امتحان کی تیاری کیسے کی جائے(حصہ اول)

قدیم چین دنیا کی وہ پہلی ریاست تھی جس کے شاہی خاندان “سوئی” نے اپنے دور حکومت میں امتحانات لینے کا آغاز کیا ان امتحانات کا مقصد اس وقت صرف حکومت کے مختلف عہدوں پر بہترین لوگوں کی تعیناتی تھا، لیکن دنیا کے بیشتر تعلیمی اداروں میں جو موجودہ امتحانی نظام رائج ہے اس کا آغاز یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد ہوا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اسباق جو طلبہ پورا سال پڑھتے ہیں ان اسباق کو دہرانے میں طلبہ سستی کا شکار نہ ہوں اور ان امتحانات سے طلبہ کی تحریری صلاحیتیں بھی کھل کر اجاگر ہو سکیں ۔ماہرین نفسیات بھی اس امتحانی نظام کو طلبہ کے لیے مفید قرار دیتے ہیں اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ امتحان دینے کا سب سے بڑا فائدہ طلبہ کو یہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا علم ہو جاتا ہے اور امتحان کی تیاری کرنے سے وہ اسباق ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے سال بھر کی محنت ضائع ہونے سے محفوظ ہو جاتی ہے۔اسکول ہو کالج یا یونیورسٹی ہر ادارے کے طلبہ کے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم امتحان کی تیاری کیسے کریں ۔۔یہ تحریر انشاءللہ نوجوانوں کے ایسے ہی سوالوں کا جواب مہیّا کرے گی، نوجوانوں کو پیپر کی تیاری کے حوالے سے درج ذیل نکات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
1۔ انسانی دماغ کسی بھی نتیجے پر حواس خمسہ کی دی ہوئی اطلاعات کی مدد سے پہنچتا ہے ،جس طرح دماغ حواس خمسہ کی اطلاعات کا محتاج ہے اسی طرح حواس خمسہ کا کام بھی صرف اطلاعات پہنچانا ہی ہوتا ہے، اس ضمن میں صرف ایک مثال دیکھ لیں جیسے آنکھ کا کام صرف ویڈیو ریکارڈ کر کے دماغ کو پہنچانا ہوتا ہے آنکھ خود یہ فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی کہ جو نظارہ میں دیکھ رہی ہوں وہ خوبصورت ہے یا نہیں یہ فیصلہ دماغ اطلاعات کو پا کر ہی کرتا ہےیعنی اگر تمام حواس کسی ایک ہی بات کی اطلاع دے رہے ہوں تو وہ بات دیر تک حافظے میں محفوظ رہتی ہے، اس لیے طلبہ کو سبق بلند آواز میں یاد کرنا چاہیے، آواز کے ساتھ سبق پڑھنے کا طلبہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ یاد کرنے میں ہمارے تینوں حواس آنکھ زبان اور کان استعمال ہوں گے اور جو بات تین حواس کے ذریعے دماغ تک پہنچے گی انشاللہ جلد یاد ہوگی۔
2۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ہماری زبان میں ایک memory box ہوتا ہے اگر ہم کچھ بھول بھی جائیں تو وہ ہماری زبان کو ضرور یاد رہتا ہے ،مثلاً ایسا کئی دفعہ ہوتا ہے جب ہم امتحانات میں لکھتے لکھتے کچھ بھول جاتے ہیں اور ذہن پر بہت زور دینے پر بھی وہ الفاظ ذہن میں نہیں آ رہے ہوتے تو ہم پورا پیراگراف منہ میں ایک دفعہ دوبارہ بولنا شروع کرتے ہیں تو وہ الفاظ ہمیں یاد آ جاتے ہیں اس لئے زبان کی مدد سے سبق یاد کرنا بہت مفید رہتا ہے۔
3۔پیپر کی تیاری کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی کتابیں لے کر خود کو ایک کمرے تک محدود کر لیں ، بس آپ،آپ کی کتابیں اور بند کمرہ۔۔ اس بات کو بھی سمجھ لیجئے کہ کمرے کے اندر بھی دیواروں پر رنگین تصویر نہیں ہونی چاہیے، کوئی میگزین ،پزل گیم نہیں ہونی چاہیے ،یہاں تک کہ کمرے میں کتابوں کے علاوہ آپ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
ایسا اس لیے ہے کہ ہمارا جو دماغ ہے وہ جو بھی دیکھتا ہے اور سنتا ہے اس پر ہم سے پوچھے بغیر سوچنا شروع کر دیتا ہے، مثلاً اگر آپ کسی سڑک سے گزر رہے ہیں اور سامنے دیوار پر کچھ لکھا ہوا ہے تو جیسے ہی آپ کی نظر اس پر پڑے گی آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ کا دماغ اسے پڑھ لے گا، اور اس کے بارے میں سوچنا اور کہانیاں بنانا شروع کر دے گا، جیسے اگر ہم کسی بوڑھے آدمی کو یا سڑک پر بھیک مانگتے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھتے ہیں تو ہم لوگ ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں، جب ہم ٹوٹی پھوٹی سڑکیں دیکھتے ہیں تو سیاستدانوں کو برا بھلا کہنا شر وع کر دیتے ہیں، یعنی ہمارا دماغ کسی بھی غیر متعلقہ چیز کو دیکھنے سے بھٹک سکتا ہے اس لیے صبح اٹھ کر پہلے ٹائم پر پڑھنا بہت فائدہ دیتا ہے، کیونکہ اس وقت آپ کا دماغ زیادہ بھٹک نہیں سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ صبح اٹھتے ہی تازہ دم ہونے کے فوراً بعد پڑھائی شروع کر دیں ، بجائے اس کے کہ فیس بک کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا جائے یا موبائل اور ٹی وی پر وقت ضا ئع کیا جائے۔پڑھنے کے لیئے ایسی جگہ کا انتخاب کیجئے جہاں آپ کو مکمل نہیں تو کچھ نہ کچھ یکسوئی ضرور میسر آسکے۔(جاری ہے)

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ، ٹیچنگ اسسٹنٹ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *