چُھٹے

خلاف معمول بس اسٹاپ پر بھیڑ نہیں تھی۔
اچانک پیچھے سے صدا آئی۔۔۔اللہ کے نام پہ دے دو بابو،
مڑ کر دیکھا گرد سے اٹا چہرہ، بکھرے بال ، پیوند لگے کپڑے ۔۔
ہاتھ پھیلائے ادھیڑ عمر فقیر کھڑا تھا ،چہرے سے عجیب وحشت ٹپک رہی تھی۔
چھٹے نہیں ہیں بابا۔۔۔۔ معاف کرو،
چھٹے ہو جائیں گے صاحب۔۔۔۔۔
جاؤ یار میرے پاس پانچ ہزار کا نوٹ ہے،
میں نے جان چھڑانے کے لیے کہا۔
اس نے چولے کی پانچ چھ جیبیں ٹٹولنے کے بعد مڑے تڑے نوٹ نکالے ،
اور گن کر میرے سامنے کر دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بولا ، لو صاحب گن لو۔۔ پو رے 4990 روپے ہیں!!!

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *