مولانا مہر، مولانا مودودی اور مباحثِ حدیث

مولانا مہر، مولانا مودودی اور مباحثِ حدیث
(مولانا غلام رسول مہر برصغیر میں اردو صحافت اور تاریخ کا بڑا نام ہیں۔ آپ زمیندار اور بعد ازاں انقلاب کے ایڈیٹر رہے اور متعدد کتب تصنیف فرمائیں۔ مہر و سالک کی جوڑی کو برصغیر کی صحافتی و ادبی تاریخ میں ایک انفرادیت و بلند مقام حاصل ہے۔ زیرِ نظر مضمون مولانا مہر کا ایک غیر طبع مضمون ہے جو انھوں نے گو تصنیف کیا مگر شاید اشاعت کی غرض سے بھیجا ہی نہیں کہ نئے مباحث جنم نا لیں۔ یہ مکالمہ کا اعزاز ہے کہ مولانا کی وفات کے کئی برس بعد انکا ایک مضمون (شاید آخری غیر طبع تصنیف) مکالمہ سے شائع ہو رہی ہے۔ مکالمہ یادگارِ مہر جناب امجد سلیم علوی کا اس عنایت پر خصوصی ممنون ہے۔ مولانا کا مدیر رسالہ کے نام خط اور مضمون، دونوں پیش خدمت ہیں۔۔ ایڈیٹر)

Advertisements
merkit.pk

{خط:
۱۷ جون ۱۹۵۵،غلام رسول،مسلم ٹاؤن لاہور!
باسمہ سبحانہ
مکرمی!
میں نے بڑے تامل کے بعد چند سطریں آج لکھوائی ہیں ۔ دو تین ہفتے سے میں مضطرب تھا ۔ ان سطور کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ آپ انہیں اخبار میں چھاپیں، یا ان کا جواب دیں اور اس طرح بحث کا ایک نیا دروازہ کھلے۔ اہلِ علم کو انتہائی ضبط و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اعتراضات کی دو قسمیں ہیں: اول وہ اعتراضات جو قلتِ علم پر مبنی ہوں،ان کے جواب کے لیے ہر شخص کو تفہیمی انداز اختیار کرنا چاہیے۔ دوسرے وہ اعتراضات جو اہل بغی وضلالت کی طرف سے پیش ہوں۔ان کے بارے میں دوصورتیں ہو سکتی ہیں: اوّل اعتراض کے علمی پہلو کی توضیح،دوم شخصی نکتہ چینیاں یا استہزاء۔ علمی پہلو کی توضیح علمی رنگ میں ضرور ہونی چاہیے،استہزا کو بہر حال نظر انداز کیا جائے گا۔
ہمارا موقف بڑا ہی کٹھن اور حد درجہ پریشان کن ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر سمت سے فتنہ و فساد کے جھکڑ چل رہے ہوں اور ہمارے پاس ہدایت کا جو چراغ ہے، اس کی لو کو ان جھکڑوں سے محفوظ رکھے بغیر چارہ نہیں۔ اگر ہم خود بھی جھکڑ چلانا شروع کردیں تو ظاہر ہے ہمارا مقصد فوت ہو جائے گا۔
میں نہ آپ کی طرح پڑھا لکھا ہوں اور نہ آپ کی طرح مقامِ حدیث کی اندازہ شناسی کا شرف مجھے حاصل ہے، لیکن برسوں عوامی دائرے میں تبلیغی مقاصد کی خدمت سر انجام دیتا رہا ،اس بنا پر تھوڑا سا تجربہ حاصل ہو گیا۔ ممکن ہے وہ آپ کے نزدیک قابلِ اعتناء نہ ہو،لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ وہ تجربہ آپ تک پہنچا دوں۔اسے میری جسارت فرض کر لیجئے۔ معافی خواہ ہوں کہ باوجود قلتِ علم،اہلِ علم کے مباحث میں مداخلت کی جرات کی۔
والسلام علیکم و رحمتہ اللہ
مولانا داؤد غزنوی اور مولانا عطا اللہ کی خدمت میں سلام پہنچائیے۔ اگر مولانا اسماعیل سے ملاقات ہو تو ان کی خدمت میں بھی سلام عرض کیجیے ۔ میں ان سے ملنے کا آرزو مند ہوں، لیکن ریحی اوجاع کی وجہ سے جسم اس آرزو کے لیئے مساعد نہیں۔
نیاز مند
مہر۔}
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور مباحثِ حدیث
مکرمی!
مجھے ابتدا ہی میں کہہ دینا چاہیے کہ میں کسی درجے میں بھی علم کا دعویٰ دار نہیں۔ میری معلومات اور مطالعے کی فرومایگی کا یہ عالم ہے کہ اہلِ علم کی مجلس سے استفادے کی صلاحیت بھی بہت ہی محدود ہے۔ میری گزارشات ایک عامی کی گزارشات ہیں،آپ چاہیں تو انہیں ایک اَن پڑھ کی گزارشات سمجھ لیں،لیکن امید ہے آپ ان پر توجہ مبذول فرمائیں گے۔
میں نے وہ مضامین پڑھے ہیں جو آپ نے مباحث ِ حدیث کے سلسلے میں مولانا مودودی کے متعلق لکھے۔ آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ مجھے مولانائے موصوف کی جماعت اسلامی سے نہ کبھی کوئی علاقہ رہا ہے اور نا ان کے تمام ارشادا ت سے مجھے اتفاق کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔
مولانا نے جب واضح طور پر کہہ دیا کہ جو الفاظ مجھ سے منسوب کیے گئے وہ میں نے نہیں کہے تو پھرسمجھ میں نہ آیا کہ آپ نے اس بحث کو اس درجہ طول دینے کی ضرورت کیوں محسوس فرمائی، گویا آج آپ کے لیے اس کے علاوہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، جس پر توجہ فرمائی جائے۔
مولانا کے محولہ بالا الفاظ کا مطلب یہی تھا کہ آپ جس مقصد کے لیئے مضطرب ہیں، مولانا کو اس سے قطعاً اختلاف نہیں، اگرچہ ان کے تصور کی حیثیت وہ نہ ہو جو آپ نے اپنے دماغ میں قائم کر رکھی ہے۔ پھر کیا آپ کا مدعا یہ ہے کہ مولانا ضرور ان الفاظ کوتسلیم کریں،اور اس طرح آپ کا مقصد بوجہ احسن پورا ہو جائے؟ آخر خدمتِ حدیث کی یہ کونسی صورت ہے جو آپ نے اختیار فرما رکھی ہے؟
ذخیرہ احادیث کے متعلق مولاناے موصوف نے بالعموم جو رائے ظاہر کی، وہ تو ایسی نہیں کہ اس سے کسی کو اختلاف کی گنجائش ہو، یعنی یہ تو کوئی بھی نہیں مانتا کہ جو کچھ بطور حدیث مختلف کتابوں میں جمع ہوچکا ہے وہ سب کا سب درست ہے۔ اگر صحیح بخاری کے متعلق انہوں نے یہ کہا کہ اس کی تمام حدیثیں آنکھیں بند کرکے قبول کر لینے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حدیثوں کے متعلق تحقیق و تفتیش اور چھان بین کا دروازہ جس طرح پہلے کھلا ہوا تھا، اُسی طرح اب بھی کُھلا ہوا ہے۔ اس پر اعتراض کی کون سی وجہ ہے؟
رہا آپ کا یہ ارشاد کہ جب تک کوئی شخص علم کی وہ تمام منزلیں طے نہ کر جائے جو ان بزرگوں نے طے فرمائیں، اس وقت تک ان کے متعلق گفتگو نہیں کر سکتا تو حضراتِ علم و امرانِ فقہ بھی ہمیشہ یہی فرماتے رہے ہیں۔ یہ استدلال آپ کے نزدیک بہت وزن دار ہوگا لیکن اس کا طبعی نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ لوگ ذخیرہء حدیث کے متعلق بد ظن ہو جائیں۔
آپ یقیناً مولانا سے پوچھ سکتے ہیں کہ کوئی حدیث صحیحین یا کسی دوسری کتاب میں سے ایسی نکالیے جسے اہلِ علم نے ناقابلِ قبول قرار دیا ہوتو اس کے متعلق آپ یقیناً گفتگو فرما سکتے ہیں۔ اس قسم کی بحثیں علمی حلقے کے لیئے مفید اور سود مند ہوں گی، لیکن جو طریقِ بحث آپ نے اختیار فرمایا ہے، وہ تو مجھ ناچیز کے نزدیک مضر ہی ہے، سودمند قطاً نہیں۔
جب ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے فلاں بات نہیں کی تو آپ کو کیا حق ہے کہ ان کے خلاف شہادتیں فراہم کرتے پھریں اور اصرار کریں کہ ضرور کہی؟ آپ کیوں یہ فرض نہیں کر سکتے کہ کہنے والے کا جو مدعا تھا ،آپ نے اسے غلط سمجھا یا پہلے سے آپ کے دل میں ایک بات بیٹھی ہوئی تھی اور آپ نے فاعل کے الفاظ کو اس کے سانچے میں ڈھال لیا؟ پھر جب مقصود احترام ِ حدیث ہے تو وہ تو پورا ہو گیا۔ کیا آپ بحث و تمحیص سے اس مقصد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟ میرے نزدیک مقاصد کے لیئے کام کرنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ جو اصحاب جس حد تک متفق ہوں، ان کے اتفاق کا خیر مقدم کیاجائے، اور جس حد تک انہیں اختلاف ہو اس کے لیئے تبلیغ و تعلیم کے ذریعے سے مناسب بندوبست فرمایا جائے۔ اس سلسلے میں حکمت سے کام لیا جا سکتا ہے نیز “موعظہء حسنہ” سے اور اگر بحث کی ضرورت پیش آجائے تو ا س کے لیئے بھی” احسن” طریق کی شرط معلوم ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ آپ کے پُر زور مقالات یا طریقِ استدلال اس مقدس ترازو میں پورا اترتا ہے؟
اب آپ نے ایک نیا طریقہ اختیار فرمایا ہے،یعنی یہ کہ حدیث کی چھان بین کے اصول دو حصوں میں منقسم ہیں: ایک وہ جو محدثین نے مقرر کیے،دوسرے وہ جو معتزلہ وغیرہ فرقِ ضالّہ کے وضع کردہ ہیں۔ گویا آپ صرف ان قاعدوں کے پابند ہیں جو محدثین نے وضع کیے۔ فرقِ ضالّہ اگر کوئی چیز پیش کریں تو آپ یہ کہہ کر الگ ہو جائیں گے کہ ہم تو صرف محدثین کے اصول کے مطابق گفتگو کرسکتے ہیں۔ بھلا آپ سوچیں کہ اگر سب لوگ بطور خود محدثین کے اصول و قواعد کو بے چون و چرا تسلیم کر لیں تو پھر آپ کا وظیفہ کیا رہ گیا؟ لطف یہ کہ ان قاعدو ں کی تعلیم و تبلیغ کے لیئے بھی اب تک آپ نے کچھ نہیں کیا۔
بھائی! آپ نے جو طریقہ اختیار فرمایا ہے، یہ خدمتِ حدیث کے لیئے نہ صرف غیر موزوں بلکہ سراسر مضر ہے۔ آپ اس دور میں بیٹھے ہیں، جس میں لوگ حدیث کے مقام و مرتبہ سے بھی آگاہ نہیں اور مخالفین نہایت نامناسب تدبیروں سے عوام کو بد ظن کررہے ہیں۔ آپ کی حالت یہ ہے کہ جو لوگ ساٹھ فیصد، ستر فیصد، نوے فیصد آپ سے متفق ہیں، ان کو بھی آپ برگشتہ کیے بغیر چین نہ لیں گے یا کم از کم ایسی کیفیت ضرور پیدا کردیں گے کہ وہ متفقہ علیہ مقاصد میں بھی آپ سے مل کر کام نہ کر سکیں۔ازراہِ لطف و کرم معاملے کے اس پہلو پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے اور وہ طریقہ اختیار کیجئے جو پیشِ نظر مقاصد کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ہو۔
آپ حدیث کی چھان بین کے لیے اصول کو دو حصوں میں کیوں بانٹتے ہیں؟ کیوں یہ نہیں کہتے کہ کسی شے کی صحت و عدم صحت کی جانچ کے لیئے آج تک انسان نے جو اصول وضع کیئے اور جن پر اہلِ علم کا اتفاق ہے، وہ تمام اصول پیش نظر رکھ کر حدیثوں کی صحت و عدم صحت کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ فرقِ ضالّہ کے اصول اگر پختہ و پائیدار ہیں تو آپ کیوں انہیں قبول نہ کریں؟ وہ نا پختہ ہیں تو ان کی تردید کیجئے،محض درایت پر ذرا زیادہ زور دے دینے سے کوئی چیز باطل نہیں ہو جاتی۔ درایت کی بھی حدود و قیود ہیں۔ آپ کیوں درایت سے گھبراتے ہیں؟ مجھے تو کبھی کسی چیز کے متعلق تشویش نہیں ہوئی۔ اگر ہمارا یقین ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ روشنی اور نور ہے تو اندھیرا کسی بھی شکل میں ہمارے سامنے آئے، ہم اس سے کیوں پریشان ہوں؟اگر خدانخواستہ ہماری روشنی ایک خاص شیشے اور عینک کے بغیر نظر نہیں آسکتی تو بھائی ! یقین رکھیے کہ ہم اس روشنی کو کسی بھی گروہ تک پہنچا نہیں سکتے۔ وہ مدھم ہوتے ہوتے خود ہی ختم ہو جائے گی۔ خدا نہ کرے کہ مآخذ دین میں سے حدیث جیسے اہم مآخذ کے متعلق کسی مسلمان کا یہ عقیدہ ہو۔اگر ہم فتنہء انکار ِ حدیث کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں حدیث کو چھوئی موئی بنالینے سے تو گزارہ نہ ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ گزارشات آپ کو کسی قدر تلخ معلوم ہوں لیکن امید ہے ان پر غور فرمانے کی زحمت آپ ضرور گوارا کرلیں گے۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

امجد سلیم علوی
امجد علوی معروف مصنف و صحافی مولانا غلام رسول مہر کے صاحبزادے ہیں۔ آپ پبلشر ہیں اور تاریخی مکتوبات و مخطوطات کی اشاعت کر چکے۔ آپ کی مزید تالیفات بھی زیر طبع ہیں۔ آپ مکالمہ پر تاریخی یادیں لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply