آفس آفس کی کہانی۔۔۔روبینہ فیصل/قسط2

آفس آفس کی کہانی۔۔۔روبینہ فیصل/قسط 1

 

 انہوں نے کہا اچھا ، ایسا کرنا آج میڈم جب کاؤنٹر کے پیچھے آئیں تو ان کے کپڑوں کی تعریف کرنا ۔ میں نے کہا چاہے تعریف کے قابل بھی نہ ہوں ؟زلفی پو رے خلوص سے بولا: تو دیکھتا کون ہے ، تعریف تو وہی جو بغیر دیکھے کرنی ہو تی ہے بلکہ تعریف نہیں خوشامد ، آپ کو خوشامد سکھانی ہے ۔ میں نے انتہائی سمجھداری سے سر ہلایا ۔ اس وقت بنک کے شیشوں کی دیوار کے پیچھے،میڈم کی کار پارک ہو تی نظر آئی اور ہم جلدی جلدی اپنے اپنے لیجرز میں منہ دے کر بیٹھ گئے اور انتہائی خاموشی سے کام میں مصروف ہو گئے ۔جیسے ہمیں بولے ہو ئے صدیاں بیت گئی ہوں۔میڈم کسی فاتح کی طرح داخل ہو نے کے بعد   سیدھا اپنی میز کا رخ کرتی تھیں اور ان کے شوہر ان کے پیچھے پیچھے برانچ کے لڑکوں سے علیک سلیک کرتے ہو ئے ، لڑکیوں کو اگنور کرتے ہو ئے ، میڈم کے عین سامنے آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر جا بیٹھتے تھے ۔ اور ہم سانس بھی انتہائی احتیاط سے لیتے تھے کہ آواز میڈم کے کانوں تک نہ پہنچ جائے ۔

میں اس سب قرونِ وسطی کے ماحول میں پوری طرح ایڈجسٹ ہو نے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھی لیکن پرانا باغی یا لاپرواہ پرندہ میرے اندر پھڑکتا اور اگر زلفی کی مکمل اور مخلص سپر ویژن مجھے میسر نہ ہو تی تو میں ابتدائی دنوں میں ہی ٹرانسفر ہو چکی ہو تی ۔ زلفی نے کہا ایک تو آپ اچھے کپڑے پہننے چھوڑ دیں ، یہ جو کالے گھنے بال” کھلار” کرآتی ہیں ، انہیں کس کر باندھ کر آیا کریں اورپو ری کوشش کر کے اپنی تمام کشش ختم کر کے روکھی پھیکی ہو جائیں اور دوسرا میڈم کو آسمان پر چڑھا دیں اور ان کے شوہر کی طرف تو آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھنا ۔۔ میں نے کہا بال باندھنے کے علا وہ باقی سب چیزیں کی جا سکتی ہیں ۔۔

خیر میرا ایڈجسمنٹ کا پروسس زلفی کی ٹریننگ کے انڈر چلتا رہا ۔نمبر ۲ زاہد کا منہ مستقل طور پر ایسا ہی بن چکا تھاجیسے کوئی بری خبر سنانے والا ہو اور مجھے تو ہمیشہ کوئی نہ کوئی بری خبر ہی سناتا ، کبھی کہتا میڈم نے کہا ہے روبینہ کو یہ کام نہیں کرنے  دینا ، اس چیز کو ہاتھ نہیں لگانے دینا ، اس سے کوئی دوستی نہ کرے وغیرہ وغیرہ اوریہ باتیں صرف اس کے ہی نہیں، بار بار سب کے کانوں میں ڈالی جاتی تھیں ۔

ہم سب اس وقت غیر شادی شدہ تھے اور سوائے زاہد اور زلفی کے کسی کی منگنی تک نہ ہو ئی تھی ۔ اور میڈم کو ہمارے اخلاق کے بگڑنے کا ہر وقت خطرہ لاحق رہتا اور اس پر نظر رکھنے کے لئے دو گارڈز میں سے ایک گارڈ کو ہماری جاسوسی پر مقرر کیا ہو تا تھا ، اس کی خبر ہمیں بہت بعد میں ہو ئی تھی ۔ جب میڈم کی عدم موجودگی میں کی گئی ہماری حرکتوں اور باتوں کی من و عن رپورٹ میڈم کے پاس ہوتی ، تو ہم چونکے۔

ایک گارڈ خان جی تھے ، ان کی آنکھوں میں اور دل میں ہمارے لئے ہمدردی ہو تی تھی اور وہ ہماری پنجرے میں بند جانوروں والی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتے تھے اور موقع ملتے ہی ہم سے اظہارِ افسوس بھی کر لیا کرتے تھے ۔ اس لئے ان کو ہم نے میڈم کا جاسوس ہونے کے شک سے بری الزمہ کیا ہوا تھا۔ دوسرے گارڈ کی آنکھوں کی رنگت سانپ جیسی تھی اور ان کی پرسرار خاموشی اور ہم سب کے ساتھ نہ گھلنے ملنے والی عادت کی وجہ سے ہم نے یہ فرض کر لیا تھا کہ ہمارے جاسوس وہی ہیں اور بعد میں وقت نے ثابت بھی کیا کہ ہمارا شک درست تھا ۔ 

 ہوا یوں کہ ایک دفعہ خان جی گاؤں ، چھٹی پر گئے ہو ئے تھے ۔ اور ہمارا معمول تھا کہ میڈم کے بنک سے نکلتے ہی ہمارے پریشر ککر کھل جاتے تھے اور ہم سب نہ صرف اونچی اونچی باتیں کر نے لگ جاتے تھے بلکہ بات بے  بات ہمارے قہقہے گونجنے لگتے تھے ۔اور تھوڑی ہی دیر میں دفتر ، بنک نہیں بلکہ مچھلی منڈی بن جاتا تھا ۔۔ جس میں ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہو تا تھا ۔ پر یکٹکل لائف میں ایک ہی ایج گروپ کے سب لوگوں کا یوں اکھٹے ہو نا بھی ایک معجزہ تھا اور اس کی شاید  ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میڈم نے اپنی برانچ میں چُن چُن کر سب بچے بچے رکھے ہو ئے تھے اور اگر غلطی سے یا اتفاق سے کوئی سنئیر وہاں ٹرانسفر ہو کر آ بھی جاتا تو میڈم دو دن میں اسے کنارے لگا دیتی تھیں ۔

خیر میں بتا رہی تھی کہ خان صاحب تھے نہیں ، صرف وہ سانپ کی آنکھوں والے گارڈ تھے ، جن کا نام ہی ہم نے سانپ رکھا ہوا تھا اور اس دن کسی کی شادی یا رشتہ کا کوئی ایشو تھا ، یعنی کوئی غیر معمولی بات تھی جس کی وجہ سے ہم سب ضرورت سے زیادہ جوش اور جذبات میں تھے ، کہ میڈم کے نکلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا ۔۔اگلے دن آتے ہی زاہد اور ماجدہ کی حاضری ہو ئی (وہ دونوں ہی سب سے سنئیر تھے) ۔ میڈم نے کہا سنا ہے میرے جاتے ہی یہ دفتر کلب بن جا تا ہے ایسا الزام سنتے ہی مس ماجدہ ، جو کہ انتہائی شریف ، پانچ وقت کی نمازی اور ایماندار ترین لڑکی تھی ، غصے اور غم سے تھر تھر کا نپنے لگی اور  زاہد کی حسب معمول وہی دو چار ہو ائیاں ، اس کا کل اثاثہ ، اس کے منہ پر اڑنے لگیں ۔

ہم دور سے ان کی یہ حالتیں دیکھ کر اپنے تئیں اندازہ لگانے لگے کہ کیا ہوا ہو گا ۔ مگر کچھ نہ سمجھ سکے جب تک انہوں نے میڈم کے باہر جانے کے بعد ہمیں خود سے نہ بتا یا ۔ ماجدہ تو اتنی غم کی حالت میں تھی کہ اس دن وہ لیجر پر سر جھکائے بیٹھی رہی اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے جا رہے تھے،ہمیں جب پتہ چلا تو جس کی جتنی جتنی عزتِ نفس تھی ، اتنی اتنی ٹھیس لگی ۔ اور سب نے کم از کم وہ ایک دن میڈم کے جانے کے بعد بھی انتہائی خاموشی اور غیرت سے گزارا ، ہم شاید  اتنا اثر نہ لیتے لیکن ماجدہ کے مسلسل رونے کی وجہ سے ہماری اثر نہ لینے کی ہمت ہی نہ پڑی اور مغموم ہی رہے ۔

خیر یہ مروت بس ایک دن تک رہی اگلے ہی دن یہ اثر تحلیل ہو گیا اور ہم پھر سے پرانی روش پر چلنے لگے ۔۔ آخر کار انسان تھے اور میڈم جتنا ہمیں دباتیں ان کے جانے کے بعد ہم اتنا ہی زیادہ اچھل کر فضاؤں میں بلند ہوتے ۔ شاید یہی انسانی نفسیات ہے ۔ وہ جتنا ہمیں ایک دوسرے کے خلا ف کرتیں ہم اتنا ہی ایک دوسرے کے ہمدرد بنتے گئے ۔ مجھ پر ان کا خاص عتاب تھا ، اس کے برعکس مجھ سے باقی سب زیادہ ہی پیار کر نے لگ گئے ۔ لڑکے لڑکیاں سب میرے ہمدرد بن گئے اور میرے ہر دکھ میں ایسے ہنس ہنس کر شریک ہو تے کہ میں میڈم کے ہاتھوں اپنی ذات ، افسری ، لیاقت اور ذہانت کی تذلیل بھول جاتی اور ہم اتنا ہنستے اتنا ہنستے کہ میرا خیال ہے کہ اگر زندگی میں میں سب سے  زیادہ ہنسی ہو ں تو اسی برانچ میں اور ان پیارے پیارے محبت کر نے والے ساتھیوں کے ساتھ ۔

معمول کے مطابق پبلک ڈیلنگ کے بعد جب شٹر گر جاتے تھے اور ہم میڈم کے جانے کے بعد کرسیوں سے اٹھ جاتے تھے ایک سنہرے دن کیا دیکھتے ہیں کہ باہر آئسکریم کی ریڑھی آئی ہے ۔ ہماری تو جیسے عید ہو گئی ،ریڑھی والے کو آوازیں لگا لگا کے جنگلے کے قریب بلا یا،سب اپنی اپنی پسند کی آئسکریم ۔۔۔ کارنیٹو ، پاپ سکل، چاکبار لینے لگے ، زلفی کی باری آخیر میں آئی ، اس نے لوہے کے جنگلے میں ( ہم سب چڑیا گھر کے پنجرے میں بند جانوروں کی طرح لگ رہے تھے )، ہاتھ ڈال کر آئسکریم والے کو پیسے پکڑائے ہی تھے کہ میڈم کی گاڑی جو ہمیشہ ان کے شوہر چلا یا کرتے تھے ، پارکنگ ائیریا میں داخل ہو تی نظر آئی ،یہ دیکھتے ہی ہم سب تو بھاگ کر اپنی کرسیوں پر ایسے جا بیٹھے جیسے مدتوں سے اسی حالت میں حنوط شد ہیں مگر زلفی کا بازو جنگلے کے اندر ہی پھنس گیا اور زلفی صاحب وہیں لٹک گئے ۔

اوپر سے آئسکریم والے نے اپنی ریڑھی میڈم کی کار پاکنگ والی جگہ پر پارک کی ہو ئی تھی ۔ اب ہو یہ رہا تھا ، ہارن پر ہارن پڑ رہے تھے مگر آئسکریم والا اپنی دکانداری کے چکر میں ہماری برا نچ کے آگے سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا ۔ اس کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں تھی کہ برانچ کی میڈم کا راستہ روکے کھڑا ہے اس کے لئے ہم یعنی اس کے معزز کسٹمر ز اہم تھے ۔ اسے تو نہیں پتہ تھا نہ کہ ہما ری میڈم یہاں کی ملکہ عالیہ ہیں ،خیر زلفی پو را زور لگا کے بازو اندر کر نے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس نے میڈم کو دیکھ کر ڈر کے چاک بار بھی پھینک دی تھی کہ شاید  اسی طرح ہاتھ اندر ہو جائے ۔ مگر اس کے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو رہا تھا ۔ آئسکریم والے نے اپنا بزنس ختم ہو تے دیکھا تو اس کا انٹرسٹ بھی ختم ہوا۔

 زلفی نے خوب دہائی دی کہ باہر سے میری گھڑی کھول دو تاکہ میں ہاتھ اندر کر سکوں مگر اس آزاد منش انسان کو قیدی کی پکار   سمجھ ہی نہ آسکی اور وہ اپنی ریڑھی دھکیلتا ہوا کمال لاپرواہی سے آگے بڑھ گیا اور ہمارے ہمدرد گارڈ خان صاحب نے بھاگ کر باہر جا کر اپنی بندوق سائیڈ پر رکھی ، زلفی کی گھڑی کھولی اوراس طرح وہ اپنا بازو اندر لا سکا اور اسی وقت پچھلے دروازے سے میڈم اور ان کے شوہر بھی اندر آچکے تھے ۔ میڈیم تو غصے میں بھنی ہو ئی میز پر جا بیٹھیں ، ان کے بعد “بنک کا مقدس ماحول کلب بن جاتا ہے” ،ا س کا عملی مظاہرہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھیں ۔۔ مگر ان کے شوہر جنہیں سب ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے ( شاید ڈینٹسٹ تھے ، مگر ہماری برانچ میں بیٹھ کر اپنے دانت نکالنے اور ہم پر دانت کچکچانے کے علاوہ ان کا دانتوں سے کوئی رشتہ نظر نہیں آتا تھا ) نے زلفی کی اڑی رنگت ، بکھری زلفیں اور سوکھے ہونٹوں کو دیکھ کر بڑے تمسخرانہ انداز میں کہا : کھا لی آئسکریم ؟

زلفی نے بڑی سی جعلی مسکراہٹ ان پر پھینکی اور آہستہ سے بڑ بڑایا” اللہ کرے تم سب مر جاؤ ۔۔۔” وہ جب غصے میں آتا تھا ، اسی طرح سب کو بوڑھی عورتوں کی طرح بددعا ئیں دیا کرتا تھا ۔ ہم سب آئسکریم ڈکار چکے تھے اور پکڑے بھی نہیں گئے تھے اور وہ رنگے ہاتھوں آئسکریم خریدتے پکڑا بھی جا چکا تھا ، اور آئسکریم کھانے سے بھی محروم رہا تھا ۔

جاری ہے!

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آفس آفس کی کہانی۔۔۔روبینہ فیصل/قسط2

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *