• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہاتھی پر سوار ہوکر جگنو پکڑنا(چیانگ مائی تھائی لینڈ میں گزارے ہوئے ایام وارفتگی)۔۔۔محمد اقبال دیوان

ہاتھی پر سوار ہوکر جگنو پکڑنا(چیانگ مائی تھائی لینڈ میں گزارے ہوئے ایام وارفتگی)۔۔۔محمد اقبال دیوان

پچھلے دنوں ہم تھائی لینڈ کے جنوبی حصے چیانگ مائی میں تھے۔ ان کا جنوبی حصہ ہمارے نارتھ جیسا پہاڑی ہے مگر ایسا بدحال،جھگڑالو اورمیلا نہیں۔مری والوں کی طرح ان کے مقامی دکاندار سیاحوں کو ڈنڈے سے ان کی گھر کی عورتوں کے سامنے کوٹتے نہیں۔ہمارے جنوبی علاقوں کے باشندے خوب صورت ہیں مگر ان کے جنوبی علاقوں کے باشندے بہت زیادہ تعلیم یافتہ، مہذب اور صفائی پسند۔پہاڑوں کا حسن یکساں سمجھ لیں اور ان کے جیسی سہولیات اور امن و امان کا ہماری طرف تو سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ تھائی لینڈ کے شمالی علاقوں میں سمندر ہے،مسلمان بھی ہیں اور ملائشیا بھی ساتھ ہی لگتا ہے۔سمندر کی وجہ سے یہاں پتایا، کوہ سموئی جیسے خوب صورت عیاشی کے مراکز ہیں۔جنوب زیادہ کلچرل ہے۔

آپ کو ملک کے عین وسط میں واقع بنکاک میں زیادہ دلچسپی ہے۔اب وہ زمانے لد گئے ۔ساٹھ سے ستر کی دہائی میں آنے والوں کے لیے انگریزی کے ایک گانے کے بول تھے One night in Bangkok and even a tough man tumbles (بنگاک کی ایک رات اور مرد جواں کی ٹانگیں بھی کپکپانے لگتی ہیں)۔یہ گانا وہاں کے ہر ڈسکو میں بجتا تھا۔ایرپورٹ پر گولڈ لیف کے پانچ کارٹن ہوں تو ایک کسٹم والا رکھ لیا کرتا تھا۔آپ سے پوچھ لیتا تھا کہ اگر رات گزارنے کے لیے خاتون درکار ہوں تو اس کے دامن میں دنیائے حسن کی جواں سال، لپکتی ،دمکتی چنگاریاں بھری پڑی ہیں۔ آپ اگر آتش عشق میں کودنے کے لیے  بے تاب ہوں تو وہ شبانہ اجرت پر انہیں مقام مقصود پر پہنچا سکتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ویت نام کی جنگ زوروں پر تھی۔امریکی سپاہی بٹالین کی صورت میں یہاں آیا کرتے تھے۔اب ایسا نہیں۔ہم ریکو ڈگ میں سونے کے ذخائر سے اور سوات میں زمرد کی کانوں سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے جو تھائی لینڈ نے عصمت فروشی سے اٹھایا۔ بنکاک کاSuvarnabhumi Airport دیکھیں تو  وہاں دستیاب سہولیات کا موازنہ ہمارے اپنے۔ نئے پرانے ائیر پورٹس سے کریں  تو یوں لگے گا جیسے وہاں پر جابجا دکھائی دینے والے میلے میلے شلوار قمیص میں لتھڑے بے ہنگم لوگوں کو دیکھ کر بارش میں کیچڑ سے لت پت فیض آباد راولپنڈی کا لاری اڈہ یاد آجاتا ہے-

خوش حالی آتی گئی تو اپنی خواتین کو غیر محسوس طریقے پر باقاعدہ ملازمتوں کے ذریعے اس پیشے سے باہر کھینچتے رہے۔تعلیم پر بہت زور دیا گیا۔جن دنوں عصمت فروشی زوروں پر تھی۔ہم میرا سوہنا شہر قصور نی اور ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی گاتے تھے۔انہوں نے چیانگ مائی یونی ورسٹئ بنادی اس نئی یونیورسٹی کے روح رواں وہاں کے شہنشاہ بھومی بھول تھے۔وہ کسی پراجیکٹ کے نگران ہوں تو وہ تھائی لینڈ میں کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔فوج کا سربراہ ان سے ملنے آتا تھا تو گھٹنوں کے بل چلتا تھا۔یہ نظارہ ہم نے خود بھی موجودہ حکمران کے فوجی اے ڈی سی کو سگار پیش کرتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں دیکھا ہے۔وہ ہم سے اس کی چیتاونی کے  باوجود جب ان کے بادشاہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھے تو ناراض ہوا تھا، ہم نے جتادیا کہ ہ دین میں مصطفوی اور تعلیم میں امریکہ کے ہیں  سو برابری کے قائل ہیں۔

جنرل اوچا اور ان کے عسکری ہم عصر تھائی بادشاہ کے حضور گھٹنوں کے بل

یہ جو تصویر آپ دیکھتے ہیں یہ مریم نواز کے میڈیا سیل نے گوگل سے نکال کر رکھی تھی کہ آئندہ انتخابات کے بعد ان کا ارادہ نئے فوجی چیف کے ساتھ یہی کچھ کرنے کا ہے۔مودی جی نے گجرات میں کسی کو کہا تھا کہ یہ کام پاکستان میں صرف پنجابی وزیر اعظم ہی کرسکتا ہے۔

ویت نام کی جنگ میں عصمت فروشی کی آمدنی سے انہوں نے چیانگ مائی یونی ورسٹی بنا ڈالی۔پندرہ میل اور چار کیمپس  پر مشتمل۔گوتم بدھ اور بادشاہ کو یہاں بہت اہمیت حاصل ہے۔ان کی شان میں معمولی سی گستاخی جیل پہنچا دیتی ہے۔گریجویشن پر بادشاہ اور رانی یہاں تقسیم اسناد کے لیے آتے ہیں۔شہر میں تیس سے زائد پانچ ستارہ ہوٹل ہیں مگر یہ عام طالب علموں کے ساتھ اس رات ان کے ہاسٹل میں قیام کرتے ہیں۔سکیورٹی باہرتو ہوتی ہے مگر یونی ورسٹی کے اندر ان کے گارڈ بھی بندوق بردار ی کے مجاز نہیں۔یہ ہے علم کا اور درس گاہ کا احترام، مساوات اور احساس تحفظ۔

اب ان کی اپنی خواتین عصمت فروشی کے گھناؤنے پیشے سے فارغ ہوگئی ہیں۔خال خال اور مجبوری میں پارٹ ٹائم آمدنی کی وجہ سے کوئی موجود ہو تو ہو۔ورنہ اردگرد کے ممالک کی جواں سال لڑکیوں کو یہ فروغ سیاحت کے لیے ویزہ دے دیتے ہیں۔ان کی وجہ سے مرد سیاح آتش شوق بجھانے جوق در جوق آتے ہیں۔ہوٹل سے لے کر دیگر معاملات تک  ان کے اپنے باشندوں نے سنبھا ل لیے ہیں۔ ہر سال تین کروڑ سیاح آتا ہے جن میں  تیس لاکھ چینی بھی شامل ہیں۔

جن دنوں عصمت فروشی زوروں پر تھی۔ چیانگ مائی بھی عصمت فروشی کا بڑا مرکز تھا۔

چیانگ مائی نائٹ بازار

ساتھ ہی برما لگتا ہے،چرس بکثرت مل جاتی تھی، ہپی یہاں غول کے غول آجاتے تھے۔ یہاں سے وہ ہندوستان براستہ برما چلے جاتے تھے ،جو ان دنوں ہپی تحریک کا بڑا مرکز تھا۔ان ہی دنوں انہوں نے چیانگ مائی یونی ورسٹی بنا ڈالی۔پندرہ میل اور چار کیمپس پر پھیلی اس یونی ورسٹی کا ماحول اتنا رومانچک ہے کہ پاکستانی جامعات کے طالب علم لڑکیوں لڑکوں کو اگر یہ دستیاب ہو تو اس کی پارک جھیلوں سے منہ  موڑ کر ایک دوسرے کا ہاتھ چھوڑ کر گھروالوں کے سمجھانے پر کلاس میں نہ جائیں۔ لڑکے لڑکیاں ایک ہی ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ ہاسٹل سے کلاس میں باوردی درست، لائین بنا کر طالب علم کلاس کا رخ کرتے ہیں۔۔آگے لڑکیاں پیچھے لڑکے۔۔لڑکوں کو البتہ یہ شعر پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے کہ ع
آگے آگے جھومتی جاتی ہے وہ محشر خرام
پیچھے پیچھے نقش پا کو چومتا جاتا ہوں میں

ہوسٹل سے کلاس میں جاتے ہوئے

کیمپس کے مین گیٹ پر بس اور ڈیپارٹمنٹ تک ان کی اسپیشل ٹرام نما بس لے جاتی ہے۔باہر کے لوگوں کو کلاس روم تک جانے کی اجازت نہیں۔
چیانگ مائی میں رات کو نائٹ بازار لگتا ہے،کنڈے کی اجازت نہیں،چار کیبنوں کو ایک میٹر ملا ہے۔ ہزاروں کیبن لاکھوں سیاح، شہر کی اپنی آبادی تو بمشکل ڈیڑھ لاکھ ہے۔جب شام میں دکانیں بند ہوجاتی ہیں تو یہ ٹھیلے لگ جاتے ہیں۔ہم صبح سیر کو نکلتے تو یہ عالم ہوتا تھا کہ جیسے یہاں کوئی رات کو آیا ہی نہ تھا۔جانے سے پہلے اپنی گندگی سمیٹ کر تھیلے میں بند کرکے کنارے رکھ دیتے ہیں جسے میونسپلٹی والے راتوں رات اٹھا کر سڑک دھودیتے ہیں،نہ بدبو، نہ گندگی۔

ہمارے بھانجے کے پاس سالانہ پوائنٹس جمع تھے۔وہ ایسے ہوٹلوں کا پری و یلج ممبر ہے۔اس سال اس کے بہت سے پوائنٹ اس ہوٹل میں جمع تھے، استعمال نہ کرتا تو ضائع ہوجاتے۔یوں تین سو ڈالر کا کمرہ ہمیں پچاس ڈالر کا مل گیا،ناشتہ شامل نہ تھا مگر ان کے ٹھیلوں کی خوراک پانچ ستارہ ہوٹلوں سے زیادہ صاف اور لذیذ ہوتی ہے۔اداکارہ ڈمپل کپاڈیا کے داماد فلم پیڈ مین والے اکشے کمار یہاں ایسے ہی ٹھیلے پر کھانا بیچتے تھے۔ ہمارے ناشتے کا معاملہ یوں طے ہوا کہ ایک مسلمان جوڑا ہوٹل کی پچھلی گلی میں ٹھیلا لگاتا تھا۔صبح صبح گائے کا تازہ مکھن۔ گھر کی دیسی مرغی کا انڈہ آملیٹ شہد،دیسی چائے اور دستانے پہن کر بنایا ہوا پراٹھا اور بل کُل اسی روپے۔

ہوٹل کی جو گیسٹ ریلشنز منیجر تھی۔اس کی انگریزی عمدہ اور مسلمانوں سے بدگمانی عروج پر۔ہوٹل کی جانب سے سری لنکا میں  تعینات تھی تو وہاں بھی اس کا دل مسلمان پر ہی آیا۔شادی کرلی۔نام تو تھائی زبان میں سانوک تھا جس کا مطلب ایک شاندار دعوت ہوتا ہے مگر سب اسے سنی کہتے تھے۔سو یہ رعایت ہمیں بھی مل گئی تھی۔ ڈئینئل پرل،سعید شیخ،شعیب خان،فہیم کمانڈو،عزیر بلوچ حافظ سعید ،شاہ تراب الْحق ،مفتی شامزئی ،حنیف بلو،عظیم احمد طارق ،آصف زرداری ، نعمت اللہ خان اور نئپئر روڈ کی سکہ بند نائیکاوئں جیسے ہر فن مولا لوگوں سے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں ملاقات کرکے ہمیں میز کرسی پر بیٹھ کر لوگوں کو تھوڑا بہت پرکھنا آگیا ہے۔

ہم نے سانوک سے پوچھ لیا کہ معاملہ ایک مسلمان پر آن کر رک گیا یا دل کے  کچھ اور افسانے تھے جو نگاہوں سے زباں تک پہنچے۔کہنے لگی بنکاک میں تعیناتی ہوئی تو ایک کویتی سیاح ریشان سے یارانہ ہوگیا۔اپنے عربی نام کا مطلب’اچھا انسان‘ بتاتا تھا۔دو سال بعد جب اسے علم ہوا کہ میں اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوں تو وہ مسلمان اور اچھا انسان دوڑ گیا۔آج تک نہیں آیا۔کویت میں بھی اس کا نمبر بند ملتا ہے۔ہم نے کہا ایک تو مسلمانوں کے نام پر نہ جایا کر، ہمیں آج تک اسلم اور محمود نام کا کوئی اچھا انسان نہیں ملا۔یوں بھی جب مسلمان مردوں سے ڈیل کیا کر تو دو باتوں کا دھیان رکھ، اپنے نام سانوک کا مطلب ’شاندار دعوت‘ مت بتایا کر، ہم ہر دعوت کو افطاری سمجھ کر ٹوٹ پڑتے ہیں،آخری کھانا سمجھ کر کھاتے ہیں۔ہماری سیاسی جلسوں کی دعوت اور شادی پر کھانا کھلنے کا منظر تو اگر دیکھ لے تو تجھے یقین آجائے گا کہ ہلاکو خان بغداد کے مسلمانوں پر ایسا قہر بن کر نہیں ٹوٹا ہوگا جیسا ہم ان ڈشوں کو تاراج کرنے کے لیے حملہ آور ہوتے ہیں دوسرا  اس شعر پر بھی نظر رکھا کر کہ ع
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

سانوک نے ہمیں ایک ٹیکسی ٹور دے دیا۔رقم مناسب تھی،ہم نے کہا تیرا ٹیکسی ڈرائیور پراوت اچھا ہوا تو سو بھات تیری ٹپ ہوگی۔کہنے لگی بہت اچھا ہے۔ میرا سب سے چھوٹا ماموں ہے۔پہلے فوج میں تھا۔ ہم نے کہا فوجی ہے تو رہنے دے۔اس نے تو ساری زندگی کوئی آزا د اور جرات مندانہ فیصلہ نہیں کیا ہوگا۔اس نے کہا نہیں پراوت کو فوج کی نوکری سے حکم عدولی پر نکال دیا تھا۔دو ہی شوق ہیں باتیں کرنا اور کتابیں پڑھنا،عورتوں سے بھی بہت دوستی ہے،مساج والیوں سے خاص طور پر۔

پراوت وقت مقررہ پر شاندار سی کار لے کر آگیا۔کہنے لگا رات سانوک بہت خوش تھی۔کہنے لگی سب مسلمان برے نہیں ہوتے۔ہم سب نے مذاق اڑایا کہ’کہیں اس نئے مہمان کے حوالے سے تیرا Melt Down تو شروع نہیں ہوگیا‘ تو کہنے لگی’نہیں ان کی عمر مجھ سے کچھ زیادہ ہے‘ تو میں نے سمجھایا کہ’جن کی عمر تیرے برابر تھی انہوں نے تجھے   کونسا نہال کردیا۔ہم بڑی عمر کے مردوں کے مسائل اور مطالبات کم اور وسائل اور قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔جھاگ بھی کم بناتے ہیں اور Coconut water کی طرح فرحت بخش اور صحت افزا ہوتے ہیں‘۔کہنے لگیkhi chang chap takkataen جس کا تھائی زبان میں مطلب ہوتا ہے کہ ہاتھی پر سوار ہوکر جگنو پکڑنا۔

پراوت واقعی بہت قابل،خوش مزاج اور باعلم تھا،پہلے ہمیں چیانگ مائی یونی ورسٹی دکھانے لے گیا۔وہاں سے نکل کر ہم نے   برما کی سرحد جو چیانگ مائی سے تین سو ذرا کم میل دور ہے اس کے قرب و جوار میں واقع مخصوص مہاجر قبائل کے دیہاتوں کے بود وباش کا جائزہ لینے کی ٹھانی۔
پروات سے پوچھ لیا کہ’وہ بھی بدھسٹ ہے،اس کے ملک میں بھی بہت مسلمان آباد ہیں چھ فیصد آبادی مسلمان ہے۔انہیں دین کے پرچار کی بھی آزادی ہے یہاں میانمار (برما)والا سلوک کیوں نہیں۔برما میں روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ اتنا ظلم کیوں ہورہاہے۔کیا بدھ مت میں ا س طرح کے مظالم روا رکھنا جائز ہے۔برما سے جو روہنگیا تھائی لینڈ آنا چاہتے ہیں انہیں کیوں سہولت نہیں دی جاتی۔کیا یہ ایک انسانی مسئلہ نہیں‘۔ہمارا خیال تھا سابق فوجی ہے۔سیاحوں کی ٹیکسی چلاتا ہے۔ہمارے میڈیا پردکھائی دینے والے ٹکے سیر دفاعی تجزیہ نگاروں جیسا کم علم ہوگا مگر ایسانہ تھا۔

شستہ انگریزی میں جو آپ کو تھائی لینڈ میں خال خال ہی سننے کو ملتی ہے کہنے لگا کہ’آپ کے سوال کے دو پہلو ہیں ایک مذہبی اور دوسرا سیاسی۔۔بدھ مت تو چھوڑیں میرے نزدیک ا س طرح کے مظالم روا رکھنا کسی بھی انسان کو زیب نہیں دیتا مگر شام اور یمن میں جو انسانوں کا بے دریغ قتل عام جاری ہے اس میں تو مارنے اور مرنے والے دونوں ہی مسلمان ہیں۔میرا خیال ہے ان ملکوں کے باشندوں کے بارے میں بھی اسی ہمدردی سے سوچا جانا چاہیے جتنی ہمدردی   روہنیگیا مسلمانوں کے معاملے میں ظاہر کی جاتی ہے۔دوسرا پہلو میرے ملک سے متعلق ہے تو میرا اندازہ ہے کہ آپ کو فاصلوں کے بارے میں علم نہیں، روہینگیا کا ارکان صوبہ اور ہمارا چیانگ مائی ساڑھے چھ سو کلو میڑ کے فاصلے پر ہیں۔ہم بدھ مت والے بھی ہیں تو شاید ان کو یہاں آنا اتنا مرغوب نہ ہو جتنا بنگلہ دیش جو ان سے سو میل سے بھی کم دور ہے۔یہ اصل میں ہیں بھی بنگالی باشندے۔اب دیکھیں نا، رنگ، نسل،زبان اور سب سے بڑھ کر مذہب ایک ہے مگر بنگلہ دیش کا رویہ ہمارے جیسا اعلی نہیں۔بہت کم مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہمارے وزیر دفاع نے میانمار فوج کے سربراہ کو طلب کرکے سخت جھاڑ پلائی تھی کہ باز آجائیں ورنہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے تھائی لینڈ کے مسلمان اگر تخریب کاری پر اتر آئے تو اس کے نتائج دونوں ممالک کے لیے بڑے بھیانک ہوں گے۔اس جھاڑ کے بعد ہی یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا ہے ورنہ برما کی فوج باز آنے والی نہ تھی۔تمہارا ملک تو ان کو لڑاکا جہاز بھی بیچتا ہے۔ہمارا وہ عالم تھا کہ۔۔

کہنے سے ہو ملال تو ہم کیا جواب دیں،

مشکل ہو عرض حال تو ہم کیا جواب دیں،

تم کو نہ ہو خیال تو ہم کیا جواب دیں۔۔

اسی بحث و مباحثے میں ہم ایک ایسی بستی میں چلے گئے جس کے بیچ برما کے پہاڑوں نیچے اتر کر شور مچاتا زرخیز نارنجی مٹی اور تیز دھارپانی والا دریائے می تانگ گزرتا ہے وہاں اس نے ہم سے Bamboo Rafting کرائی،ہاتھی پر بٹھاکر دریا می تانگ عبور کرادیا او عورتوں سے اپنی دوستی کا پہلا ثبوت یہ دیا کہ ایک حسین Kayan لڑکی کے اسٹال سے ہزار بھات کی خریداری کرادی۔

ایلیفینٹ رائڈنگ اینڈ بمبو رافٹنگ

کایان خواتین امریکی،پنجابی اور حیدرآباد دکن کی خواتین کی طرح اپنے مردوں کے مقابل بہت جفاکش اور مضبوط ہوتی ہیں۔ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ جانے کس نے انہیں یہ سمجھادیا کہ ایرانی مسلمان لمبی گردن دیکھ کر شراب کی صراحیاں توڑ دیتے ہیں۔قلقل مئے سے اس وارفتگی میں وہ تمہاری گردن بھی ناپ لیں گے سو بے چاریاں پیتل کے پے در پے چھلے پہنے رہتی ہیں۔اس خاتون نے دو کلو کا یہ طوق ہم سے اٹھوایا اورکہنے لگی ہم لے جائیں۔اپنی کسی ہوتی سوتی کے گلے میں بانہوں کی جگہ ڈال دیں۔

لانگ نیک ،کایان گرل

ہم نے پراوت سے پوچھا کہ کیا سانوک ہمارے پیار میں یہ طوق الفت گلے میں پہن لے گی؟ بتا تیری رضا کیا ہے؟۔تیری تو بھانجی ہے۔ کہنے لگا وہ تمہیں تیسرے مسلمان کے طور پر اپنانے پر سر دست رضامند نہیں دکھائی دیتی۔ اس کا کہنا ہے کہ زندگی بھی اسٹار بک کی گرما گرم کافی کی طرح ہوتی ہے،پہلے گھونٹ پر زبان جل جائے تو ذائقہ جاتا رہتا ہے‘۔ہم نے جتلایا کہ’خود ماموں ہو تو ہمیں تو ماموں نہ بناؤ۔سانوک کی زبان دو دفعہ جلی ہے۔اس نے وضاحت کی کہ ہاں تب وہ تیس برس سے کم عمر کی تھی۔تیس برس کی عمر کے بعد تو عورت آتش عشق پر بھی ایسے ہی ماتم کرتی ہے جیسے وہ آرمانی کا فرنٹ اوپن گاؤن پہن کر ریمپ پر کیٹ واک کررہی ہو۔اس کا جملہ بہت وزنی ہے کہ وہ ہاتھی پر سوار ہوکر جگنو نہیں پکڑے گی یعنی کچھ دیر کی  دل چسپی کے لیے لمبا نقصان نہیں اٹھائے گی۔ ہم نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ سانوک کا مسئلہ وہی ہے جو ہمارے ہاں مقابلے کے امتحان میں جس کے نتیجے میں پاکستان پر حکمرانی کی فرینچائز مل جاتی ہے ،ایک سوال کی صورت میں اٹھایا گیا تھا کہ صبح وصال عاشق اور قاتل میں کیا قدر مشترک ہوتی ہے۔کامیاب امیدوار نے جواب دیا کہ ’وہ جو وجود سامنے ڈھیر بے حس و حرکت پڑاہے اسے کیسے ٹھکانے لگایا جائے‘۔۔پراوت نے غور سے دیکھا۔سوال فیلڈ مارشل کے لیول کا تھا۔ہم نے جانے کسی جھپک میں اس سے لفٹیننٹ اور کپتان لیول کے سابق فوجی سے پوچھ لیا تھا۔

یہاں ہاتھیوں کے حوالے سیر تفریح کا ایسا مرکز ہے کہ جس کا جنگل کا ٹوائیلٹ چیف منسٹر ہاؤس کے ٹوائلیٹس کو شرماتا ہے۔پروات نے ہم سے بیل گاڑی بھی چلوائی اور پانچ ایسے گاؤں دکھائے جہاں برما سے آئے ہوئے مختلف قومیتوں والے مہاجر قبیلے آباد ہیں۔ان کے گاؤں میں تعلیم، پانی  بجلی ہسپتال کی سہولت کراچی کی بستیوں کو شرماتی تھی۔انٹرنیٹ دوڑتا تھا۔ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ ہاتھیوں کوبھی یرقان ہوجاتا ہے اور ان کی ڈرپ ان کے سر کی اوپر کی سطح پر لگائی جاتی ہے۔

دوسری بات جس بات نے ہمیں حیران کیا کہ ہاتھی چھوٹا ہوتا ہے تو لوہے کی موٹی زنجیر پیر میں ڈال دی جاتی ہے،بہت زور لگاتا ہے پھر سمجھ جاتا ہے کہ یہ نواز شریف کی جمہوریت ہے اس سے پیچھا نہیں چھوٹے گا۔ اس زنجیر کا بعد میں وزن بتدریج کم کردیا جاتا ہے۔ تب تک وہ برین واش ہوچکا ہوتا ہے کہ رہائی اور من مانی ممکن نہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان میں لوگ بھول جاتے ہیں

جنرل پرویز مشرف اور چوہدری افتخار اور انور ظہیر جمالی جیسے جرنیلوں ججوں سے،شیر شاہ سوری، ابراہام لنکن جیسے طرز عمل کی توقع گھپ اندھیرے کمرے میں ایک ایسی سیاہ بلی کی تلاش ہے جو سرے سے وہاں ہے ہی نہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ عدلیہ،اسٹیبلشمنٹ سب کے سب ادارے ضرور ہیں لیکن ان کاخمیر، ڈی این اے اور فطرت بیوروکریسی والی ہے ۔ ان کے سربراہان بہر طور انسان ہوتے ہیں۔دونوں اداروں کے بڑے کرتا دھرتا انگریزی کی اصطلاح میں بہت روایت پسند Conformist ہوتے ہیں۔بلندی کا مسئلہ یہ ہے کہ اوپر جاؤ تو آکسیجن کم ہوجاتی ہے،سر چکرانے لگتا ہے،خوف بڑھ جاتا ہے۔بیٹی بڑی اور بیٹا چھوٹا ہوجاتا ہے۔بیٹی کے لیے شادی کا سامان سرکاری ایوانواں میں کرنی اور بیٹے کے لیے جہنم کا ایندھن اور بے صلاحیت کی اعلی ملازمت ڈھونڈنی ہوتی ہے۔ سو جرات مندانہ اور باضمیر فیصلے ذرا ناممکن ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں ضمیر تو یوں بھی پرائیوٹ مجروں کی طرح ہوتا ہے اس میں سب کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اس بات کو سمجھنا ہو تو ہم نے ڈیفنس کے گلی نمبر چھبیس کے کونے پر کھڑے سپاہی کو اپنا تعارف کرائے بغیر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ کسی پراڈو، سرکاری کار,کسی ویگو کو نہیں روکتا،اس کا نشانہ یہ موٹر سائیکل والے ہی بنتے ہیں۔ کہنے لگا اگر آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں دو ہزار بن گئے تو آدھے بڑوں کے آدھے میرے۔پراڈو والا رکتے ہی فون کرے گا۔دس منٹ کی جھک جھک کے بعد ایس پی صاحب کے دفتر حاضری ہوگی۔وہ کرسی پر بیٹھا ہوگا میں حفظ مراتب میں اس کے سامنے مجرم کی طرح کھڑا ہوں گا۔اس دوران کوئی بدمزگی ہوئی ہے تو میری ڈیوٹی کٹی پہاڑی پر لگ جائے گی۔آنا جانا جیب سے۔بہتر نہیں کہ اپنے جیسے غریب لوگوں سے پیار کرلوں۔ ہزار پندرہ سو روپے گھر لے جاؤں۔

پاکستان کے بڑے چیف بھی جب طاقتور لوگوں سے ڈیل کررہے ہوتے ہیں تو ٹریفک کے سپاہی اللہ دتا کی سوچ رکھتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کا دن آنے سے پہلے کچھ اہل و عیال کے لیے فائدے سمیٹ لیں۔
برما کی سرحد سے تھکن سے چور واپس لوٹ رہے تھے تو پولیس کی ایک کار نے پیچھے سے آن کر تعاقب کیا اور سائیڈ پر روک کر ہمیں تو کچھ نہیں کہا مگر پراوت سے دس منٹ تک ہمارے بارے میں سوال کرتے رہے کہ وہاں برمی آبادیوں میں کہیں ہم روہنگیا مسلمانوں کا بدلہ لینے کے لیے مقامی ایجنٹ تو بھرتی نہیں کرلیے گئے۔جب تسلی ہوگئی۔دو ایک فون ادھر ادھر کرلیے جانے کی اجازت مل گئی۔پراوت کا خیال تھا کہ وہ جو دو خواتین ہمیں دیکھ کر اچانک ایک گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔جنہوں نے ہمیں مفت میں ناریل پانی بھی پلایا تھا ان میں ملگجی رنگ کے بلاؤز والی شاید آپا سعیدہ جاسوس تھی۔آب پارہ والوں کے لیے کام کرتی تھی۔

جاسوس خواتین

اب آپ سمجھتے ہیں کہ گھڑ سواری اور ہاتھی پر بیٹھنا بینٹلے اور فراری کی طرح آرام دہ ذریعہ سواری ہے۔پراوت نے بتایا کہ شہر میں اس کی دوست کا اپنا ایک مساج پارلر ہے مگر یہ بہت نجی قسم کا ہے سارا انتظام اس کے گھر میں ہی ہے ۔ہم نے کہا مومن تو زمان و مکان اور فریب وہم و گماں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔وہ کہنے لگا کہ اس کام میں چند خواتین کی شرکت داری ہے،اشتہار کوئی نہیں،صاف ستھرا مگر بے حد پیشہ ورانہ معاملہ ہے ۔اس کے جیسے ٹورسٹ گائیڈ ٹوٹے بھجے مرد،عورتوں کو وہاں لاتے ہیں۔ایک گھنٹے کے روایتی تھائی مساج کے پاکستان کے دو ہزار روپے۔فون پر پتہ چلا کہ مالکن ہمارا مساج خود کریں گی ۔یہ بی بی کسی زمانے میں چیانگ مائی میں مائی تھائی کی یعنی کک باکسنگ کی خواتین کی چمپئین تھیں۔شادی ہوگئی۔پختون کہتے ہیں جو اونٹ پالتے ہیں ان کے دروازے بھی بڑے ہوتے ہیں ہم نے سوچا اس کا میاں بھی جاپانی مارشل آرٹ کینڈو کا بلیک بیلٹ ہوگا مگر پراوت نے بتایا کہ کسی ویت نامی عورت کے چکر میں ملک اور اسے دونوں کوچھوڑ گیا ہے اور سائیگاوں میں ٹیکسی چلاتا ہے۔

مساج پارلر گھر ہی میں قائم تھا۔وہاں موجود تین عدد بیبیوں کو دیکھ کر لگا کہ یہ خواتین بالکل گلیمرس نہیں،جس طرح پی آئی اے کے جہاز میں بیٹھ کرفضائی میزبانوں کی شکل اور سروس دیکھ کر آپ کو اپنے گھر کی خواتین یاد آجاتی ہیں اور جنہیں دیکھ کر دل کرتا ہے کہ ان کے ساتھ سفر کر نے سے بہتر ہے کہ یہ جہاز گرجائے لیکن گرے تواداکارہ ادیتی راؤ حیدری یا عالیہ بھٹ کی گود میں گرے۔

سونم کپور

ہمیں مساج کے رسیا ہمارے مرشد فیڈرل سیکرٹری ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم یاد آگئے۔ان میں اس طرح کی خواتین کو سونم کپور اور دشا پٹنی جیسا مان اور مقام دینے کا بہت حوصلہ تھا۔

دشا پٹنی

ہم کرابی تھائی لینڈ گولڈن بیچ ریسورٹ کے سامنے ساحل سمندر پر برمودا پہنے دھوپ سینکتے تھے،ساحل سمند ر پر کچھ بیبیاں ناف کے اوپر کچھ پہننے کی سعادت سے محروم سورج کو بدن کا چراغ دکھاتی تھیں کہ پولیس کے دو سپاہی ہماری جانب آگئے۔منیجر نے ہماری جانب دور سے اشارہ کیا تھا۔کاغذ ہاتھ میں تھا۔پاکستانی سفارت خانے کا پیغام تھا کہ پہلی فلائیٹ پکڑیں اور کوالالمپور میں ہوٹل استھانا میں ڈاکٹر ظفر الطاف سے رابطہ کریں۔وہ وزیر اعظم صاحبہ کے ساتھ ہیں۔

کوالالمپور پہنچے تو ڈاکٹر صاحب سے لاؤنج میں ہی ملاقات ہوگئی۔کہنے لگے چلو ذرا پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی کو بتا کر نکل چلتے ہیں۔ وزیر اعظم نے جن لوگوں سے میٹنگ کا کہا تھا۔ان سے تفصیلات ہدایات کے عین مطابق طے ہوگئی ہیں ۔ کل تمہاری ملاقات بھی ان سے ہوجائے گی تو فالو اپ کرلینا۔تھک بہت گیا ہوں۔بشکک کرغزستان سے آیا تھا تو منسٹر صاحب نے اپنی بجائے مجھے اس وفد میں شامل کرلیا اور خود انگلستان نکل گئے۔وہاں کمرے کے باہر کھڑے تھے دروازہ کھلا تو اندر کا خفیف سا منظر دکھائی دیا۔کمرے میں سلمان فاروقی کی امامت میں چار فیڈرل سیکرٹری وزیر اعظم کے مرد اوّل کے قدموں میں سجدہ ریز تھے۔

کہنے لگے مساج کا پروگرام ہے چل کر con·cierge سے پوچھتے ہیں۔چینی نسل کا یہ ملازم بہت خوش مزاج تھا اور اپنے ذہن میں تھائی لینڈ کے بے باک مساجوں کی یادیں بسائے بیٹھا تھا۔کہنے لگا کہ یہ سہولت تو وہ ہوٹل میں بھی کسی کو بلواکر بہم پہنچا دے گا۔ڈاکٹر صاحب جنہیں داتا دربار کے باہر والے میلے میلے مالیشیوں سے بھی گھن نہیں آتی تھی نے جب وضاحت کی ہمیں سنجیدہ درد بھگانے والا مساج درکار ہے تو کہنے لگا کہ یہاں سے پانچ میل دور ایک گھر میں دو آسٹریلوی خواتین مساج کرتی ہیں۔مہنگی ہیں۔ٹیکسی آپ کو لے جائے گی۔وہاں پہنچے تو علم ہوا کہ یہ تو ریس کےThoroughbred گھوڑوں کی ٹرینر ہیں۔ گھوڑوں کا مساج ان کے  کام کا حصہ ہے۔

ایک پوسٹر ان کی علمیت ثابت کرتا تھا۔ریس کے گھوڑوں کی دوڑ کے بعد اور پہلے بہت مالش کرنی پڑتی ہے۔یہ   بیباں وکٹوریہ۔ آسٹریلیا سے اپنا ہنر وہاں لے کر آئی تھیں۔دو ماہ کے لیے یہ ہر سال یہاں کوالالمپور آجاتی ہیں اور مقامی گھوڑوں کی  دیکھ بھال کرتی ہیں۔جب ہم وہاں ان کی ہدایت کے مطابق لیٹے تو مسکر کر بس ایک ہدایت جاری کی کہ۔۔چھونا نہ چھونا نہ اب میں جواں ہوگئی۔او لا لا او لالا۔ہم نے ڈاکٹر صاحب کو پنجابی میں کہا کہ ’لگدا اے گھوڑیاں نال تے آپس وچ بہت پیار ہے تے مرداں نال نفرت دابھانبھڑ بلدا اے‘۔ ان ید ہائے بیضا کی کرامت تھی کہ پندرہ منٹ کے بعد نہ اپنے بدن کا پتہ تھا نہ ان کے، البتہ جب وہ جھکتی تھیں تو پسینے  کے چند قطرے پیشانی سے گر کر ہمارے بدن پر پھسل جاتے تھے۔اس چائینز ٹارچر(جس میں ملزم کے سر پر بوند بوند پانی ٹپکایا جاتا ہے) پر جب ہم آنکھ کھول کر دیکھتے تو آیئنے میں اس کی آنکھ میں ایک شرارت بھری معذرت ہوتی۔ہم کو ازمنہء قدیم کی ایک عرب شاعرہ یاد آگئی ،کہتی تھی اور عورت کا علم،عورت کا پیار اور عورت کا مرکز لطف جاننا چاہتے ہو تو جان لو کہ اس کا سارا علم اس کی آنکھ میں،پیار دل میں اور لطف وہ مجھے ابھی یاد نہیں آرہا۔

ایسا ہی عالم وہاں چیانگ مائی میں ہوا۔ایک خاموش فلم جیسا مساج ایک بی بی نے۔اور پیروں کا مساج دوسری بی بی نے یوں کیا کہ پہلے خوشبو جلائی پھر چائے جیسا فرحت بخش مشروب پلایا۔ مساج ہوا تو پیر دیکھ کر یقین نہ آیا کہ یہ ہمارے مور جیسے پیر، ایسے سبک خرام اور زبیدہ آپا کے نسخوں کو دھول چٹا کر نازک اندام کیسے ہوگئے۔جی چاہتا تھا اس کا منہ  اور اپنے پیر چوم لیں۔ہمیں لگا پراوت کا وہاں اپنا بھی کوئی انتظام تھا۔ہم نے اسے مقامی مسئلہ سمجھ کر شاہد خاقان عباسی کی طرح نظر انداز کیا۔سو بھات پراوت کو اور دو سو سانوک کو ٹپ دی کہ کیا عمدہ تفریح کا انتظام کیاتھا۔

اگلے دن چیانگ مائی سے ایک سو چالیس کلو میڑ دور پہاڑی مقام پائی کے لیے روانہ ہوئے تو ویگن  میں ایک نشست برابر کی خالی تھی۔انگریزی کا تھائی لینڈ میں بھی ایران کی طرح بہت مسئلہ ہے۔سو یہ اندازہ لگاتے رہے کہ اس کا سوار راستے میں آگے کہیں ہوگا کیوں کہ وہاں لاری اڈے پر مسافر کم نہ تھے۔ایسا ہی ہوا شہر کے اختتام سے کچھ دیر پہلے دو تھیلے اٹھائے ایک کنارے ایمی کھڑی تھی۔خود ہی اپنا تھیلا دروازہ کھول کر ہمارے برابر رکھ دیا۔اس کی ہائے کا ہم نے جواب دیا تو ہمیں اپنے یار دیرینہ اقبال شریف جنہیں کمیسٹری کا امریکہ میں پروفیسر ہونے کے باوجود ناچنے گانے اور اردو شاعری کو برباد کے گڑھے میں دھکیلنے کا بہت ارمان ہے سنایا ہوا کا ایک  شعر یاد آگیا کہ ع
محفل میں وہ غیروں کو ہیں کررہی سلام
’وعلیکم السلام‘کہے جارہا ہوں میں

اس ہائے کا واحد جواب ہماری جانب سے آیا تو درمیان میں جب سستانے کے لیے رکے تو بات چیت کا آغاز ہوگیا ہے،اس کی انگلی پر ویگن کا دروازہ کھول کر پیچھے تھیلا رکھنے میں چوٹ لگ گئی تھی ہم نے بینڈ ایڈ دی تو کھل اٹھی۔بتانے لگی کہ وہ مصنفہ بننے کی کوشش کررہی ہے۔ہم نے کہا ہمارا بھی دکھ یہی ہے۔چار کتابوں  کا مصنف ہونے اور سلیم الرحمن سے داد پانے کے باوجود یقین نہیں آتا کہ دو حرف ٹھیک سے جوڑ پائے ہیں۔ایمی جو امریکی طالبہ تھی،اسپین سے یہاں آئی تھی۔وہ پورا ملک اس نے آٹھ ماہ تک پیدل گھوما تھا۔پارکوں، گھروں اور برآمدوں میں سوئی تھی۔ یہاں تھائی لینڈ میں وہ دو ماہ سے تھی۔اب کی دفعہ اس نے طے کررکھا تھا کہ پورے سال کے قیام میں وہ روزانہ دس ڈالر سے زیاد ہ نہیں خرچے گی۔یہاں وہ چار لڑکیوں کے ساتھ ایک دیہاتی گھر میں رہے گی۔اس کا یومیہ خرچہ پانچ ڈالر ہے۔کھانا پکانا وہیں ہوگا۔

پائی میں تفریح کے مقامات کئی ہیں۔ٹیکسی نے دوہزار بھات اور چھ مقامات دکھانے کے لیے آٹھ گھنٹے کا پیکج بنایا تو ہم نے سوچا محفوظ ملک ہے۔چیانگ مائی میں ہم نے ایمبولینس نہیں دیکھی۔سو یہ کام جواں لوگوں کی طرح موٹر سائیکل پر کرنا چاہیے۔خود چلاتے تو سستا پڑتا مگر ڈرائیور سمیت پانچ سو بھات میں معاملہ طے ہوگیاپانچ گھنٹے میں دس مقامات دکھائے جائیں گے۔ اگلی صبح وقت مقررہ پر لینے اسکوٹر سمیت ایک بی بی آگئی جسے انگریزی اتنی ہی آتی تھی جتنی منیر نیازی کو فرینچ آتی تھی۔سیر خوب کرائی،کھانا بھی اچھا کھلایا۔کافی بھی نفیس پلائی۔ایک دو گھروں میں لے گئی جس سے ان کے بود و باش کا اندازہ ہوتا تھا مگر پائی اور چیانگ مائی میں جہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دو کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی میں اچھے ہوٹل پانچ یا چھ ہیں جب کہ ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں پانچ ستارہ ہوٹل ہی تیس تھے اور چھوٹے چھوٹے سے قابل رہائش ہوٹلوں کی تعداد تین ہزار ہے۔اس سے سیاحوں کی آمد کا اندازہ کرلیں۔پورے نائٹ بازار میں تین فقیر نظر آئے ایک تین بچوں کی والدہ،ایک ہاتھ پیر سے معذور بوڑھا اور ایک نانی اور اس کا چھوٹا سا نواسہ، رات گئے ہم واپس آرہے ہوتے تھے تو یہ سب اپنا پیسوں سے بھرا کشکول سرھانے رکھ کر سو چکے ہوتے تھے۔ان کی کمائی کو چوری کا کوئی خطرہ نہ تھا۔جس شہر میں ہم رہتے ہیں وہ کار کی صفائی کا کپڑا اور مسجد کا لوٹا بھی چوری  ہوجاتا ہے۔پائی کا ایک مکالمہ ہمارے لیے اس سفر کا حاصل سرمایہ بن گیا۔

چھوٹا سا ڈھابہ تھا۔گورے گوریاں  سب ہی موجود تھے۔ایک عبایا اور نقاب میں لپٹی ادھیڑ عمر کی خاتون ایک بی بی اور ایک لڑکا یہ کل عملہ تھا۔بی بی نوڈلز کا اسٹال سنبھالے بیٹھی تھی۔لڑکا سنک میں برتن بھی دھوتا تھااور بھاگ کے پاس پڑوس سے آرڈر کے منشا سودا بھی لاتا تھا۔کچن کے کیبن پر حلال اور بسم اللہ دونوں جلی حروف میں لکھے تھے۔پورے تھائی لینڈ میں ہم نے اس عبایا والی خاتون سے زیادہ بد تمیز اور غصیلی کوئی اور عورت نہیں دیکھی۔کیا گورے کیا مقامی سب کو واجبی انگریزی میں کھل کر ڈانٹتی تھی۔انتظام یوں تھا کہ جو فارغ نظر آتا اسے کہتی کہ فلانے ٹیبل پر جاکر یہ کھانا رکھ دو۔دو گوریاں اپنے برتن ٹیبل پر چھوڑ کر جانے لگیں تو انہیں بلا کر انگریزی میں ڈانٹا کہ تمیز نہیں کہ جھوٹے برتن سنک میں رکھنے ہوتے ہیں۔وہ مسکرا کر معافی مانگ کر برتن لے گئیں تو کہنے لگی’کم اگین‘ جس پر انہوں نے کہا’آل ویز‘
اور ہمیں مسکراتا دیکھ کر’یور ٹرن سر‘ کہہ کر آنکھ مار کر چل دیں۔

ہم نے ایک پلیٹ چاول گرین کوکونٹ چکن کری اور انناس کے جوس کا گلاس۔ہمارے حساب سے یہ تین سو بھات کا کھانا تھا۔کئی جگہوں پر ایسا ہی ریٹ ہوتا ہے۔ہم ادا بھی کرچکے تھے۔کھانے کے برتن سنک پر چھوڑ کر جب بل دینے پہنچے تو اس نے انگریزی میں ’سیونٹی  کہا ہم نے کہا شاید ہم سے تھری مس ہوگیا ہے پھر پوچھا تو زور سے سیونٹی کہا مگر ہمارے چہرے پر حیرت دیکھ کر کیلکولیٹر پر ستر لکھا اور کہنے لگا ناؤ یو انڈرسٹینڈ۔ہمیں لگا کہ اس سے حساب میں یقیناً  کوئی بھول ہوئی ہے۔اپنا آرڈر پھر دہرایا تو کہنے لگی یس سیونٹی ہم نے  پوچھا اتنا کم کیوں؟۔تو باہر آن کر حلال کے الفاظ پر اشارہ کرکے کہنے لگی۔
We feed you Halal. How can we eat haram?
ہمیں تب احساس ہوا کہ مزاج کی اس برہمی کے باوجود کاروبار میں اتنی برکت کیوں ہے کہ لوگ دس بجے بھی آئے چلے جاتے تھے۔ہم نے گجراتی میمن جذبات سے مغلوب ہوکر پوچھ لیا کہ اس نے اتنے کم بل میں کچھ کمایا کہ نہیں تو کہنے لگیYes.Twenty Bhat. That is enough. My son owns a store in Chiang Mai and Allah has given us all.
(جی ہاں بیس بھات۔یہ کافی ہے۔میرے بیٹے کا چیانگ مائی میں ایک اسٹور ہے اور اللہ نے ہمیں سب کچھ دے رکھا ہے۔)۔اس کے آگے ہمیں نواز شریف،منشا اور سلطان آف برونائی فقیر لگے۔

Save

Save

Advertisements
julia rana solicitors london

Save

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply