بھارت، انتہا پسند ہندو پھر بے لگام

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی دہلی کے کھڑکی گاؤں میں واقع دورسلاطین کی تاریخی ’’کھڑکی مسجد‘‘ کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی گارڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل یہاں آویزاں بورڈ سے لفظ ’’مسجد‘‘ کو ہٹا دیا گیا تھا جس کی اطلاع حکام کو دینے کے بعد دوبارہ ’’مسجد‘‘ کا لفظ تحریرکیا گیا-

تاہم دوسرے دن پھراس لفظ کو مٹا دیا گیا، گارڈ نے بتایا کہ بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد نہیں بلکہ مہاراج پرتاپ کا تعمیر کردہ قلعہ ہے۔ اے ایس آئی دہلی زون کے انچارج نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے لفظ مسجد سے چھیڑ چھاڑ کسی شرپسند کا کام ہے۔’’کھڑکی مسجد‘‘ مشہور ساکیت مال کے قریب واقع ہے۔ اسے 14ویں صدی میں سلطان فیروز شاہ تغلق کے وزیر اعظم ملک مقبول نے تعمیر کرایا تھا۔
  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply