فرد واحد کا بیانیہ

فرد واحد یا گروہ ریاست کو شکست دے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ بیانیہ ہے جو نا صرف یورپ اور امریکہ نے دیا ساتھ میں اسے افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد  عملی طور پر ثابت کر کے بھی دکھایا کہ یہ کام کرتا ہے.فرد واحد کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی وہ ریاست سے ٹکرا کے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے.افغانستان میں جہاد کے نام پر چھوٹے چھوٹے گروپس تشکیل دیے،ان کے ذہن میں یہ بیانیہ بٹھایا اور پھر ان کو اس درجہ سپورٹ کیا کہ انہوں نے اس دور کی سپر پاور کی شکست و ریخت میں اہم کردار ادا کیا.کامیابی حاصل کےنے کے بعد یہ اسکول آف تھاٹ مزید شیر ہو گیا.انہوں نے انہیں ہی آنکھیں دکھانا شروع کر دی جو ان کے گاڈ فادرز تھے….
عرب اسپرنگ کی بنیاد بھی یہی بیانیہ بنا.تیونس اور مصر میں ریاست کو چیلنج کیا گیا اور پھر کامیاب بھی ہو کر دکھایا گیا.اس کے بعد لیبیا کا نمبر آتا ہے.مختلف چھوٹے گروپس کو اسی بیانیہ کے تحت فل اسپورٹ کر کے ریاست کا تختہ الٹ دیا گیا.پھر شام کی باری آتی ہے.شام میں فری سیرین آرمی سےلے کر داعش اور چھوٹے موٹے گروپس سب نے ریاست کو چیلنج کرتے ہوئے آگ و خون کی ندیاں بہا دی.یمن اور عراق کا رخ کریں یہاں بھی کچھ یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے.مختلف گروپس کو ایک ہی بیانیہ کے زیر اثر مختلف ملک اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر استعمال کر رہے ہیں.فرق صرف آئیڈیالوجی کا ہے.کہیں سنی آئیڈیالوجی کے تحفظ کی خاطر اس بیانیہ کو پروموٹ کر کے گروپس آگے لائے جا رہے ہیں تو کہیں شیعہ آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کھلا مقابلہ کیا جا رہا ہے.پاکستان میں یہی بیانیہ ضیاء دور میں ریاستی سرپرستی میں بام عروج پر پہنچا.اس وقت تو اس بیانیہ کے ثمرات سے خوب فیض یاب ہوا گیا.یہ بیانیہ تخلیق کرنے والوں کے شاید ذہن میں نہیں تھا کہ جو اسکول آف تھاٹ وہ تشکیل دے رہے ہیں وہ ایک دن ان کے خلاف ہی اٹھ کھڑا ہو گا.
 مانچسٹر حملوں میں جس حملہ آور یعنی سلمان عابدی کا مبینہ طور پر نام لیا جا رہا ہے اس کے حوالہ سے یہی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ بھی اسی بیانیہ کا حامی تھا.دوستوں کی محفل میں کھلم کھلا کہا کرتا تھا کہ فرو واحد چاہے تو ریاست کا نقشہ تبدیل کر سکتاہے،ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا  ہے.جس حساب سے یہ بیانیہ مقبولیت پا رہا ہے مستقبل میں یہ بیانیہ مزید شدت پکڑ سکتا ہے.یہ بیانیہ اپنے اندر بہت وسعت اور کشش رکھتا ہے اور وہ جو اس بیانیہ کے گاڈ فادرز ہیں وہ آج خود اس بیانیہ کا شکار نظر آ رہے ہیں.اس بیانیہ کو بلاتفریق رد اور اس کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ وہ طوفان اٹھے گا کہ اس کا راستہ روکنا نا ممکن ہو جائے گا….
چراغ سب کے بجھیں گےہوا کسی کی نہیں!

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *