ایسا ابا کہاں سے لبھا۔۔۔ حسنین چوہدری

بچپن میں ہم اپنے والد سے ہمیشہ بے زار ہی رہے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ جب بھی ہم چنگیز خان ، ہٹلر وغیرہ کا نام سنتے تو والد صاحب کا چہرہ انور سامنے آجاتا۔حد تو تب ہوئی جب ہم اپنے والد کی ٹنوں کتابوں کے ڈھیر سے نسیم حجازی کے ایمان افروز ناول پڑھ رہے تھے۔ ایک ناول انسان اور دیوتا میں ایک جگہ مادھو کا سر قلم ہونے لگتا ہے۔ نسیم حجازی نے جلاد کا جو حلیہ بتایا تھا وہ ہمارے والد صاحب سے کافی حد تک ملتا تھا اور میں یہی سوچتا رہا کہ مادھو کا سر میرے والد جیسے ہی کسی جلاد نے قلم کیا ہو گا۔

یہاں تک توٹھیک ہے ، جب ہم شعلے فلم دیکھ رہے تھے تو گبر سنگھ نے جیسے ہی ٹھاکر کے ہاتھ کاٹے تو گبر سنگھ کے روپ میں ہمیں ہمارے والد ہی نظر آئے،بجز یہ کہ ہمارے والد کی داڑھی گبر سنگھ سے کسی  قدر بڑی تھی، اس سے پہلے کہ ہمیں امریش پوری میں اپنے والد کی شبیہہ نظر آتی  ہم نے بالی وڈ کو خیر باد کہہ دیا۔

ہمارا پرییوار چونکہ بے حد چھوٹا ہے،ہم دو بھائی اور والدین فقط۔۔۔ تو بچپن میں ہمارے والد ہمارے ساتھ اکثر ہاتھ کر جاتے، ایک بار ہمیں ائیر پورٹ دکھانے کا وعدہ کیا، اس دن ہم چار بجے صبح ہی اٹھ گئےگویا ہماری فلائٹ چھوٹ رہی ہو،خیر مشرقی باپوں کی طرح ازلی سستی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شام ڈھلے گاڑی میں بٹھایا اور لے  گئے۔ان دنوں ایک آدھ میل فرسنگ کے فاصلے بھی ہمارے لیے سات سمندر پار کا درجہ رکھتے تھے،گھر سے دو چار میل دور ایک پارک میں لے گئے جہاں کسی جنگ میں نیم تباہ شدہ طیارہ بطور اعزاز مرمت کر کے نصب کر دیا گیا تھا،ہمیں وہ دکھایا اور ایک روپے کا سکہ عنایت کیا جس پر حکیم الامت کی شبیہہ ہوا کرتی تھی۔

جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا ان کا بیٹا کم اور تختہ مشق زیادہ بنتا گیا۔۔ ان کے نام میں علی آتا ہے سو ہو سکتا ہے باکسر محمد علی کی کچھ خصائص ان میں بھی ہوں۔۔ہر مار نہ پڑنے  والی بات پر مجھے مار پڑتی تھی، ماشااللہ سے کافی صحتمند تھے، اللہ انہیں صحت دے۔
میرے خیال میں تھوڑی سی تبدیلی کے بعد یہ شعر انہی کے لیے کسی نے کہا تھا جس پر غالبا میر بھی خاموش ہو گئے تھے۔۔
حیدر کرار نے وہ زور بخشا ہے مجھے
ایک دم میں دو کروں ‘بیٹے’ کے کلے چیر کے

ان کے تمام جور و ستم کے باوجود ازلی محبت رہی ان سے،مگر شیطان بھی کیا کیا کرواتا ہے،ایک بار خوب پھینٹی کے بعد خیال آیا کہ دوران قیلولہ والد کی داڑھی قینچی سے کاٹ دیتے ہیں،شیطان سمجھیے پے انگ گیسٹ کے طور پر میرے دماغ میں رہتا ہے، جن دنوں نئے نئے ٹچ اسکرین موبائل آئے تھے اور دس ہزار میں سے ایک بندے کے پاس ٹچ سکرین موبائل ہوتا تھا تو والد صاحب نے نوابی بچانے کے لیے موبائل خریدا،تو اکثر ہمیں   گیم وغیرہ لگا کر دے دیا کرتے  اور پھر دو چار منٹ بعد چھین لیتے کہ زیادہ انگلی چلانے سے سکرین گھستی رہتی ہے،صرف کال اٹینڈ کر نے کے لیے سوائپ کرنا چاہیے وہ بھی احتیاط سے،تو ہمارے ذہن میں اکثر خیال آتا کہ موبائل کی سکرین پر ایلفی انڈیل دیتے ہیں.پھر چشم تصور  میں آلات تشدد آتے اور خیال عنقا ہو جاتا۔

مار کے وقت رونا دھونا سب سے اہم دفاع ہے۔۔۔ میر نے کیا خوب کہا ہے

وہ تجھے پیٹ رہا ہے تو تجھ پہ بھی لازم ہے کہ میر
ڈرامہ کر ، رولا ڈال ، چینخ مار ، شور مچا۔۔۔۔!

کنجوس بلا کے تھے،عید قرباں پر پاس بلا کرپوچھتے “ہاں بھئی بکرا لینے جانا ہے یا بیس روپے  اب لینے ہیں اور سو روپے عید کے دن ؟ “۔۔ہم اپنی ازلی خصلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ ” دونوں کام ۔۔۔ بکرا بھی پیسے بھی ”

لیکن بدمزاج باپ اور منہ پھٹ بیوی کے سامنے کس کی چلتی ہے، کسی نے ہمارے والد سے کہہ دیا کہ بیٹے کو حافظ بناؤ  تو والدین ڈائریکٹ جنت جاتے ہیں،بس شاید والد صاحب کو اپنے اعمال پر یقین نہ تھا، اسی وجہ سے ہمیں حفظ قرآن کے درس میں بٹھا دیا گیا،وہ مدرسہ غالباً  دیوبندیوں کا تھا اور انہوں نے میری قرات ٹھیک کرنے میں دس دن لگا دیے،آخر دس دن کی انتھک محنت سے میں تعوذ اور تسمیہ ٹھیک سے پڑھنے لگ گیا، لگایا حفظ کرنے تھا اور یاد ہم حدیث و فقہ کرنے لگے، واقعات صحابہ پڑھ کر سرشار ہوتے اور والد کو سناتے۔۔

قصص الانبیاء پڑھ کر اکثر نبی بننے کی خواہش دل میں پھوٹتی، لیکن جب اس خواہش کا اظہار مرحوم اشتیاق احمد مدیر بچوں کا اسلام سے کیا جو گھر کے قریب ہی رہتے تھے ۔۔۔ تو ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی بارے وہ نفرت دلائی کہ آج ان کی در سمین کی بعض اچھی شاعری بھی پڑھتا ہوں تو دل صاف نہیں ہوتا۔۔ان کو شاید مرزا سے ذاتی بیر تھا یا سچے عاشق رسول تھے،والد صاحب مذہبی متشدد تھے، سات سال کے بعد مار کر نماز پڑھانے والی حدیث پر سختی سے عمل پیرا تھے،حالانکہ خود میں نے ان کو آج تک نماز پڑھتے نہیں دیکھا، نماز عیدین پڑھتے ہوئے پایا ہے فقط۔۔

مگر میں نے اتنی کم عمری میں جو کچھ آج پڑھا ہے وہ سب ان کی سختی کی بدولت ہے۔۔ لوگ میٹرک میں مرزا غالب کے خطوط سے بیزار ہو جاتے تھے جب کہ میں باقاعدہ خطوط غالب نامی کتابچہ خرید کر غالب کی بے اعتدالیوں کا بنظر غائر جائزہ لیتا تھا۔
ایک وقت میں تو خود کو ماہر غالبیات کہنا شروع کر دیا،اس وقت تک ہم جوش ملسیانی ، یوسف سلیم چشتی یا نظم طباطبائی سے نا آشنا تھے.. پھر فیض صاحب تو کہہ گئے ہیں غالب کی عزت اس وقت تک ممکن ہے جب تک شروحات نہ پڑھ لی جائیں،پھر حضرت مرزا واجد حسین یاس عظیم آبادی یگانہ چنگیزی نے محمود غزنوی کا ریکارڈ توڑتے ہوئے غالب پر اٹھارہ حملے کیے  لیکن غالب نے سومنات کے بت سے بھی زیادہ   سختی دکھائی کہ  آج کل کے  نام نہاد سخت لونڈوں کو ان سے انسپائر ہونا چاہیے، لیکن ایک طرح سے وہ اچھا کرتے ہیں جو غالب کو نہیں پڑھتے، محبوبہ کو پھانسنے کی بجائے جان چھڑانے کے لیے غالب کا استعمال پُر اثر رہا ہے۔

جیسے ہم نے بطور تعریف سنایا کہ سبزہ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا ،
میں تمہیں دیکھوں بھلا،کب مجھ سے دیکھا جائے ہے۔۔۔۔!

نقش پر اس کے مصور کو بھی کیا کیا ناز ہیں ،
تو وہ کم فہم ہم سے ایسی ناراض ہوئی کہ چار و ناچار شاعر اعظم وصی شاہ کے چند اشعار سنا کر معافی مانگنا پڑی۔۔
غالب پر تو میں پچاس گھنٹے بھی لگاتار بول سکتا ہوں اور اس کے آگے پیچھے بھی والد کا ہی ہاتھ ہے،اللہ انہیں صحت عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے،اور ہمیں بڑا مزاح نگار بنائے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ایسا ابا کہاں سے لبھا۔۔۔ حسنین چوہدری

  1. مضمون سے زیادہ مضمون نگار کی عمر کا تذکرہ ہوا ہے، ویسے ایک جملے کی بنیاد پر میں اس کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ کہہ سکتا ہوں..

  2. حسنین چوہدری کے مزاحیہ کمنٹس سے تو لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں لیکن اج پہلی بار انکا مزاحیہ مضمون پڑھا خوب ہنسایا کمبخت نے۔
    مجھے خوشی ہوئی کہ میرا نیا دوست اتنا شاندار لکھتا ہے۔
    ڈھیر ساری دعائیں پیارے حسنین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *