روزہ اور غامدی صاحب

آپ کتنی مشقت برداشت کر سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔اپنے تقویٰ اور اپنی جسمانی کیفیت سے خود فیصلہ کر لیں کہ روزہ رکھنا ہے یا نہیں۔۔آپ اپنا تقوی دوسروں پر لاگو مت کریں، آپ احتیاطاً دس منٹ پہلے روزہ بند کرتے ہیں، ضرور کیجئے،آپ احتیاطاً دس منٹ بعد روزہ کھولتے ہیں، ضرور کیجئے ،لیکن اپنی احتیاط دوسروں پر نافذ مت کریں۔۔۔یہ مت دیکھیں کہ سفر کے کلومیٹر کتنے ہونے چاہئیں اور بیماری کی نوعیت کیا ہونی چاہیئے۔قرآن نے اصول بتا دیا ہے، مسافر اور بیمار۔۔۔۔ بس!۔۔۔اس سے آگے کا فیصلہ مسافر اور بیمار پر چھوڑ دیا ہے،
میں دبئی سے پاکستان جاتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں،کسی دن میری گردن میں درد ہوتا ہے، میں روزہ چھوڑ دیتا ہوں،میں اپنی قبر میں اپنا حساب دوں گا، اللہ میری مجبوریاں بھی جانتا ہے اور آسانیاں بھی،وہ ماتھے کے نشان اور پیٹ کی روٹیاں نہیں گنتا، نیتوں سے نتیجے نکال لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ مزدور ہیں یا سٹوڈنٹ ،مسافر ہیں یا بیمار،آپ اپنا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،روزہ رکھ سکتے ہیں تو ضرور رکھیں ،نہیں رکھ سکتے، مت رکھیں،لیکن خدارا دوسروں کے روزے کا حساب کتاب مت کریں!

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *