صبروبرداشت

صبر و برداشت اور روزہ
مولوی صاحب نے بتایا کہ جب روزہ رکھا ہو تو صبروبرداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیوں کہ روزہ ہمیں یہی سکھاتا ہے۔۔۔
مگر جب ایک مسئلہ ان سےسمجھ نہ آنے پر دو بار پوچھ لیا یا کسی بات پر سوال کیا تو برا مان گئے ۔۔
مگر جب اسی صبر وبردا شت کو ڈھونڈنے بازار میں نکلے تو تربوز والے سے بھاؤ تاؤ کیا تو سیخ پا ہو کر کہنے لگا جاؤ جاؤ روزہ ہے دماغ خراب نہ کرو۔۔
جب کچھ اور آگے بڑھے تو تین آدمی باہم دست و گریباں نظر آئے۔۔
اس سب سے رنجیدہ خاطر جب گھر میں داخل ہوا تو بیوی کو بتایا کہ روزہ ہمیں صبروبرداشت سکھاتا ہے۔۔
تو بولی کہ ہاں بہت اچھی بات ہے. یہ کہہ کر کچن میں چلی گئی ،مگر فورا ًغصہ سے لال باہر نکلی اور چلا کر بولی ،،
سبز مرچیں اور ٹماٹر کہاں ہیں؟
اب مجھے کوئی یہ تو بتائے کہ صبروبرداشت کہاں اور کب ملے گا؟

Avatar
مشہوداحمدباجوہ
پریس ریپورٹر سوہنی دھرتی،ہومیو ڈاکٹر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *