وادی گلگت کے ایک دلچسپ کردار سے ملاقات ۔۔۔سلمیٰ اعوان

پروردگار بہت دن ہو گئے ہیں یہاں۔ اب واپسی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
مجھے آج دانیال عورت سے ملنا تھا۔ اس ملاقات کا اہتمام ڈاکٹر ہدایت علی اور جناب غلام محمد نے کیا تھا۔ ناشتے سے فراغت ملتے ہی میں نکل پڑی۔ شفقت آج جیولری کے چکر میں تھی۔
جٹیال کی طرف کہیں گھر تھا۔ پوچھتے پوچھتے مطلوبہ جگہ جا پہنچے۔ دروازہ کھلا، گورے چٹے رنگ کی ایک ادھیڑ عمر عورت نمودار ہوئی۔غلام محمد صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے شنا میں بات کی۔ چہرے پر تذبذب کی کیفیات ابھریں۔ موٹی موٹی آنکھوں سے میرا بغور جائزہ لیا گیا۔
یقیناً  میری آنکھوں میں کچھ ایسے احساسات نمایاں ہوئے ہوں گے جن میں التجا تھی، ایک درخواست تھی۔ جنہوں نے کہا ہو گا۔ دیکھو مایوس نہیں کرنا۔۔۔۔ بہت دور سے آئے ہیں  تمہارے درشن کرنے ہیں۔ تمہارا کام دیکھنا ہے۔ تم سے باتیں کرنی ہیں۔

وہ ایک طرف ہٹی، یہ اندر آنے کے لئے ایک اشارہ تھا۔ کچا آنگن خاصا کشادہ تھا۔ سامنے کے رخ پر چار بکریاں بندھی تھیں۔ دو کمروں اور دائیں بائیں برآمدوں پر مشتمل یہ نیم پختہ گھر تھا۔
آنگن میں بچھی چارپائی پر ہم لوگ بیٹھ گئے۔ ہمارے سامنے ہی وہ بھی بیٹھ گئی۔ چہرہ طباق جیسا چوڑا تھا۔ آنکھیں موٹی اور لالی لئے ہوئے تھیں۔ ہونٹوں کا رنگ قدرے سیاہی مائل تھا۔ ڈاکٹر ہدایت علی نے مترجم کے فرائض سنبھالے۔

”دانیال عورت کیسے دانیال بنی؟
میں چھوٹی سی تھی۔ بس یہی کوئی سات آٹھ سال کی عمر ہو گی۔ہر روز میں اپنی  بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ کھلی پہاڑی چراگاہوں کی طرف جایا کرتی تھی۔ ایک دن جب میں بھوج پتر درخت کے نیچے بیٹھی ایک گیت گا رہی تھی۔ مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ میری آواز میں مٹھاس ہے اور جو گیت میں گا رہی ہوں یہ کوئی جادوئی اثر رکھتا ہے۔ گاتے گاتے میرے نگاہ یونہی اوپر اٹھ گئی۔ میں نے دیکھا ایک حسین و جمیل پروں والی عورت چیلی کے درخت کی شاخ پر بیٹھی بکری کی طرح اس کے پتے کھا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بہت بڑی تھیں۔ بہت زیادہ چمک تھی ان میں۔ مجھے خوف سا محسوس ہوا۔ پھر وہ دھیرے دھیرے درخت سے اتری اور میری طرف آئی۔ ڈر سے میرا برا حال تھا۔ قریب آکر اس نے کہا۔
”ڈرتی ہو؟۔۔ مجھ سے مت ڈرو۔ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔ چلو آؤ میں تمہیں اپنا گھر دکھاؤں۔ میرا گھر سونے کا بنا ہوا ہے“۔
جونہی مجھے پکڑنے کے لئے اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ میں بیہوش ہو گئی۔ جب ہوش آیا،دیکھا کہ ندی کے کنارے گری پڑی ہوں۔ میں شدید زخمی تھی۔ مجھ سے ہلا نہیں جاتا تھا۔ میرے ساتھی ’دوسرے چرواہے بچے ’جو ادھر ادھر اپنی اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے۔ میرے اردگرد کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے اٹھایا اور گاؤں لے گئے۔ میرے والد نے ساری باتیں سنیں۔ انہوں نے فوراً ایک بکری کو ذبح کیا۔وہ جاننا چاہتے تھے کہ کہیں ایسا پریوں کی وجہ سے تو نہیں ہوا۔جب بکری ذبح ہوئی میں نے اس کا خون پینے کی خواہش ظاہر کی۔ میرے والد نے منع کیا  مگر جیسے میں پاگل ہو رہی تھی۔ میں نے اپنے بال نوچ ڈالے۔
”مجھے خون دو، مجھے یہ خون پلاؤ، میں پیاسی ہوں“۔ میں چیخی۔

میں نے سارا خون پی لیا جو میرے والد نے ایک برتن میں جمع کیا تھا۔ دس دن مجھ پر بیہوشی طاری رہی۔ اناج کی ایک کھیل بھی میرے اندر نہ گئی۔ اس دوران بہت سے جن اور پریاں جو تعداد میں سولہ تھے میرے پاس آتے رہے۔ ان کی ملکہ ہندو تھی۔ اس کے بالوں کا اپنا ایک انداز تھا۔ وہ میرے لئے بہت سی چیزیں لاتے۔ روٹی‘ پھل‘ مٹھائیاں لیکن کھانے کو کچھ نہ دیتے۔
میں اگر سو رہی ہوتی وہ مجھے اٹھا لیتے اور ناٹی (ایک طرح کا رقص) کرنا سکھاتے۔ انہوں نے مجھے ”گنو“ اور ”دیبو“ جیسے منتر سکھائے۔
”گنو“
گنگ گنم تراخانئے زولی گنم‘ زولی حارولی گم‘ یو نئے گنولی گنم‘ پائیے پرونی گنم‘ جن دو لوک گنم۔ میں باندھونگی میں باندھونگی‘ تارا خان (گلگت کا ایک حکمران) کی زولی کو۔ میں باندھوں گی زولی کی بیٹی حزولی کو۔ میں باندھوں گی گنولی کو۔
”دیبو“
متی متی ترا خانئے زولی موتی۔ زوئی ضرولی موتی وغیرہ وغیرہ
ترجمہ۔ میں تو کھولونگی میں کھولونگی تراخان کی زولی کو۔ حزولی کی بیٹی حزولی کو۔

میں نے اسے ناٹی کرنے کے لئے کہا۔
”ارے ایسے تھوڑی کی جاتی ہے۔ اہتمام کرنا پڑنا ہے۔“
”کچھ تھوڑا سا دکھلا دو۔ بڑی دور سے آئے ہیں۔ بڑی آس لگا کے آئے ہیں۔ میں بھی شاعرانہ موڈ میں تھی۔“جونہی ڈاکٹر ہدایت علی نے میرے جذبات سے اسے آگاہ کیا۔
وہ انہی قدموں پر کھڑی ہو گئی۔ ایسا زبردست رقص کیا۔کیا ناہید صدیقی کریں گی۔ میں تو عش عش کر اٹھی۔ دروازے پر لوگ اکٹھے ہو گئے تھے۔

جناب غلام محمد بتا رہے تھے کہ بڑے بوڑھے بزرگوں کا خیال ہے کہ وہ افراد جو دانیال بن جاتے ہیں انہیں پریاں اور جن اٹھا کر نانگا پربت‘ راکا پوشی اور حراموش کی چوٹیوں پر لے جاتے ہیں۔ انہیں وہاں رکھتے ہیں۔ آنے والے واقعات یہی جن اور پریاں انہیں
بتاتے ہیں۔
گلگت کی علاقائی شاعری میں دانیال شاعری کا بھی مقام ہے۔ گو اس میں قافیہ اور ردیف وغیرہ کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔ مگر چونکہ اس میں بیح کی جھلک ملتی تھی۔ اس لئے دانیال قسم کے لوگوں کی سخت نگرانی کی جاتی تھی۔ کیونکہ جب یہ بھاگ جاتے تھے تو انہیں واپس لانا مشکل ہو جاتا تھا۔

کہتے ہیں علاقہ بگروٹ میں ایک دانیال ناچ رہا تھا۔ کسی طرح وہ بھاگ گیا اور باوجود کوشش بسیار کے نہ ملا۔ ایک سال گزر گیا۔ لوگ تقریباً اس بات کو بھول بھال گئے۔ اگلے سال ایک دوسرا دانیال ناچ رہا تھا۔ فضا میں بانسری و ڈھول اور شہنائیوں کا شور تھا۔ دفعتاً لوگوں نے دیکھا کہ وہی گزشتہ سال والا دانیال جو غائب ہو گیا تھا بالکل ننگا‘ حراموش کی بلند ترین چوٹی سے نیچے دوڑتا ہوا آرہا ہے۔ آناً فاناً وہ مجمع میں پہنچ گیا۔

”اس میں کس حد تک حقیقت ہے۔“میں نے پوچھا۔
ڈاکٹر ہدایت علی مسکرائے اور بولے
”ففٹی ففٹی بھی ہوئی تو کافی ہے۔“
بہت سا شکریہ ادا کیا دانیال عورت کا۔ ڈاکٹر ہدایت علی اور جناب غلام علی کا کہ جن کے توسط سے میں مقامی ثقافت کے حامل ایک دلچسپ کردار سے ملی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *