قندیل بلوچ اور ہم

چند سال پہلے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر گانوں کا شو شروع ہوا ۔جس کا مقصد نئے اور جوان ٹیلنٹ کو نکھارنا تھا، جنوبی پنجاب کے علاقے سےایک لڑکی اپنی آنکھوں میں کامیابی کی امیدوں کی چمک لیے اسی پروگرام میں حصہ لیتی ہے لیکن آڈیشن کے پہلے ہی مرحلے میں اس پروگرام کی جج بشری ٰانصاری کے ہاتھوں بری طرح تذلیل کروا کے چلی جاتی ہے۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نا تھا کے وہ لڑکی ایک دن ہمارے معاشرے میں ایک ایسا بھونچال لے آۓ گی کے شائستہ زبان بولنے والے بھی طنز کے نشتروں کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر اتر آئیں گے۔ جب تک وہ زندہ تھی اس کی زندگی پر بہت سے لوگوں نے حق جتایا، وہ ایک شعلہ تھی جسکی چمک اور حرارت سے بے قابو ہو کر لوگ اس کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے، ہر شخص اس کی طلب کا دیوانہ تھا، وہ سوشل میڈیا کی جان تھی، اس کی ایک ایک تصویر لاکھوں کی تعداد میں دیکھی جاتی تھیں، اسکی نظروں کو چندیا دینے والی اداوں سے بھرپور ویڈیوز یار لوگوں کی محافل میں زبان زد عام تھیں، یہاں تک کے اس بہتی گنگا میں پاکباز بھی رندانہ حرکتوں پر اتر آۓ اور پھر ایک دن اسکا انتہائی ضروت مند بھائی جو کے اسی کے رحم و کرم پر تھا ،نا جانے کیسے غیرت مند بن گیا اور ایک رات اسے سوتے میں گلا گھونٹ کر مار دیا۔
خبر بنی اسی طرح جیسے اس کی تصاویر اور ویڈیوز جنگل کی آگ کی مانند پھیلتی تھیں اسی طرح چند پارساء جو کے اسکی قربت کے لیے ترستے تھے چپ کر گئے اور بہت سے رند جو کے قربت کے مزے لے چکے تھے کلمہ شکرانہ پڑھا کے چلو بات نا نکلی، دوچار روز اسی طرح دھول اڑتی رہی اور پھر اسی طرح بیٹھ گئی جیسے کے اس کی قبر کی منوں مٹی۔ وہ کوئی سیلیبرٹی نا تھی، وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی مصنوعات کی ماڈل نا تھی، وہ فلم کی ہیروئن نا تھی، اور نا ہی قتالہ سٹیج تھی کے کوئی پاکباز اس کے لیے دعا کرتا اسے اپنی بیٹی بناتا اسکو عزت دیتا۔ اس لیے مر گئی اور کسی نے اس کا یا اس کے بوڑھے ماں باپ کا حال تک نا پوچھا۔ بات اگر یہاں تک ہی ہوتی تو چلو ٹھیک تھا لیکن قربان جاؤں میں ان لبرلز کے جنہوں نے ایک گڑھامردہ اکھاڑنے کا بندوبست کر لیا اور اس قندیل کی ز ندگی پر ایک فلم بنانے کا اعلان کر دیا ۔آجکل کے دور کی سب سے مشہور اداکارہ کو لے کر جو کے اس فلم میں قندیل کا کردار ادا کرے گی۔
چلو یہ تو ایک خبر تھی نا جانے اس کی کہانی کیا ہو، کس طرح فلمائی جانی ہو، سین کیسے ہوں، لیکن ہم ٹھہرے نہایت ہی عقل مند فورا ًاس کے خلاف محاذ آرائی، فورا ًاپنا اپنا منجن ٹھیلوں پر رکھا اور نکل آۓ سڑکوں پر جہاں چار بندے دیکھے فورا ًمجمع لگایا اور اپنے مال کی تعریف و توصیف۔ایک حلقہ اس کو فحاشہ، رنڈی و طوائف نا صرف سمجھتا ہے بلکہ کھلے عام اس بات کا اظہار بھی کرتا ہے، جبکہ چند دوسرے دوستوں نے انکو ایسے الفاظ کے استعمال سے منع کیا۔
اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے ذرا ماضی کی بھی بات ہو جاۓ ۔پاکستان بننے سے پہلے کا زمانہ نواب سردار خان صاحب اور رئیسوں کا دور شاعری ادب موسیقی و گلوکاری و فنون لطیفہ کا تمام اصناف اپنی اپنی بلندی پر، اور جو طبقہ اس وقت سب سے زیادہ اس میں مصروف تھا وہ تھا طوائف کا۔ آپ اس زمانے کے شعراء کی بات کریں اخبارات و رسائل پڑھ لیں یا کسی کی بھی سوانح حیات سب میں طوائف کا ذکر جلی حروف میں ملتا ہے، وہ نا صرف شاعری و ادب کا شوق رکھتی تھیں بلکہ ان میں سے کچھ خواتین شعر بھی کہا کرتی تھیں، شعراء ان کی محافل میں شعر پڑھا کرتے تھے اور وہ چند مقامات پر شاعروں کو لقمے بھی دے جاتی تھیں۔ انداز تکلم و رکھ رکھاو تو ان پر ختم تھا، بڑے بڑے نواب اور امراء اپنے بچوں کو ان کے پاس تربیت کے لیے بھیجتے تھے۔ ان طوائفوں کا وظیفہ لگا ہوا تھا اور کئی تو جاگیروں تک کی ملکیت رکھتی تھیں۔
اگر ہم پاکستان بننے کے فوراً بعد یا پہلے کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو فلم انڈسٹری کے ساتھ ناول نگاری میں بھی طوائف کے مضبوط کردار کا احاطہ کیا گیا، میرے قارئین نے دیوداس فلم تو دیکھی ہی ہوگی ( دلیپ کمار والی، جو کے بعد میں شاہ رخ کو لے کر دوبارہ بنائی گئی) اسی طرح پاکیزہ ( کمال امروہی) ایک ایسی فلم تھی جس نے کے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور امرا و جان ادا ،میں ریکھا ایک طوائف کے روپ میں ایسی جاندار اداکاری کر گئی کے آج تک ان کو Cult فلموں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور پاکستان بننے کے بعد وقت نے پلٹا کھایا اور اس معاشرے میں طوائف جو کے علم و ادب رکھ رکھاو اور تہذیب کی علم بردار تھی کی جگہ فحاشی و عریانی نے لے لی۔
کیا ہم نے کبھی اس معاملے میں سوچا کے ایسا کیوں ہوا ۔جس کے پاس ہمارے بزرگ اپنے بچوں کو تربیت کے لیے بھیجا کرتے تھے وہ اس معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ کیوں بن گیا ؟عورت تو صدیوں سے ہی مرد کی ذہنی اور جسمانی تسکین کا محاصل تھا، لیکن رنڈی کی شکل میں ہی کیوں؟ ہم نے جس طبقے کو سر آنکھوں پر بٹھا رکھا تھا اب اسی طبقے کو اتنا گھٹیا، اور دشنام درازی کے لیے کیوں چن لیا؟
چند دن پہلے احمد بشیر صاحب کی ایک کتاب ” جو ملے تھے راستے میں “جو کے شخصیات کے خاکوں پر مبنی تھی زیر مطالعہ تھی۔ اس کتاب کے شروع میں انہوں نے لکھا کے اس کتاب کے چھپتے ہی اسلامی فرنٹ نے ان کے خلاف کفر اور قتل کا فتویٰ دیا۔
میں کہتا ہوں بالکل ٹھیک دیا تھا کیونکہ انہوں نے ایک ایسی شخصیت کا ذکر کیا جو کے مولانا تھے ۔باریش تھے لیکن احمد بشیر کے ساتھ بیٹھ کر شراب پیتے تھے، دن کو وہ مولانا، احمد بشیر کی صحافی غلطیاں سنبھالتے اور شام کو ایک طوائف کے کوٹھے پر وہ مولانا کو سنبھالتے ۔شاید سچ ہم لوگوں سے برداشت نہیں ہوتا اسی لئے۔۔۔۔
چلیں جناب مان لیا کے لڑائی ملا اور لبرل کی ہے، لیکن ایک سوال ادھر یہ بھی ہے کے پاکستان بننے کے کافی دیر تک اسلامی مملکت پاکستان میں شراب پانی کی طرح استعمال ہوتی رہی اور ہر بڑے ہوٹل میں رات کو کیبرے ڈانس ہوتا رہا ۔اس پر تو ہمارے دائیں طرف رہنے والے حضرات کچھ نہیں بولتے کے چھوڑو یارا ماضی کا قصہ ہے، اور اگر اس زمانے کے کسی ملا یا اس ذہنیت والے کی بات کی جاۓ تو ان کے نزدیک اسکا مردہ خراب کیا جارہا ہے جو مر گیا اس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، جناب قندیل بجھ گئی اور جب اسکی بات کی گئی تو فورا ًرنڈی اور فحاشہ کا خطاب، کیا اب اسکا مردہ خراب نہیں ہو رہا، اور ایک پاکباز ملا جو اسکی قربت کے لیے مرا جارہا تھا وہ ابھی بھی ان ہی القابات و خطابات کا مستحق جو کے اسکو مذہبی خدمات کے صلے میں ملے تھے وہ ابھی بھی مولانا اور جسکے ساتھ مشہور ہوا وہ فحاشہ؟؟؟/
جناب اس ملک کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کتنے دائیں بازو کے اور ملا حضرات ہیں لیکن انہوں ہی کے ہوسٹلوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر ایک لفظ نہیں، اسکا تدارک تو دور کی بات اسکے متعلق کبھی چند الفاظ۔۔۔
سارا سارا سال انتہائی دلرباہی انداز سے ہمارے دلوں کو دھڑکانے اور شہوت انگیز اداکاری سے ہماری آنکھوں کو گرمانے والی اداکارائیں رمضان میں ہمیں اسلام سکھاتی ہیں اور بڑے بڑے جغادری ملا ان کے ساتھ بیٹھ کر پروگرام کرتے ہیں ان خواتین و حضرات کے لیے کوئی لقب انکو کوئی خطاب؟
ہمارے ایک ملا صاحب کے میٹھے پان بہت مشہور ہیں کیونکہ وہ جب بھی مشروب مغرب پیتے ہیں پان کھاتے ہیں، اور ان کی مشروب مغرب اور صنف نازک سے محبت کسی سے پوشیدہ نہیں۔۔ کیا ان کے لیے کوئی لقب و خطاب؟ اس ملک میں بہت سے لوگوں نے اپنی ا پنی قندیلیں جلا رکھی ہیں کبھی ان پر کریک ڈاؤن ان کے لیے کوئی لقب و خطاب۔
ویسے کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے اس ملک میں سب سے زیادہ آزادی کس کو ہے؟
ایک لبرل کو یا ایک ملا یا اس جیسی سوچ رکھنے والا ہے یا کے کالج یونیورسٹی سے پڑھنے والا۔؟
لیکن ان سب باتوں کا مطلب یہ ہوا کے
“آپکی لڑائی تو بائیں بازو سے تھی اور آپ نے قندیل کے کندھے پر بندوق رکھ کر فائر کر دیا۔”

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *