میڈیا گردی!

کہتے ہیں کہ ایک تصویر ایک ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے، اب اگر حقیقت کی تصویر کشی ہو تو ہزار سچ اور اگر جھوٹی تصویر ہو تو کئی ہزار جھوٹ کی عکاس ہو گی. اس کا برائے راست ذمہ دار منظر کشی کرنے والا ہے کیونکہ وہ ہر طرح کی آمیزش پر قادر ہے. آج کل کے ڈیجیٹل دور میں جہاں سہولیات کی فراوانی نے حقائق تک رسائی جتنی آسان کی ہے اس سے کہیں زیادہ مشکل تر بنا دیا ہے.

صحافت جو فی زمانہ ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی منظر کشی کرتی ہے اور اسے ذمہ داری سے دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے، کہنے کو تو ایک مقدس و معزز پیشہ ہے اور ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی اگر اس کی حساسیت اور زمہ داری کو سمجھا جائے. عالمی صحافت تو ایک دجالی قوت کا روپ دھار چکی ہے جہاں یومیہ دجل و فریب کی نئی تاریخ رقم ہوتی ہے. اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے، اور انتہائی معذرت کے ساتھ انہیں یہ مواقع ہم خود ہی فراہم کرتے ہیں. انہیں ملامت کرنا تو مجبوری ہے ورنہ قصوروار ہم ہی ہیں. دشمنی کرنا دشمن کا حق ہے لیکن اس کے وار سے بچنا ہمارا فرض ہے! بہر کیف غیروں سے کیا گلا، ہمیں اپنوں سے شکایت ہے، پہلے دور کر لی جائے!

اس وقت جیسے جیسے معاشرے میں مٹیریلزم بڑھتا جا رہا ہے اور تقریبا ًچیز کمرشلائز ہوتی جا رہی ہے ایسے حالات میں کسی سے فرض شناسی اور احساس ذمہ داری کی توقع رکھنا قدرے بے معنی سی بات لگتی ہے. اسی عدم فرض شناسی، احساس ذمہ داری اور ریٹنگ کی نہ مٹنے والی بھوک کا شکار ملکی میڈیا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے تمام حدیں پار کر دیتا ہے. صحافت آزاد ہونی چاہئے لیکن مادر پدر آزادی قطعا ًنہیں ہونی چاہیے. اس سے کوئی انکار نہیں کہ اس وقت بھی ہمارے میڈیا ہاوسز میں ایسے صحافی ہیں جو اپنے صحافتی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ریٹنگ کے لیے کچھ بھی کر لیتے ہیں. سچائی و ایمانداری کی قیمت لگتی ہے، یہاں ضمیر بکتے ہیں. ریٹنگ، سنسنی، سب سے پہلے اور نمبر ون کا عفریت ہر وقت ہر کسی پر سوار رہتا ہے.

ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ایڈورٹائزنگ کی مد میں کروڑوں روپے وصول کیے جاتے ہیں اور پھر کمرشل اشتہارات میں تمام تر اخلاقیات کو پامال کیا جاتا ہے. ریفریجریٹر سے لے کر جوتوں، حتیٰ کہ سیل فون کی بیٹری تک ماڈل گرلز کو نچا نچا کر بیچا جاتا ہے اور اسے جز لاینفک بنا کر معاشرے کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔جیسے اخلاقیات کے دائرے میں تشہیر ممکن ہی ہے نہیں. اشتہارات کا تھوڑا سا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو نوے فیصد جھوٹ یا مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتے ہیں، یہ ایک الگ بحث ہے.
خبروں میں جس قدر ممکن ہو سنسنی لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے لیے سچ میں جھوٹ کی آمیزش، مبالغہ آرائی یا پھر مالی فائدے کے لیے جھوٹ اتنی بار بولا جاتا ہے کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے. دوسرے ممالک میں ایک جھوٹ ثابت ہونے پر سو سالہ قدیم نیوز پیپر بند ہو جاتا ہے اور ہمارے ہاں جھوٹ پر جھوٹ بول کر بھی نمبر ون ہی رہتے ہیں. چھوٹی موٹی وارداتوں کی خبریں ایسے چلائی جاتی ہیں گویا پورا ملک حالت جنگ میں ہے، نیوز بولیٹن خبروں کی بجائے کرائم پیٹرول یا سی آئی ڈی کی قسط لگتی ہے.
اپنی ثقافت، قومی و مذہبی اقدار اور اخلاقیات غیر ملکی کلچر بالخصوص مغربی اور انڈین کلچرکومعاشرے میں ترویج دی جا رہی ہے. فیشن کے نام پر بے حیائی کا بازار گرم ہے، فیشن صرف تن آزادی میں کیوں مقید ہو کر رہ گیا! رہی سہی کسر فلموں اور ڈراموں نے پوری کر دی ہے. ہمارے معاشرتی اقدار کے تابوت میں گھڑی یہ کیلیں کسی اور کی نہیں اپنوں ہی کی کارستانی ہے.پورے میڈیا ہاوسز کا جائزہ لیجئے تو آپ کو کوئی علمی پروگرام، بچوں کے لیے گیم کوئز یا دماغی جانچ کا شو، کوئی سائنس و ٹیکنالوجی پر مشتمل پروگرام یا کوئی جیوگرافیہ چینل کوئی کچھ نہیں بس اپنے بزنس کے لیے ذہنی و فکری تخریب کاری میں سرگرم عمل ہے اور میڈیا گردی کا بازار گرم ہے.
یہ چند اور چیدہ چیدہ کارنامے ہیں جو ہمارا میڈیا انجام دے رہا ہے، اگر غور کیا جائے تو ملک میں پھیلی افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کا میڈیا بھی ذمہ دار ہے. میڈیا ریاست کا تیسرا بڑا ادارہ بلکہ ایسا ہے کہ بذات خود ایک ریاست بن گیا ہے. یہ محتسب بھی ہے، اچھا حلیف بھی اور بہت برا حریف بھی، عدالت بھی، کارخانہ صدق و کذب بھی. میڈیا کی قوت کا اندازہ ہر خاص و عام کو ہو گا لیکن یہ قوت اس وقت کارگر ہے جب یہ ملک و قوم کے لیے تعمیری اور مثبت کردار ادا کرے. ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی مفاد کا خون نہ کیا جائے اور عوام کی فکری اور اخلاقی تربیت کا فریضہ مثبت طریقے سے انجام دیا جائے. اپنے اقدار و اخلاقیات اور حدود پر ہروقت مد نظر رہنی چاہیں. مجرموں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلانا اور خبر کے نشر ہونے سےحشر ہونے تک خبر کا پیچھا کیا جائے. علمی اور ذہنی تفریح پر مشتمل پروگرام، خصوصاً بچوں کے لیے معلوماتی اور مثبت تفریحی پروگرام نشر کیے جائیں.
مختصر یہ کہ میڈیا جس قدر مثبت کردار سوسائٹی کے لیے ادا کر سکتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے اپنی ذمہ داری اور تقاضا حال کو مد نظر رکھ کر اپنی ترجیحات پر غور کرنا چاہیے اور ان میں مثبت تبدیلیاں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تا کہ میڈیا گردی کی روک تھام ہو۔

عبدالقدوس قاضی
عبدالقدوس قاضی
ایک طالب علم، ایک داعی الی الخیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *