• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • خادم اعلیٰ۔ سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی۔۔۔محمد اظہارالحق

خادم اعلیٰ۔ سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی۔۔۔محمد اظہارالحق

دس سال! پورے دس سال! ایک دہائی! ایک عشرہ! جو بچہ 2008ء میں اس دنیا میں آیا آج 2018ء میں دس سال کا ہو چکا ہے۔ یہ دس سال شہبازشریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کے حکمران اعلیٰ رہے۔ پاکستانی پنجاب کا رقبہ سوئٹزرلینڈ سے زیادہ ہے اور بلجیم سے بھی۔ یوں شہبازشریف ایک ایسے صوبے کے حکمران اعلیٰ تھے جو آبادی اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کے کئی ملکوں سے بڑا ہے۔ تو کیا وہ وزیراعلیٰ تھے؟ نہیں، اگر کوئی کہتا ہے یا سمجھتا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ تھے تو اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔

وزیراعلیٰ ایک جمہوری اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے پارلیمنٹ کی ہدایات اور کابینہ کے مشوروں کے مطابق حکومت چلانا۔ شہبازشریف کے نزدیک صوبائی اسمبلی میں آنا وقت کا ضیاع تھا۔ ان کے ماتحتوں نے کئی بار اسمبلی میں اعلان کیا کہ وہ مصروف ہیں اور اسمبلی میں نہیں آ سکتے۔ رہی کابینہ، تو رانا ثناء اللہ کے علاوہ کسی صوبائی وزیر کا نام کبھی سننے میں نہیں آیا، ہاں کبھی کبھی رانا مشہود صاحب کا نام میڈیا میں سنائی یا دکھائی دیتا تھا اور بس۔ تو پھر شہبازشریف کا طرز حکومت کیا تھا؟ ان کے طرز حکومت کو زیادہ سے زیادہ بادشاہت ہی کہا جا سکتا ہے۔ بادشاہت کے بجائے اسے قبائلی طرز حکومت کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔

اس سارے عرصہ میں ان کے طرز حکومت کا ایک نمایاں عنصر یہ رہا ہے کہ وہ کسی ایسے سوال کا جواب دینے کے لیے کبھی تیار یا آمادہ نہیں ہوتے تھے جو انہیں ’’مناسب‘‘ نہ لگتا۔ یہ عام روایت ہے کہ وہ جن دو تین سوالوں کے جواب مرحمت فرماتے تھے، وہ ان کے نصب کردہ صحافیوں کے ہوتے تھے۔ ایک سنجیدہ اور قابل اعتبار سینئر رپورٹر نے آج ہی بتایا ہے کہ اگر کوئی صحافی یا رپورٹر ایسا سوال کر بیٹھتا جو شہبازشریف کی نظر میں مناسب نہ ہوتا تو ان کے حواری اس صحافی یا رپورٹر کے خوب لتے لیتے اور اسے ’’تمیز‘‘ سے بات کرنے کی ہدایت کی جاتی۔ شہبازشریف جب بھی کسی پریس کانفرنس میں آتے، چند جذباتی جملے کہتے، زور خطابت دکھاتے اور پھر ایک مخصوص تیز رفتاری سے یہ جا وہ جا۔ جلسوں میں وہ دعوے کرتے کہ میں فلاں کا پیٹ پھاڑ دوں گا، فلاں کو فلاں فلاں شہر کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ خطیبانہ ’’نقل و حرکت‘‘ اتنی طوفانی ہوتی کہ بعض اوقات مائک گر جاتے۔

دس سال۔ پورے دس سال وہ سفید و سیاہ کے مالک رہے۔ انہیں کوئی اسمبلی کنٹرول کرسکی نہ کوئی کابینہ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو عملاً صوبے کا نائب حکمران اعلیٰ بنا دیا۔ وہ افسروں کی تعیناتیوں سے لے کر فنڈز کی تقسیم تک ہر سرکاری کام میں دخیل تھا۔ دخیل نہیں بلکہ مالک و مختار تھا۔ صوبائی وزیر اول تو وجود ہی نہیں رکھتے تھے، اس لیے کہ درجنوں وزارتیں وزیراعلیٰ کی اپنی جیب میں تھیں۔ اگر کچھ وزیر تھے بھی تو وہ وزیراعلیٰ کے بیٹے کے سامنے ذاتی ملازموں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ یہ سب کچھ پس منظر میں رکھتے ہوئے شہبازشریف کی پرسوں یعنی تین جون کو عدالت عظمیٰ میں بے بسی کا اندازہ لگائیے۔

ایک مخصوص سوال ان سے عدالت عظمیٰ نے سات بار کیا۔ وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ اس لیے کہ انہوں نے کبھی کسی سوال کا ٹھیک نقطے پر (To the Point) جواب دیا ہی نہیں تھا۔ چیف جسٹس جب بھی پوچھتے کہ کیپٹن (ر) عثمان کو کس قانون کے تحت ساڑھے چودہ لاکھ اور مجاہد شیر دل کو کس ضابطے کی رو سے بارہ لاکھ تنخواہ دی جاتی رہی۔ شہبازشریف بالکل غیر متعلق جواب دیتے۔ شہبازشریف کے جوابات ملاحظہ کیجئے۔

٭ ہم نے ملک سے اندھیرے ختم کئے سی پیک لے کر آئے۔ چیف جسٹس نے پھر پوچھا کہ لاکھوں تنخواہ کس حساب سے دی۔ جواب دیا کہ

٭ نندی پور پاور پراجیکٹ مکمل کیا۔ بجلی کے کارخانے لگائے۔ ملک کو اندھیروں سے نکالا۔

٭ یہ کمرہ ٹھنڈا ہمارے منصوبوں کی وجہ سے ہے۔

٭ مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو پھانسی دے دیں۔

عینی شاہد بتاتے ہیں کہ سات بار عدالت نے یہ سوال پوچھا اور ہر بار وہ ایک غیر متعلق، غیر منطقی مضحکہ خیر جواب دیتے۔ جب بالکل ہی کونے میں پھنس گئے تو کہا تو یہ کہا کہ فلاں بورڈ اور فلاں منسٹری نے یہ کام کیا۔ یہ جواب پہلے سے بھی زیادہ مضحکہ خیز تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میری حکومت میں ہوا مگر مجھے معلوم نہ تھا یا میں ذمہ دار نہیں۔

ایک معروف انگریزی معاصر نے لکھا ہے کہ شہبازشریف نے تسلیم کیا کہ ’’صاف پانی کمپنی نے عوام کوپانی مہیا نہیں کیا۔‘‘ یہ ہے انجام بادشاہت کا اور قبائلی طرز حکومت کا۔ دس سال کی مطلق العنان شہنشاہی کے دوران اگر شہبازشریف اسمبلی کو یا کابینہ کو یا صحافیوں کو اجازت دیتے کہ وہ ان سے پوچھ گچھ کریں، سوالات کریں اور محاسبہ کریں تو آج عدالت میں وہ نکو نہ بنتے۔ ان کا تماشا نہ بنتا، انہیں پاگل کتے کے کاٹے جانے کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ دس سالہ اقتدار کے دوران انہیں یہ خیال ہی نہ آیا کہ ایک دن کوئی عدالت کوئی ادارہ کوئی نیب کوئی ایف آئی اے ان سے قاعدے قانون ضابطے رول کے حوالے سے پوچھے گی اور وہ کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔

کور چشمی کی انتہا یہ ہے کہ جو کالم نگار ان کے ساتھ ہیلی کاپٹروں میں پھرتے تھے اور تحریر میں یا ٹی وی پر ان کا نکتہ نظر تفصیل سے بتا کر آخر میں بڑی چالاکی سے ’’بقول ان کے‘‘ کا سابقہ لگا کراپنی طرف سے نیوٹرل ہونے کی ناکام کوشش کرتے تھے، انہیں آج بھی پنجاب حکومت کی کرپشن پر کچھ لکھنے یا کچھ کہنے کی توفیق نہیں ہورہی۔ خود شہبازشریف کرپشن سے مکمل بے نیاز لگتے ہیں۔ احد چیمہ کی جائیدادوں، گاڑیوں اور کیش کے حوالے سے ہوشربا تفصیلات میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں مگر شہبازشریف نے چار پانچ دن پہلے ہی اس کی برملا تعریف کی ہے۔

عامیانہ پن کا یہ عالم ہے کہ کسی ہسپتال میں ایک مشین کا اضافہ بھی ہو تو خادم اعلیٰ اس کا افتتاح کرتے تھے۔ لوٹ مار کے قصے میڈیا کی وساطت سے زبان زد خاص و عام ہیں مگر وہ ایک ہی بات کہے جا رہے ہیں کہ دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے توپھانسی دے دیں۔ یہ اعلان ایسا ہی ہے جیسا انہوں نے ماڈل ٹائون کے حوالے سے کہا تھا کہ میرا جرم ثابت ہو جائے تو ہٹ جائوں گا۔

جسٹس نقوی کی رپورٹ نے انگلی ان کی طرف اٹھائی تو پہلے رپورٹ دبا دی۔ پھر انجان بن گئے۔ ماڈل ٹائون کے قتل عام کا ذکر ہوا ہے تو توقیر شاہ صاحب کا معاملہ یاد آ رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس تعیناتی پر سوال اٹھایا تھا۔ اس سوال کا کیا بنا؟ عوام انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں ایک ایسے افسر کی تعیناتی کیوں ہوئی جس کا تعلق ورلڈ سے تھانہ ٹریڈ سے اور جس کا نام قتل عام کے حوالے سے عام سنائی دے رہا تھا، اس تعیناتی کو کالعدم کیوں نہیں کیا جارہا؟ عدالت عظمیٰ کو اس حقیقت کا بھی نوٹس لینا چاہیے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے قریبی کاروباری رفیق کو امریکہ جیسے اہم اور حساس ملک میں سفیر لگا دیا؟کیا یہاں جنگل کا نظام ہے؟

بات اس المیے سے شروع ہوئی تھی جس کا سامنا شہبازشریف کو عدالت عظمیٰ میں کرنا پڑا۔ بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔ اقتدار میں آ کر لوگ بھول جاتے ہیں کہ بقول شاعر ؎

نہ گور سکندر نہ ہے قصر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

مجید امجد یاد آ رہا ہے ؎

سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

قصر و کلاہ و تخت کے سب سلسلے گئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *