باپ- بچوں کا آسمان

باپ اور اس کے بچے کے درمیان کا رشتہ بھی عجیب ہوتا ہے، جو صرف احساسات پر مبنی ہوتا ہے۔ جس کو آپ محسوس کر سکتے ہو، مگرکبھی بھی اس کی محبت میں الفاظ آپ کو نہیں ملیں گے۔ ماں تو اپنے بچے کو سینے سے لگا گر پیار کرتی ہے اور لفظ بول کر اپنی محبت کا اظہار کر دیتی ہے۔ مگر باپ تو یہ اظہار بھی نہیں کر پاتا۔ باپ جس کے خود کا جوتا تو موچی کا محتاج، مگر بچے کے اسکول کا یونیفارم تک ایک دم ارفع۔ کسی نے سچ کہا کہ خواب اور عیاشی تو صرف باپ کے پیسوں سے پوری ہوتی ہے، اپنی کمائ سے تو صرف گزارہ ہی ہوتا ہے۔

ماں کے لیے تو سب نے لکھا، مگر آج تک باپ، جس نے اپنی اولاد کے لیے سب کچھ کیا، اس کے لیے کیا کسی نے کچھ لکھا؟ کچھ کہا؟ کبھی جذبات کا اظہار کیا؟

آہیے آج اپنے اپنے والد کو یاد کرتے ہیں، پیار کرتے ہیں اور ان کو کہہ دیتے ہیں کہ آئ لو یو۔

سب کے والد، ڈیڈی، ابو، پِتا اور بابا کے نام

بابا روٹی ہے، کپڑا ہے، مکان ہے۔

بابا ننھے سے پرندے کا بڑا آسمان ہے

بابا ہے تو گھر میں سکھ اور آرام ہے

بابا سے ماں کی چوڑیاں اور اسکا سہاگ ہے

بابا ہے تو روشن ہے آشیانہ

بابا ہے تو سکون میں ہے آستانہ

بابا ہے تو لُٹنے کا ڈر نہیں

بابا ہے تو کسی رہنما کی ضرورت نہیں

بابا میرا مزہب، میری نماز، میرا حج ہے

بابا کی یاد میرے دل کی مسجد کی آزان ہے

بابا ہے تو دوست کی ضرورت نہیں

بابا ہے تو عبادت کی ضرورت نہیں

بابا میری آواز، میرا مان

بابا میری خوشی، میری جان

بابا ہے تو زندگی کا سفر آسان

بابا ہے تو دنیا کی ہر چھت اپنی

بابا ہے خوش، تو آخرت بھی اپنی

بابا کی زندگانی کی دعا، اپنے آنسوؤں سے وضو کر کے کرتا ہوں
Br>

کیونکہ

بابا ہے تو بچوں کے سارے سپنے ہیں

بابا ہے تو بازار کے سب کھلونے اپنے ہیں

یہ مضمون ایک انڈین پروگرام، عبدالحلیم صاحب کے ایک مضمون، محبوب صاحب کی ایک پوسٹ اور کچھ اسلامی روایات سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *