• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مارکس ازم اور مارکس ازم نو کیا ہے؟ ایک مختصر جائزہ۔۔۔احمد سہیل

مارکس ازم اور مارکس ازم نو کیا ہے؟ ایک مختصر جائزہ۔۔۔احمد سہیل

SHOPPING

نیو مارکسزم ، مارکسزم کی توسیع ہے۔مارکسی رہنماء ا ور دانشور موجودہ حالات حاضرہ کے تناظر میں مارکسی تھیوری کاتخلیقی اطلاق کرنے سے قاصر ہیں اور دوسری جانب ویسے بھی ڈاگمیٹک مارکسزم اور تخلیقی اطلاق دو متضاد چیزیں ہیں۔ براہ راست مظلوم اور محکوم طبقات تک رسائی حاصل کرنا، جس کی بیسویں صدی میں مختلف الجہت کی تعریفات اور وضاحتوں کے ساتھ کئی فکری تصادم اور تضادات بھی نظر آتے ہیں۔ جس میں فکری سطح پر تحیل نفسی جیسے مخالف نوع کے نظریات بھی زیر بحث نظر آتے ہیں۔

بیسوی صدی میں دنیا کے مختلف علاقوں کو  اس کے نئے قیاسات اور فکری اجتہاد کے ساتھ کئی فلسفیانہ ترمیمات کے ساتھ پیش کیا گیا ۔ جیسے  تھورڈو آرڈو، جارج لاکاش، کارل کودش، ان گرامسکی سلاوچی زی زک، دے مینڈ ولیم، والٹر بینجمن، جرگن ہبر ماس اور سارتر کی وجودی مارکسیت، یورہی ترقی ہسندی { اسٹالین شکن نظریات} اور ساختیاتی سطح پر التھیوز، گولڈ مین ،پئر ماشرے، جیمسن اور ٹیری ایگلٹن وغیرہ نے نئے مارکسزم کی منفرد اور انفردی نوعیت کی فکر انگیز تشریحات پیش کیں ۔ جو روایتی اور قدامت پسند مارکسزم سے یکسر مختلف ہیں، جن کو سکہ بند اور قدامت پسند مارکسزم کے ہمنواؤں نے  ” ڈھیلی ” اصلاح کہا۔ جس میں عمرانیات، بشریات، معاشیات، ادب ، لسانیات، نفسیات نراجیت، علم الجرمیات اور نوآبادیات کی  نیو مارکسزم کے حوالے سے نئی تعبیرات پیش کیں ۔ مگر اس میں ماہر عمرانیات اور نفسیات کے نظریہ دان حاوی تھے۔ ان لوگوں نے نو مارکسزم کے فریم ورک کے تحت نو مارکسزم میں نئی روح بھر دی۔ جس میں معاشرتی علوم، عدم مساوات، اور مارکسی فلسفہ اہم تھا۔

جرمن فلسفی اور ماہر عمرانیات میکس ویبر نے عمرانیات کے حوالے سے نو مارکسزم کو نئی فکریات سے متعارف کروایا  اور انھوں نے تجزیاتی، تجرباتی تنقیدی نظرئیے کو وضع کرتے ہوئے نیو مارکسزم میں کئی نئے اضافے کئے۔ اس قسم کے مارکسی تجزیات اور فرانسیسی مارکسزم کو فرانس میں زیادہ زیر بحث نہیں لایا گیا۔ لہذا مارکسزم کی مختلف شاخوں میں ایک دوسرے سے مطابقت نظر نہیں آتی  اور اس کے دانشور ایک دوسرے سے متفق بھی نظر نہیں آتے ۔ نو مارکسی فلسفے میں نظریہ اجارہ داری کے بجائے سرمایہ داریت کے مسابقتی نوعیت اور مزاج پر زیادہ زور دیتا ہے۔ ۔۔

“تاریخِ سائنس پر جدلیاتی طریقِ کار کے اطلاق کی زبردست پیش رفت 1962ء میں ٹی ایس کوہن کی شاندار کتاب ”دی سٹرکچر آف سائنٹیفک ریوولیوشنز‘‘ کی اشاعت سے ہوئی۔ اس نے سائنسی انقلابات کی ناگزیریت کی وضاحت کی اور ان کی وقوع پذیری کی ترکیب و ترتیب کی وضاحت کی۔ ”ہر موجود کے لئے فنا لازم ہے‘‘ صرف موجوداتِ زندگی ہی کے لئے درست نہیں بلکہ سائنسی نظریات بھی اس کی زد میں ہیں، بشمول ان کے جن کو ہم آج بطور مطلق سچائی اپنائے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی مارکسی ادیب اور دانش ور پئیر ماشرے {پیدائش 17 فروری 1938 }نے کارل مارکس کی تصنیف ” سرمایہ” کی ‘قرات نو ‘کی اور اسپنوزا اور ہیگل کی فکریات کا تقابلی طور پر مطالعہ کیا۔ جس میں ایک دوسرے کا انتخاب مقصود نہیں تھا بلکہ ان دونوں کی فکریات کی تشخیص تھی۔ انھوں نے مارکسزم کے نظریات سے الگ رہ کر مارکسزم کا آزادانہ مطالعہ کیا ہے۔ پیئر ماشرے نےوالٹر بینجیمن کی ” مادی جمالیات” اور جرمن ڈرامہ نگار برتھوت بریخت کا مطالعہ آزادنہ طور پر کرتے ہوئے نیو ہیگلین ازم کی ہیت میں انھیں دریافت کیا۔ اور انھو ں نے ادیب کو مادی جمالیات کے حوالے سے” پیدا کار” یعنی author as producer کہا۔ ماشرے نےفرانسیسی مارکسزم اور فرانسیسی مابعد ساختیات کی نئی تعبیرات پیش کی. ”

مارکسزم میں اصولوں کو کسی صورتحال پر نافذ کرنے سے پہلے ضروری یہ ہے کہ ان اصولوں کو کسی مقرونی(Concrete) صورتحال سے اخذ ہوتا ہوا دکھایا جائے۔ حقیقی صورتحال کے مطابق تعقلاتی اصولوں کی ڈی کنسٹرکشن مارکسزم کی خصوصیت ہے۔ لینن کے الفاظ میں مقرونی صورتحال کا مقرونی تجزیہ کیا جائے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو مارکسزم کو دیگر تمام فلسفوں سے الگ کرتا ہے۔ تصورات کی بدیہی (A Prior i)موجودگی ہمہ وقت ڈی کنسٹرکشن کی زد پر رہتی ہے۔ تاہم مارکسزم کی وہ تشریح جو علم الوجود کے تصور پر استوار ہے، جو گزشتہ’ تعینات‘ پر انحصار کرتی ہے،جس کے مطابق طبقے یا پارٹی کا ’وجود‘ مستقل اور ناقابل تبدیلی ہے،اس کی ڈی کنسٹرکشن ہونا لازمی ہے۔ تصورات کی ماقبل موجودگی فوق تجربیت ہی کی دوسری شکل ہے، جو مارکسزم میں خیال پرستی کے تسلسل کو قائم رکھتی ہے”۔ {مارکسزم اور ڈی کنسٹرکشن – عمران شاہد بھنڈر} مگر یہ حقیقت ہے نو مارکسی نظریات قدامت پسند مارکسیت کی معطیات کو بھی اپنے مطالعوں میں شامل ہوتے ہیں۔

SHOPPING

نو مارکسزم میں تیسری دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک میں نو آبادیات اور سامراج شکنی کے نظریات اور اس کی مبادیات خاصی گہری نظر آتی ہے۔ جس میں میکرو ازم کی سطح پر معاشرتی تبدیلی اور قومی تجزیات اور مطالعے ان کا بنیادی نکتہ تصور نہیں کرتے۔ بلکہ بین الاقومی معاشرتی اور معاشی نظام کو محور بحث اور فکری کلیے بناتا ہے۔ جس میں عالمی نظام اور ” انحصاری نظرئیے” کو پیش کیا جاتا ہے ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”مارکس ازم اور مارکس ازم نو کیا ہے؟ ایک مختصر جائزہ۔۔۔احمد سہیل

  1. یعنی مارکس نے جو کہا وہ پرانا ہو گیا ہے اب مارکسزم کے دشمنوں سے جاننا پڑے گا کہ مارکسزم کیا ہے؟
    😝
    اس ساری تحریر کو پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ صاحب تحریر نے چوتھے درجے کی مارکس دشمن کتابوں کے نام اور بندے یاد کیے ہیں۔
    ایک حوالہ دیا ہے وہ بھی ایک دسویں درجے کے اخبار میں چھ نمبر کے کالم نویس کا۔

  2. مارکسزم اور مارکسی تنقید پر کئی مضامین پڑھ چکاہوں مگر اب تک کوئی تشفی بخش مضمون نہیں ملا۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *