• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسافتوں کا دکھ،کین کن اور انور ابراہیم۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

مسافتوں کا دکھ،کین کن اور انور ابراہیم۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

ہم  یہاں نیویارک میں وطن واپسی کا سامان  باندھتے تھے کہ عید   فادرز ڈے کو ساتھ لے کر آگئی۔اپنے وطن میں کیسی عید کہہ کر ہمیں اہل خانہ نے روک لیا مگر عین وقت پر دو  نوجوان  ،نو بیاہتا مہمان جوڑے   کینیڈا سے اور  ایک قریبی عزیز ترکی سے آگئے تو  ہمارے قیام کی ایسی ہی مخالفت شروع ہوگئی جیسی جرمنی میں ان دنوں  وہاں   چانسلر انیجلا مارکل کے    چوہدری نثار وزیر داخلہ  Horst Seehofer   کی جانب سے     شام کے مہاجرین آمد پر کی جارہی ہے۔ حالاں کہ گجرات،بھیرہ،   سوہاوا  کے   نوجوان بخوبی جانتے ہیں  کہ جرمنی میں مزدوروں کی،ویٹرز اور ڈرائیورز کی شدید قلت ہے۔  فیصلہ یہ ہوا کہ مہمانوں کو خفت سے اور قیام بیرونی سے بچانے کے لیے ہمیں کہیں اور پارسل کردیں۔

سو اہل خانہ نے  ہماری ایک کمزوری کا فائدہ اٹھایا، کہیں سے  راتوں رات   کوئی ڈیل لبھ لی۔صبح اٹھے تو سرہانے ایک لفافے میں ہوٹل کی بکنگ اور جہاز کے ٹکٹ کا پرنٹ آؤٹ موجود تھا۔ یہ  فادرز ڈے کا Go away   گفٹ  تھا ۔چھ گھنٹے بعد  ہمیں کین کن میکسکو کی فلائیٹ پر سوارہونا تھا۔سارے ڈیل بمشکل  پاکستانی پچاس ہزار کی تھی۔ واپسی کا ہوائی ٹکٹ اور بے حد حسین پانچ ستارہ ہوٹل میں تین راتوں کا قیام۔ایسے بغیر تیاری کے یا تو ہم اس  دنیا میں وارد ہوئے تھے یا اس سفر پر بھیج دیے گئے۔

کین کن

کین کن دیکھ کر دکھ ہوا۔پاکستان  کا ہر شہر تھرڈ ورلڈ کے میکسکو  کے اس  شہر سے بھی سو سال پس ماندہ ہے۔ تیس کلومیٹر کاتولم ایونیو جس پر یہ پورا شہر واقع ہے اس کے دو طرف کیری بئین کا سمندر واقع ہے۔موازنہ کریں تو کراچی کا سی ویو سمجھ لیں جس کے ایک طرف مالدار بے لطف پاکستانی تو دوسری طرف شہر ہی  کی غلاظتوں کو پیہم  سمیٹتا سمندر ہے۔گھگھر پھاٹک لانڈھی سے پرے سے تمام سویج(Sewage)  اور صنعتی فضلہ سمندر میں آن کر گر جاتا ہے۔بیچ ویو کے ساحل پر جہاں لوگ نہاتے اور کریک کلب کے جس بحر غلاظت میں امرا واٹر اسکیئنگ کرتے ہیں وہ  یہی سیاہ فضلہ ہے۔اس کے برعکس کیئربین سمندر کا پانی اجلا سبز ہے چمکتی سفیدریت  ہے۔کین کن میں یوں تو سال میں دو ہزار آدمی قتل ہوتے ہیں۔ ان کی پولیس بھی ہماری پولیس کی جڑواں بہن کی اولاد ہے مگر تصویر میں  جو سیل فون جتنی پولیس والی نظر آتی ہے اس کا ڈر اور احترام ایسا تھا کہ چالیس مسافر بسوں کے ڈرائیور اس کے خوف سے لرزتے تھے۔یہ مائین نسل کی ہے۔ان کے عورتوں اور مردوں کے قد بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور گردن نہ دارد۔

پولیس والی

کین کن  سے ذرا دور  ایک اور جزیرے پر چلے جائیں تو آئلہ میخورا پر امریکی رؤسا اپنے ایام آخر گزارنے آتے ہیں۔

آئلہ میخورا(جزیرہ)

پینتالیس منٹ کی ہوائی مسافت اور آدھے دن کی آبی مسافت پر کیوبا ہے۔یہ میکسکو کا آخری جزیرہ ہے۔خوبصورت گھر آپ کو چھ لاکھ ڈالر میں مل جاتے ہیں۔ رئیس بھارتی امریکن ان کو ہفتے بھر کے لیے بارہ سو ڈالر کرائے پر لے لیتے ہیں،کک اپنا لاتے ہیں،چار پانچ قریبی  گھرانے مل کر یہاں آجاتے ہیں۔
کین کن میں ہمارا ہوٹل جو جنوبی کنارے پر واقع تھا  وہاں  سے ڈاون ٹاؤن جو شمالی کنارے پر تھا اس کا ٹیکسی کا یک طرفہ کرایہ ساٹھ ا مریکی ڈالر تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ دوسرا آسان اور پرلطف ذریعہ بس ہے یہاں ہوٹل کے سامنے سے مل جاتی ہے۔جہاں ٹرمینس ہو وہاں اتر جائیں۔ واپسی کا  کرایہ  بھی کل ایک ڈالر ہے۔بس ہر دو منٹ بعد ملتی ہے۔امریکی بس کو بھول جائیں۔ڈرائیور ڈیزل کی ٹینکی کے ساتھ ہی سگریٹ بھی پی رہا ہوگا۔سیل فون پر عشق بھی لڑا رہا ہوگا،ٹکٹ بھی وصول کررہا ہوگا۔۔بس کا پچھلے تین سال میں کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ہم نے کھانا کھانے کے لیے یہی راستہ اپنایا یوں پانچ ستارہ ہوٹل کے مہنگے   بدذائقہ کھانے سے نجات مل گئی۔

شہر کے وسط میں جو ریستوراں تھا وہاں کی ویٹریس وکٹوریہ سر پرپینا کولاڈا کابڑا سا ساغر رکھے  تھرکتی ہوئی آتی، جلو میں کوئی اور کمسن ویٹریس  کھانے کی ٹرے اٹھائے  ہوتی   ،صاف پانی کی تازہ  تڑپتی  مچھلی،مہکتے ہوئے میکسکن چاول اور مختلف  پاپڑ اور سالساچٹنیاں۔قیمت ہمارے ہوٹل کے طعام سے ٹپ شامل کرکے ایک چوتھائی سے بھی کم۔

وکٹوریہ

وہاں ہمیں ساتھ والی دکان منی چینجر کی دکان پر ایویٹا مل گئی۔Rain Forest جیسے مزاج کی پراسرار چپ چاپ  گم گشتہ خوابوں جیسی اور رواں دواں انگریزی۔یہ جان کر کچھ جلد فریفتہ ہوگئی کہ ہم نیویارک کی ایک نواحی بستی  ایسٹ چیسٹر میں رہتے ہیں۔باقی اندازے اس نے خود سے ہی لگالیے کہ ہم ڈاکٹر ہوں گے یا پروفیسر اور ہر لحاظ سے بے ضرر۔بیوی چھوڑ کر جاچکی ہوگی اور بچے کہیں دور دراز جا بسے ہوں گے۔گھر میں رات بھر سناٹے بولتے ہوں گے اور سایوں سے ہمارا خون خرابہ ہوتا ہوگا۔ہم نے تفریح لینے کے لیے اس کی ہر بات پر ہسپانوی زبان میں سی یعنی جی کہا تو کھل اٹھی۔یہ پوچھا کہ ہمارے بارے میں پہلی ملاقات میں اتنے درست اندازے اور وہ بھی اتنی جلد کیسے لگالیے تو  کہنے لگی کہ  میری چوتھی سمت بہت توانا ہے۔مجھ میں ایک بڑے واقعے کے بعد حالات اور واقعات کا ایک پیشگی شعور آگیا ہے۔

ہماری عادت نہیں کہ ہم کسی کے اپنے خود کے بارے میں دعوؤں کو جھٹلائیں۔ہندی میں کہتے ہیں کہ ہر کوئی چاہتا ہے ایک مٹھی آسماں۔اسے نیویارک میں ہماری تنہائی پر بہت ترس آیا جب ہم نے اسے بتایا کہ ہمارا  یاسٹ چیسٹرچھوٹا سا قصبہ ہے جہاں ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے۔ہم زیادہ تر وقت میوزیم،پارکوں،میٹرو نارتھ ریل گاڑی یا لائبریریوں میں گزارتے ہیں تو جھٹ سے پوچھ بیٹھی کہ کیا ہم اسے امریکہ بلا سکتے ہیں۔ یہاں کین کن میں وہ بہت دل شکستہ ہے۔ اسے ایک بہتر مستقبل کی تلاش  ہے۔وہ شادی اور بچوں کے جھنجٹ سے پرے ایک آزاد زندگی گزارنے کی خواہشمند ہے۔یہاں وہ اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ رہتی ہے۔ہم تینوں عورتوں نے زندگی میں بہت غلط فیصلے کیے۔وہ یہ سب بندھن توڑ کر امریکہ میں بس جانا چاہتی ہے۔یہاں وہ  تین عورتیں کماتی ہیں تو بمشکل گزارا ہوتا ہے۔ہماری ہمت نہ ہوئی کہ اسے بتاتے کہ اتنا جلد اعتماد اس کے لیے مزید غلط فیصلوں کا باعث بن سکتا ہے  سمجھ میں  نہ آیا کہ اسے  کیسے جتلائیں کہ ٹھوکریں کھاکر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ۔ہم نے پوچھا’ہمارے پاس کیوں آنا چاہتی ہے؟‘ تو کہنے لگی کہ وہ   ہمارے لیے کھانا پکاسکتی ہے۔صفائی کرسکتی ہے۔وہ گھر کے باہر برف بھی صاف کرلے گی۔کار بھی چلا لے گی۔باقی تفصیلات جن میں شبینہ مصروفیات بھی شامل تھیں،اُن  سے ہم دونوں نے مشترکہ گریز کیا۔

ہم نے پوچھ لیا کہ یہ کلائی سے نیچے جو اتنی بڑی جلد کی رنگت کیMedicated bandages  لگا رکھی ہے تو کیا کوئی چوٹ لگی تھی۔کچھ دیر چپ رہی مگر  ہم نے  جب سوال دہرایا تو پسیج گئی،آنکھ بھی نمناک ہوگئی آہستہ سے کہنے لگی   ”بہت بڑی“۔ہمارا پختہ یقین ہے کہ ہر دل گرفتہ اور رنجور شخص کے   پاس  سنانے  کے لیے   کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔مصطفے زیدی نے کہا تھا کہ ۔۔
؎داستان دل سب سے پرانی ہے مگر
کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے

پاؤلو کولی ہو  کی مشہور کتاب   Eleven Minutesبھی ایسے ہی وجود میں آئی تھی جب  زیورخ کی ایک طوائف   Marian Brasil    ان کے مطالعے کے لیے اپنا مسودہ چھوڑ گئی تھی کہ وہ اس کی کہانی لکھیں۔خود  اس نے بھی بعد میں Sony C.M کے نام سے Entre as Fronteiras (Between Borders),  اپنی  پرتگالی زبان میں کہانی لکھی مگر کولی ہو جیسی مقبولیت اسے نصیب نہ ہوئی کیوں کہ وہ ایک سپاٹ سی سوانح عمری ہے،جب کہ  پاؤلو کولی ہو  جن کی کتاب الکیمسٹ دنیا بھر میں بیسٹ سیلر ہوچکی تھی ان کی کتاب     گیارہ منٹ    میں روحانیت   فلسفے  اور   تشدد برائے  جنسی تلذز کا تڑکا بھی ہے۔گیارہ منٹ کا دورانیہ  ہر اس تعلق میں جو جسمانی وصل کے مراحل کے   ہالے میں داخل ہوچکا ہو  اس کا جملہء عرصہء رفاقت ہے جو میرین اور کولی ہو نے مختلف انٹرویوز کی بنیاد پر  بطور نتیجہ اخذ کیا۔

ہم نے اصرار کیا تو آہستہ سے اپنی بینڈ۔ ایج ہٹانے لگی۔ دوسروں کے زخموں کو دیکھنے اور کریدنے میں ایک کرب بھرا لطف ہوتا ہے۔ کلائی کے نیچے  بازو  سے  پٹی ہٹتی گئی تو زخم کی جگہ ہمیں عربی کی تحریر دکھائی دی، میکسکو میں عربی  ہم سوچ میں پڑگئے کہ یا اللہ یہ کیا ماجراہے۔پتہ چلا  کہ دو نام لکھے ہیں  اسابیحا ،ریخینا۔یہ نام اپنے ہسپانوی تلفظ پر ٹیٹو کیے گئے تھے۔انگریزی میں لکھیں تو Isabella +Regina
معلوم ہوا کہ یہ اس کی جڑواں بیٹیوں کے نام ہیں۔بیٹیاں باپ کے پاس ہیں۔شادی نہیں چل پائی۔بیٹیاں   کین کن سے ہزار میل دور کسی شہر  میں اس کے سابقہ شوہر اور دادی کے پاس ہیں اور ان کی یاد اور بہنے والے آنسو اس کے دل اور آنکھ میں۔اسے بہت حیرت ہوئی جب ہم نے اسابیحا ،ریخینا درست طریقے پر نہ صرف پڑھا بلکہ اسے کاغذ پر لکھ کر بھی دکھایا۔اس نے یہ سب عربی میں کیوں لکھوایا۔اس لیے کہ کوئی اور یہاں اسے نہ پڑھ سکے۔میں انہیں یاد تو رکھنا چاہتی ہوں مگر اپنا غم شیشہء دل بنا کر اچھالنا نہیں چاہتی۔
ہمارادل نہ مانا کہ اس سے  بطور غمگین ماں کے اس حوالے سے مزید کریدتے  ۔یہ البتہ
اسے ضرور  سمجھایا کہ   ان دنوں امریکہ کی کئی ممالک کے حوالے سے ویزہ کی شرائط کڑی ہیں۔ وہ  امریکہ جانے کی بجائے جرمنی جانے کی سوچے۔  ۔وہاں ایسی نوکریوں کی ان دنوں بہتات ہے جنہیں Blue Collar Jobs کہتے ہیں۔جرمنی  کی شہریت مل جائے تو پھر امریکہ آجائے۔ بہتر یہ ہوگا کہ وہ میکسکن کھانوں کا کوئی کورس کرکے یہاں  کین کن  میں جو بے شمار عمدہ ہوٹل ہیں ان  میں کک کی ملازمت کی سند حاصل کرلے۔ یہ سارا منصوبہ  ایک سال کا روڈ۔میپ ہے۔

اسے ہماری بات پسند آئی۔دم رخصت اس نے  خود ہی وعدہ لیا کہ وہ امریکہ آئی تو نیویارک میں ایسٹ چیسٹر میں ہمارے آستانہء عالیہ پر آن کر ہمارا عطا کردہ خرقہء ملامت اوڑھے گی۔ سندھ یونیورسٹی میں انگریزی ادب سندھی میں پڑھ پڑھ کر ہمارے اپنے جذبات کچھ ایسے گڈ مڈ  ہوچکے ہیں کہ چاہے کوئی کتنا بھی وشواش دلانے کی کوشش کرے  یہ ایویٹا جیسی میکسکن پیکر سپردگی  پنجابی میں بھی گا کر یقین دلائے کہ
رُکھے والاں دے وے  چھلے   (میرے سوکھے بالوں کے یہ حلقےٌ
تیرے بناں اسی کلے          (میں آپ کے بغیر بہت تنہا ہوں

پالے بانہواں  وچ بانہواں۔ (تم جب بانہوں میں بانہیں ڈالتے ہو)
دھوپاں بن جان چھاواں (دھوپ،چھاؤں بن جاتی ہے)
صندلی صندلی نیناں وچ تیرا نام وے منڈیا۔(شہزادے میری ان صندلی نگاہوں کو صرف تیرا نام ہی نام آتا ہے

ایسے ہر موقعے پر ہم انہی انگریزی ادب کے اسباق میں سے کوئی مطلب کی بات ڈھونڈ کر یوم اور وقت مقررہ سے پہلے ہی ہوائی اڈے کا رخ یہ کہہ کر لیتے ہیں کہ
Kill the part of you that believes it can’t survive without someone else.”
(اپنے اس وجود کے ہر اس حصے کو ہلاک کردو جو اس یقین کو گلے لگائے بیٹھا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتا)

کین کن میں ہمیں امید نہ تھی کہ ٹی وی آن کرتے ہی کہیں سے ہماری پسندیدہ ٹی وی شخصیت بی بی سی کی لیز ڈوسیٹ آجائے گی۔اسے یاد نہ ہو مگر جب بے نظیر بھٹو کے ہاں لیڈی دفرن ہسپتال میں ڈاکٹر ڈنشا کے ہاتھوں بلاول کی ولادت پر وہ اور ہم ڈی ایس پی آرام باغ کے دفتر میں بیٹھ کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔اس کا کیمرہ مین  پہنچ نہ پایا تھا۔
لیز ڈوسیٹ ملائشیا کے منتظر وزیر اعظم انور ابراہیم سے باتیں کرتی تھی۔انور ابراہیم کی آواز اور شخصیت کا ٹھہراؤ ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔

انور ابراہیم اریسٹڈ

مہاتر کی عزت اس دن دنیا بھر میں بہت سے افراد نگاہ میں دو کوڑی کی بھی نہ رہی جب اس نے اپنے وزیر خزانہ پر ہم جنس پرستی جیسے غلیظ ترین الزامات لگا کر جیل میں ڈال دیا۔ پانچ سال جیل میں رہ کر جب وہ باہر آئے تو 2015 میں ملایشیا کی ایک اور بڑی عدالت نے انہیں سابقہ الزامات پر جیل بھجوادیا۔اب وہ ایک ماہ پہلے سلطان کی عطا کردہ معافی کے تحت جیل سے رہا ہوئے۔

مہاتیر

آپ نے کبھی سوچا عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے سے اتنے جدا کیوں ہوتے ہیں۔اس لیے کہ انگریزی کا محاورہ ہے Who will judge the judges? یہ منصفین جو دنیا وی جاہ و جلال کے نشے میں چور اتنے غلط سلط فیصلے دیتے ہیں کہ ضیا الحق کے مارشل کے زمانے میں ایک بس ڈرائیور اللہ بخش اور ایک لڑکی فہمیدہ کو شادی کے الزام میں کوڑوں کی سزا دی گئی اور اسی جوڑے کو ایک سال بعد ہائی کورٹ نے بری کردیا۔1982 میں ساہیوال میں ایک باپ بیٹا مل جل کر اپنی نابینا ملازمہ صفیہ بی بی کو طویل عرصے تک ریپ کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ حاملہ ہوگئی تو اس کے والد نے ان زانیوں پر مقدمہ کردیا۔صفیہ بی بی کے حق میں کوئی گواہی نہ تھی لہذا ملزمان تو شک کے فائدے پر بری ہوگئے مگر چونکہ ماں بننا ایک عالمی سچائی تھی لہذا بینائی سے محروم کی اپنی گواہی کو درست نہ مانا گیا اور اسے محض ملزمہ کی جانب سے الزام تراشی کا درجہ دیا گیا۔ عدالت بے رحم و بے حس کو صفیہ بی بی نے لاکھ یقین دلایا کہ میرے پیٹ میں بچہ میرے آنسو بہانے کی وجہ سے نہیں آیا۔مجھ سے زیادتی ہوئی ہے۔وکیل صفائی نے کہا چونکہ وہ ایک اندھی کم حیثیت لڑکی ہے لہذا یہ کیسے مان لیا جائے کہ یہ بچہ ان دونوں مالک باپ بیٹوں میں سے کسی ایک کا ہے۔ صفیہ بی بی کو زنا کی تین سال کی قید بامشقت اور پندرہ کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔دنیا بھر میں اس فیصلے پر پاکستان کے عدالتی نظام پر بہت تھو تھو ہوئی۔ نابینا صفیہ بی بی کو جیل سے رہا ہوتے ہوتے بھی سال لگ گیا،بچے کی ولادت بھی جیل میں ہی ہوئی۔اسلامی،قوانین کے خلاف عالمی نفرت کا آغاز اس کیس سے ہوا۔

مہاتر محمد کی بیوی ستی(بھاشا ملایشیا میں محترمہ)عصمہ اور انور ابراہیم کی بیوی ڈاکٹر ستی عزیزہ آپس میں پرانی سہیلیاں تھیں۔انور ابراہیم کی قید کے بعد بھی دونوں کی بول چال قائم رہی۔ملائشیا جہاں اسلام تاجروں کے ذریعے پھیلا ایک دھیمے سبھاؤ والا روادار معاشرہ ہے۔ہماری طرح وہ زندگی کے ہر معاملے میں Loud اور صرف خود کو درست سمجھنے والے لوگ نہیں۔ اس سال الیکشن ہوا تو دونوں خواتین نے دو ضدی مردوں کو یکجا کرنے کی سوچی۔انور ابراہیم کی کثیر الاتحاد پارٹیPakatan Harapan نے222 ممبران کے ایوان میں 122 نشستیں جیتیں تو پارٹی نے دو شرائط رکھیں کہ وہ جب انور ابراہیم مطالبہ کریں گے وزیر اعظم کا عہدہ خالی کردیں گے اور ستی عزیزہ کے لیے ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ مختص ہوگا جس کے اختیارات بھی واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔وہ انور ابراہیم کے لیے بادشاہ کو انہیں معافی دینے کی حکومتی درخواست کریں گے۔

مہاتیر کی بیوی اور بیٹی

اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں کہ بے ضمیری میں عدلیہ اور سیاست دان ہم پلہ ہیں۔سوچئے ملائشیا کی اس اعلی عدالت اور اس کے سزا سنانے والے کے لیے یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے جس کی گھناؤنے اخلاقی جرم میں دی گئی سزا کو بادشاہ وقت حکومتی استغاثہ یعنی Prosecution کی درخواست پر معافی میں بدل دے۔پاکستان میں لوگ بھول جاتے ہیں کہ حقوق العباد یعنی Rights of People کی پامالی کے مقدمے میں یعنی تھانہ، عدالت،ثبوت کی بہترین فراہمی حکومت انتظامی حد تک تو فریق ہوتی ہے مگر دعوی کا حق ہمیشہ مظلوم کے پاس رہتا ہے۔معاف بھی وہی کر سکتا ہے کوئی اور نہیں۔نہ حکومت نہ جج نہ ہی عدلیہ۔یہی دین اسلام کا فقہی اصول ہے۔

ہمارے جیسے غیر اہم لوگ ان معاملات پر غور کریں تو دل و دماغ میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔کیا سیاست اور عدالت دونوں ہی بے رحم اور مردہ ضمیر ہوتے ہیں۔سوچیے  سن 1925 میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر مہاتر محمد جو تعلیم کے حساب سے واقعی ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں سن 1981 سے سن 2003 تک ملائشیا کے  وزیر اعظم رہے۔جن کی عمر اس وقت93 برس ہے وہ1974سے مسلسل وزیر یا وزیر اعظم رہے ہیں جن کا بیٹا مخرج محمد بھی وزیر اعلی رہا ہے ان کی مسند اقتدار پر اس طویل دور حکومت میں پہلے کون سی تمنا تھی کہ پوری نہ ہوئی ہوگی۔۔

عمران خان جو ڈاکٹر مہاتر کے بہت بڑے فین ہیں وہ شایدزلفی بخاری اور ریحام کی طرح اس پس منظر سے بھی ناواقف ہیں کہ مہاتر اور انور ابراہیم کے درمیان اختلافات کا آغاز کرپشن کے معاملات پر ہوا۔مہاتر نے اپنے ساتھیوں کو سرکاری ٹھیکوں میں نوازنا شروع کردیا تھا۔یہ ناچاقیاں بعد میں ایک گھٹیا لیول کی دشمنی میں بدل گئیں ۔عدالت میں بستر کی وہ گندی چادریں۔وہ لڑکے بھی پیش کیے گئے جن کے ساتھ وزیر خزانہ بدفعلی کے ملزم پائے گئے۔سوچیے عدالتی کارروائی جسے دیکھنے کے لیے انور ابراہیم کی اہلیہ اورصاحبزادیاں بھی موجود ہوتی تھیں ان پر اس گھناؤنی حرکت کا کس قدر برا اثر ہوتا ہوگا انہیں کن نگاہوں اور سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔الزام لگتا تو کسی ایک فرد یا گروہ پر ہے مگر اس کا خمیازہ ایک پورا گھرانہ اور معاشرہ اور قوم بھگتی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ بعد میں دباؤ اور لالچ کے  تحت بیانات حلفی اور گواہی سے یہ سب لڑکے مکر گئے۔جتنا گھناؤنا یہ الزام تھا اتنا ہی بے ضمیر عدالتی نظام تھا جس نے پہلے اعلی سطح پر دو مختلف وزیر اعظموں یعنی مہاتر محمد اور نجیب رزاق نے وہی الزام لگائے۔عدالتوں نے انہیں الزامات پر دو دفعہ یعنی سن1999 اور سن2013 میں سزا سنائی۔
ہم کبھی کبھار سوچتے ہیں کہ انصاف اور گواہی کے جو معیار دین اسلام نے مقرر کیے ہیں اس کے حساب سے تو جج کا عہدہ قبول کرنے سے بہتر ہے کہ انسان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جنگل کا  رخ کرکے گھاس پھوس پر گزارا کرلے۔ سیدنا امام ابو حنیفہ کو جب عباسی خلیفہ جعفر بن منصور نے بغداد کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہا تو آپ نے کئی حلیے بہانوں سے جان چھڑائی۔احباب نے پوچھا آپ سا صاحب علم اور صاحب کردار تو پورے عراق میں کوئی نہیں پھر یہ انکار کیوں۔آپ نے کہا جس نے قاضی بن کر انصاف کا دامن چھوڑا،بزدلی اور مصلحت کو اپنایاا اور غلط فیصلے کیے مان لیں کہ اسے تو قیامت کے دن الٹی چھری سے ذبح کیا جائے گا۔۔

دین اسلام کا پیروکار ہونے کے ناطے ا  گر کسی جج نے یہ سب ایک معتبر نمبر پلیٹ اور جھنڈے والی کار،ایک گھر، بیٹے کی نوکری،بیٹی کی شادی، آبائی قبرستان کے سرکاری پرٹوکول کے ساتھ مرُدوں کو شو مارنے کے لیے اپنے عرصہء تعیناتی میں مرکز نگاہ و موضوع ء اہمیت بننے کے لیے کیا ہے۔ یہ سب اس لیے کیا کہ وہ کسی سرکاری وفد کا حصہ بن کر اچھلتا کودتا حج اور عمرے پر بھی جائے اور بعد میں کسی سرکاری عہدے پر بھی جادھمکے، تو ایسی صورت میں یہ ایک بہت بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔کیوں کہ منصف کی بے ایمانی کو سامنے رکھ کر اس   بدبخت کے لیے ہمارے سامنے قرآن العظیم کی سورہ القارعۃ کی آخری چار آیات آجاتی ہیں۔۔۔
1۔ اور وہ جس کے اعمال ترازو میں ہلکے رہے
2۔ وہ تو نیچا دکھانے والی ماں جیسی آغوش میں جاگرے گا
3۔ اور تم کیا جانو کہ وہ پیہم پستی میں گھسیٹنے والی کون ہے
4۔ ارے وہ تو ایک لپکتے شعلوں والی آگ کی آغوش ہے

آیئے انور ابراہیم کی بات کرتے ہیں۔اُن کے خاندان میں ان دنوں ایک لطیفہ بہت عام ہے کہ جب وہ جیل گئے تھے تو وہ ڈپٹی پرائم منسٹر تھے اور جب جیل سے رہا ہوئے تو بیگم ڈپٹی پرائم منسٹر ہیں۔ گھر سے زیادہ دن دور رہیں تو یہ نقصان ہوتا ہے۔مہاتر محمد جب نجیب عبدالرزاق کے خلاف محاذ بنانے پر تیار ہوئے تو انہیں انور ابراہیم کی ضرورت پڑی اور وہ اپنے عائد کردہ غلط الزامات پر معافی مانگنے عدالت پہنچ گئے۔

عدالت میں ملاقات

انور ابراہیم کی صاحبزادی نور العزۃ جو ممبر پارلیمنٹ ہیں،وہ اس ملاقات میں انور ابراہیم کے ہمراہ تھیں اور شرائط انہوں نے ہی طے کیں گو پس منظر میں دونوں لیڈروں کی بیگمات کا بہت بڑا رول تھا۔ اس Role Reversal کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں کہ مہاتر محمد جو بڑے بڑے وعدے کرکے آئے ہیں ان پر عمل کرنے کے دوران انور ابراہیم اور ان کا گھرانہ یہ سب تماشہ کنارے بیٹھ کر دیکھے  گا ۔ ناکامی کی صورت میں سب الزام خود مہاتر محمد کے سر آئے گا۔

ایک سوال اور بھی اس باب میں بڑے تواتر سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا موجودہ وزیر اعظم اپنا عہدہ دو سال بعد چھوڑنے کا وعدہ پورا کریں گے۔ جی ہاں انہیں اس مشکل فیصلے کی طرف دھکیلنے کے لیے ممبران کی مطلوبہ تعداد اسمبلی میں انور ابراہیم کے پاس ہے۔بہت دور جاکر مہاتر محمد کو معاف کردینے اور انہیں ملائشیا کے عظیم مفاد میں تعاون پیش کرنے کی صورت میں انور فیملی کو ایک بہت بڑی اخلاقی فتح کے ساتھ یہ معتبر بیانیہ حاصل ہوا ہے کہ قوم کو معلوم ہوگیا ہے کہ مہاتر محمد اپنے ایجنڈے اور اقتدار کے دوام کے لیے کن پستیوں میں گر سکتے ہیں اور اپنے قریب ترین رفقا پر کیسے گھٹیا الزامات عائد کرسکتے ہیں اور ملکی مفاد میں تعاون کرکے وہ یقیناً  مہاتر خاندان سے بلند و برتر درجے پر فائز ہیں۔

اس طرح کا تعاون پاکستان میں جنرل پرویزمشرف کے دامن خاکی میں منہ  چھپا کر زرداری اور شریف خاندان نے بھی ایک دوسرے کو دس سال کے لیے فراہم کیا تھا۔وہاں بھی ہر دو جانب سے لوٹ مار اور گراوٹ کے الزامات کی بھرمار تھی مگر جب دونوں اپنی اپنی باری لے چکے تو سب کو پتہ چل گیا کہ یہ تو ایک قسم کا Honour Among Thieves یعنی چوروں کا اپنی مزید کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے باہمی اشتراک تھا۔
ملائشیا پر مٹی پاؤ۔بنگالیوں کی بات کریں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مسافتوں کا دکھ،کین کن اور انور ابراہیم۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *