پھلوں کا بائیکاٹ اور بورژوائی طرز فکر

کچھ دوستوں کی پوسٹوں پر جمعہ ہفتہ اور اتوار سے افطاری کیلئے ہر قسم کے پھلوں کے بائیکاٹ کی اپیل چل رہی ہے اس مہم سے مکمل اتفاق ہے یہ اپنے حصے کی شمع جلانا ہے ناجائز منافع خوری کا سد باب ہے اور فقط اپنے نہیں ہم شہری روزہ داروں کا بھی آپ پر فرض ہے کہ گرچہ آپ صاحب استطاعت ہیں آپ مہنگا سستا خرید سکتے ہیں لیکن بہت ممکن ہے آپ کے تین دن احتجاجا پھل نہ خریدنے کے عمل سے چوتھے دن کسی کم آمدنی والے گھر کے بچے بھی پھل کی شکل دیکھ لیں.
اس مہم کی کامیابی کے امکانات اس لئے بھی زیادہ ہیں کہ پھل دو دن میں اور کچھ تین دن میں ہی گل سڑ جاتے ہیں اگر خریدار نہ رہے گا تو یقینی نقصان پھل فروشوں کو پہنچ سکتا ہے متوسط طبقوں کی آبادیوں میں عام طور پر پھل خریدنے کی سکت کم ہی ہوتی ہے اکثر ایسی آبادیوں میں کچھ پھلوں کی قاشیں بکتی ہیں مثلا تربوز اور گرمے کاٹ کر فروخت کیے جاتے ہیں اگر مہم کامیاب رہتی ہے تو ان کو تو پہلے ہی دن نقصان کا سامنا رہے گا.
یہاں کچھ دوست پھل فروشوں کے گھروں میں چولہے بجھنے کے اندیشے بتاتے ہیں اول تو عرض یہ ہے کہ فیس بک ایڈ کنٹرول کے مطابق پاکستان کے دو کروڑ صارفین ہی فیس بک اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں سو یہ تو ناممکن ہے کہ پھل فروش ان تین دنوں میں گاہک سے مکمل محروم رہیں چولہا جل ہی جائے گا.
دوم یہ کہ ان گراں فروشوں کی وجہ سے کتنے ہی گھر ایسے ہیں جن میں عام دن تو رہنے دیجئے رمضان میں بھی پھل نہیں آتے جناب جذباتی منظر نگاری رہنے دیجئے مجھے جواب دیجئے کبھی آپ نے ایسے محلوں میں وقت گزارا ہے جہاں کا ایک صاحب خانہ تفاخر کے اس احساس کے ساتھ جیتا ہے کہ ہر شام جب وہ کام سے آتا ہے تو اس کے گھر سے موسمی پھلوں کی خوشبو کی اٹھتی اور چاروں طرف پھیلتی مہک آس پاس کے گھروں کو محرومی کے احساس سے دوچار کردیتی ہے اب سچ سن لیجیے وہ صاحب خانہ اتنی آمدن نہیں رکھتا کہ پھل خرید سکے وہ روز پھل فروشوں کے پاس سے بکریوں کو کھلانے کے بہانے سے پھلوں کے چھلکے لاکر اپنے بچوں کے سامنے رکھ دیتا ہے…..
آپ کہتے ہیں اس پھل فروش پر کیا گزرتی ہوگی جس کو علم ہوگا کہ سامنے سے آتی آلٹو والے نے اس کے بائیکاٹ کی مہم چلائی ہے جناب من میں آپ کو قصور وار نہیں ٹھہراتا کیونکہ آپ کی نوکری ایسی ہے کہ کسی بھی شہر کے ائیر پورٹ پر اترتے ہی کمپنی آپ کو ڈرائیو سمیت گاڑی مہیا کرتی ہے آپ سوچ ہی نہیں سکتے کہ افطاری کیلئے ایک گھنٹے کی چھٹی لیکر اور پڑوسی سے بیاسی ماڈل کی چوہا ٹنکی بائیک لیکر پھل خریدنے کیلئے نکلنے والا ان تیس روپوں کے ضیاع پر افسوس کرتا ہے جو پڑوسی نے تاکید کی تھی کہ تیس کا پیٹرول ڈال لینا….. اور پھر ذرا غور کیجیے بائیکاٹ کی مخالفت کر کون رہا ہے؟ کوئی ان میں یورپ میں سیٹل ہے تو کسی کی تنخواہ چھ اور آٹھ ہندسوں میں ہے اور کوئی وہاں سے خریداری کررہا ہے جہاں سے اسلام آباد کی ایلیٹ کلاس خریداری کرتی ہے… اگر تین دن ان گراں فروشوں کو مشکل کا سامنا رہتا ہے تو مجھے ان کی پرواہ کوئی نہیں اس لئے کہ میرے سامنے یہ نیک مقصد ہے کہ ہزاروں گھرانوں نے مہنگائی کی وجہ سے پھل نہیں چکھا ممکن ہے میرے اس عمل سے دس گھرانوں میں پھل کھانے کی سکت پیدا ہوجائے…
رہی بات آڑھتی اور منڈی میں بیٹھے بڑے بیوپاریوں کی تو جناب ان سے میرا براہ راست رابطہ نہیں میں گراں فروشی کی اس چین کو اپنے امکان کی حد تک جہاں سے زک پہنچاسکتا ہوں وہاں سے پہنچاؤں گا…
رات کے دو بجے جاکر منڈی سے پھل خرید لانا اور چالیس سڑے دانوں کو پھینکنے کا جواز دینے والا تیس شعبان کو آخر کیسے تربوز بیس روپے کلو اور یکم رمضان کو ساٹھ روپے کلو کیوں بیچ رہا ہے…؟
اپنی حیثیت اور صارف کی قوت جانیے اور اس مہم کا حصہ بنیں…..

شاد مردانوی
شاد مردانوی
خیال کے بھرے بھرے وجود پر جامہ لفظ کی چستی سے نالاں، اضطراری شعر گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *