنے پیٹ بھرنے کے لئے نہیں لے رہے بلکہ ہماری خدمت کے لیے لے رہے ہو۔ تم لوگ حاکم نہیں بلکہ ہمیں  محکوم بنانے کے لیے ہم سے ووٹ لے رہے ہو۔ مجھے صرف سڑکیں ، دھرنے ، اور کوئی مرا یا زندہ بھٹو نہیں چاہیے۔ مجھے کام چاہیے، پانچ سال ، پانچ سال تمہیں ہماری خدمت کرنا ہوگی ۔ اور ہم تم سے کوئی فری میں کام نہیں لے رہے ۔ تمہیں اسکی تنخواہ ملے گی ۔ اور ایک عدد ووٹ ملے گا ۔

بس صرف یہ جان لو کہ ہمارا ووٹ اب اتنا سستا نہیں رہا ہے۔ ملک عزیز کو قائم ہوئے  برسوں  ہوگئے مگر یہ ابھی تک نوزائیدگی میں ہے اب تک تم لوگوں نے ہم عوام کو ایک داشتہ ایک طوائف سمجھ کر بس اپنی خواہشات پورا کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ تم پانچ سال کے لیے آتے ہو ۔ اپنی خواہشات پوری کرتے ہو ۔ بھوکے درندوں کی طرح ہمیں بھنبھوڑتے ہو اور جھوٹی تسلیاں اور دلاسے دے کر چلے جاتے ہو۔ ہم سے اچھی تو طوائفیں ہیں جو اپنی ایک رات کا معاوضہ وصول کر لیتی ہیں۔ اُس نے میری سڑک ٹھیک کی ہے۔ اس نے مجھے میرے بھائی بیٹے کو نوکری دلائی ہے اُس نے مجھے پیسے دئیے ہیں ـ میری گلی پختہ کی ہے ـ میرے آباؤاجداد کے برسوں کے یارانے تھے۔ میں کچھ بھی کروں میں اپنا قیمتی ووٹ اس کو ہی دوں گا۔

خدارا پنے ووٹ کی قیمت اتنی مت گراؤ۔ صرف اپنے لئے مت سوچو ،اس پورے ملک کے بارے میں سوچو۔ یہ ووٹ صرف تمھارا نہیں پوری قوم کا ہے۔ اگر آج تم نے غلط ووٹ دیا تو کل کو پوری قوم کے تم  مجرم  ٹھہرو گے۔ اپنے ووٹ کی قدر جانو اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھو   اور خدارا اس بار صحیح فیصلہ کرو ۔ کیونکہ تمھارا یہ ایک فیصلہ یہ ایک ووٹ پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا  ہے ،ـ اس دفعہ کسی کے جھانسے میں نہ آؤ اگر ہوسکے تو ایسے شخص کو ووٹ دو جو غریب ہو کیونکہ محلوں میں بیٹھے ہوئے اُمراء غریبوں کا درد نہیں سمجھ سکتے ـ پرانے مداریوں سے بچ کے رہیں اُن کے  نرغے میں   نہ آئیں ۔یہ جو پیسہ ان الیکشنوں میں استعمال کر رہے ہیں یہ سب  آپ لوگوں کا پیسہ ہے یہ وطن عزیز کے خزانے کو لوٹا ہوامال ہے ـ اپنی سوچ کو بدلو اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرکے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالو!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *