سمندر سے ایک موتی۔۔۔محمد اظہار الحق

سمندر میں کیکڑے ہیں اور مگرمچھ! دریائوں میں بہتی ہوئی ساری آلودگی ‘ جو انسان پھیلا رہے ہیں سمندر میں آ ملتی ہے۔ سمندر میں کیچڑ ہے اور نہ جانے کیا کیا گندگی اور غلاظتیں‘ تو پھر کیا ہم سمندر کی طرف توجہ نہ دیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! اسی سمندر میں سیپیاں ہیں جن کے اندر موتی ہیں! مرجان اور لولو ہیں۔ جواہرات ہیں! مخلوقات کے لیے خوراک ‘ قسم قسم کی خوراک‘ اسی سمندر میں موجود ہے۔ یہی سمندر ہے جو ہماری کشتیوں اور جہازوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا ہے اور ہزاروں میل کے فاصلے طے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سمندر میں خوبصورت جزیرے ہیں جن میں درخت ہیں اور باغات اور پھل اور پھول! یہی حال سوشل میڈیا کا ہے! سوشل میڈیا بھی سمندر ہے! کیچڑ اور آلودگی سے بھرا ہوا!اس میں کیکڑے ہیں اور مگرمچھ ! وہیل اور شارک مچھلیاں خوفناک دہانے کھولے شکار کی تلاش میں پھر رہی ہیں۔ انسانوں کو بھی نگل جاتی ہیں! مگر اسی سمندر میں اسی سوشل میڈیا میں موتی بھی ہیں‘ مرجان اور مونگے بھی! خوراک بھی! باغوں والے خوبصورت جزیرے بھی ! کیسے کیسے عقل و دانش والے سوشل میڈیا پر موتی بکھیرتے نظر آتے ہیں ! ایک سے ایک جوہر قابل موجود! متوازن اور معقول تجزیے سیاسی حرکیات پر روشنی ڈالتے ہوئے!کیسی دلکش شاعری پڑھنے کو ملتی ہے سوشل میڈیا پر! چُھپے ہوئے ہیرے اور جواہر!! ایسی ہی ایک تحریر عامر اشفاق کی پڑھنے کو ملی۔ کیا کوزے میں دریا کو بند کیا ہے۔ قارئین سے شیئر کی جا رہی ہے۔ جی ہاں! مجھے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ کہتے ہیں عورت کی عزت کرنی چاہیے۔!مگر جس کا شوہر ملک کا کرتا دھرتا ہو! سارا زور ملک لوٹ کر اپنے اثاثہ جات بنانے پر ہو! اور اس کی بیوی اس کا ہاتھ نہ روک سکے!! مجھے کوئی ہمدردی کا بھاشن نہ دے! مجھے وہ وقت یاد آ رہا ہے جب حاملہ عورت کے پیٹ میں گولیاں ماری گئیں! وہاں کیوں ہمدردی مر جاتی ہے؟ کیا اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے پاکستان کو لوٹا نہیں تھا؟ ہمدردی کروں مگر کیسے کروں؟ ریگستان میں تین معصوم بچیاں بھٹک جاتی ہیں تین دن بعد لاشیں ملتی ہیں! سوچیے! بھوک پیاس سے بلکتی‘ ریت کے طوفانوں میں کس طرح جان نکلی ہوگی؟ ان کو تو وینٹی لیٹر بھی نہ مل سکا! کیا وہ معصوم لاشیں ہمدردی کی مستحق نہیں؟ جن لوگوں کے لیے مری میں ناشتہ ہیلی کاپٹروں پر پہنچایا جاتا تھا ان لوگوں نے غریبوں کے لیے ایک بھی ایسا ہیلی کاپٹر نہیں دیا‘ جو ہنگامی بنیادوں پر کسی سرچ آپریشن کا حصہ بن سکتا! لوگ اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کرتے رہے! حکومتی سطح پر کوئی اقدام ہوتا تو تین جانیں بچ جاتیں! لیکن یہ غریب تھے! کسی امیر کی اولاد ہوتے تو بے نظیر جیسی کوریج ملتی! فیصل آباد میں ایک بس ہوسٹس کو گولی مار دی گئی پوچھنے والا کوئی نہیں! ٹھیک ہے اس میں حکمرانوں کا کوئی قصور نہیں مگر پیرس جیسے شہر لاہور میں عورتیں رکشوں میں روڈ پر بچے پیدا کر دیتی ہیں اس میں بھی کیا حکمرانوں کا کوئی قصور نہیں؟ کیا عورتوں کا قصور ہے کہ وہ حمل کے ساتھ کیوں ہیں؟ اسی ملک کی تاریخ اٹھائوں تو پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ہمدردیاں ہی اتنی ہیں کہ لوگ وزیر اعظم اور صدر بن جاتے ہیں! بھٹو کے بعد بے نظیر کو وزیر اعظم بنایا گیا جسے ایک جمہوری صدر نے کرپشن کی وجہ سے ہٹایا تھا‘ ہنگامہ اس لیے نہیں کیا جاتا کہ وہ ایک جمہوری صدر تھا! کوئی آمر ہٹاتا تو کتابیں بھر دی جاتیں! باپ کے ساتھ ہمدردی کی وجہ سے بیٹی وزیر اعظم بنی۔ پھر بیٹی قتل ہوئی تو شوہر کی سیٹ پکی ہو گئی! ہمدردیاں ملک کو ڈبو رہی ہیں! آج پھر ہمدردی میں لوگ بلاول کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں! ایک ہمدردی نے ملک کو دو ٹکڑے کر دیا دوسری ہمدردی نے ملک کو نچوڑ لیا تیسری ہمدردی نے ملک میں پیوند لگا دیے۔ اب پھر ہمدردیاں جگائی جا رہی ہیں! ماں مر گئی تو وزیر اعظم بنا دیا جائے! ماں بیمار ہے تو ووٹ دیے جائیں! پاکستان میں لاکھوں یتیم پھر رہے ہیں! انہیں وزیر اعظم کیوں نہیں بنایا جاتا؟ بلاول تو پاکستان میں بات کرنے کے لیے بھی مترجم رکھتا ہے! مرنے والوں کے بارے میں ہماری عجیب منافقت ہے۔ بی بی آج بھی زندہ ہے! مگر سندھ مر رہا ہے! تھر میںلوگ بھوک سے موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں غریب سندھی عوام رُل گئی ہے۔ مر رہی ہے! مگر بھٹو پھر بھی زندہ ہے! زندہ سب ہیں! شرمندہ کوئی نہیں! بے نظیر کے بچے مخملوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ پیدا ہوتے ہی صدر ‘ وزیر اعظم کی مہریں لگ جاتی ہیں۔ چلتے ہیں تو ریشمی قالینوں پر سفر کرتے ہیں تو ہیلی کاپٹروں پر۔ معلوم ہی نہیں بھوک کیا ہے؟ ہاں!انہیں وزیر اعظم بنا دیں کہ ان کے ساتھ ہمدردی ہے! خاتون بیمار ہے تو ہمدردی کا ووٹ شوہر کو اور بیٹی کو ملے! اس ملک میں دو آمریتیں رہیں! ایک فوجی دوسری جمہوری! پیپلز پارٹی کے مالک خاندان کی چوتھی نسل ہم پر حاکم بننے کے لیے تیار ہے۔ نون لیگ اپنے مالکوں کی تیسری نسل تخت نشین کرنا چاہتی ہے ! تعلیم لندن میں رہائش لندن میں اثاثے لندن میں علاج لندن میں عید۔ہر عید۔ لندن میں مگر حکومت پاکستان پر! غریبوں کے بچے اینٹوں کے بھٹوں پر مٹی میں مٹی ہو جاتے ہیں اور ان خاندانوں کی اولادیں پیدا ہوتے ہی کھرب پتی ہو جاتی ہیں۔ واہ! کیا قانون ہے! غریب بس میں لٹک کر دو گنا کرایہ دے کر عید منانے گھر پہنچتا ہے۔ یہ لوگ جہازوں میں بیٹھ کر عید منانے لندن پہنچتے ہیں کہ لندن ہی ان کا گھر ہے! بھکاری کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے مگر اسے دھتکار دیتے ہیں کہ جھوٹ بول رہا ہو گامگر چور‘ ڈاکو لینڈ کروزروں اور جہازوں میں بیٹھ کر آتے ہیں اور آپ سر پر بٹھاتے ہیں۔ کیا یہ منافقت نہیں؟ ان ہمدردیوں سے آپ کو کیا ملا؟ ان کی تو نسلیں سنور گئیں! میں ہمدردی کروں گا شرط یہ ہے کہ میرے ملک کے لوگوں کا علاج بھی مریم کی ماں کی طرح لندن کے ہسپتالوں میں ہو! یا پھر مریم کی ماں کا علاج انہی ہسپتالوں میں ہو جہاں غریب وینٹی لیٹر نہ ہونے سے سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں! ایسا نہیں ہوتا تو ہمدردی کس برتے پر مانگی جاتی ہے؟ اب میری جاہل قوم پھر ہمدردی میں انہیں سروں کو مسلط کر لے گی! ؎ رہیں گے جسموں پہ سر بہت دیر تک سلامت سروں پہ اک بادشہ بہت دیر تک رہے گا ہاں! میں جذباتی ہو رہا ہوں(باقی صفحہ 13 پر ملاحظہ کریں) ہاں! میں غصے میں ہوں بلاول جیسا غیر ملکی اس لیے وزیر اعظم بن سکتا ہے کہ اس کا باپ صدر رہ چکا ہے!ماں اور نانا وزیر اعظم رہ چکے ہیں! مریم اس لیے اقتدار میں آنا اپنا حق سمجھتی ہے کہ اس کا والد وزیر اعظم رہ چکا ہے! یہ جاگیریں ہیں! فضل الرحمن اور اسفند یار ولی اس لیے پارٹیوں کے صدر ہیں کہ یہ صدارتیں وراثت میں ملی ہیں! ان کے والد بھی پارٹیوں کے صدر تھے! شریف خاندان۔ بھٹو زرداری خاندان‘ فضل الرحمن خاندان ولی خان خاندان یہ پارٹیوں کے مالک ہیں۔ ان کے بعد ان کی اولادیں مالک بنیں گی! لعنت ہے ایسی جمہوریت پر نہیں چاہیے ایسی جمہوریت! مجھے صرف پاکستانیت چاہیے! مجھے کسی چور ڈاکو لٹیرے منی لانڈرر کسی مفت خورے سے کوئی ہمدردی نہیں! مجھے عوام سے بھی کوئی ہمدردی نہیں جو ان خاندانوں کے غلام بنے ہوئے ہیں۔‘‘ عامر اشفاق صاحب سے رابطہ نہ ہو سکا! ان کی یہ تحریر تشکر کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *