قطر کی باری کیوں آئی؟

قطر کی باری کیوں آئی؟
ارشادمحمود
سعودی عرب کی شہ پر چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کردیئے ہیں۔ قطر کے خلاف خیلجی ریاستوں کے اس اقدام سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایران کے خلاف ابھرنے والے وسیع البنیاد عرب اتحاد میں دراڑیں پڑھ چکی ہیں۔ امریکہ کی سربراہی میں جب ریاض میں ایران کو تنہا کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا تو پاکستان، قطر اور اومان خاموش رہے کیونکہ وہ اس نوع کے کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہتے جو شعیہ سنی تفریق میں اضافہ کرے اور مسلمانوں کو باہم صف آراء کردے۔
قطرکے امیر شیخ تیمیم بن حامد التانی سعودی نقطہ نظر سے متفق نہیں۔ اومان کے حکمران سلطان قابوس بھی اس اتحاد سے دور رہے اور وہ ریاض کانفرنس میں بھی شریک نہ ہوئے۔ یاد ر ہے کہ اومان نے یمن کے خلاف فوجی کارروائی میں بھی اپنے دستے نہیں بھیجے تھے۔
بدقسمتی سے سعودی عرب اورایران کی پالیسیوں نے نہ صرف ان کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا بلکہ پوری مسلم امہ کو شعیہ، سنی عقائد کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا سبب بننے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ جو ملک اس کے ساتھ تعلقات چاہے یا مالی فوائد سمیٹنا چاہتاہے اسے ایران مخالف کیمپ میں کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ سابق امریکی صدر جارج بش والی پالیسی ہے کہ اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں تو پھر آپ ہمارے دشمن ہیں۔
قطر نسبتاً ایک مفاہمتی سیاسی فکر کا حامل ترقی پسند ملک کے طور پر ابھررہاہے جو خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتاہے۔ آزاد میڈیا اور کھلے معاشرے کے قیام سے وہ قرب وجوار میں جمہوری اقدار کے فروغ کی راہ ہموارکررہاہے۔ اخوان المسلمون اور حماس جیسی تنظمیوں کو طاقت کے زور پر کچلنے کے بجائے ان کو سیاسی نظام کا حصہ بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک مشکل ترین دور کی ابتداہوچکی ہے۔ غالباً شعیہ سنی کی بنیاد پر اس قدر کشیدگی عصری تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملی۔ خاص طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ ہمارے ہاں تمام تر اختلافات کے باوجود سیاسی اور قومی سطح پر ابھی تک دوٹوک قسم کی فرقہ وارانہ تفریق نہیں پائی جاتی۔ بلکہ اس ملک کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کا تعلق فرقہ اثنا عشرہ سے تھا اور کئی ایک حکمرانوں اور سپہ سالاروں کا تعلق بھی اسی فرقے سے رہاہے جو پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ کثیر الجہتی ہونے کا ثبوت ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت پاکستان عرب اور ایران سے اٹھنے والی فرقہ وارانہ تقسیم کی لہرسے نہ صرف خود کو بچانے کی کوشش کرے گی بلکہ اپنے شہریوں کو بھی اس آگ کا ایندھن نہیں بننے دے گی۔
دباؤ تو بہت پڑے گا کہ قطر کے خلاف کھڑے ہوجاؤ لیکن پاکستان کو بھاؤ تاؤ کرنے کے بجائے مسلم امہ اور قومی مفاد میں اپنی خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ عالم عرب میں لگنے والی آگ کو اگر ہم بھجا نہیں سکتے تو کم ازکم اسے بھڑکائیں تو نہ۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *