اجتماعیت وغمگساری ، عید کی روح۔۔۔عارفہ عزیز

عیدالفطر کے اسلامی تہوار پر ہر سال بے جا اصراف، فضول خرچی اور ریاکاری کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں جو اس پاکیزہ تہوار کے ہمہ گیر مقاصد اور پیغام کو نہ سمجھنے کی ایک وجہ ہے ورنہ حقیقت میں اسلام ہی وہ مذہب ہے جس کی تعلیمات نے انسانوں کو خوشی اور مسرت کے موقع پر بھی محروم لوگوں اور سماج کے پچھڑے ہوئے طبقات کی دلدار ی اور خبرگیری پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ خلقِ الٰہی کی خدمت کو آدمیت کی معراج قرار دیا ہے۔اسلام سے پہلے عربوں میں جو تہوار منائے جاتے تھے اُن میں کھیل کود، جوئے شراب اور دوسرے لایعنی اعمال کو اہمیت حاصل تھی مگر اسلام کے ماننے والوں کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے روزوں کی تکمیل پر اپنے پروردگار کا شکر بجالائیں، اس کی عظمت اور پاکی کا اعلان کریں ،صاف ستھرے کپڑوں میں عیدگاہ میں جمع ہوں اور2 رکعت نماز شکرانہ ادا کرنے کے بعد پورے ماہ کی عبادت وریاضت کی بارگاہ الٰہی میں قبولیت کیلئے دعا مانگیں اور عید کیونکہ مسرت وشادمانی کا دن ہے لہذا اسکی خوشیوں میں مالدار اور تنگ دست ، امیر وغریب اور خاص وعام سب شریک ہوں اسی لئے عیدالفطر کے دن کی سب سے اہم عبادت صدقہ فطر کی ادائیگی کو بتایاگیا اور اسے نماز عید سے قبل ادا کرنے کا حکم ہوا اور اس سلسلہ میں ترغیب اس بات کی دی گئی ہے کہ نماز سے قبل اسے مستحق لوگوں تک پہنچا دیا جائے جبکہ پیغمبر اسلام ﷺنے اس کی اہمیت یوں بیان کی کہ جب تک صدقۂ  فطر ادانہیں ہوتا روزے معلق رہتے ہیں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کی صرف عبادت ہی کافی نہیں بلکہ مستحقین کا حق ان تک پہنچانا بھی ضروری ہے اور جو زندگی اور اپنے مال ودولت کو اپنا تصور کرتے ہیں اور روزہ رکھ کر یا نماز ادا کرکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے بندگی کا حق ادا کردیا اُنہیں آگاہ ہوجاناچاہئے کہ عید دراصل اجتماعی خوشی کا دن ہے۔ اگر وہ ناداروں کو ان کا حق پہنچانے سے بچتے ہیں تو ان کی عبادت وریاضت ایک بے جان جسم کی طرح ہے اس لئے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے صدقہ فطر  ان لوگوں تک پہنچائے جو اس کے حاجتمند ہیں اور جن کی عید اس کے بغیرپُرمسرت نہیں ہوسکتی۔    اسی لئے کہاجاتا ہے کہ عیدالفطر کا تہوار نئے کپڑے پہن لینے اور لذیذ کھانے کھالینے کا نام نہیں بلکہ اس جشنِ مسرت کی روح اجتماعیت اور غم گساری میں مضمر ہے۔ اسی طرح اسلامی برادری میں پسماندہ بھائیوں کی خبر گیری اس بات کی دلیل ہے کہ دوسروں کو پریشان دیکھ کرتمہارے لئے ایک لقمہ بھی حرام ہے اور آج کے دن اسلام کی عمل داری میں کوئی بھی ننگا اور بھوکا نہ رہے۔ عید کے دن عمارتوں پر چراغاں، میلے ٹھیلے لگانا اور اسی طرح دوسرے کاموں میں روپے پیسے اور اپنا وقت صرف کرنا بھی غلط ہے کیونکہ قرآن پاک میں اصراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہاگیا ہے، یہی حکم بخل کے بارے میں بھی ہے کہ اس سے بچو۔    دراصل اسلام اعتدال کی تعلیم دیتا ہے کیونکہ میانہ روی میں برکت پوشیدہ ہے۔اللہ کے بندوں کی ضرورتیں کافی وسیع ہیں جس کو  اللہ تعالیٰ نے زیادہ دیاہے تو اسے بے جا اور فضول خرچی کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے کام میں لائے، یہی اعتدال اور میانہ روی کا تقاضا ہے حتیٰ کہ پانی جیسی عام شے کو بھی بلاضرورت بہانے سے منع فرمایاگیا ہے، اسلام نے تو 14سو سال قبل ہرے بھرے درختوں کو کاٹنے سے روکاتھا جس کی ضرورت آج شدت سے محسوس کی جارہی ہے کیونکہ درختوں اور جنگلوں کے کاٹنے سے موسمی حالات متغیر ہورہے ہیں۔ یہ اسلام کے اعتدال کی تعلیم ہے جو اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو وہ آج اس کی دیوانی بن جائے مگر ہوتا یہ ہے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے اعمال سے اسلام اور اس کی تعلیمات کو جانچتی ہیں اور غلط فہمی میں مبتلاہوکر اسلام سے دور ہوجاتی ہیں۔    یہی حال مسلمانوں کے تہوار منانے کابھی ہے کہ دوسروں پر اس کا کوئی مثبت اثر مرتب نہیں ہوتا حالانکہ مسلمانوں کی زندگیوں کو اسلام کی صداقت پر خودشاہد ہونا چاہئے۔ عید کے موقع پر ایک ماہ کے روزوں کے بعد دوگانہ ادا کرتے وقت یہ احساس اکثر کو نہیں ہوتا کہ مسلمانوں نے اپنی تربیت کا کوئی کورس حال ہی میں مکمل کیا ہے کیونکہ روزے اور نماز کے مجاہدے کے بعد بھی ان میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔
عیدالفطر کی تقریبات مناتے وقت مسلمانوں کو اس کا احتساب ضرور کرنا چاہئے کہ رمضان المبارک اور اس کے تربیتی کورس کا ان پر کتنا اثر باقی ہے۔وہ عید کے مبارک تہوار کو اسلامی سادگی اور وقار کے ساتھ منائیں اور ظاہری زیبائش اور فضول خرچی سے پرہیز کریں، خاص طور پر جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مادی نعمتوں اور دنیاوی آسائشوں سے نوازا ہے وہ غریبوں اور متوسط طبقہ کے کام آئیں، ان کی خوشیوں کو دو چند کرنے کا ذریعہ بنیں اور اپنی سادگی اور اسلامی وقار سے دوسروں پر اثرڈالیں کیونکہ بیجا تفاخر، فضول خرچی اور دکھاوے سے اسلامی تہوار اور اس کی تقریبات کی متانت پر حرف آتا ہے اور ان کی شان بڑھنے کے بجائے گھٹ جاتی ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *