اے دل،اے دریا۔۔۔۔ادریس بابر

آخری ملاقات اسلام آباد پریس کلب سے باہر ہوئی۔مہاجر کہ سندھی، پختون کہ بلوچ، شیعہ کہ قادیانی، خبر نہیں کونسی کمیونٹی کے مارے جانے والوں یا غائب کیے جانے والوں کے حق میں بائیں بازو کی کس بچی کھچی جماعت کے کون سے ٹوٹے پھوٹے دھڑے نے احتجاجی مظاہرہ برپا کر رکھا تھا حسبِ معمول ۔۔۔ اور یوسف صاحب وہاں موجود تھے، حسبِ معمول۔

ویسے تو ہم بھی وہیں موجود تھے ۔۔۔ اور ہم سے بھی، سب تو نہیں، اعمش عسکری جیسے کچھ ہی واقفانِ افکار پوچھا کیے کہ کوئی عشرہ پڑھنا چاہیں تو ۔۔۔

tripako tours pakistan

کچھ عرصے سے پروفیسر صاحب کی علالت کی خبریں مسلسل مل رہی تھیں۔میں نے ان کے ٹھیک ٹھاک قائم دائم ہونے پر خوشی کا اظہار کیا، جس پر انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور عادل راؤ، ہمراز سروانی اور دیگر نوجوانوں کے ساتھ خود ان سے بھی کچھ بڑھ کے پر جوش انداز میں مصروفِ گفتگو ہو گئے۔

اس کے باوجود مجھے ملنے والی اظہارِخیال کی دعوت اور میری ہچکچاہٹ ان کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکی تھی۔ صرف اتنا کہا ’جاؤ بولو، یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو؟‘

سٹیج پر تو خیر جانا تھا نہ ہوا، طالب علموں کے جھمگھٹ میں اپنی جہالت چھپائے میں ان کے سوالات اور پروفیسر صاحب کے جوابات سنتا رہا۔یہ کہنا مشکل تھا کہ متعدد پوچھنے والوں میں سے کسی کی دلچسپی زیادہ ہے یا بتانے والے فردِ واحد کا انہماک۔

ایک بات بہ ہر طور واضح تھی۔نئے دیوانوں کو دیکھ کر انہیں وہی خوشی ہوتی ہو گی جس نے دہائیوں پہلے احمد مشتاق سے وہ ضرب المثل شعر کہلوایا جو ہر سو کالڈ سینئر ہر بچارے قسمت کے مارے جونئیر کو سنا کے رعب اور سگرٹ کی راکھ  بہ یک وقت جھاڑتا ہے:

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

سینئر بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے تنگ آ کر سوچا، آخر کامریڈ ایسا کب تک کرتے رہیں گے، ہٹ دھرم کٹھ ملاؤں کے بیچ کمیونزم کی تبلیغ؟ فاشسٹوں کے درمیان انسانیت کا پرچار؟ آخر کب تک؟

پھر اچانک مجھے تب سے کچھ ماہ پہلے کا واقعہ یاد آیا۔یہ عوامی ورکرز پارٹی کا، جس کو بعض چاہنے والے پیار سے خواصی لیڈرز پارٹی کہہ کر بھی بلاتے ہیں، سالانہ اجلاس تھا۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی میں طلبا کی احتجاجی تحریک زوروں پر تھی اور سٹوڈنٹ یونین کی بحالی سمیت مطالبات کو ملک بھر کی جامعات میں مقبولیت اور میڈیا پر ٹوٹل بلیک آؤٹ سے قطع نظر کسی حد تک عوامی حمایت بھی حاصل ہونے لگی تھی۔

ایسی ہی کسی رو میں بہتے ہوے کچھ دوست اس سرد شام پریس کلب جا پہنچے تھے جہاں آتش بیاں مقررین انقلاب لانے کے درپے تھے۔گہما گہمی دیکھ کر ایک بار تو لگتا تھا کہ انقلاب موصوف آبپارے سے ایک ہی دو سٹاپ دور رہ گیا ہو گا۔

یوسف صاحب، صفِ اول میں براجمان تھے اور یہ کسی بھی طرح خلافِ توقع نہ تھا نہ ہی ان کے ہمراہ یعنی اسی صوفہ اول پر شریکِ قیام و طعام کرنا کوئی حیرت ناک واقعہ۔یاد رہنے والی بات انہوں نے سوشلسٹ لنگر سے عطا ہونے والا بریانی کا ڈبہ کھولنے سے منع کرتے ہوے کہی۔’اپنا ڈبہ دوستوں کے لیے ساتھ لیتے جانا، تم میرے ساتھ شئیر کر لو۔‘میں نے معذرت کرنا شروع ہی کی تھی کہ انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ’مجھے خوشی ہو گی۔‘

موقع پاتے ہی میں نے ان کی توجہ اس طرف دلانا چاہی کہ وہ اُن گنتی کے استاد شاعروں میں شمار ہونے لگے ہیں جن کی اپنی شاعری کی ایک بھی کتاب نہیں آ پائی۔انہوں نے ترت جواب دیا کہ وہ اپنے ہی نہیں جہلم بھر کے استاد شاعر اقبال کوثر (مرحوم) کی کلیات مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔’ایک بار یہ کام بہ طریقِ احسن سر انجام پا لے تو پھر بس، کوئی دیر اندھیر نہیں! ‘

کتنے شاگرد ہوں گے جو استاد کو اس طرح یاد رکھیں اور کتنے استاد ہوں گے جو شاگردوں کا اس طرح مان رکھیں؟

بہتیروں کو بیاض بھر اصلاح دینے کے باوصف، ادبی حلقوں سے لے کر اشاعتی ادارے تک چلانے کے باوجود، اپنا مجموعہ کلام نہ چھاپنے کی ذاتی منطق، فیس بکی شعرا کی کھیپ کو مشکل ہی سے پلے پڑ سکے گی جن کی غیر ذاتی ہمہ صفاتی شاعری پر سرسری نظر ڈال کر پتا چل جاتا ہے کہ انہوں نے خود یہ زحمت تک گوارا نہیں کی۔تنقیص بیشک ان سے اقبال اور فیض کی کروا لیں، تلخیص بھلے ظفر اقبال یا جون ایلیا کی۔

راولپنڈی ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم سے میل بھر ادھر، سگنل کے انتظار میں لاہور سے آتی ہوئی ریل کار کی رفتار سکون میں بدلی تو کئی منچلوں نے گویا ایک لائف ٹائم کی بچت کرتے ہوئے صدر کے پل پر ہی چھلانگ لگا دی۔

مریڑ چوک سے ڈھل کر میں شمع ہوٹل جا پہنچا جہاں ایک میز کے گرد یوسف حسن، رشید امجد، جلیل عالی اور گنتی کے ہمنوا ڈٹ کے بیٹھے تھے۔گنتی کے باقی کم نوا تھوڑا ہٹ کے بیٹھے تھے۔

چائے کی پیالی ہاتھ میں آتے ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ میں نے یوسف صاحب سے وہ غزل سننے کی فرمائش جڑ دی جس کے اشعار پہلی بار اختر عثمان کی لاہور آمد پر ان کی زبانی سنے تھے:

اک بے انت سمندر تیری منزل، اے دریا!

پھر بھی خاک اڑائیں تیرے ساحل، اے دریا!

کتنی عمروں سے میں تیرے ساتھ سفر میں ہوں

کھول اپنے اسرار کبھی تو اے دل، اے دریا!

سینوں اور زمینوں کو نہ اگر سیراب کریں

تیرا میرا ہونا ہے لا حاصل، اے دریا!

ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں

ہم بھی تیرے کنبے میں ہیں شامل، اے دریا!

اے دل اے دریا اسی عنوان سے ان کا انتخاب عرصے سے شائع ہوتے ہوتے ملتوی ہوتا آیا ہے۔ خیر۔۔۔ ایک پڑھنے والے کے بس میں تو یہی تھا کہ ان کی یہ لیجنڈری غزل دوسرے پڑھنے والوں کے ساتھ شئیر کرے اور آخر میں اپنی طرف سے الوداعی سلام پیش کر کے اجازت لے۔

صبحِ ابد تک روشن ازل کی شام سے رہ!

Advertisements
merkit.pk

دریا! خوش رہ! دھرتی میں آرام سے بہہ!

بشکریہ سجاگ

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply