نابینا ڈولفِن یا صحافت سے زیادتی

میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں، میں صحافی یا لکھاری بھی نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس طرح ہر کام کرنے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں اسی طرح صحافت کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں، صحافت کے اصولوں پر تو کتابیں لکھی جا چکی ہیں وہی پڑھائی بھی جاتی ہیں لیکن میں آپ کو صحافت کے اصول عظیم مفکر سقراط کے ایک واقعے سے سمجھا دیتا ہوں. ایک بار افلاطون اپنے استاد سقراط کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا، ’’آپ کا نوکر بازار میں آپ کے خلاف غلط بیانی کر رہا تھا۔‘‘ سقراط نےمسکرا کر پوچھا، ’’وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔۔؟‘‘
افلاطون ’’آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ !‘‘
افلاطون کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سقراط نے اسے روک دیا اور کہا، ’’تم یہ بات سنانے سے پہلے اِسے تین قسم کی کسوٹی پر پرکھو، اس کا تجزیہ کرو، اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمھیں یہ بات مجھے بتانی چاہئے، یا نہیں۔‘‘
افلاطون نے عرض کیا،’’یا استاد، تین کی کسوٹی کیا ہے؟‘‘
سقراط بولا، نمبر ایک ’’کیا یہ بات سو فیصد سچ ہے؟‘‘ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔ سقراط نے ہنس کر کہا، ’’پھر یہ بات بتانے کا تمھیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟‘‘
نمبر دو ’’جو بات بتا رہے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟‘‘
افلاطون نے دوبارہ انکار میں سر ہلا دیا،’’ سقراط پھر گویا ہوا نمبر تین ’’جو بات تم بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لئے فائدہ مند ہے؟‘‘ افلاطون نے تیسری بار بھی انکار میں سر ہلا دیا
سقراط ہنس دیا، ہونہار شاگرد افلاطون صحافت کے اصول سمجھ چکا تھا.
لیکن جو بات سقراط ہزاروں سال پہلے سمجھ گیا تھا آج ہزاروں سال بعد بھی ہمارے بقراط نہیں سمجھ سکے. جب خبر تین قسم کی کسوٹی پرہی کھری نہ اترے تو اس کو چھاپنے کا مقصد کیا ہو گا؟ اس کا تجزیہ اور درست فیصلہ کہاں سے نصیب ہوگا؟ کیوں آئی یہ نوبت ؟
ڈولفِن ممالیہ جانور ہے، یہ بچے دیتی ہے اور انہیں دودھ بھی پلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈولفِن میں جنسی صلاحیت بھی ممالیہ جانوروں جیسی ہی ہیں. ڈولفن کے معنی یونانی زبان میں رحم والی مچھلی ہے۔ اسے عربی میں دخس کہا جاتا ہے۔ اس کے چند انواع میٹھے پانی میں پائے جاتے ہیں. اس مچھلی کو ٹریننگ دی جا سکتی ہے. یہ مچھلی کسی بھی زبان میں دئے جانے والے چند احکام کو ضروریات کے مطابق سمجھ سکتی ہے۔ اسے سوشل مچھلی بھی کہتے ہیں، یہ گروپ کی شکل میں رہتی ہے۔ اس کے گروپ کو ’اسکول‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے گروپ میں 10 تا 12 ڈولفن پائی جاتی ہیں۔امریکہ اور یورپ کے ساحلوں پر سیر و تفریح کرنے والے سیاح اکثر شکایت کرتے تھے کہ ڈولفِن نے ان کا ریپ کرنے کی کوشش کی۔
ڈولفِن انہیں پانی میں نیچے لے گئی اور اپنے پیچ دار عضو تناسل کو ان لوگوں کے اعضاء کے گرد لپیٹ دیا. ایسے میں بہت سے لوگوں کی جان بھی گئی لیکن باقی لوگ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ایک ڈولفِن کسی انسان کی عزت لوٹ سکتی ہے. پھر نیشنل جیو گرافک چینل نے اپنی ایک ڈاکومنٹری میں انکشاف کیا کہ نر ڈولفِن چار چھے کے گروپ بنا کر مادہ ڈولفِن کو گھیر کر سمندری گھاٹی میں لے جاتے ہیں اور اس کا گینگ ریپ کرتے ہیں، مگر کسی انسان پر ایسے کسی حملے کا ثبوت نہیں ملا.
پھر 2013 وہ سال تھا جب دو غوطہ خوروں میں سے ایک پر ڈولفِن نے عزت لوٹنے والا حملہ کیا، ڈولفِن غوطہ خور کو چار سو میٹر مزید نیچے سمندر کی تہہ تک لے گئی، خوش قسمتی سے وہ غوطہ خور بچ گیا دوسری خوش قسمتی یہ ہوئی کہ غوطہ خوروں نے کیمرے پہن رکھے تھے، ڈولفِن حملے کی ویڈیو عضو تناسل سمیت یوٹیوب پر اپلوڈ کر دی گئی. یوں ساری دنیا کو حقیقت حال کا پتا چل گیا. لوگوں نے اس ڈولفِن کا نام stinky رکھ دیا. آپ سٹنکی کی ویڈیو اور غوطہ خور کی تفصیلات اس لنک پر موجود ہیں.
http://m.huffpost.com/us/entry/1862148

اس کے بعد نیشنل جیو گرافک نے ایک اور ویڈیو شئیر کی جس میں ایک ڈولفِن نے ایک عورت پر جنسی حملہ کرنے کی کوشش کی، اس کے علاوہ ڈولفِن کو ٹریننگ دینے والے لوگوں کے انٹرویوز شامل کیے گئے جنہوں نے اعتراف کیا کہ ڈولفِن مچھلی نے ٹریننگ دینے والے کچھ لوگوں پر بھی جنسی حملے کیے ہیں. ایک ڈولفِن ٹیچر مارگریٹ ہوؤی کا کہنا تھا اس نے خود کو ڈولفِن کے سامنے پیش کیا اور ڈولفِن اپنا عضو تناسل مارگریٹ کی ٹانگوں اور ہاتھوں پر رگڑتا رہا تاہم یہ سیکس ڈولفِن کی طرف سے ون سائیڈڈ تھا. مزید تفصیلات اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں.
http://www.washingtoncitypaper.com/columns/straight-dope/article/13045860/can-dolphins-rape-humans-when-animals-attack-sexually

دو دن پہلے دس جون 2017 کو نوڈیرو کے قریب بنگل ڈیرو کے گاؤں صاحب جی وانڈ میں کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو پانی کی کھائی سے نایاب نسل کی ڈولفن ملی ۔کسانوں نے ڈولفن کو کھائی سے نکال کر وائلڈ لائف حکام کو اطلاع کر دی، وائلڈ لائف حکام حسب معمول نہ پہنچے تو گاؤں کے افراد نے ڈولفن کی جان کو خطرہ میں دیکھ مچھلی فارم میں ڈال کر ڈولفِن کی جان بچائی، یہ روزنامہ جنگ کی خبر تھی لنک یہ ہے.
https://jang.com.pk/print/328704-todays-print
آپ نے دیکھا کہ میں نے صحافتی اصول بتائے ڈولفِن سے متعلق چند حقائق اور خبریں دیں اور ساتھ ساتھ ثبوت فراہم کیے. کسی بھی مضمون یا خبر کا یہی طریقہ ہوتا ہے، لیکن ہمارے ایک دوست نے بغیر کسی ثبوت کے دریائے سندھ کی نایاب ڈولفِن کے ساتھ بدفعلی کی خبر لی اور مضمون لکھ دیا، ایڈمن پینل نے بھی خبر کا سورس نہیں پوچھا اور تصدیق کیے بغیر شائع کر دی، یہ صحافتی غلطی تھی. اس مضمون میں اور بھی بہت سے جھول ہیں، دیکھئے اول تو دریائے سندھ کی نابینا ڈولفِن مچھلی نایاب ہے، ملتی ہی نہیں. اور اگر کہیں مل جائے تو اسے بدفعلی میں استعمال نہیں کیا جاتا اور تیسرے یہ کہ اگر کچے کے علاقے میں دو چار افراد اس بدفعلی میں ملوث ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سندھ میں یہ روزمرہ کا کام ہے، اور پھر یہ معاملہ ہائی لائٹ کرنے والا تھا بھی نہیں. پاکستان کے اوریجنل مسائل بہت سے موجود ہیں. کراچی میں پانچ سالہ طیبہ سے زیادتی ہوتی ہے آج چار ماہ بعد بھی اسے انصاف نہیں ملتا. انصاف کے ٹھیکیدار ایک جج صاحب آٹھ سالہ بچی کو گھریلو ملازمہ رکھتے ہیں دن میں اچھی طرح کام لیتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں۔ایسے کیس پاکستان میں ہزاروں ہیں لکھنا ہے تو اصل مسائل پر لکھیں، صحافتی اصول و ضوابط مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی آواز بنیں۔
وما علینا الا البلاغ

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *