ڈونلڈ ٹرمپ، مشرق وسطٰی کا حالیہ دورہ اور فلسطین

SHOPPING
SHOPPING

ڈونلڈ ٹرمپ، مشرق وسطٰی کا حالیہ دورہ اور فلسطین
ثاقب اکبر
ریاض میں اپنی دو روزہ مصروفیات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچے۔ یہ جدید تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ امریکی راہنما سعودی عرب سے براہ راست اسرائیل گئے، جو اس امر کا اظہار ہے کہ اب سعودی عرب کو کھلے بندوں اس امر پر کوئی اعتراض نہیں کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کیسے اور کس سطح کے تعلقات رکھتا ہے۔ یہ بات نہایت اہم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان دنوں میں سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ کیا، جب صہیونی ریاست کے قیام کو 69 برس پورے ہوئے اور ان دنوں اسرائیل میں اس ریاست کی سالگرہ منائی جا رہی تھی۔ 1947ء اور 1948ء میں جب فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالا گیا اور اسرائیل نام کی ایک نئی ریاست سرزمین فلسطین پر مسلط کی گئی تو اس وقت 24 لاکھ فلسطینی اس سرزمین پر بستے تھے اور ان کی چھوٹی بڑی بستیوں کی تعداد 1300 کے قریب تھی۔ اسرائیل کے قیام کے لئے انہیں بزور طاقت گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 15 مئی 1948ء کو شمالی فلسطین کی 774 بستیوں اور دیہاتوں پر غاصب صہیونیوں نے برطانیہ کے ایماء پر قبضہ کر لیا۔ 531 شہروں اور قصبوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ اس دوران میں 70 مرتبہ فلسطینیوں کا اجتماعی قتل کیا گیا اور اس زمانے میں تقریباً 15000 فلسطینی لقمہ اجل بن گئے۔

1948ء سے آج تک فلسطین کے اندر اور باہر فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد مہاجر کیمپوں میں یا ہجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس وقت ان مہاجرین کی تعداد ایک کروڑ چوبیس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے 28.7 فیصد فلسطینی اردن کے 58 کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ شام میں فلسطینیوں کے 9 کیمپ ہیں۔ لبنان میں 12 فلسطینی کیمپ ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 اور غزہ کی پٹی میں 8 پناہ گزین کیمپ موجود ہیں۔ ایسے میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچے تو انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ایسی بات کہہ دی، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکی موقف سے مختلف تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لئے ’’دو ریاستی حل‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یک ریاستی حل‘‘ پر بھی غور کرنے کے لئے تیار ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مبصرین امریکی صدر کے اس بیان کو واشنگٹن کی عشروں پرانی پالیسی سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔ خود فلسطین کی جانب سے بھی اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور فلسطینیوں نے کہا ہے کہ شاید امریکہ ان کی ریاست کے قیام میں حمایت سے دستبردار ہو رہا ہے۔ بی بی سی نے مزید لکھا ہے کہ دو ریاستی حل مشرق وسطٰی میں امن کا وہ ممکنہ فریم ورک ہے، جس پر عرب لیگ، یورپی یونین، روس اور اوباما دور تک امریکہ سمیت دنیا بھر کے بیشتر رہنما اتفاق کرتے رہے ہیں۔ اس فریم ورک کے تحت 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی اسرائیلی حدود کے مطابق غرب اردن، غزہ پٹی اور مشرقی یروشلم میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں میں اس فریم ورک کی تائید کی گئی ہے۔

اگرچہ یورپی یونین اور امریکہ کا دو ریاستی نظریہ بھی ایک فریب اور منافقت کے سوا کچھ نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نظریئے کو ماننے والے فلسطینیوں کو آج تک کچھ نہیں مل سکا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک معمولی سا پردہ جو چہروں پر پڑا تھا، وہ بھی چاک کر دیا۔ وہ گویا یہ کہہ رہے تھے کہ فلسطین نام کی کسی ریاست کی ضرورت نہیں۔ اب جسے اس علاقے میں رہنا ہے، اسے اسرائیل ہی میں بسنا ہے۔ اسرائیل کے علاوہ اس خطے میں کوئی اور ریاست نہیں ہوگی۔ یہ وہی بات ہے کہ جو صہیونیوں اور قابض ریاست کے ذمہ داروں کے دل کی آواز ہے۔ چنانچہ اسرئیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1967ء کے بعد بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے، جیسے کہ پانچ لاکھ یہودی مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں دو سو بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔

ریاض میں ہونے والے جس اجلاس کو عرب اسلامک امریکن سربراہی کانفرنس کا نام دیا گیا تھا، اس میں معروف صحافی سلیم صافی کے مطابق داعش اور القاعدہ کی صف میں جہاں ایک طرف حزب اللہ کو کھڑا کر دیا گیا ہے، وہاں دوسری طرف حماس کو اسی پلڑے میں ڈال دیا گیا ہے۔ سلیم صافی نے اپنے ایک کالم میں یہ بھی لکھا ہے ’’پہلے خطے میں صرف فلسطین کا بحران تھا، تمام عالم عرب اور ایران اپنے اپنے طریقے سے اسرائیل کے خلاف متحرک تھے، لیکن اب فلسطین سے زیادہ شام اور یمن علاقائی اور عالمی افق پر چھا گئے ہیں۔‘‘ یہ بات نہایت اہم ہے کہ جہاں ایک طرف فلسطین کے صدر محمود عباس جو امریکہ اور اسرائیل کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں، بیت اللحم میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال کر رہے تھے تو دوسری طرف فلسطینی غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں امریکی صدر کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ ان کے یہ مظاہرے اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ محمود عباس فلسطینیوں کے جذبات کے نمائندے نہیں ہیں۔

دوسری طرف اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے بھی اپنے آپ کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف ردعمل جاری کیا ہے۔ اس ردعمل میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے حماس پر دہشت گردی کا الزام کوئی نئی بات نہیں، مگر جب فلسطینی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا صاف مطلب فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے لئے جاری مزاحمت کو جرم قرار دینے کی مذموم کوشش کرنا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر دہشت گردی کا الزام اس عرب ملک کی سرزمین پر عائد کیا، جو فلسطینیوں کے جائز اور مسلمہ حقوق بالخصوص حق خود ارادیت کا پرزور حامی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت میں پچپن مسلمان اور عرب ریاستوں کے سربراہان کے سامنے فلسطینی قوم کی تحریک آزادی کا مذاق اڑایا۔ حماس کو القاعدہ اور داعش جیسے گروپوں کی صف میں شامل کرکے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک جہاں داعش اور القاعدہ کے خلاف سرگرم عمل رہیں گے، وہیں ان کا ٹارگٹ حماس بھی ہوگی، حالانکہ حماس صرف اور صرف فلسطین کی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔

SHOPPING

البتہ ہمیں نہیں معلوم کہ سعودی عرب کب فلسطینیوں کے جائز اور مسلمہ حقوق بالخصوص حق خود ارادیت کا پرزور حامی رہا ہے۔ زبانی جمع خرچ کی بات البتہ دوسری ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر منظور اعجاز اپنے ایک حالیہ کالم کا اختتام ان الفاظ پر کرتے ہیں۔ ’’صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے نتیجے میں مسلمانوں میں فرقہ وارانہ صف بندی میں اضافہ ہوگا۔ اگرچہ ریاض میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں اسلامی کانفرنس کی گئی، لیکن اس میں فلسطین اور کشمیر کا ذکر کم ہی آیا۔ البتہ علاقے میں آمریتوں کی بنیادیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ کسی ملک کی بھی طرز حکمرانی کے بارے میں کوئی لیکچر نہیں دے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ آمروں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں خاموش رہے گا۔ مشرق وسطٰی کے حکمران امریکہ سے اسی طرح کے رویے کی تمنا کرتے ہیں۔‘‘

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *