عربوں کے کھربوں کے سودے اور بکھرتا ہوا عالم اسلام

حالیہ اسلامک سمٹ میں عربوں کی پاکستان بالخصوص عجمی اسلامی ممالک کے ساتھ غیر جانبدارانہ اور نظر انداز رویے نے عربوں اور انکے بنائے گئے اسلامی اتحاد پر بہت سے سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔جس اسلامی اتحاد میں راحیل شریف صاحب کو یہ خواب دکھاکر پاکستان کی طرف سے اور دیگر ممالک کوشامل کیا گیا تھا کہ یہ اتحاد اسلامی ممالک کو درپیش دہشت گردی اور سیکیورٹی معاملات میں معاون ثابت ہوگا وہ قطعی کہیں حقیقت ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔پاکستان عربوں کے شانہ بشانہ ہر موقع اور ہر گھڑی پر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں شدت بھٹو اور ضیاء کے دور میں آئی تھی۔جس اسلامک سمٹ میں عربوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو پس پشت ڈال کر جو تضحیک پاکستان کی عالمی سطح پر کی ہے وہ سمٹ بھی بھٹو کی ہی محنت کا ثمر ہے جس کا آغاز بھٹو نے یہیں پاکستان سے کیا تھا جس میں تب شاہ فیصل, معمر قذافی, یاسر عرفات, شاہ عبداللہ اور خود بھٹو جیسے جہاندیدہ لیڈرز نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
یہ او آئی سی نام کی انجمن بنانے کا مقصد بھٹو کا یہی تھا کہ تمام اسلامی ممالک ایک ٹیبل پر اکھٹے ہوں اور بنیادی مسائل اور معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی سعی کریں اور اسلامی ممالک کے مابین بھائی چارہ بڑھانے کا باعث بنے۔لیکن بھٹو اور شاہ فیصل کے بعد اس تنظیم کا کوئی محرک نظر نہیں آتا۔ہر اسلامک سمٹ بس ایک میلے اور اپنے اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت کے آئندہ اقدامات کی حفاظت سے زیادہ کوئی خاص کام نہیں کر سکی۔اس بار تو عربوں نے ساری حدیں عبور کرکے خالص اسلامی سربراہی کانفرنس میں ایک دہشت اور جنگ کے سودا گر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مدعو کرکے سارے اسلامی ممالک بلخصوص پاکستان کو یہ پیغام دیکر بھیجا ہے کہ ریاست اور سیاست اول اسلام آخر۔
ایسی صورتحال کا مشاہدہ کرکے اور چند ہی دن عربوں کے بیچ کسی خاص عہدے پر رہ کر راحیل شریف جیسے گھاگ, زیرک اور بہادر مومن جرنیل کو کس طرح یہ اندازہ نہ ہوتا کہ یہ اتحاد بھی اوآئی سی جیسی ایک عربوں کی کاوش ہے خطے میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کی۔عرب ایران اور اسرائیل کے آگے بے بس ہیں اور انہیں عراق سے الگ اپنا انجام نظر نہیں آتا اگر وہ امریکہ کے گھٹنےنا دبائیں۔لیکن اگر یہی عرب بھٹو کے اسلامک سربراہی منشور کو من وعن لاگو کرتے اور تیل کی دولت کو صرف اسلامی ممالک تک محدود رکھتے اور تمام اسلامک بلاک کی ایک کرنسی پر اتفاق کرتے اور جو فوجی اتحاد آج بنایا اس کو تبھی عملی شکل دیتے تو آج مسلم دنیا کا مقام اور نقشہ ہی اور ہوتا۔کشمیر اور فلسطین کے معاملے کو عالمی برادری میں اٹھانا جس تنظیم کا اولین مقصد تھا آج وہ ان دونوں سے غافل اور اپنی عیاشیوں کو محفوظ تر بنانے میں مصروف ہے۔ایسے میں پھر پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف آجکل سنجیدگی سے وطن واپسی پر غور کر رہے ہیں کہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار کا عہدہ چھوڑ کر واپس پاکستان منتقل ہو جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راحیل شریف اتحادی فوج میں امریکہ کے غیر معمولی اثر نفوذ سے خوش نہیں ہیں۔یہ اتحاد اس سمت میں گامزن نہیں جو انہیں بتایا گیا تھا۔اس کے علاوہ آہستہ آہستہ سعودی حکام ان کے رول کو محدود کر کے ایک سیکیورٹی آفیسر کی طرح کام لے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سب سے معتبر اور باصلاحیت سابق سپہ سالار نہایت سنجیدگی سے استعفیٰ دے کر پاکستان واپس آنے پر غور کر رہے ہیں۔راحیل شریف کے قریبی دوستوں کا بھی یہی مشورہ ہے کہ راحیل شریف پاکستان واپس آکر پاکستان کیلئے بہت اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے صحیح معنوں میں پاکستان اور امت مسلمہ کو بھر پور فائدہ ہو گا۔اس اتحاد سے تمام عالم اسلام بلخصوص پاکستانیوں کو بہت امیدیں وابسطہ تھیں اور خاص کر راحیل شریف کی سربراہی میں پاکستان اسلامک دنیا میں اپنا وقار اور مقام بحال کرنے کی امید رکھتا تھا۔اسی طرح دیگر اسلامی ممالک کو بھی امید ہو چلی تھی کہ عرب اب ایک سنجیدہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہیں اور بہت جلد عالم اسلام کو ایک پیج پر لانے میں یہ اتحاد مددگار ثابت ہوگا۔
لیکن عربوں کے خوف اور انکے کھرب ایک بار پھر عالم اسلام پر حاوی ہوگئے اور عالمی دہشتی سوداگروں کو ایک اچھی خاصی رقم اور بلا ضرورت عزت افزائی کرکے وہ اپنے ادھورے دفاع کا حدف پورا کرکے سرخرو ہوگئے۔کیا عرب اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب امریکہ کھلے بندوں عرب پراپنے ہی دیئے گئے جدید اسلحے کو ناکارہ کرکے چڑھ دوڑے گا۔کس خوبصورتی سے عربوں نے اپنے ذاتی ملکی مفادات کو اسلام اور بھائی چارے کی آڑ میں انجام تک پہنچایا ہے۔عرب جانتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کی بدولت تمام اسلامی ممالک مجبور ہیں عربوں کی زیادتیوں کو برداشت کرنے اور وقت پڑے ان کی حفاظت کو آگے آنے کے لیئے۔عربوں سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نبی صلﷲ علیہ والہ وسلم کے آخری خطبہ حجتہ الوداع کو بھی فراموش کرچکے ہیں جس میں آپ ص نے فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں سوائے تقوی کے۔
آج ہمارے وزیراعظم کی تذلیل اسی طرز پر کی گئی جیسے ہمارے عام محنت کشوں کی عرب ممالک میں عربیوں کے ہاتھوں ہوتی ہے صرف اس لیئے کہ وہ ایک عجمی مگر طاقتور ملک کا سربراہ تھا۔
اور راحیل شریف صاحب کی واپسی اور دل برادشتگی کی خبریں بلکل اس سمٹ کے اختتام پر گردش کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ عرب صرف ہمارا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اب پاکستان کو کچھ کڑوے اور سنگین فیصلے کر لینے چاہیئے کہ پرائی جنگ میں کودنے کا کوئی فائدہ آج تک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نے اس کو سراہا ہے۔اوآئی سی تو ایک ناکام تنظیم ہے ہی لیکن اسلامک فوجی اتحاد سے بھی کوئی خیر کی توقع نہیں لگ رہی۔ایسے میں پاکستان کو صرف اپنی دفاعی اور اقتصادی اہلیت اور قابلیت کو بڑھانے کے لیئے سی پیک منصوبے اور ملک میں امن وامان قائم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔
حرمین شریفین عربوں کی ملکیت نہیں اور ہمارا رشتہ عربوں سے نہیں بلکہ حرمین شریفین سے ہے جسکی حفاظت کا ذمہ ہم پر بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ عربوں پر۔ہم یہ فریضہ کسی اتحاد کا حصہ بنے بغیر بھی ادا کرہے تھے اور ان شاءﷲ آگے بھی کرسکتے ہیں۔اب ملکوں کی سرحدیں اور انکے نظریات سے منسلک ملکی مفادات زیادہ اہم ہیں تو پاکستان کو بھی زمانے کے اس روا چلن کا حصہ بننا ہوگا محفوظ اور عظیم تر پاکستان کے قیام اور استحکام کے لیئے۔اب یہی کلیہ اپنانا ہوگا پاکستان کوبھی دنیا میں اپنا مقام بنانے کے لیئے کہ ریاست و سیاست اول اور محبت و دوستی ثانی۔مطلب صاف ہے کہ سب سے پہلے پاکستان۔پاکستان زندہ آباد, پاکستان پائندہ آباد۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *