پھٹیچراور فیچر۔۔۔محمد ارسلان طارق

کچھ چیزیں صرف نام کی ہوتی ہیں اور کام کے اعتبار سے وہ نام سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔ جیسے انصاف اتنا صاف نہیں ہوتا ہے جتنا نام سے ظاہر ہوتا ہے۔ انسانیت اتنی انسان میں نہیں ہوتی ہے جتنی کہ نام کے مطابق ہونی چاہیے۔ اور کوئی شریف نامی اتنا شریف نہیں ہوتا جتنا کہ نام رکھتے ہوئے سو چا جاتا ہے۔یہاں تک کہ خادم کے نام سے شہرت پانے والے بھی حقیقتاًاپنے عرف کے برعکس رئیس ہی پائے جاتے ہیں۔

گویا کہ ناموں کا کاموں کے ساتھ بہت کم تعلق پایا جاتا ہے۔ مگر یہی الفاظ جس زبان سے خارج ہوتے ہیں تو اس زبان کے حامل   کردار کی تعریف بن کر نکلتے ہیں۔ ہر لفظ زبان سے نکلتے ہوئے اس شخص کے شخصیتی پہلوؤں کو بھی ساتھ لیے نکلتا ہے۔ اس کا گفتار اس کے کردار کا عکاس ہوتا  ہے۔

آئے دن میڈیا پر سیاستدانوں کی شدید تنقید سے بھرپور گفتگو اور ایک دوسرے پر ہرزہ سرائی عوام کے لیے انتہائی حیرانگی کا باعث ہوتی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے معزز رہنما تو پورے دیس میں تہذیب کو رائج کرنے کے لیے چنے گئے تھے مگر یہ تو اپنے چھ فٹ کے جسم پر تہذیب نافذ کرنے میں ناکام ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کچھ عرصہ پہلے  خاں صاحب کی زبان سے نکلا (پھسلا)لفظ   پھٹیچر جو کہ شاید زبان کی پھسلن کے باعث ہوا مگر معروف زبان سے نکلا عام لفظ بھی معروف ہی ہوتا ہے اس لیے یہ خبر ہر قسم کے میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور پے درپے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے حمایت اور مخالفت میں کئی پھٹیجر الفاظ نکالے گئے۔ مگر یہ الفاظ محض پھٹییچر نہیں بلکہ ان سیاتدانوں کے فیچر ہوتے ہیں جو یہ حضرات اپنے گفتار سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس گفتار سے یہ لوگ عوامی دلوں سے اپنی محبت کم کرتے جا رہے ہیں۔ اور ایوانوں میں  اخلاقیات کے جنازے پڑھے جا رہے ہیں۔ سیاستدان ان جنازوں کے امام ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply