مسجد قرطبہ اور علامہ اقبال

(مسجد قرطبہ اور علامہ اقبال کے حوالے سے یہ مضمون تین مختلف مضامین اور ایک نظم سے اقتباسات لے کر ترتیب دیا گیا ہے)
اسپین کی ایک مشہور پہاڑی (جبل الطارق) کے پاس تاریخ اسلام کے مایہ ناز سپہ سالار طارق بن زیاد نے ٢٩ھ (٧١١ء) میں پانچ ہزار مجاہدین کے لشکر کو ساحل اندلس پر اتارا تھا۔ یہ پہاڑی آج بھی طارق بن زیاد کے نام سے جبل الطارق کہلاتی ہے جسے اہلِ یورپ بگاڑ کر جبرالٹر کہتے ہیں بلکہ اس کے جنوب میں وہ تنگ سمندری راستہ بھی آبنائے جبل الطارق یا آبنائے جبرالٹر کہلاتا ہے جو اسپین (اندلس) اور مراکش کے درمیان حائل ہے۔ یہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کا زمانہ تھا اور موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کا گورنر تھا جس میں تیونس، طرابلس، الجزائر اور مراکش شامل تھے۔ مراکش کے شمالی ساحل پر ستبد شہر اور اردگرد کا علاقہ اسپین کے کنٹرول میں تھا جہاں کاؤنٹ جولین شاہ اسپین کی طرف سے گورنر تھا۔ جولین کی بیٹی فلورندا طلیطلہ کے شاہی محل میں پرورش پارہی تھی جہاں شاہ راڈرک نے اس کی آبروریزی کی۔ اس ظلم پر جوش انتقام میں کاؤنٹ جولین نے موسیٰ بن نصیر کو اسپین پر حملے کی ترغیب دی۔ چنانچہ خلیفہ ولید کی اجازت حاصل کرکے موسیٰ نے بربر نسل کے طارق بن زیاد کو لشکر دے کر بحری کشتیوں میں اسپین روانہ کیا۔ طارق نے ساحل اسپین پر اُتر کر کشتیوں کو آگ لگوا دی،تاکہ مجاہدین اسلام جزیرہ نما آئی بیریا (اسپین و پرتگال) سے واپسی کا خیال دل سے نکال دیں اور آخر دم تک دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ موسیٰ نے سات ہزار مزید مجاہدین بطور کمک بھیج دیئے۔ دریائے برباط کے کنارے ایک لاکھ کے مسیحی لشکر اور ٢١ ہزار مسلمانوں میں خونریز جنگ ہوئی جو طارق اور ان کے ساتھیوں کے ایمانی جذبوں نے جیت لی۔ ظالم بادشاہ راڈرک بھاگتے ہوئے مارا گیا۔
مسلمانوں کی اس فتح سے تاریخ اسپین کا وہ ٨ سو سالہ سنہری دور شروع ہوا جس میں اہلِ اسلام نے اس سرزمین کو خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار کیا اور یہاں تعلیم و حکمت کے وہ چراغ روشن کیے جن سے یورپ کی ظلمت اور تاریکی دور ہوئی۔ وہاں احیائے علوم کا چرچا ہوا اور جدید دور کا آغاز ہوا۔ ابوالقاسم زہراوی (سرجری کا بانی) ابن رشد، امام ابن حزم، ابن زہرابن طفیل، امام قرطبی اور دیگر سینکڑوں علماء و فضلاء اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ تعمیرات میں امیر عبدالرحمٰن اول کی تعمیر کردہ مسجد قرطبہ ایک ایسا شاہکار ہے جس نے علامہ اقبال کو”مسجد قرطبہ”جیسی عمدہ نظم تخلیق کرنے کی راہ دکھائی۔یہ تاریخ اسلام کا ایک المناک باب ہے کہ مسلمان آٹھ سو برس کی حکمرانی کے بعد اسپین (اندلس) سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئے۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی باہمی نااتفاقیاں اور عرب و بربر کے اختلافات تھے جن کے باعث وہ عیسائی جو شمالی اندلس کے پہاڑوں میں سمٹ کر رہ گئے تھے، دوبارہ دلیر ہوگئے۔ گیارہویں صدی عیسوی میں اندلس کی اموی خلافت کے خاتمے پر وہاں ملوک الطوائف آئے یعنی طوائف کی طرح آئے دن بدلنے والے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمران بن گئے جنہیں مسیحی بادشاہ الفانسو ششم نے اپنے ہاتھوں پر نچایا۔ آخر کار مراکش کے امیر یوسف بن تاشفین نے جنگ زلاقہ (١٠٨٦ء) میں الفانسو کو شکست دے کر وہاں مسلمانوں کو سنبھلنے کا موقع دیا مگر اس کے باوجود ریاستی خانہ جنگیوں نے مسلمانوں کو زوال کی راہ پر ڈال دیا حتیٰ کہ ١٢٣٦ ء میں اندلس کا ہیرا شہر قرطبہ مسلمانوں کے ہاتھ سے چھن گیا اور عیسائیوں نے مسجد قرطبہ کو گرجا بنالیا۔
سقوط قرطبہ اور بواشبیلہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ (١٢٣٢ تا ٩٢١٤ ء) رہ گئی جہاں بنواحمر 250 برس تک شمال سے عیسائیوں کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ حتیٰ کہ لیون وقشلۃ کے حکمران مسیحی جوڑے شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی فوجوں نے غرناطہ کا محاصرہ کرلیا اور ڈیڑھ ماہ بعد غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ نے شہر کی کنجیاں فرڈیننڈ کے حوالے کردیں۔ یہ سانحہ یکم ربیع الاول ٩٧٨ھ (جنوری ١٤٩٢ ) کو پیش آیا۔یہ اسلامی سلطنت 1460ء تک قائم رہی، اس دوران یورپ کے عیسائی اکھٹے ہوئے، 1072ء میں اندلس پر حملے شروع ہوئے، 1212ء میں عیسائیوں نے طولوسہ فتح کر لیا، 1236ء میں قرطبہ سے اسلامی پرچم اتر گیا، 1250ء میں ٹولیدو اور اشبیلیہ بھی چلا گیا اور جنوری 1492ء میں غرناطہ کی چابیاں بھی فرڈیننڈ اور ازابیلا کو مل گئیں، اندلس کے 30 لاکھ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا، زندہ جلا دیا گیا یا پھر عیسائی بنا لیا گیا۔
یوں لیون اور وقشتلہ کی مسیحی ریاستوں کے ساتھ غرناطہ کے الحاق سے اسپین کی بادشاہت وجود میں آئی۔ سقوط غرناطہ کے بعد سوا سو برس کی مدت میں اسپین سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کردیا گیا، انہیں جلاوطن کیا گیا۔ رومن کیتھولک عیسائی حکمرانوں اور طور قماچہ جیسے ظالم اور جنونی پادریوں کے حکم پر اَن گنت مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا۔ انھیں تعزیر و تعذیب کے شکنجوں میں کسا گیا اور بیشتر کو جبراً عیسائی بنالیا گیا حتیٰ کہ وہاں ایک مسلمان متنفس بھی باقی نہ رہا۔ لیکن گذشتہ چند عشروں میں اسپین کی صورت حال خاصی تبدیل ہوچکی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت وہاں تقریباً ٥ لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر ان کی تعداد ٣ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ہسپانوی مسلمانوں میں زیادہ تعداد شمالی افریقہ کے تارکین وطن کی ہے، تاہم ہزاروں کی تعداد میں نومسلم ہسپانوی بھی ہیں اب یہاں مسلمان کو اپنی روایات کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ہے۔ مسلم اسٹوروں پر حلال گوشت عام مل جاتا ہے۔ شہروں میں مسلمان خواتین یہاں بھی پردہ کرتی ہیں اور کئی تو برقعوں میں نظر آتی ہیں۔ حکومت نے انھیں مساجد تعمیر کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ غرناطہ میں ایک شاندار مسجد تعمیر ہوچکی ہے۔ اسپین اندلس میں اسلام کا یہ احیاء خوش آئند ہے۔ بلاشبہ اندلس کی تاریخ اسلام کا ایک سنہرا دور ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طارق بن زیاد اور اس کی سپاہ نے بھی ایک عظیم تاریخ کی بنیاد رکھی تھی کہ جس کو آج صدیوں بعد بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ تاریخ اسلام کا ایک روشن باب ہے ۔حکیم راحت نسیم سوہدروی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں ؛
تاریخ اسلام میں سپہ سالار طارق بن زیاد کی قیادت میں اندلس کی فتح کے بعد مسلمانوں نے وہاں ساڑھے سات سو سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی۔یورپ کی اس عظیم الشان سلطنت کو علم و حکمت اور فنون کا مرکز بنا کر اسے بے پناہ ترقی دی گئی، جس کی روشنی سے یورپ منور ہوا۔ اس دوران مسلمانوں کا شہرہ یورپ ہی نہیں دنیا بھر میں ہونے لگا۔ پورا یورپ اس سے مرعوب تھا اور دنیا کی ہر قوم اس سے کوسوں پیچھے تھی مگر دوسرا پہلو اس سے بھی المناک اور خوں چکاں ہے کہ جب اندلس کے ان مجاہدوں نے اس حقیقت کو فراموش کردیا کہ وہ عقیدہ توحید اور امامت عالم کے امین ہیں تو خدا واحدہ لاشریک نے انہیں فراموش کردیا جس کے نتیجے میں وہ تاریخ عالم میں اس طرح فنا ہوئے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود سرزمین اندلس کا چپہ چپہ ان کی ہلاکت بربادی اور زوال پر ماتم کناں ہے۔اس ہلاکت اور زوال کا سبب داخلی اتحاد کی کمزوری فرقہ واریت میں اُلجھنا اور شمشیر وسناں کو چھوڑ کر طاؤس و رباب کا دلدادہ ہونا تھا۔ فرڈنیارڈ نے 1236ءمیں تقریباً آٹھ سو سال قبل جب مسلمانوں کو شکست دے کر اندلس( اسپین) میں اسلامی اقتدار کا خاتمہ کیا تو مسلمانوں کو ملک بدر بھی کردیا۔ مسلمانوں کی تعمیر کردہ عمارات اور مساجد پر فاتح عیسائی راہبوں نے قبضہ جمالیا۔ اس طرح قرطبہ کی عالی شان اور پُر شکوہ مسجد جسے مسجد قرطبہ کا نام دیا جاتا ہے اور جس کی تعمیر عبدالرحمٰن اول نے وادی الکبیر کے کنارے 758ءمیں شروع کرائی اور اس کی توسیع دسویں صدی تک جاری رہی۔اس مسجد میں چودہ سو منقش ستون نصب تھے۔شاہ فلسطین نے جہاز میں ساڑھے چار سو من قیمتی پتھر بھجوائے۔ اس پر کتبے خط کو فی میں سونے کے موٹے موٹے لفظوں سے لکھے گئے۔ صدیاں گزر گئیں ہیں مگر آج بھی اس کے آثار سے وہ کچھ نظر آتا ہے کہ عقل انسانی ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔اندلس(اسپین) میں مسلمانوں کے زوال کے ساتھ ہی دوسری مساجد کی طرح یہ مسجد بھی عیسائی راہبوں کے تسلط میں آگئی جنہوں نے اسے گرجا گھر(Cathdral) میں تبدیل کردیا۔منبر اور دیوان میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی البتہ اذان اورنماز پر پابندی عائد کردی گئی کہ اب یہ گرجا گھر ہے جہاں عیسائی عبادت کرسکتے ہیں۔تقریباً آٹھ صدیاں گزرنے پر علامہ اقبال کو یہ شرف و امتیاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اس پابندی کے باوجود مسجد قرطبہ میں نہ صرف اذان دی بلکہ نماز ادا کی۔ اگرچہ اس حوالے سے علامہ اقبال کی کوئی تحریری شہادت موجود نہیں ہے تاہم تصویری ثبوت موجود ہے اور مختلف افراد نے تفصیلات بتائی ہیں جن کے مطابق پہلی گول میز کانفرنس جو 12 نومبر 1930ءتا 19جنوری 1931 تک ہوئی۔ اس میں علامہ اقبال کو شریک نہ کیا گیا۔دوسری گول میز کانفرنس 7ستمبر تا یکم دسمبر 1931ءتک ہوئی اس میں علامہ اقبال شریک ہوئے اور کانفرنس کے خاتمے پر مولانا غلام رسول مہر کے ہمراہ برطانیہ سے فلسطین چلے گئے اور موتمر عالم اسلامی میں الوداعی تقریر کرکے واپس ہندوستان آگئے۔مولانا عبدالمجید سالک کے مطابق
” تیسری گول میز کانفرنس کا آغاز16نومبر کو ہونا تھا۔ علامہ اقبال 13 اکتوبر1933ءکو لاہور سے فرنٹئیر میل پر بہ عزم یورپ روانہ ہوئے۔مقصد یہ تھا کہ لندن پہنچنے سے پہلے ویانا، بوراپٹ، برلن وغیرہ کے علمی مراکز میں دوچار روز قیام کرتے جائیں”۔(ذکر اقبال صفحہ 178 )​
علامہ اقبال 12نومبر کو لندن پہنچے تیسری گول میز کانفرنس17نومبر کو شروع ہوکر17دسمبر 1933ءمیں ختم ہوگئی۔ کانفرنس ختم ہونے کے بعد علامہ پیرس پہنچے اور علمی حلقوں کے علاوہ برگستان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد علامہ نے ہسپانیہ کا دورہ کیا۔​( صفحہ180 )​
علامہ اقبال خود ایک اخبار کے نامہ نگار سے سفر اسپین بارے فرماتے ہیں۔​”مجھے لندن میں اسپین جا کر لیکچر دینے کی دعوت ملی تھی۔اسلام کے مرکز کو دیکھنے کا مشتاق تھا۔میں نے دعوت قبول کرلی“۔( آئینہ اقبال مرتبہ محمد عبداللہ قریشی صفحہ198 )​
” قرطبہ پہنچنے کے بعد آپ(علامہ) وہاں کی یگانہ روزگار مسجد میں تشریف لے گئے جواب گرجا گھر بن چکی ہے۔ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنے گائیڈ سے کہا میں یہاں نماز ادا کرناچاہتا ہوں۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہ بات پادریوں کو ناگوار گزرے گی اور وہ ہرگز اجازت نہ دیں گے۔ اقبال اس جگہ مصلی بچھا کر بیٹھ گئے۔ جس کو بے حد مقدس سمجھا جاتا ہے۔اتنے میں ایک پادری آپہنچا اور زور شور سے احتجاج کرنے لگا۔اقبال نے پادریوں کی طرف رخ کرکے گائیڈ سے کہا ایک دفعہ مکہ میں عیسائیوں کا وفد کوئی التماس لے کر پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اس کے اراکین کو مسجدنبوی میں ٹھہرایا گیا تھا۔ جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو وہ متردد تھے کہ انہیں اس کی اجازت دی جائے گی کہ نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ یقینا اپنے طور طریقے کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں۔ اگر عیسائیوں کو آنحضرت ﷺنے اپنی ہی مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت دی تھی۔انہیں ایک ایسی جگہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت کیوں نہیں جو کبھی مسجد تھی۔ اقبال سے یہ سن کر پادری کہنے لگا میں بڑے پادری سے پوچھ کر آتا ہوں۔اقبال نے پادریوں اور محکمہ آثار قدیمہ کی اجازت لے کر مسجد میں اذان دی جس کی فضا صدیوں سے بے اذان پڑی ہوئی تھی ،وہاں نماز پڑھی۔ آپ کی نماز کی حالت میں ایک پادری نے تصویر بھی اتاری“۔​(ملفوظات اقبال مرتبہ محمود نظامی صفحہ 318)
ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو
صحبت اہل صفا ، نور و حضور و سرور
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب آبجو
راہ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو
مولانا عبدل مجید سالک لکھتے ہیں۔” ڈاکٹر صاحب نے یہ سارا واقعہ سید امجد علی کے نام لکھ بھیجا“( ذکر اقبال صفحہ138 )​۔علامہ اقبال کا یہ خط تا حال منظر عام پر نہیں آسکا۔ وگرنہ علامہ کے قلم سے یہ تفصیل سامنے آچکی ہوتی۔مسجد قرطبہ میں علامہ اقبال کی دو تصاویر چھپ چکی ہیں جو روزگار فقیر صفحہ49,48 پر موجود ہیں۔ یہ دونوں تصاویر ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ایک تصویر میں وہ مصلیٰ پر قعود کی حالت میں نماز ادا کرنے میں مشغول ہیں جبکہ دوسری تصویر میں مصلیٰ پر ہاتھ میں چھڑی لیے کھڑے ہیں۔اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نماز سے فراغت کے بعد کی ہے۔یہ تصاویر مسجد کے اس مقام پر لی گئیں ہیں جو بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔پتہ چلتا ہے کہ علامہ اقبال نے نماز ادا کرنے کے لئے مسلمانوں کے تاریخی اور تہذیبی پس منظر کو ذہن میں لاتے ہوئے اس جگہ کا انتخاب کیا ہوگا۔ یوں اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ علامہ نے طے شدہ پروگرام کے مطابق نمازادا کی۔ اور یہ کس اضطراری حالت کا نتیجہ نہیں جیسا کہ ان کے بعض تذکرہ نگار یہ تاثر دیتے ہیں علامہ اقبال نے جس جگہ نماز ادا کی وہ مسجد قرطبہ کا دلان ہے اس ہاتھ ایک محرابی راستہ ہے جو خلیفہ الحکم ثانی نے 961ءمیں تعمیر کرایا تھا۔یہ فن تعمیر کے حوالے سے انتہائی منفرد خصوصیات کا حامل ہے اور اس قدر اہم ہے کہ اسلامی فن تعمیر اور آرٹ کے نقطہ نظر سے تقریباً ہر کتاب میں مختلف زاویوں نے اس محراب کی تصویرREPRODUCE کی جاتی ہے کہ اس فن تعمیر کے حوالے سے اس کے محاسن بیان کئے جاتے ہیں۔​
” ڈاکٹر صاحب کو قدیم عربی تہذیب سے نہایت دلچسپی بلکہ عشق تھا اور اسپین قدیم زمانے میں عربی تہذیب کا مرکز تھا اور اس زمانے میں اس کا مدفن ہے اس لئے اس سلسلے میں انہوں نے اسپین کا سفر کیا اور اس کی ہرچیز سے متاثر ہوئے۔​ڈاکٹر صاحب نے خالص مذہبی اور تاریخی جذبات کے زیر اثر اسپین کا سفر کیا تھا اور اُس حیثیت سے وہاں کی ہر چیز پر نظر ڈالی۔اسپین کے سفر میں ڈاکٹر صاحب کو پروفیسر امین سے ملاقات کا موقع ملا (اقبال کامل29تا32 از مولانا عبدالسلام ندوی) علامہ اقبال نے اپنے سفر اسپین کے دوران اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام دوکارڈ بھیجے جو تصویری تھے جس پر مسجد قرطبہ کے عکس تھے اس کے ساتھ ہی لکھا کہ ”میں خدا کا شکر گزارہوں کہ میں اس مسجد کو دیکھنے کے لئے زندہ رہا، مسجد تمام دنیا کی مساجد سے بہتر ہے خدا کرے تم جواں ہوکر اس عمارت کے انوار سے اپنی آنکھیں روشن کرو“۔​
علامہ اقبال اسپین کی مسجد قرطبہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسپین سے واپسی پر پیرس( فرانس ) سے ایڈیٹر انقلاب کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ ​”مرنے سے قبل قرطبہ ضرور دیکھو،​”علامہ اقبال 27مارچ1933ءکو محمد اکرام کے نام اپنے خط میں سفر اسپین کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔” میں اپنی شاعری سے اس قدر لذت گیر ہوا۔ وہاں دوسری نظموں کے علاوہ ایک نظم مسجد قرطبہ پر لکھی گئی۔جو کسی وقت شائع ہوگی۔الحمراءکا تو مجھ پر کوئی زیادہ اثر نہیں ہوا لیکن مسجد کی زیارت نے مجھے جذبات کی ایسی کیفیت میں پہنچا یاجو مجھے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی۔​( اقبال نامہ،جلد دوم ص321 )​۔علامہ اقبال نے مسجد قرطبہ پر ذیل کی نظم لکھی جس سے ان کے جذبات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔​
آنی وفانی تمام معجزہ ہائے ہنر​
کار جہاں بے ثبات، کار جہاں بے ثبات​،
اول و آخر فنا باطن و ظاہر فنا،​
نقش کہن ہوکہ نو منزل آخر فنا،​
ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوام​،
جس کو کیا ہوکسی مرد خدا نے تمام،​
مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ​،
عشق ہے اصل حیات ،موت ہے اس پر حرام،​
تندو سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو،​
عشق خود ایک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھام،​
عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا،​
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام،​
عشق دم جبرائیل عشق دل مصطفےٰ​،
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام،​
عشق کی مستی سے ہے پیکرگل تابناک،​
عشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاسن الکرام،​
عشق فقیر حرم عشق امیر جنود،​
عشق ہے ابن سبل اس کے ہزاروں مقام​،
عشق کے مضراب سے لقمہ تار حیات​،
عشق سے نور حیات عشق سے نارحیات،​
اے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجود،​
عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود،​
رنگ ہویا خشت و سنگ چنگ ہویا صورت،​
معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود،​
قطرہ خون جگر سیل کو نبھاتا ہے دل،​
خون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود،​
عرش معلی سے کم سینہ آدم نہیں،​
گرچہ کف خاک کی حد ہے سپہرِ کبود​،
پیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیا،​
اس کو سیر نہیں سوز و گداز سجود،​
کافر ہندی ہوں میں دیکھ میرا ذوق شوق​،
دل میں صلوٰة و درود لب پر صلوٰة درود،​
شوق میری لے میں ہے شوق میری نے میں ہے،​
نغمہ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہے،​
تیرا جلال و جمال مرا خدا کی دلیل،​
وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل،​
تیری بنا پائیدار تیرے ستون بے شمار،​
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل،​
تیرے درو بام پروادی ایمن کا نور،​
تیرا مینار بلند جلوہ گہ جبرائیل​،
مٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلمان کہ ہے،​
اس کی اذانوں سے فاش سرِ کلیم وخلیل​،
اسکی زمین بے حدود اس کا افق بے ثغور​،
اس کے سمندر کی موج دجل دینوب و نیل،​
اس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریب​،
عہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیل،​
ساقی اربابِ ذوق فارس میدان شوق،​
بادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اسکی اصیل،​
مرد سپاہی ہے وہ اسکی زِرہ لا اِلہ،​
سایہ شمشیر میں اسکی پناہ لااِلہ!

Avatar
اکرام الحق
حال مقیم امریکا،آبائی تعلق ضلع گجرات،پاکستان۔ادب سے شغف۔وطن سے محبت ایمان۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *