بلوچستان، انتخابات اور سیاسی ہلچل ۔۔۔ شبیر رخشانی

میرے ایک دوست دوبئی میں رہتے ہیں۔  ایک دن باتوں باتوں میں، میں نے ان سے پوچھا کہ دوبئی میں شرحِ اموات کیا ہے؟ کہنے لگے  یہاں میں نے بہت کم لوگوں کو مرتے دیکھا ہے۔مرنے والوں میں زیادہ تر بوڑھے ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کم شرحِ اموات کی وجہ؟ کہنے لگے کہ اول تو بیماریوں کی شرح کم ہے۔ زیادہ تر بیماریاں وہی ہیں جو ہم پاکستانی یہاں منتقل کرتے ہیں۔ سوائے پیناڈول کے باقی ادویات کے لیے آپ کو ڈاکٹر سے چٹ لینا پڑتی ہے۔ دوائیں اصلی ملتی ہیں، روزگار کے ذرائع موجود ہیں، خوراک یہاں کی اچھی ہے اور تو اور لوگ بھی خوشحال ہیں۔میں نے پوچھا خوشحالی کیسے؟ کہنے لگے دوبئی کے ذخائر پر دوبئی والوں کا حق ہے۔ تمام وسائل سے آنے والی آمدنی وہاں کے باشندوں کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ ریگستان کو صحرائی لوگوں کے لیے تفریح گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تفریح گاہیں نہ صرف مقامی لوگوں کو تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں بلکہ باہر کے باشندے بلا خوف و خطر ان علاقوں کا رخ کرکے یہاں کی معیشت کو توانائی بخشتے ہیں۔

ابھی ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ خبر آئی کہ بلوچستان کے سرفہرست سرداروں کے ضلع خضدار کا علاقہ گروک ہیضے کی وبا سے متاثر ہے۔ وبا سے اب تک پندرہ افراد متاثر اور ایک شخص جان کی بازی ہار چکا ہے۔

دوست کی باتوں نے دوبئی کا جو نقشہ ذہن پر ابھارا تھا وہ نقشہ گروک کے ہیضے کی نذر ہوگیا۔ میں شیخ چلی کی مانند آسمان سے جھولتا ہوا ہچکولے کھاتا زمین پر آگرا۔ میرے ذہن سے ضلع آواران کے علاقے ٹڑانچ کی تصویر ابھی اتری نہیں تھی کہ گروک کا سانحہ پیش آیا۔ ٹڑانچ میں بھی تین ہفتے قبل ہیضے کی وبا نے نو قیمتی جانیں ضائع کر دی تھیں۔ شاید ہمارے لوگ اتنے صابر و شاکر ہیں کہ وہ اس وبا کو خدا کی طرف سے نازل کردہ عذاب سمجھ کر اس کا شکر بجا لاتے جانے کیوں ملک الموت کو ٹڑانچ یا گروک جانے کی جلدی رہتی ہے۔ کیوں نہ اس سے استدعا کی جائے کہ ذرا دوبئی کا رخ کرے۔ پھر خیال آتا ہے شاید وہاں کی خوراک اور ادویات میں اتنی تاثیر ہے کہ وہ ملک الموت سے زیادہ طاقتور ہوچکی ہیں ورنہ گروک اور ٹرانچ کا پانی کیا فقط وضو کرنے کے کام آئے؟ خیر چھوڑیے ان باتوں کو کیوں نہ انتخابات پہ بات کی جائے۔

2018 کا الیکشن سر پر آچکا ہے۔ انتخابی درجہ حرارت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ درجہ حرارت کی شدت میں اتنی تیزی آ چکی ہے کہ بخارات دور دور تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انتخابات کو لے کر بلوچستان کا عام بلوچ گومگو کی صورت حال سے دوچار ہے۔ سیاسی پہلوان اونٹ کی طرح میدانِ عمل میں اتر کر محاذ لڑنے کی تیاری کر چکے ہیں۔ خدا جانے ان کی مہار کن کن قوتوں نے تھامی ہوئی ہے؟

انتخابی میدان میں برسرپیکار نئے چہرے اپنی بقا کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ پرانے چہرے جہاں ہوا کا رخ ہے اُدھر ہی اڑ رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں اپنی پرانی روش اپناتے ہوئے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتی ہیں تاہم کوئی بھی پارٹی بلوچستان کا موجودہ منظرنامہ مدنظر رکھتی ہوئے ایسا ایجنڈا سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ اگلے پانچ سالوں میں بلوچستان کی ہئیت تبدیل کر پائے۔ شایداس کی سب سے بڑی وجہ وہ زمینی حقائق ہیں جن کے تحت انتخابی عمل کی رسی کو کہیں دور دیکھ کر یہ جماعتیں اس کا سرا پکڑنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں۔

انتخابی میدان میں بظاہر دو پارٹیاں ایسی ہیں جنہوں نے قوم پرستی کا لبادہ پہن کر اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔ نیشنل پارٹی کی مگر یہ قمیض بھی پھٹی پھٹی نظر آتی ہے۔ بی این پی مینگل کا لباس ابھی تک داغدار تو نہیں ہوا ہے البتہ سیاسی ہلچل میں ڈھیلا ضرور نظر آرہا ہے۔۔ خدا کرے اسے ایک اچھا سا درزی دستیاب ہوجائے۔ نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کا گزشتہ انتخابات میں سیاسی اتحاد نہ ہو پانے کی وجہ تاحال سامنےنہیں آئی  جسے لے کر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان سوالات کے جواب ہنوز بلوچ قوم کو نہیں مل سکے۔ نیشنل پارٹی کی دورِ اقتدار میں ناقص کارکردگی اور مراعات کے حصول تک رسائی کو لے کر بھی کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ ایک اور بات یہ کہ ان کے پارٹی اراکین اپنی وفاداریاں بھی کسی حد تک تبدیل کر سکتے ہیں جو پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ رہی بات بی این پی مینگل کی، تو اس کا اسلام آباد اے پی سی بھلا کون بھول سکتا ہے؟ صوبائی اسمبلی کی دونشستیں رکھنے کے باوجود اسمبلی فلور سے ان کی غیر حاضری ایک الگ معمہ ہے۔ ثنااللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ پر قدوس بزنجو کو ووٹ دینے میں بھی کئی راز پنہاں ہیں۔ 

دونوں جماعتوں کی جانب سے 2003 اور 2008 کے الیکشن میں بائیکاٹ کا معمہ اور میدان کھلا چھوڑنا اور پھر انتخابی عمل کا حصہ بننا ابھی تک اپنے اندر کئی شکوک و شبہات کی گنجائش رکھتا ہے۔ رہی بات بی این پی عوامی کی تو اس کے پاس شروع سے نہ کوئی سیاسی ایجنڈا تھا اور نہ اب ہے۔ بلوچستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ دیکھتے ہوئے اندازہ لگانا آسان ہوگا کہ تمام پارٹیاں بغیر کسی سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر محض اقتدار کے حصول کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس تمام منظر میں عام آدمی قطعا نظر نہیں آتا۔ 

باپ پارٹی کا تو کیا کہنا۔ یہ پارٹی راتوں رات ہی بن گئی۔ اس کے ممبران کی سیاسی وفاداریاں کل تک مسلم لیگ ن کے ساتھ تھیں۔ اب یہ خود ایک پارٹی کی شکل میں وجود میں آکر قوت آزمائی کرے گی۔ زیادہ تر مہرے وہی ہیں جو مشرف دور حکومت میں مسلم لیگ ق کی  خاطرآزمائے جا چکے ہیں۔ ویسے بھی آزمانے میں کیا حرج ہے، انہیں ان کی پارٹی سونپ کر اچھے طریقے سے آزمایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بی این ایم نے حسبِ روایت الیکشن مہم کا بائیکاٹ کیا۔ مسلح تنظیم بی ایل ایف نے بھی بلوچ قوم کو انتخابی مہم سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں مسلح تنظیم انتخابی مہم پر کافی اثر انداز ہوئی تھی۔ بظاہر اِس وقت مسلح تنظیم کی کاروائیوں کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ آنے والے انتخابات میں موثر ثابت ہو سکیں گی۔ اگر یہ مسلح کاروائیاں انتخابات پر اثرانداز ہوئیں تو دیکھنا ہوگا کہ ان کا دائرہ گار محض مکران کے انتخابی عمل کو متاثر کرے گا یا اس کا دائرہ کار پورے بلوچستان تک پھیل جائے گا۔ اگر کاروائیاں ہوئیں بھی تو یہ کاروائیاں انتخابی عمل پر اثرانداز ہوں گی یا چند پارٹیوں کو نشانہ بنانے کی حد تک کی جائیں گی۔  دوسری جانب فوج کی موجودگی بلوچستان میں انتخابی عمل کو کس قدر موثر انداز میں منعقد کرانے میں سود مند ثابت ہوگی اس کا درست اندازہ آنے والے الیکشن کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

بلوچ قوم اس وقت گومگو کی صورت حال سے دوچار ہے کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے یا نہیں؟ ایک طبقہ وہ ہے جو انتخابات کے حق میں ہے لیکن وہ نئے چہرے سامنے لانا چاہتا ہے۔ ایسے چہرے جو نظام کو بدل سکیں۔ دوسری جانب ان کے خدشات بھی ہیں۔

ایک طبقہ وہ ہے جو نہ انتخابی مہم میں حصہ لینا چاہتا ہے اور نہ انتخابی نظام سے انہیں تبدیلی کے آثار نظر آتے ہیں۔ یہ طبقہ سوچ کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔ یہ لوگ مقتدر نمائندوں کی گزشتہ کارکردگی کو بنیاد بناکر انہیں احتساب کے کٹھہرے میں لانا چاہتے ہیں لیکن احتسابی عمل وہ نظام سے نہیں شعور سے کرانے کے خواہشمند ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو پورے منظر کا مشاہدہ فقط خاموشی سے کرتاہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو مراعات یافتہ ہے اور اس کی امیدوں کا مرکز و محور فقط انتخابات میں اپنے امیدوار کو کامیابی کے زینے پر چڑھا کر اس سے مراعات حاصل کرنا ہے۔ ایک طبقہ وہ نوجوان نسل ہے جو ایک الگ سوچ رکھتی ہے جو انتخابی عمل سے ہٹ کر شعور کو دوام دینے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہے۔ لیکن یہ طبقہ اس بات سے ناآشنا ہے کہ طاقت کا منبہ و مرکز حاصل کیے بغیر وہ اپنے طے کردہ نتائج تک نہیں پہنچ سکتے۔

انتخابات 2018 ڈولی اور بارات لے کر گھر سے روانہ ہو چکے ہیں۔ ڈھول اور رقص کی یہ تاپ دور دور تک سنائی دیتی ہے لیکن میرا دوست پوچھتا ہے کیا گارنٹی ہے کہ اِس الیکشن کے بعد بلوچستان کے لوگ ہیضے سے نہیں مریں گے؟ میں نے کہا فی الحال ڈھول کی یہ تھاپ عوام کی قوتِ گویائی میں اس قدر رچ بس چکی ہے کہ میرا اور تمہارا یہ سوال شاید 2023 کو سن لیا جائے۔ تب تک بلوچ عوام کو جانے کتنی آفتوں کا سامناکرنا پڑے گا!

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *