ہم ہم ہیں! ہمارا جواب نہیں۔۔۔محمد اظہار الحق

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

یہ دیکھیے،یہ کون ہے؟ اس نے شلوار قمیض پر واسکٹ پہنی ہوئی ہے۔ سرپر سفید، گول، ٹوپی ہے۔ پاوں میں پشاوری چپل ہے! یہ ایک مسلمان ہے۔ یہ پاکستانی بھی ہے۔ قصور اس کا صرف یہ ہے کہ اس کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے! یہ پاکستان کے لیے ہمیشہ جان لڑاتا رہا ہے! افواجِ پاکستان میں اس نے ہمیشہ اگلے محاذوں پر دادِشجاعت دی ہے۔ سینے پرگولیاں کھائی ہیں۔ مشرقی بارڈر ہو یا افغان سرحد، کارگل ہو یا وزیرستان! اس نے باقی پاکستانیوں کے ساتھ مل کر مادرِ وطن کا ہمیشہ دفاع کیا۔ اس نے ہمیشہ سینے پر وار سہا، اس نے کبھی پشت پر زخم نہیں لگنے دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں اسی نے دیں۔

جتنے دھماکے خیبرپختونخوا میں ہوئے، شاید ہی کہیں اور ہوئے ہوں۔ سکولوں کو بموں سے اڑایا گیا۔ بازاروں، مسجدوں، مزاروں، گرجائوں کو تاخت و تاراج کیا گیا۔ خیبرپختونخوا کا یہ مسلمان، یہ پاکستانی، زخم سہتا رہا، خون بہاتا رہا، گولیاں کھاتا رہا، اُف تک نہ کی! صلہ مانگا نہ ستائش، نمائش کی، نہ سازش! کراچی کو کراچی کس نے بنایا؟ اس نے وہ کام کیا جو بابو لوگ، صاحب لوگ، سائیں لوگ، کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس نے وحشت ناک گرمی میں بنیادیں کھودیں، بجری ڈھوئی، سیمنٹ کی بوریاں سر پر لادیں۔ سریا ہاتھوں سے سیدھا کیا، عمارتیں بنائیں، ٹرانسپورٹ کا کام سنبھالا، سڑکیں بنائیں۔ بندرگاہ کو وسعت دی، راتوں کو جاگ کر چوکیداری کی، سر پر ٹوکریاں اٹھائیں، روکھی سوکھی کھائی، پھر سیٹھ، بابے، وڈیرے، نام نہاد منتخب نمائندے، سائیں، پیر، وزیر، امیر، کبیر، مخدوم زادے، سید بادشاہ، ایئرکنڈیشنڈ دفتروں، کوٹھیوں، محلات اور اسمبلیوں میں بیٹھے اور حکمرانیاں کیں۔

یہ پختون ہی تھا جس نے پانچ سال کے عرصۂ حکمرانی میں برصغیر کے طول و عرض میں شاہراہوں کا جال بچھا دیا، سنارگائوں سے دریائے سندھ تک، ملتان سے دہلی تک، آگرہ سے جودھپور تک، جونپور سے اجمیر تک، پھر درخت لگوائے، پھر کنوئیں کھدوائے، پھر سرائے بنوائیں، پھر حکم دیا کہ ہر سرائے کے ایک دروازے پر مسلمانوں کے لیے اور دوسرے دروازے پر ہندوئوں کے لیے کھانا ہروقت تیار ہو، پھر گائوں گائوں انصاف پہنچایا۔ یہ پختون ہی تھا جس نے اٹھارہ، جی ہاں! اٹھارہ گھوڑ سواروں کے ساتھ ڈھاکہ فتح کیا جہاں آج بھی مسلمان رہتے ہیں اور مسلمان ہی جہاں حکومت کرتے ہیں۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں استعمار کو لوہے کے چنے چبوانے والا بخت خان پختون ہی تھا۔ وہ تو دفن بھی بنیر میں ہوا۔ خیبرپختون خوا کی حدود سے باہر، ریاست رام پور کی بنیاد دو پختون بھائیوں ہی نے رکھی۔ بریلی اس ریاست کا دارالحکومت تھا۔ حافظ رحمت خان اس ریاست کا بہادر حکمران ہو گزرا ہے، اودھ کے حکمران اور دہلی کے مغل اس کے محتاج رہے۔ اور وہ کون تھا جس نے برصغیر کی عظیم الشان درس گاہ جامعہ ملیہ کی بنیاد رکھی؟ ڈاکٹر ذاکر حسین، آفریدی پختون، جرمنی سے پی ایچ ڈی کی۔ پھر بائیس برس جامعہ ملیہ کی وائس چانسلری کی۔ بہار کا گورنر رہا، پھر بھارت کا نائب صدر، بھارت کا پہلا مسلمان صدر یہی پختون تھا۔ اردو شاعری کا تاجدار شبیر حسن خان جوش ملیح آبادی بھی تو آفریدی پختون ہی تھا۔ ایک لاکھ سے زیادہ اشعار کہے اور ایک ہزار سے زیادہ رباعیاں، ہمیشہ زندہ رہنے والی شاعری۔ بھارت کی ایٹمی یلغار کے مقابلے میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے تب بھی پختون ہمیں قابلِ قبول ہے، بھوپال کا یوسف زئی پختون، بھوپال پختونوں کا مرکز رہا۔

وہیں سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان آیا۔ پھر جو کام کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ رام پور کے نواب خاندان کا چشم و چراغ صاحبزادہ یعقوب خان، جس نے سفارت کاری کے میدان میں معرکے سرانجام دیئے، یوسف زئی پختون ہی تو تھا۔ مشرقی پاکستان میں تعیناتی کے دوران اس پختون نے سرتوڑ کوشش کی کہ آرمی ایکشن نہ لیا جائے۔ اس نے برملا الزام لگایا کہ مرکزی حکومت مشرقی پاکستان کے شہریوں کی آواز سننے میں ناکام ثابت ہوئی۔ پھر جب آرمی ایکشن کا حکم آیا تو اس نے انکار کر دیا اور استعفیٰ پیش کر دیا۔ پختون یہ سب کچھ کرتا رہے تو ہمارے لیے قابل قبول ہے۔ اس کا ہر رول ہمیں منظور ہے۔ وارے میں پڑتا ہے۔ مزدوری سے لے کر چوکیداری تک۔ بجری ڈھونے سے لے کر سریا سیدھا کرنے تک۔ سفارت کاری سے لے کر ایٹم بم بنانے تک۔ شاعری سے لے کر کرکٹ تک، ہمارے لیے جنگ کے محاذ پر جان دیتا رہے، خون بہاتا رہے تب بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ آرمی پبلک سکول کے دلدوز سانحہ میں اس کے پرخچے اڑا دیئے جائیں تو ہم ٹسوے بھی بہا لیں گے۔ مگر پختون کی ایک بات ہمیں منظور نہیں، کسی صورت قبول نہیں۔ عید کا چاند دیکھنے کی گواہی دے تو یہ گواہی ہمیں منظور نہیں۔ یہ ہمیں وارا نہیں کھاتی، بے شک پورے برصغیر کے مدارس میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، عربی ادب و گرامر پڑھانے والے چوٹی کے علماء اکثر و بیشتر پختون ہیں مگر پختونوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ عید کا چاند دیکھنے کی گواہیاں دیں۔ دیں گے تو ہم تسلیم ہی نہیں کریں گے۔

ہمارا حال تو اُس میراثی کا ہے جس نے قمار بازی میں زر اور زمین ہار کر زن کو دائو پر لگا دیا تھا۔ بیوی نے غیرت دلائی کہ تم ہار گئے تو وہ مجھے لے جائیں گے۔ میراثی سینہ تان کر بولا کہ کیسے لے جائیں گے؟ میں مانوں گا ہی نہیں کہ ہار گیا ہوں۔ تو وہ چاند دیکھتے رہیں، گواہیاں دیتے رہیں۔ ہم نے تسلیم ہی نہیں کرنا۔ یہ شبقدر کے لوگ…یہ چار سدہ کے رہنے والے، یہ بنوں اور کوہاٹ کے مسلمان، ان کی ہمت کہ ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑائیں؟ یہ فیصلہ کرنا صرف اور صرف ہمارا کام ہے کہ کس تاریخ کا چاند منظور کرنا ہے اور کس تاریخ کا رد کر دینا ہے۔ کس کی گواہی قبول کرنی ہے، کس کی نا منظور کرنی ہے۔ کس کا فون سننا ہے کس کا نہیں سننا۔ پھر یہ بھی ہے کہ دوربین بھی تو ہمی نے ایجاد کی تھی، اس کی ایجاد میں پختونوں کا کوئی کردار، کوئی رول نہیں۔ دوربین ہماری ہے تو ہمیں سے میائوں کیوں کرے گی؟ جو ہم چاہیں گے وہی دکھائے گی۔ اگر کوئی ہم سے کہے کہ کوئی ایک شرعی، قانونی، اخلاقی، سماجی وجہ پختونوں کی گواہی رد کرنے کی ہم بتا سکیں تو بے شک کہتا رہے۔ ہم پر لازم نہیں کہ پختونوں کی گواہی رد کرنے کی شرعی، قانونی یا اخلاقی وجہ بتائیں۔

SHOPPING

ہم کیوں بتائیں؟ جب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ کسی پختون کی، خیبرپختون خوا میں رہنے والے کسی شخص کی گواہی ہم نے منظور نہیں کرنی، تو بات ختم ہو گئی۔ ہم اتھارٹی ہیں، ہمارے پاس طاقت ہے، ریاست کی مرضی ہے، گواہی منظور کرے یا رد کرے، یا ایک پوری کمیونٹی کی، پورے صوبے کی، تضحیک کر کے، لطیفے گھڑے اور مذاق اڑائے۔ پاکستان کے مشرق میں بھی چاند نظر آ جائے، مغرب میں بھی چاند نظر آ جائے، اس سے ہم اہل پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک عاقل بالغ، عادل مسلمان کی گواہی شرعاً منظور کرنا ہی پڑتی ہے۔ ہم پختون خوا کے مسلمانوں کو عادل کیوں سمجھیں؟ کیا ہمیں اتنا بھی حق نہیں؟ ہم ہم ہیں، ہمارا جواب نہیں، ہماری پشت پر ریاست ہے، شریعت کیا کہتی ہے، یہ ہمارا مسئلہ ہی نہیں!!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *