• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • یہ گلاس آدھا بھرا ہوا نہیں آدھا خالی ہی ہے…..سلیم فاروقی

یہ گلاس آدھا بھرا ہوا نہیں آدھا خالی ہی ہے…..سلیم فاروقی

کل ایک چٹکلا نما پوسٹ ڈالی جس کو عنوان دیا “گھی کہاں گیا کھچڑی میں اور کھچڑی کہاں گئی؟؟؟” اس پوسٹ میں صرف اتنا کہا تھا کہ موبائل فون پر پندرہ روپے کم کیے اور پیٹرول پر اضافہ کردیا۔ اکثریت نے تو لطف لیا لیکن کچھ لوگوں نے خدا جانے کیوں برا مان لیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں ہمیشہ آدھا گلاس خالی ہی کیوں نظر آتا ہے۔ آدھا گلاس بھرا ہوا کیوں نہیں نظر آتا ہے۔

اب کوئی ان سے پوچھے کہ بھائی جب بھرے ہوئے گلاس کو آدھا خالی کردوگے تو ہم اس کو آدھا بھرا ہوا کیوں کہیں، آدھا خالی کیوں نہ کہیں؟ بات دراصل یہ ہے کہ “اوگرا” کی مقرر کردہ یکم جون 2018ء کو پیٹرول کی خوردہ قیمت 85.20 روپے فی لیٹر ان کے ڈپو پر تھی جو 12 جون 2018ء کو بڑھا کر 89.46 روپے فی لیٹر یکم جولائی 2018ء کو بڑھا کر 97.00 روپے کردی گئی، گویا ایک ہی مہینے میں پہلے 4.26 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا اور پھر 7.54 روپے کا اضافہ کیا یوں ایک ہی مہینے میں کُل 11.80 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔ (اگر کسی کو کوئی شک ہو تو “اوگرا” کی ویب سائیٹ پر ان کا نوٹیفیکیشن دیکھ سکتا ہے) بہانہ یہ بنایا گیا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت میں اور پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی باعث ایسا مجبوراً کیا گیا ہے۔ لیکن جب اوگرا کی پرائس لسٹ کو دیکھا جائے یہ بہانہ سوائے عذرِ لنگ یا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

اگرچہ اوگرا کا قیمت طے کرنے کا طریقہ کار تھوڑا سا ٹیکنیکل ہے۔ ان کی پرائس لسٹ کو کسی بھی دوسری عام اشیاء کی پرائس لسٹ کے مقابلے میں سمجھنے کے لیے تھوڑا سا اضافی وقت لگتا ہے۔ لیکن جب ایک بار ایک لسٹ سمجھ میں آجائے تو ہر مہینے کی لسٹ خود بخود عیاں ہونے لگتی ہے۔ اس وقت ہم اس کو موضوع نہیں بنا رہے کہ انہوں نے اس لسٹ کو عام فہم کیوں نہیں رکھا؟ ہم ان کو اس کا بونس دیے دیتے ہیں کہ انہوں نے تکنیکی ضروریات کے تحت ایسا کیا ہوگا۔

ہم اس لسٹ میں سے ڈیلر کمیشن اور ڈسٹری بیوشن اخراجات کو فی الحال چھوڑ دیتے ہیں صرف دو چیزیں ہی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں، حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ اور یہ دو چیزیں ہیں سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کیونکہ جہاں تک ڈالر کی قیمت اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قیمت میں اضافے کا تعلق ہے تو وہ پیٹرول کی بنیادی قیمت میں شامل کرنے کے بعد اس پر سیلز ٹیکس اور لیوی وصول کی جاتی ہے۔

اب پہلے صرف سیلز ٹیکس کو دیکھ لیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ ذہن میں رکھیں کہ دیگر اشیاء کے برخلاف پیٹرول کا سیلز ٹیکس ریٹ فکس نہیں ہے بلکہ یہ کسی وقت بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ یکم جون کو جب ہم اور آپ پیٹرول کی قیمت 85.20 روپے فی لیٹر ادا کر رہے تھے اس وقت سیلز ٹیکس 12.38 روپے فی لیٹر تھا۔ گویا تقریباً 10.55٪۔ لیکن جب 12 جون کو ہم 89.46 روپے ادا کر رہے تھے اس وقت یہ سیلز ٹیکس 13.00 روپے تھا گویا 11.63٪ فی لیٹر۔ اور اب جب ہم 97.00 روپے فی لیٹر ادا کر رہے ہیں اس وقت سیلز ٹیکس 14.09 روپے ہے گویا 13.67٪ ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ یکم جون کی نسبت یکم جولائی میں صرف سیلز ٹیکس میں 3.22٪ کا اضافہ کردیا گیا۔

اب آجائیے پیٹرولیم لیوی کی جانب (جس کا حقیقی نام غنڈہ ٹیکس ہونا چاہیے)۔ یکم مئی کو جب ہم 85.20 روپے ادا کر رہے تھے اس وقت لیوی فی لیٹر 3.04 روپے تھی۔ گویا 2.59٪ پھر جب ہم نے 89.46 روپے ادا کرنا شروع کیا تو یہ رقم بڑھ کر 6.68 روپے ہو چکی تھی گویا 3.39٪ کے اضافے دوگنا سے بھی زیادہ یعنی 5.98٪۔ اور آج جب ہم 97 روپے ادا کر رہے ہیں تو یہ لیوی 10.54 روپے فی لیٹر یعنی 10.22٪ ہوچکی ہے گویا ایک بار پھر دوگنا کی چھلانگ یا یکم جون کی نسبت یکم جولائی میں لیوی میں چار گنا اضافہ۔

صرف اتنی بات یاد دلانے کے بعد ہم کالم ختم کرتے ہیں کہ ڈالر اور عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود اوگرا نے در حقیقت پیٹرول کی بنیادی قیمت میں اضافہ نہیں کمی کی ہے لیکن سیلز ٹیکس اور لیوی میں اضافے کی باعث صارفین سے تقریباً 12 روپے فی لیٹر اضافی اینٹھے جا رہے ہیں۔ اب ذرا اپنی یاد داشت تازہ کریں اور دو چیزیں ملانے کی کوشش کریں۔ اول یہ کہ چیف جسٹس نے جون میں کس وقت حتمی نوٹس دیا کہ موبائل سے ناجائز ٹیکس ختم کرو اور اس کے بعد یہ ٹکس کب سے ختم ہوا؟ اور کتنا ختم ہوا۔ اور اسی دوران پیٹرول پر سیلز ٹیکس اور لیوی بھتے میں کتنا اضاففہ ہوا؟

کیا اب بھی ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ جناب یہ گلاس آدھا بھرا ہوا نہیں آدھا خالی ہی ہے۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *