ملک کے فرسودہ سیاسی ڈھانچے میں ہلکی سی دڑار۔۔تنویر افضال

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف 1996ء سے ملک کے سیاسی منظر نامے پر موجود ہے لیکن اسے صحیح معنوں میں عوامی پذیرائی 2011 ء میں ملنا شروع ہوئی اور پھر مئی 2013 کے عام انتخابات میں یہ ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی۔ ملک میں آج تک سامنے آنے والی  تمام قابل  ذکر   قیادتوں اور سیاسی جماعتوں کی طرح یہ بھی اپنے پرجوش حامیوں اور کٹر مخالفین کے دو منقسم کیمپ وجود میں لانے میں کامیاب رہی ہے جو بالواسطہ طور پر اس بات کی ضمانت بھی ہے کہ تحریک انصاف اب مستقل کھلاڑی کی  حیثیت میں بہت دیر تک میدان سیاست میں موجود رہے گی۔

آج یہ بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل نہیں رہ گئی کہ  تحریک انصاف کے قیام اور اسے مقبولیت دلوانے میں  مہربانوں اور بادشاہ گروں کا کوئی ہاتھ ہے یا نہیں۔ تاہم یہ امر اپنی جگہ پرحقیقت ہے کہ اس جماعت نے ملک کے ارتقا پذیر سیاسی ،معاشی و سماجی  حالات  کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ خلا روایتی زرعی معیشت  پر مبنی معاشرت میں شکست و ریخت اور  80 فی صد دیہی اور 20 فی صد شہری آبادی  والے  اُس تناسب میں  واضح تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے جسے ایک ابدی سچائی کے طور پر کئی دہائیوں تک رٹے رٹائے طریقے سے بیان کیاجا تا رہا ۔

پاکستانی سماج نہ تو اس وقت مکمل طور پر قبائلی اور جاگیر دارانہ ہے اور نہ ہی ایسا کوئی جدید ، تعلیم یافتہ اور مہذب   کہ  جس کی معیشت ترقی کے مراحل طے کرتےہوئےصنعتی  پیداواراور اعلیٰ پیشہ ورانہ خدمات کی فراہمی  پر انحصار کرنے لگ جائے۔ بلکہ دیکھا جائے تو  ہمارے موجودہ پیداواری اور سماجی تعلقات بھی نیم قبائلی اور نیم  جاگیردارانہ رویوں میں جدیدیت  کے ہلکے سے تڑکے کے نتیجے میں سماجی ڈھانچوں کا عجیب سا ملغوبہ پیش کرتے ہیں۔  ایسی صورت حال نوجوانوں بالخصوص تعلیم یافتہ اور ہنر مند و نیم ہنر مند نوجوانوں کے لیے  ذہنی تناؤ،  انتہا پسند اور متشدد رویوں اور  دیگر بہت سی الجھنوں کا باعث بنتی  ہے تاوقتیکہ انھیں اپنے جذبات اور اپنی ذہنی اُلجھنوں کے اخراج کا مؤثر پلیٹ فارم نہ مہیا کیا جائے اور تحریک انصاف کسی حد تک  ایسے پلیٹ فارم کا کام دے رہی ہے۔  وہ پاکستانی نوجوان  جو  ملک کی معیشت اور دیگر معاملات میں بقدر ہمت حصہ ڈالتے ہیں، فطری طور پر معاملات میں رائے دہی کا حق بھی مانگیں گے۔ اب مسئلہ یہ چل رہا تھا کہ  پہلے سے موجود دو بڑی سیاسی جماعتوں  سمیت تمام قومی، صوبائی، علاقائی، لسانی اور مذہبی جماعتوں  میں رائج کلچر بوجوہ اس ضرورت کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

اس خلا کو حقیقی معنوں میں پُر کرنا  اور معاملات کواہلیت   کی بنیاد پر چلانا تو خیر ابھی بہت دور کا سپنا ہے ، موجودہ حالات میں اگر کوئی جماعت ایسا کرنے کا محض تاثر دینے میں بھی کامیاب رہتی ہے تو  ملک کے  فرسودہ نظام سے بے زار نئی نسلوں کو ساتھ ملا سکتی ہے اور تحریک انصاف نے ایسا ہی کیا ہے۔ معاشرے کے نظر انداز کیے جانے والے مگر کارآمدطبقات اور بالخصوص نوجوان جو پہلے سیاست کے نام سے کوسوں دور  بھاگتے تھے، گزشتہ  چند برسوں کے دوران اس کا فعال حصہ بنے۔ ان نوجوانوں نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اب یہ کام درحقیقت تحریک انصاف کی صف اول کی قیادت  کا تھا کہ وہ اپنے طرزعمل اور اپنے پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ساتھ ملائے رکھے ۔ تاہم  تحریک انصاف کی قیادت چونکہ  اس وقت موضوع بحث نہیں ہے، اس لیے اس کے کردار اور خوبیوں یا خامیوں     پر بات کسی اور موقع کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔ البتہ دستیاب حالات  اور ان نوجوانوں کو فراہم کردہ سیاسی شعور اور تنظیمی تربیت کی صورت حال کو دیکھا جائے تو    تحریک انصاف کے ساتھ منسلک نوجوانوں نے  اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی  بلکہ گزشتہ نسلوں کے ان  نام  نہاد  اور بے وسیلہ سیاسی کارکنان کی روایت  کو اپنے انداز میں جاری رکھنے کی کوشش کی ہے جنھوں نے ایک بہتر پاکستان کے سپنے آنکھوں میں سجائے بدترین آمریتوں  کے سامنے ڈٹ جانے اور اپنے مستقبل بلکہ جان  تک کی پرواہ نہ کرنے کی درخشندہ مثالیں قائم کی تھیں۔  ماضی کے ان بے لوث کارکنان  کے ساتھ ملکی سیاست میں مروج طبقاتی ڈھانچے نے کیا سلوک کیا ، وہ  بھی ہماری  سیاسی تاریخ  کاایک  افسوس ناک باب ہے۔ وہ کارکنان کمزور اور تعداد میں کم تھے اور پھر اس لیے بھی دھوکہ کھا گئے کہ قیادت کی طرف سےوعدہ شکنی   اور دھوکہ دہی کی  گزشتہ بہت زیادہ   مثالیں  ان کے سامنے   نہیں تھیں۔

اب دوسری طرف تحریک انصاف  کے کارکنان کا معاملہ اس بنا پر قدرے مختلف ہوجاتا ہے کہ ملک کے سیاسی ،  تاریخی اور طبقاتی شعور کے معاملے میں توشاید وہ  کسی قابل ذکر معیار تک نہ پہنچتے ہوں گے لیکن  کئی دیگر حوالوں سے  وہ اپنے پیش روؤں سے بہتر پوزیشن پر ہیں ،مثلاً  ایک تو ان کی تعداد زیادہ ہے اور دوسرے   وہ اپنے مادی وسائل اور طبقاتی مقام کے حوالے سے بہتر جگہ پر ہیں، پھر انھوں نے  کارکنان کے کندھوں پر سوار ہوکر اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہوجانے والی  الم ناک داستانیں بھی ضرور سُن رکھی ہوں گی۔

یہی وجہ ہے کہ تنظیمی معاملات میں حق ملکیت کے حوالے سے  بھی ان کی پوزیشن گزشتہ نسلوں کے سیاسی کارکنان کے مقابلے  پر کہیں  بہتر ہے  ۔حالیہ برسوں کی ایک اور پیش رفت یہ بھی ہے کہ معلومات  تک رسائی  میں اضافے اور حالات  کے جبر کے دیگر عوامل کے باعث سیاسی اشرافیہ کی اپنی جماعتوں پر گرفت سیاسی  اورکارکنان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بھی ماضی جیسی نہیں رہ گئی۔

بدلے ہوئے حالات کی ایک مثال  انتخابی اُمیدواروں  کو ٹکٹوں کی تقسیم  پر  تحریک انصاف کے کارکنان  کا حالیہ ردعمل ہے۔ ایسے معاملات پہلے بھی ہوا کرتے تھے اور مقبول سیاسی جماعتیں  عام طور پر متعلقہ حلقے کے ‘الیکٹیبل’ ہی کو ٹکٹ دیا کرتی تھیں لیکن  اس مرتبہ  تحریک انصاف کے کارکنان نے غالب طبقاتی ڈھانچے اور ‘زمینی حقائق’ کو پیش نظر رکھ کر  پارٹی اُمیدوار نامزد  کرنے کی دیرینہ روایت   کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے  پارٹی سربراہ کی رہائش گاہ پر کئی روز تک دھرنا دینے سے یہ ثابت کیا ہے کہ  معاملات کو پرانی نہج پر چلاتے رہنا  اب شاید زیادہ دیر تک ممکن نہ رہے۔ اس وقت اس بات کی اہمیت بہت    زیادہ نہیں ہے کہ مجوزہ انتخابات میں تحریک انصاف کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے یا اس کی موجودہ قیادت کا مستقبل کیا ہوگا البتہ  یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ پکی کرچکے ہیں اور جس لہرکا  آغاز  انھوں نے کیا ہے وہ جلد یا بدیر باقی سیاسی جماعتوں تک بھی پہنچ کر رہے گی۔

تنویر افضال
تنویر افضال
پاکستان اور عالمی سماج کا ہر حوالے سے ایک عام شہری۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *