• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یوسف حسن ایک سنجیدہ مارکسسٹ دانشور اورشاعر۔۔۔ علمدار حسین بخاری

یوسف حسن ایک سنجیدہ مارکسسٹ دانشور اورشاعر۔۔۔ علمدار حسین بخاری

یوسف حسن کو میں معاشرتی شعور رکھنے والے منفرد لہجے کی شاعر کے طور ہر جانتا تھاِ ۔ یہ گزشتہ صدی کےآٹھویں عشرےکے ابتدائی برسوں کی بات ہے ، جب میں “نوشتہ” کے نام سے جدید ادب کا ایک ایسا انتخاب مرتب کررہا تھاجس میں کسی طور ضیاءالحق کی نام نہاد اسلامی آمریت کے خلاف مزاحمت کا کوئی انداز موجود ہو۔ ان دنوں مارشلائی جبر کے خوف سے نفسانفسی کا عالم تھا لیکن ادبی برادری میں اپنائیت اوریگانگت کے جو انداز میں نے دیکھے وہ بعد میں کم ہوتے چلے گئے ۔
1981 میں کچھ عرصے کےلئے چکوال کے گورنمنٹ کمرشل انسٹیٹیوٹ میں ملازمت کی اسلئے اکثر اختتام ہفتہ پر راولپنڈی آجاتا ۔اس وقت کے ایک نامور افسانہ نگار احمد داؤد سے اکثر ملاقات رہتی کہ اسے مارشل لاء حکام کے حکم پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا سو اس کے پاس فرصت ہوتی ، تھی لیکن کیا حوصلہ مند آدمی تھا مایوسی کےسائے سے بھی دور رہا۔ جدید افسانے کے ایک اور نام رشید امجد سے بھی انہی دنوں ملاقات ہوئی اور اس کی بے تکلف سادگی نے مجھے ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیا ۔ مجھے حیرت ہوتی کہ اسکے افسانوں میں تجریدی گنجل کیوں محسوس ہوتے ہیں لیکن بعد میں بہت سی الجھنیں سلجھتی چلی گئیں جن کی کہانی پھر کبھی سہی.۔
پروفیسر سجادشیخ ان دنوں چکوال گورنمنٹ کالج کے وائس پرنسپل تھے کیا خوبصورت نسان تھے ان سے تعلق کی داستان الگ ہے۔ یوسف حسن کاتذکرہ تنویرذوالفی سے سنا جو ملتان یونیورسٹی کے ساتھی تھے اور وہاں سےایک ادبی رسالہ تخلیق نکالا کرتے تھے ۔ ہم بھی ان کے معاونین میں شامل تھےِ.۔ پتہ چلا یوسف حسن جہلم سے تعلق کھتے ہیں اور آج کل پنڈی میں ہوتے ہیں لیکن نامعلوم ان سے ملاقات کیوں نہ ہو سکی۔

ِِِِِِِِِِِِ راولپنڈی میرے پسندیدہ شہروں میں سے ایک ہے جس کے ساتھ میری محبتوں کی خوشگوار ترین یادیں وابستہ ہیں۔ میرے پاؤں اس بستی کی گلیوں اور شاہراہوں کی مسافتوںسے آشنا ہیں ۔ پروفیسر سجاد شیخ کیا خوبصورت انسان تھے اور ان کی رفیق سفر آپا کوثر شیخ جیسی با ہمت اور باسلیقہ خاتون بھی کم ہی دیکھی۔ ان کے ساتھ محبت بھرا رشتہ ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتا ہے۔ بات یوسف حسن کی ہورہی تھی جسے میں اپنی خواہش کے باوجود اپنی کاہلی کے باعث ایک عرصے تک مل نہ سکا اور پھر فیس بک اور واٹس اپ وغیرہ کا زمانہ آ کیا اور پھر اچانک اس سے رابطہ ہوگیا۔ ٹیلی فون کے ذریعے مکالمہ شروع ہوا تو یوں لگا کہ اس نے مجھ سے ڈھیروں باتیں کرنی ہیں اور میں نے سننی ہیں ۔

میں اسے اب تک غزل میں اظہار پانے والے لطیف جذبوں کے حوالےسے جانتا تھا لیکن اب ترقی پسند امارکسی فکر سے اس کی آگہی اور اٹل وابستگی اس کی زندگی کا ایک روشن رخ تھا جس نے اس کی شخصیت میں میرے لئے ایک نئی کشش پیدا کردی تھی۔ شاید2014 کے کسی مہینے میں یوسف حسن نے فون پر اطلاع دی کہ وہ کسی ترقی پسند کانفرنس میں شرکت کیلئے ِِِ ملتان آ رہا ہے۔ منتظمین بےحدوحساب ترقی پسِند تھے ( اور انہوں نے واقعی ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کیں) اور مجھ ایسے دقیانوسی شخص کیلئے ان کی ترقی پسندانہ سکیم میں کوئی جگہ نہیں تھی ۔ بہرحال یوسف کیلئے تھوڑی اچنبھے کی بات تھی کی اس قومی کانفرنس میں اس درویش کو مدعو ہی نہیں کیاگیا تھا۔
خیر وہ ملتان آیا اور میں کچھ دیر کیلئےاسے اس کے مشن سے ہٹا کر اپنے گھر لےآیا اور چائے کی میز پر اس سے کھل کر باتیں ہوئیں ۔ بندہ وضعدار ہے اس لئے جس کانفرنس میں وہ آیا ہوا تھا اس کے اور اس. کے میزبانوں ے بارے میں اس نے بات کرنے سے احتراز کیا۔
ملاقات بہت اچھی رہی ، اس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں پر خاص طور پر گفتگو کی کیونکہ اس کے خیال میں یہی اس کی مکمل ذہنی و فکری آزادی کا زمانہ تھا۔ کتابوں کا ناکام کاروبار اور ترقی پسند سیاسی گروہوں سے آزادانہ تعلق اسے خوب بھایا تھا ۔ اس وقت اس کی باقاعدوابستگی شاید پاکستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تھی اور اس میں وہ بہت پر جوش تھا بہر حال اس روز میں نے ایک نئے یوسف حسن کو دریافت کیا جو ایک واضح مشن کیلئے بہت پرجوش تھا اگرچہ ملکی صورت حال کچھ سازگار نہیں تھی لیکن اس کے خیال میں حوصلہ فزا بات یہ تھی کہ ترقی پسند قوتیں متحد ہو رہی تھیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *