رک جاؤ میرے ہم وطنو! ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہے

ٓآج اگر ہم اپنے دکھوں پر چیخ و پکار کریں تو شاید لوگ ہم پر ہنس پڑیں کیونکہ یہ تو وہ اندوہناک آوازیں ہیں جو ہر گھر سے، ہمارے اڑوس پڑوس سے، گلی کوچوں سے اٹھ رہی ہیں ۔ شاید ہی کوئی سینہ ایسا ہو جو غم کی تپش سے آزاد ہو، یا کوئی دل ایسا ہو جس کا اردگرد کا ماحول اور پریشانیاں احاطہ نہ کئے ہوں ۔ وہ جو جاہ و جلال کے نشے میں دھت اپنی مستیوں اور خود فریبیوں کا شکار ہیں، وہ اپنے تئیں زندگی کی تمام عشرتوں کو لوٹ رہے ہیں، وہ سب سے زیادہ بے سکون ہیں۔ گرد و پیش کا ماحول، باد مخالف کے تھپیڑے، دل و دماغ میں چبھنے والی ناخوشگوار نعرے بازیاں، سیاسی طاقتوں کی کاری ضربیں۔ ناجائز ہتھکنڈوں کی راہ میں محب وطن لوگوں کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹیں، اپنی کرسی کی طرف بڑھتے ہوئے ظالم ہاتھ اور سیاسی پالیسیاں ،حکمرانوں کے عیش و عشرت میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔ وہ اپنی کرسی کو مضبوط کرنے کے لئے دن، رات ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں ان کی ظالمانہ روش کو آشکارہ کرتی ہیں۔ ان کے دامن میں کوئی نہ کوئی دھبہ لگا کر انہیں عدالت میں گھسیٹنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر وہ باعزت بری ہونے میں اپنی مثال آپ ہیں۔
جہاں اتنے جھنجھٹ ہوں، وہاں عوام کی سرد ردی کی کہاں گنجائش ہوگی۔ وہ کیا جانیں ملک کے اندر کیا ہو رہا ہے؛ ظلم و تشدد اپنے عروج پر ہیں، جو ہماری اخلاقی قدروں اور اچھی روایات کو بھسم کئے دے رہی ہیں۔ لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔ وہ مال جس کو آنے والے کئی نسلیں مل کر بھی دنیا سے نہیں لے جا سکتیں، زیر عتاب بنا ہوا ہے۔ ظالموں نے مظلوموں کی گردنوں پر اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں۔ مشعال قتل ہوتے جارہے ہیں اور ان کے کیس کچرے کے ڈھیر میں قانون کی زد سے دور جا رہے ہیں۔ بے گناہوں کو لقمہ اجل بنایا جا رہا ہے۔ تڑپتی، چیختی انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ سکون کی آواز دہلیز سے باہر جائے تو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مظلوم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ زیادتی کا شکار بے چارہ جیل میں سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے اور مجرم باہر دندناتا پھرتا ہے۔
ایک ایسا ہی کردار یاسمین کا ہے، جو ایک کالج میں فور کلاس ملازمہ ہے۔ اس کے تین یتیم بچے ہیں، جنہیں اس نے اپنی قلیل تنخواہ میں بڑی محنت سے پالا پوسا ہے۔ بڑی بیٹی کی شادی کرنے جا رہی تھی کہ بدنصیبی ناگ کی طرح منہ کھولے کھڑی ہوگئی۔ بیٹا جو بی بی اے میں پڑھتا تھا، اس کی منگنی بھی تھی، وہ دکان پر مہمانوں کی ضیافت کے لئے کچھ سودا لینے گیا۔ وہاں کچھ اور لڑکے کھڑے بحث مباحثہ کر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ بحث جنگ کی صورت اختیار کر گئی اور آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ تیل والی کڑاہی نیچے گری اور ایک لڑکے پر تھوڑا سا گرم گرم تیل گر گیا ۔ بس پھر کیا تھا، قیامت برپا ہوگئی۔ پولیس آئی اور سب کو گرفتار کر کے لے گئی۔ ہر باپ اپنی شفقت پدری کے ساتھ کسی نہ کسی سفارشی کو لے کر آیا اور اپنے اپنے بیٹے کی ضمانت کروا کر گھر لے گیا۔ اللہ نے کرم کیا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ مدعی چند دنوں بعد ٹھیک ہو گیا، پھر بھی اس کیس کا سارا ملبہ یاسمین کے بے سہارا، بے گناہ بیٹے پر جو اکیلا رہ گیا تھا، جیل میں ڈال دیا گیا۔ یاسمین کو بیٹے سے ملنے اورجیل میں کھانا پہنچانے سے منع کر دیا گیا۔ آخر کار اس نے پولیس کو ستر ہزار (70,000) رشوت دے کر بیٹے سے ملنے اور کھانا پہنچانے کی اجازت طلب کی ۔ مدعی کے چچا نے یاسمین سے چار لاکھ کا مطالبہ کیا۔ بے چاری عورت نے بیٹی کا جہیز، جو سالوں میں اکٹھا کیا تھا، اونے پونے بیچا۔ چار پانچ تولا سونا، جو اپنی شادی کا سنبھال رکھا تھا، وہ بیجا۔ کچھ ادھار لے کر چار مہینوں میں چار لاکھ روپیہ پورا کر کے دے دیا۔ اس کے بعد تاریخ آئی تو مدعی کے چچا نے کہا کہ اُس نے اُس لڑکے کو اللہ کے واسطے معاف کر دیا ہے۔ مدعی اپنے چچا اور دوستوں سمیت آج بھی اپنے کرتوتوں میں مصروف ہیں۔ ان میں سے کسی کو خراش تک نہیں آئی اور ایک بے گناہ کے خاندان کو برباد کر دیا گیا۔ یاسمین کی بیٹی کی شادی کھٹائی میں پڑ گئی، گھر کا صفایا ہو گیااور بیٹے کو کالج سے نکال دیا گیا۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، ایسے ہزاروں واقعات ہیں جو ظلم، سنگدلی، قانون کی ناانصافی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں، جن کی بنیاد انسانیت سے عاری، بہیمانہ حکمت عملی پر رکھی جاتی ہے۔ کیس جب عدالت میں جاتا ہے تو چپڑاسی سے لے کر قانون دان تک سب بک جاتے ہیں۔ اپنی اپنی بساط کے مطابق سب اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں۔ گواہوں اور شہادتوں کی موجودگی میں حقائق ثابت ہو جانے کے باوجود فیصلہ بڑی دیدہ دلیری سے مجرموں کے حق میں کر دیا جاتا ہے۔ آخر ہم انصاف کے لئے کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ بے حس اور سفاک لوگوں سے نمٹنے کے لئے کس سے مدد طلب کریں؟ ہماری عدالتیں کیا کر رہی ہیں؟ انسانیت کہاں سو گئی ہے؟ مظلوم کے پیٹ میں چھرا گھونپنے والا بھی ظالم ۔ کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والا بھی ظالم۔ ساتھ دینے والا بھی ظالم اور غلط فیصلے کرنے والا بھی ظالم۔
اس ساری غلاظت کے پیچھے کیا ہے؟ زر اور صرف زر۔ کیا زر میں اتنی طاقت ہے کہ ضمیر مردہ ہو جائیں۔ انسانیت دم توڑ جائے ۔ خون سفید ہو جائیں۔ خدا کا وجود نظر نہ آئے۔ ایمان کی طاقت سلب ہو جائے۔ پیار، محبت، دینی اور انسانی رشتے کچل کر رکھ دیئے جائیں۔ ہوس کا بھوت انسانی قدروں کو ملیا میٹ کر دے۔ ایک ناگ ہے جو ہمارے اندر پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ وہ ایک دن باہر نکل کر ہمارے سامنے کھڑا ہو جائے گا۔ اس وقت ہمارا اور تمہارا، کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ رک جاؤ اے میرے ہم وطنو! تمام مسلمانو! ہمیں ایک دن خدائے واحد کے سامنے کھڑے ہونا ہے اور اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

Avatar
نسرین چیمہ
سوچیں بہت ہیں مگر قلم سے آشتی اتنی بھی نہیں، میں کیا ہوں کیا پہچان ہے میری، آگہی اتنی بھی نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *