لالہ ہم بھی تمھارے دکھ میں برابر کے شریک ہیں

25 دسمبر 2016 یہ وہ تاریخ ہے جس دن پہلی بار فیس بک پر کسی تصویر کو دیکھ کر میرے دماغ نے کسی شخص کے متعلق بہت سے خیالات جنم دئیے،۔یوں تو 25 دسمبر پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے عیسائی مذہب کے ماننے والوں کے لئے اہم دن ہوتا ہے، اس دن دنیا بھر کہ تمام عیسائی اپنی عید کی خوشیاں مناتے ہیں اور پاکستانی قوم اپنے بابائے قوم کا جنم دن، لیکن اس روز بابائے قوم کے جنم دن کے سوا میرے لئے ایک اور اہم دن تھا. وہ تھا مکالمہ کی تقریب، جب انعام رانا دوسری بار کراچی اور پہلی کراچی والوں کے لئے آئے۔ اس روز انعام رانا کے کراچی آمد پر عارف خٹک بھائی نے انعام رانا کا پرجوش استقبال کیا اور اپنی محبت کا اظہار بھی انوکھے انداز میں کرتے نظر آئے۔
مکالمہ کی تقریب سے چند گھنٹے قبل انعام رانا نے عارف خٹک بھائی کے ساتھ لی گئی ایک تصویر اپنے پروفائل پر اپلوڈ کی جسے دیکھ کر نا صرف ان کی محبت کا اندازہ ہوا بلکہ تصویر کو دیکھتے ہی ایک احساس بھی جنم لینے لگا اور اس تصویر نے عارف خٹک بھائی کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا… کہ! عارف خٹک بھائی ایک خوش مزاج، خوش اخلاق اور خوش خیال شخصیت ہیں۔ اس تصویر کو دیکھتے ہی دماغ کے ساتھ دل نے بھی مکالمہ کے تقریب میں شرکت پر نا صرف زور دیا بلکہ وہاں جانے پر مجبور بھی کیا کہ ایسے شخصیت لوگوں کے تقریب میں ضرور شرکت کی جائے. اس تقریب سے پہلے میں عارف بھائی کو نا جانتا تھا اور نا ہی فیس بک پر ہماری کبھی ملاقات ہوئی. یہ مکالمہ تھا جس نے بہت سے لوگوں کو آپس میں جوڑا اور مکالمہ ہی ہمارے آپس کے مکالمہ کا سبب اور حصہ بنا.
گذشتہ روز پہلی بار عارف خٹک بھائی نے فیس بک پر میرے کسی پوسٹ پر کمنٹ کیا اور پھر یوں ہم نے پہلی بار آپس میں مکالمہ کیا جس پر میرے ذہن میں وہ تصویر ایک بار پھر فلم کی طرح چلنے لگی اور یوں میرے ان سوالوں کا جواب مجھے مل گیا جو اس روز میرے دماغ نے جنم دیئے تھے…
ہماری پہلی ملاقات 25 دسمبر 2016 کو ہوئی جس روز میں نے عارف خٹک بھائی کو ہنستے مسکراتے دیکھا اور سوچتا رہا کہ یہ شخص کبھی اداس ہوسکتا ہے نہ مایوس کبھی رو سکتا ہے نہ کبھی ٹوٹ سکتا ہے… لیکن آج 25 مئی 2017 ان کے بھائی کی زندگی اور خاندان میں ایک بہت بڑا سانحہ ہوا جس نے نا صرف ایسے حوصلہ بلند انسان کو توڑا بلکہ ان مسکراتی آنکھوں سے آنسو نکل آئے…
اب اللہ سے میری یہی دعا اور التجا ہے وہ عارف لالہ کے بھائی اور ان کے خاندان والوں کو صبر عطا کرے اور ایساسانحہ حادثہ کبھی کسی خاندان میں نہ ہو. آمین
عارف بھائی آپ کے اس دکھ کے گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ عملی شریک تو نہیں لیکن ہماری دعائیں آپ کے اور آپ کے بھائی کے ساتھ ہیں.
اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے…آمین

شاہد شاہ
شاہد شاہ
سو لفظی کہانیاں اور مکالمہ لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *