وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

وجود”زن” سے ہے کائنات میں رنگ۔۔۔۔
درج بالا عنوان ہمیں ایک ایسے وجود کے بارے میں بتلاتا ہے جس کی حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں۔کتنی صورتوں میں ان ہستیوں سے ہمارا روز مرہ واسطہ رہتا ہے۔حصول جنت کے لئے ’’ماں‘‘کا وجود گوہر نایاب کی مانند ہے۔ماں کے وجود میں اس صنف کی مکمل اور اکمل حقیقت ہے۔ایک نوزائیدہ بچے کی پیدائش کے بڑے اور مکمل ترین قلعہ کی صورت ۔زندگی کے نشیب و فراز پر ڈگمگاتے قدموں سے پختہ قدموں تک ماں کا سہارا۔ہر آن شفقت و محبت کا بحربیکراں جس کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔اس کی اہمیت ذرا ان لوگوں سے پوچھ کر دیکھیے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔

ایک صورت بہن کی ہے رشتوں کی دنیا میں ایسا رشتہ جو بیک وقت بہن اور بھائی کا رشتہ اور پھر ایک مخلص،خیرخواہ دوست کا تعلق۔بھائیوں کے لئے نچھاور ہونے والی یہ ہستی جو اگر بھائی سے بڑی ہے تو ایک ماں کا رتبہ ہے اور چھوٹی ہے تو یہ رشتہ بھی نہایت پاکباز ہے۔بیوی کے وجود میں عورت کا رشتہ لافانی ہے۔کہاوت ہے ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ‘‘۔ محرم راز،ہمدرد،خیر خواہ،اچھا دوست،زندگی کے نشیب و فراز میں ساتھی اور ہر موڑ اور لمحے کا خیر خواہ اور ان سب سے بڑھ کر وہ اولاد جو آنے والے وقت کا سرمایہ اور ملک و قوم کی ترقیات کا پیش خیمہ ہو ،اسی رشتے کے وجود سے جنم لیتی ہے۔
بیٹی کو اللہ تعالی ٰ نے رحمت کی شکل میں پیدا کیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ” جس کو خدا تعالیٰ نے دوبیٹیاں عطا کیں اور ان کے والدین نے ان کی اچھی پرورش
کی پڑھایا لکھایا اور مفید وجود بنایا ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے والدین کے لئے جنت واجب کر دی”۔ماں باپ کی نیک تربیت اور شفقت کی بدولت جانے والے گھر میں اپنے نیک اثرات ہنر مندی،سلیقہ شعاری اور محبت سے سب کے دل جیت لیتی ہے۔گرمی سردی کے موسم کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔عورت ہر حال میں انسانوں کے اس ہجوم میں اپنا ایک معتبر وجود رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی استطاعت کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔

Avatar
افتخار احمدانور
ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *