نیستی

::::نیستی:::

یہ تن آسانی، سستی، کاہلی، کسلمندی کا پنجابی مترادف ہے لیکن سستی کی کیفیت کا جو ابلاغ لفظ نیستی سے ہوتا ہے وہ کسی اور لفظ سے ممکن نہیں. کہتے ہیں کچھ نیستی کے مارے ہوئے ایک سڑک پر لیٹے ہوئے تھے کہ ایک بیل گاڑی والے کا گذرنا ہوا اس نے کم و بیش پندرہ بیس منٹ کی کوشش کے بعد ایک کو جگایا اور کہا کہ ان کو اٹھا کر سائیڈ پر کرو تاکہ میں گاڑی گذار سکوں تو بندے نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا، "میریاں ٹنگاں تھوڑیاں سائیڈ ول موڑ دیو تے ایہناں نیستی دے ماریاں دے اتوں گزاردیو". نیستی ایک عالمی سطح کا مانا ہوا رویہ ہے. دنیا کی مختلف قومیں مختلف خصوصیات کی بنا پر امتیاز رکھتی ہیں مثلا. پاکستانی جگاڑ میں.. ہندو بزدلی میں.. گورے مکاری میں.. عرب عیاشی میں.. مصری لڑائی جھگڑے میں.. بنگالی دو نمبری میں وغیرہ وغیرہ
لیکن ایک قوم ایسی بھی ہے جو اپنی سستی (نیستی) کی وجہ سے مشہور ہے یہ قوم ویسے تو بڑی میٹھی اور معصوم ہے لیکن ان کی اصل وجہ شہرت نیستی ہے میری مراد سوڈانی قوم سےہے. آپ ریاض شہر میں گاڑی لے کر نکلیں اگر دو میل لمبا ٹریفک جام ہے تو ضرور اس کے اگلے سرے پر کوئی سوڈانی ہو گا جو اپنی گاڑی کو چالیس کی سپیڈ سے بگ ٹٹ بگ ٹٹ بھگا رہا ہو گا اور اس کے پیچھے پیں پیں کی فریاد کرتی گاڑیوں کی دو میل لمبی لائن.. ایک مصری نے مجھے سوڈانیوں پر ایک لطیفہ سنایا آپ بھی سنیے۔
ایک سوڈانی اپنے بیٹے کے ساتھ گھر میں بیٹھا تھا کہ باہر سے اس کی بیوی نے دستک دی باپ نے بیٹے سے کہا جاو دروازہ کھولو اس نے کہا بیوی تمہاری ہے تم کھولو اسی بحث میں پندرہ بیس منٹ بیت گئے سوڈانی نے اشتعال میں آکر باہر کھڑی بیوی کو طلاق دے دی۔طلاق کے بعد وہ بولی اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم مجھے طلاق دے دو گے تو میں اپنی جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھول لیتی۔
سوڈانیوں کی سستی کا یہ عالم ہے کہ وہاں پر ایک شہر کا نام کسلہ (سستی ) ہے.بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ افیون نیستی کا باعث بنتی ہے لیکن سوڈانی قوم بغیر افیون کھائے نیستی کے مزے لوٹتی ہے. ہے نا اچھنبے کی بات۔

Avatar
شاہد خیالوی
شاہد خیالوی ایک ادبی گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معروف شاعر اورتم اک گورکھ دھندہ ہو قوالی کے خالق ناز خیالوی سے خون کا بھی رشتہ ہے اور قلم کا بھی۔ انسان اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور خالق کا شاہکار ہے لہذا اسے ہر مخلوق سے زیادہ اہمیت دی جائے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا لیا تو قلم کوآسودگی نصیب ہو گی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *