شام سات بجے سے پہلے کھانا ضروری

ہمارا جسم کھانے، سونے اور دیگر سرگرمیوں پر ہماری تربیت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں سب سے اہم کھانا پینا ہے ، جو جسم کے تمام اعضا کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین صحت اور غذائیت کے مطابق آخری خوراک شام سات بجے سے پہلے لینے سے جسم کو اسے ہضم کرنے کے لئے مناسب وقت مل جاتا ہے، جسم اور دماغ دن بھر فنکشنل رہتے ہیں،  لہٰذا دن کے آخری لمحات میں انرجی کی سطح کم ہوجاتی ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نا صرف آپ کا پورا جسم متحرک ہو بلکہ تیزی سے کام کرے۔ اس کیس میں شام سات بجے سے پہلے کھانا کھانے سے جسم کو سونے سے قبل اسے ہضم کرنے کے لئے کافی وقت مل جاتا ہے۔ جب ہم جلدی کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم حرکت میں رہنے کے لئے کافی وقت ملتا ہے جو کیلوریز کو برن کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے اور نتیجتاً ہمارے وزن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب آپ جلدی کھانے کھا لیتے ہیں تو کھانے کو بہتر طور پر ہضم کرنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کیلوریز کو چکنائی کی شکل میں جمع کرنے کے بجائے صرف کر لیا جائے۔ سونے سے پہلے کھانے سے بدہضمی اور سینے کی جلن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ، جو بے آرامی اور بے خوابی کا سبب بنتا ہے۔ دیر سے کھانا دراصل دماغ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ متحرک رہے جو جسم کو آرام کرنے سے روکتا ہے۔ عمومی طور پر ہمارے کھانوں میں نمک کا استعمال ہوتا ہے، اگر نمک کی مقدار زیادہ ہوتو رات دیر سے کھانا کھانا بلند فشار خون کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا جلد کھانا کھانے کی عادت بہتر انہضام کے ساتھ دل کی بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔ محققین کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ کم ہوجاتا ہے جبکہ خون میں شوگر کی سطح میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور کیلوریز موثر طور پر برن ہوجاتی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *