کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا۔ ۔ ۔بلال شوکت آزاد

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا لیکن کشمیریوں کی اول آخر ترجیح پاکستان ہی ہے۔ ان کے نوزائیدہ بچے سےلیکر ضعیف  بزرگوں تک سب پاکستان کے نام پر جیتے ہیں اور پاکستان کے نام پر  مرتے ہیں۔ایک وقت تھا جب کشمیر ہمارے سلیبس سے لیکر اطلاعات و نشریات کے ایجنڈے میں سب سے اوپر ہوتا تھا۔ ہماری سیاست و سفارت میں جزو لاینفک ہوتا تھا لیکن اب ہم برائے نام بھی کشمیر کو جگہ دینے کے لیئے تیار نہیں۔

کشمیر  انسانی و اخلاقی بنیادوں پر اجاگر کیئے جانے والا مسئلہ تھا لیکن اب یہ مذہبی حلقوں کی ذمہ داری بنادیا گیا یا سمجھ لیا گیا ہے۔روزانہ کشمیر میں کشمیری عوام کی دگرگوں ہوتی حالت کاجتنا بھارت اور عالمی برادری ذمہ دار ہے اس سے کئی گنا زیادہ ہم پاکستانی اس کے ذمہ دار ہیں۔

ہمارا نوجوان بہت پرجوش اور ٹیلنٹڈ ہے لیکن ہم نے اس کی سمت  ہی بدل دی ہے۔ ایک دور میں جب ہم سلیبس کی کتابوں میں پڑھتے تھے کہ کشمیر کیا ہے اور اس کی تاریخی اور موجودہ حیثیت ہمارے لیئے کیا ہے؟ انگار وادی جیسے قومی ٹیلی ویژن پر نشر ہوئے ڈراموں نے ہمارے اس پڑھے ہوئے کی منظر کشی کی تو وادی میں موجود ہر بھارتی سورما ہمیں کالی داس اور نولکھا لگنے لگا جو حریت و آزادی کی جنگ لڑتے نوجوان کشمیریوں کے جسم پر ڈرل مشین سے ایذا دیتے تھے۔کتب بینی اور مطالعہ ترک ہوا تو اے حمید اور طارق اسمعیل ساگر کی وساطت سے کشمیر کی صورتحال پر لکھے ناول بھی پرانی باتیں ہوگئیں ۔پانچ فروری یعنی یوم یکجہتی کشمیر کی بات کریں تو اس دن پورا پاکستان کشمیر بنا ہوتا تھا۔  قومی ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی منظر کشی سے دل دہلتے اور نصرت فتح علی خان کا نغمہ کانوں میں گونجنا شروع ہوجاتا : “ جانے کب ہونگے کم, اس دنیا کے غم ؟”

ہمارے بچپن کا کھیل بھی عجیب ہوتا۔  ایک فریق بھارتی فوجی بن جاتا اور دو چار بچوں کی ٹیم لیکر دوسرے فریق کا پیچھا کرتا جو مجاہدین یا پاک فوج کے کردار میںاپنی ٹیم کے ساتھ ہوتا ۔کھیل کا وہ لمحہہ،وہ منظر دلکش ہوتا جب بھارتی فوجی اور اسکی ٹیم مجاہدین کی ٹیم کے کسی بندے کو پکڑ لیتی اور پھر ڈائیلاگ ہوتے جس میں بھارتیوں کی کمزوری جھلکتی اور مجاہدین کا عزم نظر آتا۔  کبھی ایسا ہوتا کہ نعرہ تکبیر گونجتا اور مجاہدین کی ٹیم اپنا بندہ چھڑانے سر پر پہنچ جاتی۔ یہ کھیل میں بچپن میں بہت  کھیلا ہوں اور ایسے کھیلوں کی یادیں زیادہ تر فوجیوں کے بچوں سے ہی وابستہ ہیں کہ فوجی جب جب اپنے بچوں میں بیٹھتے ہیں ں تو  فارغ اوقات می اسلاف کی قربانیوں اور موجودہ حالت زار سے  انہیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

میں بچپن میں کشمیر کو کمشیر کہا کرتاتھا اور میرے والد محترم بہت دیر تک ہنسا کرتے۔ وہ  نہ صرف میری غلطی درست کرواتے بلکہ ساتھ ساتھ کشمیر کی تازہ صورتحال بھی بتاتے اور خواہش کا اظہار کرتے کہ کاش میں کشمیر میں جہاد کی سعادت حاصل کرسکوں اور کشمیر کی فتح کا مجاہد بنوں۔ہمارے اساتذہ کشمیر کے ذکر پر آبدیدہ ہوتے اور ہمیں کافی دیر تک کشمیر میں غلامی کی چکی میں پستے مسلمانوں کی کم مائیگی اور مجبوری بتاتے۔مسجد میں جانے پر مولوی صاحب کی بعد از نماز  دعامیں اس حصے پر زیادہ زور ہوتا جہاں کشمیر کا ذکر ہوتا۔  کشمیریوں کی مدد  دعا کا خاصہ ہوتی۔

کشمیر کشمیر کشمیر ہر وقت عوام وخواص میں کشمیر کا نام ہوتا تھا۔ یہ ایک امید کی کرن اور عزم کی نشانی تھی۔

لیکن آج ہماری زندگیوں کی روانی میں کشمیر کھونے لگا ہے۔  ہمارے نقشوں, نصاب, اخبارات, رسائل, اسکول, کالج, یونیورسٹی, ٹیلی ویژن, ریڈیو, کھیل کود غرض ہر جگہ سے کشمیر نکلتا جارہا ہے۔  یہی حالات رہے تو بہت جلد کشمیر خدانخواستہ ہمارے ہاتھ سے بھی نکل جانا ہے۔ہمارے والدین اور اساتذہ بھی اب کشمیر کا نام نہیں لیتے۔  حکمران و سیاستدان طبقہ تو ویسے ہی کشمیر بلکہ شاید پاکستان کا  سودا کرچکا ہے۔

اب یہ ماننا پڑے گا کہ کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا۔  یہ مسئلہ حل کروانے میں ہم بخل کا شکار ہوچکے ہیں۔کشمیر کو آزادی پہلے بھی نہیں مل سکی حالانکہ تب وہ ہماری ترجیح تھا۔ تب کشمیری ہم سے   ہم کشمیریوں سے ہونے کا احساس زندہ تھا۔

کشمیری آج بھی اس احساس سے زندہ ہیں اور اسی احساس پرمرمٹتے ہیں لیکن ہم مردہ دل اور اس احساس سے دور ہوچکے ہیں۔ ہمیں یہ احساس یہ جذبہ دوبارہ زندہ کرنا ہوگا تاکہ کشمیر سے یکجہتی اور ہم آہنگی مصنوعی نہیں حقیقی لگے۔

کشمیر کو ترجیح دو کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *