تعزیت کا گول چکر

“اے پی ایس” وہ پہلا واقعہ تھا جس کا درد پوری قوم نے محسوس کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا حادثہ در حادثہ، زخم در زخم قوم کا سینہ ہے جیسے زخموں سے بھر گیا ہے۔ ایک فرد جس طرح چوٹ پر چوٹ کھاتا رہے تو اس کے جسم میں درد کو محسوس کرنے کی حس کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اسی طرح اب ہم لوگ بھی لاشوں کی تعداد کو گن گن کر بے حس ہو چلے ہیں۔
ہر مرتبہ درد اور تکلیف کو بیان کرنے کے لئے نئے الفاظ کہاں سے لائیں۔ تعزیت کی وہی گھسی پٹی لائنیں، وہی سال خوردہ آنسو۔
اب کوئ حادثہ ہوتا ہے تو قلم خاموش اور انگلیاں لکھنے سے انکاری ہو جاتی ہے۔ دماغ سوچنے سے ایسے محروم جیسے ضرب در ضرب نے سوچنے کی حس کو بھی کم کردیا ہو۔
سوال در سوال اور جواب میں طویل خاموشی ہمارا مقدر بن چُکا ہے۔

میرا بلوچستان تو پہلے ہی زخم خوردہ تھا ابھی تو گڈانی کے حادثے میں مرنے والوں کی گنتی بھی پوری نہ ہوئ تھی۔ ابھی تو فضا میں جلنے والی لاشوں کی بُو باقی تھی کہ شاہ نورانی کے مزار پہ پر ایسادھماکہ ہوا جو پل بھر میں پچاس سے زائد لوگوں کو لقمۂ اجل بنا گیا۔ اپنے مرشد کی محبت میں گم دھمال ڈالتا ہجوم کشت و خون میں نہلا دیا گیا۔ ایک ایسی جگہ کہ جہاں قریب ترین اسپتال بھی میلوں کے فاصلے پہ ہے۔ جہاں روشنی کا مناسب انتظام تک نہیں۔ مرنے والے تو خوش نصیب ہی رہے کہ پل بھر میں تکلیف سے نجات پا گئے۔ کیونکہ پیچھے جو زخمی زندگی اور موت کے بیچ معلق تھے ان کے لئے ہر سانس میں موت کی اذیت رقم تھی ۔ کہنے کو سالوں سے زائرین مسلسل شاہ نورانی کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ جانے والوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں نہیں ہزاروں میں ہوتی ہے لیکن جانے والے کوئ خواص نہیں عوام ہی تو ہیں۔ جن کے لئے یہ بنیادی سہولیات فراہم کرنا کبھی کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ کہیں جاتی امراء کی اربوں کی بنی سڑک اور کہیں سڑکوں کے نام پہ ایسا مذاق۔
یہ اسپتال یہ سڑکیں جینے والوں کی ہی نہیں مرنے والوں کی اوقات کا تعین بھی کرتے ہیں۔
اب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ہمیں بھی وہی کرنا چاہئیے جو اس نگار خانے میں بسنے والا ہر فرد کرتا ہے۔ بے حسی کی چادر اوڑھ کر اس گول گول گھومتے پہیئے پر سوار ہو جانا چاہیئے
دھماکہ، دھواں، چیخیں، خون، زخمی، لاشیں، ایمبولینس کا شور، ہسپتال، ایمرجنسی، کیمرے رپورٹر، تعزیت، مذمت، افسوس، بیان، انکوائری، دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے لڑنے کا عزم اور امدادی رقوم کے اعلان کا گول گول چکراتا پہیہ۔ اور مرتی ہوئ عوام کی لاشوں پر جیتے ہوئے حکمراں۔

Avatar
ثمینہ رشید
ہم کہاں کہ یکتا تھے، کس ہنر میں دانا تھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *