آہ! یہ زندگی

’’دن رات ‘‘وقت کے لحاظ سے چوبیس گھنٹوں کا نام ہے۔ ان چوبیس گھنٹوں پر اگر گہرائی میں غور کیا جائے تو دارین کی خوش حالی کے لیے کافی ہیں ۔ ان چوبیس گھنٹوں میں ایک ایک لمحہ بلکہ ایک ایک سیکنڈ میں انسان کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ چناں چہ اگر انسان صحیح جذبہ سے لیس ہو کر، بلا کسی تعصب کے، اپنی زندگی کے ان چوبیس گھنٹوں کے لیے ایک مسلسل اور قابلِ عمل پروگرام ترتیب دے کر اس پر عمل کرے تو انسان کے ساتھ ساتھ پوری عالم ِانسانیت کا نام روشن ہو جائے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ انسان کو اپنے ان چوبیس گھنٹوں پر غور و فکر کرکے پروگرام ترتیب دینے کی چنداں بھی فرصت نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے آج حضرت انسان ، انسانیت سے بہت دور نکل چکا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جس فرد اور قوم کو اپنی فکر نہیں وہ دوسروں کا خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتا۔

اگر ترتیب وار ان لمحات پر غور کریں تو ہمارے لیے سچ مچ یہ چوبیس گھنٹے کافی ہیں۔ ان چوبیس گھنٹوں کی شروعات ہم صبح نیند کی بیداری سے کرتے ہیں۔ کبھی ہم نے نیند سے بیدار ہو کر اس بات پر غور کیا کہ یہ نیند کیا ہے ؟او ر نیند کے عالم میں ہم کہاں تھے؟۔۔کس نے ہمیں اس نیند سے جگا کر دن کی شروعات کے لیے اُٹھنے کا جذبہ اور تحریک پیدا کی؟ آخر کوئی طاقت تو ہے جو یہ سب کر رہی ہے،کہ نیند آرہی ہے ،اور خوب آرہے ہیں ،فجر کے وقت دن کا آغاز ہوتا ہے ، ان لمحوں میں انسان کائنات میں چھپے راز پا سکتا ہے،اپنے رب سے قریب ہو سکتا ہے،اسے رب کے خزانوں سے وہ کچھ مل سکتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔انسان بحیثیت مسلمان اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے دن کا آغاز کرت ہے ،اس کی کبریائی کا اعتراف کہ یہی بندگی کا پہلا سبق ہے۔ اب اگر کوئی شروعات بندگی کے بجائے اپنے نفس کے بنائے ہوئے طریقوں سے کرے تو یہ قانون الٰہیہ کے خلاف ہے اور یہ واضح ہے کہ جو اپنے مالک کا وفادار نہ ہو، جو اپنے سب سے بڑے مالک کی فرماں برداری نہ کرے، اس کی دن بھرکی دوڑ دھوپ میں مالک کی رضا مندی و خوشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

مسلم ہوتے ہوئے اب کوئی بندگی کا طریقہ چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اختیار کر لے ،تو اسے اپنے مسلمان ہونے پر غور کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں قابل تحریک بات مفکر اسلام سید مودودیؒ نے فرمائی ہے کہ ’’اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ عبادت کا مطلب جانناآپ کے لیے کس قدر ضروری ہے۔اگر آپ اس کے صحیح معنی نہیں جانتے تو اس مقصد ہی کو پورا نہیں کرسکیں گے جس کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا ہے، اور جو چیز اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتی وہ نا کام ہوتی ہے۔ڈاکٹر اگر مریض کو اچھا نہ کرسکے توکہتے ہیں کہ وہ علاج میں ناکام ہوا، کسان اگر فصل نہ پیدا کرسکے توکہتے ہیں وہ زراعت میں نا کام ہوا، اسی طرح اگر آپ اپنی زندگی کے اصل مقصد یعنی’’عبادت‘‘ کو پورا نہیں کرسکتے تو کہنا چاہیے کہ آپ کی ساری زندگی ہی نا کامیاب ہوگئی۔ اس لیے آپ عبادت کا مطلب ضرور سمجھ لیں کیوں کہ اسی پر آپ کی زندگی کے کامیاب یا نا کام ہونے کا انحصار ہے۔اس عبادت کے معنی ہیں بندگی اور غلامی۔

جو شخص کسی کا بندہ ہو، اگر وہ اس کی خدمت میں بندہ بن کر رہے اور اس کے ساتھ اس طرح پیش آئے جس طرح آقا کے ساتھ پیش آنا چاہیے تو یہ بندگی اور عبادت ہے۔اس کے برعکس جو شخص کسی کا بندہ ہو اور آقا سے تنخواہ پوری پوری وصول کرتا ہو،مگر آقا کے حضور میں بندوں کا سا کام نہ کرے تو اسے نافرمانی اور سرکشی کہا جاتا ہے۔بندے کا پہلا کام یہ ہے کہ آقا ہی کو اپنا آقا سمجھے اور یہ خیال کرے کہ جو میرا مالک ہے، جو مجھے رزق دیتا ہے، جو میری حفاظت اور نگرانی کرتا ہے، اسی کی وفاداری مجھ پر فرض ہے،اس کے سوا اور کوئی اس کا مستحق نہیں کہ میں اس کی وفاداری کروں۔بندے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے،اس کے حکم کوبجالائے،کبھی اس کی خدمت سے منہ نہ موڑے اور آقا کی مرضی کے خلاف نہ خود اپنے دل سے کوئی بات کرے نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے۔غلام ہر وقت ہر حال میں غلام ہے۔ اسے یہ کہنے کا حق ہی نہیں کہ آقا کی فلاں بات مانوں گا اور فلاں بات نہیں مانوں گایا اتنی دیر کے لیے میں آقا کا غلام ہوں اور باقی وقت میں اس کی غلامی سے آزاد ہوں۔

اسی تناظر میں اگر ہم اپنی زندگی کے ان چوبیس گھنٹو ں پر غور کریں تو ہماری زندگی کا مقصد بھی واضح ہو جائے گا اور اس دنیا کی حقیقت کا بھی علم ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہےکہ ہمارے اسلاف راتوں میں شب بیداری کر کے ایک طرف خدا کی یاد میں مشغول رہتے تھے اور دوسری طرف اس وسیع کائنات پر، اپنی زندگی پر غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ شام کے وقت نیند کا غلبہ محسوس کرتے تو نیند سے پہلے باوضو ہو کر اس طرح لیٹا کرتے تھے کہ دوسروں کو محسوس ہو کہ وہ انتقال کر گئے ہیں ۔ تھوڑی دیر اس حالت میں رہ کر وہ بزرگ اپنے آس پاس خاموشی کے ان لمحات میں اپنی موت کے بارے میں غور وفکر کرتے کہ جب میری موت ہو گی تو برابر اسی طرح میری نعش کمرے میں پڑی ہو گی، لوگ آئیں گے، مجھے دیکھ دیکھ کر چلے جائیں گے، لیکن میں ان کی طرف نہ دیکھ سکوں گا اور نہ ہی ان کی کسی بات کا جواب دے پاؤں گا۔ میرے غسل کا انتظام ہو گا، غسل دے کر میری میت کو جنازہ پڑھایا جائے گا، جنازے کے بعد میری نعش سپرد خاک کی جائے گی، قبرستان تک میرے قریبی رشتہ دار بھی آئیں گے، لیکن دفن کرنے کے بعد سب مجھے چھوڑ کر اپنے اپنے گھر چلے جائیں گے۔ پھر کیا ہو گا …اس بارے میں کسی کو فکر نہیں ہو گی، سب کچھ مجھے سہنا ہو گا۔ یہ سب کچھ کر کے اس بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ جب اس کے بعد اُٹھ کھڑے ہو جاتے تھے تو جیسے ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر بھرا ہوتا تھا اور اس طرح وہ اپنی زندگی میں ہی اپنا احتساب کر کے اس دوسری زندگی کے بارے میں خدا کی فرماں برادری کا عہد کرتے تھے ۔دیکھا جائے تو قرآن ِمجیدبھی اس بات کی بار بار یاد دہانی کراتا رہتا ہے کہ ’’افلا تذکرون، افلا تدبرون، افلا تتفکرون۔ چابیس گھنٹوں کے اس دن رات میں ہمارے لیے کیا اور کیسے کیسے راز پوشیدہ ہیں ان کے بارے میں انسان تب ہی جان سکتا ہے جب وہ ان لمحات پر صحیح طور سے غور کرے۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *