ملک کی سب سے بڑی پنچائت اور امیدواران ۔۔۔ مدثر سلیم

اگر کسی ادارے میں کوئی ڈرائیور بھی رکھنا ہو تو پہلے اس کا تحریری امتحانلیتے ہیں، پھر طبعی امتحان لیا جاتا ہے، پھر ڈرائیونگ ٹیسٹ، انٹرویو اور آخر میں جا کر میرٹ بنایا جاتا ہے۔ 

لیکن ذرا ٹھہریئے، کیونکہ یہ سب کچھ صرف اور صرف عوام کے لیے ہے۔ سارے ٹیسٹ، سارے انٹرویو، صرف عوام کے لیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جب بھی کسی نوکری کا اشتہار آتا ہے تو لکھا ہوتا ہے کوالیفیکیشن کم از کم ماسٹرز۔ ساتھ یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ ایم فل، پی ایچ ڈی والوں کو ترجیح دی جائے گی۔ عمر کے خانے میں لکھا ہوتا ہے 20 تا 28 سال اور تجربہ5 سے 7 یا بعض اوقات 10 سال۔ اس سب کے ساتھ آپ کا میڈیکلی فِٹ ہونا بھی انتہائی ضروری ہوتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کی، سب شرائط صرف عوام کے لیے ہیں۔ 

اب آتے ہیں جی دوسری طرف یعنی کہ سب سے بڑے ادارے پارلیمان میں بھرتیوں کی طرف۔ 

ضرورت برائے، ایم پی اے، ایم این اے، وفاقی وزیر، صوبائی وزیر، وزیر اعظم، وزیر اعلٰی، سینیٹر، گورنر اور صدر وغیرہ وغیرہ۔ تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں تو سب چلتا ہے، چاہے انگوٹھا چھاپ ہو یا جعلی ڈگری والا۔ سب چلے گا۔ چوری چکاری، ڈاکہ زنی، کرپشن، لوٹ مار، قتل و غارت اور کمیشن خوری میں وسیع تجربہ رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔ میڈیکلی صرف نبض کا چلنا ضروری ہے باقی دمہ، کینسر، بلڈ پریشر چاہے جو بھی بیماری ہو، خیر ہے، بس نبض چل رہی ہو تو آپ گورنر، صدر سب کچھ بن سکتے ہیں۔ 

لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ ان انگوٹھا چھاپ لوگوں کو ہم خود اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں اور پھر یہی انگوٹھا چھاپ وزیر، مشیر وزیراعظم بنتے ہیں۔ پھر یہی انگوٹھا چھاپ جنہیں قانون کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا، پارلیمان میں جا کر قانون سازی کرتے ہیں۔ قانون سازی کرتے ہوئے بھی وہ صرف اپنے مفاد کو ہی مدِ نظر رکھتے ہیں نہ کہ عوام کے فائدے کو۔ اس کی ایک تازہ مثال ابھی الیکشن 2018 کے لیئے کاغذاتِ نامزدگی میں کی جانے والی ترمیم ہے۔ اس ترمیم کے مطابق اب سب چور اچکے، جھوٹے، ڈاکو، قاتل، ٹیکس نادہندہ اسمبلی میں جا کر قانون سازی کر سکتے ہیں۔ 

جب ایک چھوٹی سے چھوٹی نوکری کے لیئے بھی ایک عام آدمی کا تعلیم یافتہ ہونا اور باقاعدہ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے تو پھر ان لوگوں کے لیئے ایسا کیوں نہیں؟ میرے مطابق ایم پی اے کے لیئے کم از کم تعلیم بی اے یا بی ایس سی ہونی چاہیئے اور صوبے کے وزیراعلٰی کے لیئے ایم اے یا ایم ایس سی جبکہ گورنر کے لیئے تعلیم ایم فل ہونی چاہیئے۔ ایم این اے اور سینیٹر کے لیئے کم از کم ایم اے یا ایم ایس سی تعلیم ہونی چاہیئے جبکہ وزیرِ اعظم اور صدر کے لیئے پی ایچ ڈی لازمی ہونی چاہیئے۔ کیا 22 کروڑ کی آبادی میں 2 پی ایچ ڈی بندے نہیں مل سکتے جو حکومت چلا سکیں؟

صوبائی اور وفاقی وزرا، متعلقہ محکمے کے مطابق تعلیم یافتہ ہونے چاہیئے، مثلاً وزیر صحت ایک ڈاکٹر ہونا جو کہ اپنے محکمے کو اچھی طرح سمجھ سکے۔ اسی طرح وزیر قانون ایک ماہر قانون ہونا چاہیئے۔ اسی طریقہ کار کے تحت باقی تمام محکموں کے وزرا بھی نامزد ہونے چاہئیں۔ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے سے پہلے الیکشن کمیشن ان کا باقاعدہ ٹیسٹ لیا کرے اور جو ٹیسٹ میں پاس ہو صرف وہی الیکشن لڑنے کا اہل ہو۔  جو فیل ہو وہ گھر جائے۔ 

جب ایسے پڑھے لکھے لوگ اسمبلیوں میں جائیں گے صرف تب ہی وہ لوگوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو سمجھ کر ان کے مطابق قانون سازی کر پائیں گے۔ دوسری جانب جب اسمبلی میں ہی انگوٹھا چھاپ جائیں گے تو پھر وہ قانون سازی بھی اپنی طرح کی ہی کریں گے۔ 

شاید ہمارا سسٹم ہی ایسا ہے کہ جس میں ایک پی ایچ ڈی بندہ ایک انگوٹھا چھاپ کو ووٹ دے کر قانون سازی کرنے کے لیئے اپنے اوپر مسلط کرتا ہے. جب تک ہم عوام ہی اس بوسیدہ سسٹم کو بدلنے کے لیئے آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک انگوٹھا چھاپ ہی ہماری جگہ قانون سازی کرتے رہیں گے.

Muddassir Saleem Mian
Muddassir Saleem Mian
مدثر سلیم میاں۔ مختلف قومی اخبارات اور مکالمہ کے لئے کالم نگاری کرتے ہیں نیز ڈیجیٹل جرنلزم کے ریسرچ فیلو ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *