فرقہ +متشدد رویہ =جہالت۔۔۔۔ محمد منیب خان

 عجب بے چینی ہے کسی کروٹ چین نہیں پڑتا، اور چین پڑے بھی کیسے کہ پہلے صرف انگلیاں اٹھائی جاتی تھیں تو چلو کسی طرف بس اشارہ ہو جاتا تھا، پھر ہاتھ گریبان تک آنے لگے۔ پگڑیاں اچھالی جانے لگیں۔ اب گردن زدنی کے حق میں بھر پور دلائل دئیے جاتے ہیں۔ چہروں پہ کالک ملی جاتی ہے  اور نفرت کے وہ بیج بوئے جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پہ بیٹھا ہر شخص ہاتھ میں کم علمی بلکہ بد علمی کے نیزے لیے دوسروں کے سینوں میں گھونپ رہا ہوتا ہے۔ ہر شخص مفتی ہے، ہر شخص سیاسی تجزیہ نگار ہے۔

میں کوئی مفتی، عالم یا واعظ نہیں کہ کوئی فیصلہ یا فتوی صادر کروں۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ امام ابو حنیفہ نے کس ماحول میں اپنے شاگردوں کی تربیت دی  ہو گی کہ امام محمد ایک سوچ اور فکر لے کر آگے بڑھے اور اور امام یوسف دوسری فکر کے ساتھ۔ گویا امام ابو حنیفہ نے شاگردوں کو آزادانہ سوچنے اور سمجھنے کا قاعدہ سکھایا اور نہ کہ ان کو  وہی بات کرنے کا جو وہ خود درست سمجھتے تھے۔

میں اگر دائیں بائیں نظر دوڑاتا ہوں تو اہل علم کا یہی شیوہ رہا ہے۔اہل علم کے گروہ کبھی بھی برسر پیکار نہیں رہے۔ سائنسی ترقی کے پیچھے بھی یہی راز مضمر ہے کہ جس دن پہلے سے بہتر تحقیق سامنے آ جاتی ہے وہ برسوں پرانی تحقیق سے فوراً جان چھڑوا لیتے ہیں  نہ کہ اس پرانی تحقیق کے حق میں کوئی حجت کوئی دلیل دیتےہیں۔

جبکہ گزشتہ چند سو سالوں میں اہل مذہب کا کردار اس سے مختلف رہا ہے۔دو مختلف نظریات کا پیدا ہونا کوئی اچنھبے کی بات  نہیں لیکن دو نظریات کا ٹکرا جانا اور ایسے ٹکرانا کہ  جان اور مال داؤ پہ لگا دینا یقیناً عجوبہ ہے۔ اہل مذہب نے سوچنے اور سمجھنے کی خو کو ترک کروا دیا ہے۔ اب بس وہی مانا جائے گا جو کسی بھی فرقے کے اکابر کہہ چلے اس میں کسی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فرقوں میں ہر لمحے پہلے سے گہری ہوتی اس سوچ اور اس انداز نظر کی خلیج کو میں جہالت کہوں گا۔

ہم نے کس طرح تاریخ اور روایت کو وحی پہ قاضی بنا دیا  اور اس روایت اور اسی تاریخ کے نتیجے میں ہم اس مقام تک آ گئے ہیں۔ جبکہ وحی کہتی ہے کہ  “ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقے میں مت پڑو”۔ (مفہوم)وحی بارہا دہراتی ہے کہ “اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو”۔ “ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ جو دیں وہ لے لو”۔ ہم نے اللہ کی رسی کو تھامنےکی بجائے اپنی اپنی رسیوں کو اللہ کی رسی ثابت کرنا شروع کر دیا۔ میرا فرقہ، میرا مولوی، میرا مفتی۔۔۔۔۔ یقیناً آپ کا فرقہ ٹھیک ہوگا لیکن دوسرے کو بھی صبر سے برداشت کر لو بغیر فتوی دیے۔

چند سالوں سے ایسے تجربات ہونے لگے تھے کہ مختلف فرقوں کے علماء ایک پلیٹ فارم پہ بیٹھ کے انتہائی عزت اور احترام سے اپنا نکتہ نظر بیان کرتے اور جو جس کی دلیل سے مطمئن ہوتا وہ عمل کر لیتا۔ یا صرف اپنے فرقے کی وضاحت کو ہی کافی سمجھتا۔ کچھ عرصہ یہ سلسلہ کسی حد تک خوش اسلوبی سے چلتا رہا کہ پھر ایک روز عامر لیاقت کے پروگرام میں ایک ایسا منظر نامہ  دیکھ گیا کہ کئیوں نے انگلیاں دانتوں میں داب لیں ، کئی کھسیانی ہنسی ہنسے، کئی نے  دل میں خوشی کا اظہار کیا، اور کئی نے حسب روایت سوشل میڈیا پہ اپنے اپنے فرقے کا مورچہ سنبھال لیا۔ فتوؤں اور لفظوں کی اتنی شدید گولہ باری ہوئی کہ الامان الحفیظ۔۔۔

ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ کچھ سمجھائی نہیں دیتا تھا۔ کالر کا سوال ہر لحاظ سے بہتر طور پہ ہینڈل کیا جا سکتا تھا۔ حضرت علی کی خلافت بارے کیا  رائے ہے؟ حضرت علی خلیفہ چہارم ہیں۔ اگر آپ کو ریٹنگ نہیں چاہیے اور آپ نے سماج کے گلے نہیں کٹوانے تو اتنا جواب دینا کافی تھا لیکن بعض لوگوں کو تماشا لگانے کا شوق ہوتا ہے وہ لوگوں کو لڑتا دیکھ کر ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے پرانے وقتوں میں بادشاہ انسان کو بھوکے شیروں کے آگے ڈال کر ، نظارہ کر کے خوش ہوتے تھے۔ سو تماشا لگایا گیا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک جن کا اصل تحقیقی میدان “تقابل ادیان” ہے ان کو اس بحث میں گھسیٹا گیا۔ دین میں واحد اتھارٹی تو رسول اللہ ﷺ  کی ذات ہے لیکن جوں جوں مختلف فرقے بنتے گئے  ہر فرقے کا امام اپنے فرقے کی اتھارٹی سمجھا جانے لگا اس حساب سے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا تعلق کس فرقے سے ہے اور اس فرقے کے نظریات کیا ہیں۔ پھر بے موقع محل اس بات کو کھینچ تان کے گفتگو میں لانے والے کی نیت پہ شک نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟؟؟

“حیات بعد الممات” شروع سے ہی اہل علم کے ہاں زیر بحث رہا خصوصاً انبیا ، رسولوں اور پیغمبروں بارے یہ سوال آتا رہا اور اہل علم کی رائے اس پہ منقسم رہی۔ میں اس بات میں نہیں پڑتا کہ رسول اللہﷺ  کے اس دنیا سے پردہ  فرمانے کو کن لفظوں میں بیان کیا جائے یا اس بارے کسی کو کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔

میں خود ایسے ہی سوالات اٹھا کر اہل علم کے پاس جاتا رہا اور جو مجھے سمجھ آئی وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ اس بات میں تو کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ حضرت محمد ﷺ  اللہ کے آخری نبی ہیں اور جیسا کہ اوپر بیان کیا اللہ نے بارہا قرآن میں کہا ہے کہ مفہوم “اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو” کیا رب نے کسی اور بندے کے بارے میں ایسا کہا؟

پھر اللہ کہتا ہے کہ مفہوم” اللہ اور اس کے فرشتے آپ ﷺ  پہ درود و سلام بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی آپ ﷺ  پہ درود و سلام بھیجو” کیا کسی اور ذی روح کے بارے میں اللہ نے ایسا فرمایا کہ میں اس پہ درود بھیجتا ہوں؟ ہمیں کہا جا رہا  ہے کہ جو اللہ کا رسول دے اسے لے لو جس سے منع کریں  اس سے رک جاؤ یعنی ہمارے پاس دین کی واحد اتھارٹی ہی نبی پاک ﷺ  کی ذات ہے۔ تو کیا ایسی بلند ذات بارے ہمیں اس بحث میں پڑنا چاہیے؟

میرا خیال ہے یہ سوال امتی کا ہے ہی نہیں۔ جس کا میں کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوں اس ذات کے مقام پہ بحث کرنا میرے  دائرہ اختیار میں ہی نہیں ،مجھے تو ان کی شفاعت کی طلب ہے ،مجھے تو ان سے حوض کوثر پہ جام لینے کی طلب ہے اور میں یہاں فیصلہ کرنے بیٹھ گیا ہوں کہ کیا ان کا دنیا سے پردہ  فرمانا ہمارے جیسا  ہے یا ہم سے مختلف۔۔۔ یہ سوال امتی کے لیول کا ہے ہی نہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *