کائنات کی پراسراریت۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط1

اگر آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان زمین کو کائنات کا مرکز اور فلیٹ (چپٹا/سیدھا) سمجھتا تھا تو ٹھیک ہی سمجھتا تھا،کیونکہ قریب سے دیکھنے پر کوئی بھی شے چپٹی ہی دکھائی دیتی ہے، اس کی مثال ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ ہم ایک فٹ بال لیں اور اس پر چیونٹی کو رکھ دیں تو فٹ بال کی سطح چیونٹی کے لئے چپٹی ہی ہوگی، لیکن جیسے ہی انسان نے مشاہدات کی دُنیا میں قدم رکھا اور سیکھنا سمجھنا شروع کیا تب یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے، جدید فلکیات کا دوسرا اہم انکشاف یہ بھی تھا کہ ہماری زمین کائنات کا مرکز نہیں ،بلکہ کائنات میں موجود ایک ستارے کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ ستارہ بھی ایک کہکشاں میں مرکز سے ہٹ کر موجود ہے۔

یہ بہت بڑے انکشافات تھے جسے ہضم کرنا آسان نہیں تھا لیکن آج سے 60 سال پہلے جب انسان اُڑ ان بھر کر خلاء میں پہنچا تو اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پایا کہ ہم بالکل ٹھیک سمت میں جارہے ہیں۔ اس حقیقت نے سائنسدانوں کے جوش میں اضافہ کیا اور انسان نے 60 سال میں وہ ترقی حاصل کی جو پوری تاریخ انسانی میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔کائنات کی قید میں گرفتار یہ انسان ہمیشہ سے کائنات کے آغاز کے بارے میں متجسس رہا، اسےسمجھنے کے لئے بیشتر تھیوریز پیش کی گئیں مگر کائنات کے پھیلاؤ کے پیش نظر بگ بینگ تھیوری کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

اس ضمن میں ایک پریشانی یہ تھی کہ اگر بگ بینگ واقعی وقوع پذیر ہوا تھاتو شروع میں “کائنات کا مطلع کافی ابر آلود رہا ہوگا “لیکن کچھ سالوں بعد جب مطلع صاف ہوا ہوگا تو روشنی کی کرنیں پوری کائنات میں پھیل گئی ہوں گی۔ لہٰذااُس وقت جو روشنی پیدا ہوئی، اس روشنی کی باقیات آج بھی پوری کائنات میں موجود ہونی چاہئیں، کیونکہ کائنات کے پھیلنے کے باعث اُس روشنی کو بھی پھیل جانا چاہیے تھا اور اس کی wave length بہت زیادہ ہوجانی چاہیے تھی، لیکن wave length زیادہ ہونے کے باعث اُس روشنی کو عام آنکھ سے دیکھ پانا ممکن نہ تھا، لہٰذا اِس “اندیکھی روشنی کی کرن” کو کھوجنے کے لئے کافی کوششیں کی گئیں لیکن کہیں ان کا نام و نشان نہ دکھائی دیا  جس کے باعث بگ بینگ تھیوری پر بھی سوالیہ نشان لگنا شروع ہوگئے۔

ابھی یہ تلاش جاری تھی کہ 20 مئی 1964ء کی دوپہر کو Wilsonاور Penziasنامی 2 فلکیات دانوں نے اپنی چھت پر موجود ریڈیو انٹینا کو جب ٹھیک کرنا چاہا تو انہیں عجیب و غریب شور سنائی دیا (جوآجکل آپ ٹی وی چینل خراب ہونے پر سنتے ہیں)۔ اس عجیب و غریب شور نے ان کو چونکا دیا اور حیرانگی یہ تھی کہ آسمان میں جس جانب بھی انٹینا کیا جارہا تھا یہ شور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا،جس وجہ سے انہیں گمان ہوا کہ انٹینا یا تو خراب ہوگیا ہے یا پھر اس پر کوئی ایسی گَرد جمع ہوگئی ہے جس کے باعث سگنلز ملنے میں دشواری ہورہی ہے، لیکن ہر طرح سے تسلی کرلینے کے بعد انہوں نے جب تحقیق کی تو معلوم ہواکہ وہ بگ بینگ کی بہت بڑی نشانی کو دریافت کرچکے ہیں، یہ شور دراصل وہی “روشنی” ہے جو آج سے 14 ارب سال قبل بگ بینگ واقعے کے تقریباً 4 لاکھ سال بعد پھُوٹی تھی اور پوری کائنات میں پھیل گئی تھی،اسی خاطر اس شور کو انہوں نے “بگ بینگ کی گونج” قرار دیا۔

ان radiations کوآج ہم Cosmic Microwave Background Radiations کے نام سے جانتے ہیں،ان لہروں کا درجہ حرارت2.7 کیلون (منفی 270 سینٹی گریڈ )ہے، یہ بہت بڑی دریافت تھی جس نے جدید فلکیات کا رُخ ستاروں سے کائنات کی تسخیر کی جانب موڑ دیا ۔یہ دریافت حادثاتی طور پر بغیر کسی کوشش کے ہوئی تھی لیکن اس کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ اس دریافت پر ان دونوں فلکیات دان کو 1978ء میں نوبل پرائز دیا گیا۔ کاسمک مائیکرو بیک گراؤنڈ ریڈیشن کے مل جانے سے جہاں بگ بینگ تھیوری کے حق میں بہت بڑا ثبوت ہمارے ہاتھ لگا، وہیں کائنات کے آغاز کے متعلق ہمیں کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہوگیا۔

اس دریافت کے ذریعے ہمیں یہ موقع مل گیا کہ کائنات کے ماضی میں جھانک کر اس کو سمجھ سکیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ کائنات کے پھیلاؤ کے باعث CMBR کی ویولنتھ بہت زیادہ ہوگئی جس وجہ سے ہم عام آنکھ سے اسے نہیں دیکھ پاتے اس کو “دیکھنے” کے لئے ناسا نے Explorer 66 اور Wilkinson Microwave Anisotropy Probe (WMAP)لانچ کیا جبکہ دوسری جانب یورپی خلائی ایجنسی نے Planck نامی اسپیس کرافٹ لانچ کیا ان تینوں اسپیس کرافٹس نے ایک ایک کرکے خلاء میں پہنچ کر ان ریڈیائی لہروں کا ڈیٹا حاصل کیا اور کائنات کے “بچپن”کی تصاویر بنانے کی کوشش کی،شروع میں ان مشنز کو کامیابی حاصل نہ ہوئی مگر وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے کائنات کے شروع کے ادوار کا نقشہ حاصل کرلیا۔اس نقشہ جات کے ذریعے ہمیں نئی معلومات ملیں جنہوں نے بگ بینگ تھیوری پر مہر تصدیق ثبت کیں۔ان معلومات کے ذریعے سائنسدانوں کو ہماری کائنات کی شروع کے ادوار کے علاوہ کائنات کی شکل بھی سمجھنے میں مدد ملی۔

سائنسدانوں کا اندازہ تھا کہ ہماری کائنا ت کی شکل تین طرح کی ہوسکتی ہے۔ یا تو یہ کائنات زمین کی طرح گول ہونی چاہیے ، یا پھر یہ گھوڑے کی کاٹھی کی طرح کناروں سے اٹھی ہونی چاہیے ، اگر یہ دونوں نہیں ہیں تو اس کو چپٹا(صفحے کی طرح سیدھا)ہونا چاہیے۔ مندرجہ بالا مشنز کے ذریعے ملنے والے ڈیٹا کو جب پرکھا گیا تو سائنسدان حیرت زدہ رہ گئے کہ اس ڈیٹا کے مطابق ہماری کائنات نہ گول ہےنہ کاٹھی جیسی بلکہ بالکل چپٹی ہے۔کائنات کی شکل کا اندازہ لگانے کےلئے2 طرح کے طریقہ کار استعمال کیے گئے، سب سے پہلے ان مشنز کے ذریعے ملنے والے ڈیٹا کو جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ہماری کائنات میں یہ ریڈیائی لہریں ہر جگہ یکساں طور پر موجود ہیں، کہیں گرم ہیں کہیں ٹھنڈی ہیں، نقشے پر گرم علاقے ان جگہوں کو ظاہر کرتے ہیں جہاں پر کائنات کے شروع میں ستارے اور کہکشائیں پیدا ہوئیں،

ہمیں معلوم ہے کہ اگر کسی بھی گول چیز پر ہم triangle بنائیں تو ان کا مجموعی زاویہ 180ڈگری سے زیادہ کا ہوگا، اگر کسی چپٹی سطح پر triangleبنائی تو ان کا مجموعی زاویہ 180ڈگری کا ہوگا اور اگر کوئی سطح گھوڑے کی کاٹھی  کی طرح کناروں سے اٹھی ہوگی تو اس پر triangle بنانے کے باعث زاویہ 180 ڈگری سے کم ہوگا، بالکل ایسے ہی CMBR کے نقشے پر موجود نشانات سے اسپیس کرافٹ تک triangle بنایا گیا اگر ہماری کائنات میں خم ہوتا تو اس نقشے میں موجود گرم اور ٹھنڈے علاقے ضرورت سے زیادہ جگہ گھیرتے، یعنی ان کے زاویوں میں ایک ڈگری سے زیادہ فرق ہوتا اور اگر ہماری کائنات گھوڑے کی کاٹھی کی طرح کناروں سے اُٹھی ہوتی (hyperbola طرزکی ہوتی) تو ان نشانات کے مابین زاویے میں ایک ڈگری سے کم کا فرق ہوتا، مختصراً کہاجائے تو نقشے میں distortion یا بے ترتیبی ہوتی لیکن ایسا نہیں تھاجس کا مطلب ہے کائنات فلیٹ ہے۔

کائنات کے چپٹے ہونے کو اس طریقے سے بھی سمجھا گیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کائنات کے کسی حصے میں اگر مادے کی مقدار زیادہ ہوگی تو وہاں پر زمان و مکان میں خم پیدا ہوجائے گا سو اگر کائنات میں مادے کی مقدار بہت زیادہ ہو تو کائنات کی شکل گول ہوگی،اگر ایسا ہوتا ہے تو کائنات ایک حد تک پھیلے گی اس کے بعد دوبارہ اسی نقطے میں بند ہوجائے گی جہاں سے بگ بینگ کے وقت اِس کا آغاز ہوا، اگر کائنات میں مادے کی مقدار کم ہو تو کائنات کی شکل کاٹھی جیسی ہوگی یعنی کناروں سے ابھار ہوگا، اگر کائنات میں مادے کی مقدار اس کی critical density کے برابر ہوتوکائنات فلیٹ ہوگی، اِن دونوں اقسام کی کائناتیں ہمیشہ پھیلتی رہیں  گی اور بالآخر ٹھنڈی ہوجائیں  گی۔

حساب کتاب کرنے اور ڈیٹا کو کھنگالنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کائنات میں مادے کی مقدار اس کی critical density کے برابر ہےجس وجہ سے ہماری کائنات فلیٹ ہے۔ ان تحقیقات کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ ہم دراصل ایک چپٹی کائنات میں رہتے ہیں جو صفحے کی طرح سیدھی ہے اور پھیلتی جارہی ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیسے ہم زمین پر رہتے ہوئے ہزاروں سال تک اسے فلیٹ سمجھتے رہے کیا ایسی غلطی ہم کائنات کے معاملے میں بھی کررہے ہیں؟

سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ہماری قابل مشاہدہ کائنات 93 ارب نوری سال وسیع ہے، ان 93 ارب نوری سال کے باہر کیا ہے ؟ کیا اس کے باہر کائنا ت کا وہ لامتناہی حصہ موجود ہے جس کا دیدار ہم نہیں کرپارہے؟ یہ خیال بھی ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے کہ ہوسکتا ہے   کائنات گول ہی ہو اور 93 ارب نوری سال اس کائنات کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہو جس کی وجہ سے کائنات کا خم ہمیں دکھائی نہیں دے رہا جیسے زمین پر بیٹھے ہوئے ہم زمین کے خم کو عام آنکھ سے نہیں محسوس کرپاتے، کائنات کی پرسراریت کے باعث بےشمار “معصوم سوالات” ہمارے ذہن پر ہرلمحہ سوار رہتے ہیں لیکن کائنات کی وسعتوں کے باعث آنے والے اربوں سالوں تک ہم اسکے باہر موجود مظاہر کا نظارہ نہیں کرسکیں گے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو ٹھیک ہوگا کہ ہم شاید کبھی بھی نہ جان پائیں کہ اس 93 ارب نوری سال کے باہر کیا ہے!

دیکھا جائے تو ہماری یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ زمین جیسے نقطے پر رہتے ہوئے ہم کائنات کےگوشوں پر پڑے پردے اٹھا رہے ہیں اور آج ہم اپنی کائنات کے متعلق بہت کچھ نہیں تو کافی کچھ سمجھتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں۔CMBR کے ذریعے سائنسدانوں کو دوسرا چکرا دینے والا انکشاف inflation theory کی صورت میں ملا، جس کو اگلے حصے میں سمجھیں گے۔
(جاری ہے)
بگ بینگ کے متعلق   تفصیلی  مضمون پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے:
https://www.mukaalma.com/13924

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کائنات کی پراسراریت۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *