جام پور کے ایک بلوچ شہزادے کی پکار

جام پور کے ایک بلوچ شہزادے کی پکار
شہباز احمد
کب نظر آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گےکتنی برساتوں کے بعد
13 مئی کومیں کوئی پانچ بجے کے قریب اپنی فیس بک آئی ۔ڈی پر کچھ خبریں اور پوسٹوں کو چیک کر رہا تھا ۔ کچھ اخبارات کے کالم اور کچھ مزاحیہ چٹکلے بھی نظروں سے گزر رہے تھے ۔ کچھ اخبارات کے کالم بھی نظر پڑے جن میں ملک و قوم کی صورت ِ حال پر طبع آزمائی کی گئی تھی۔ اسی دوران اچانک ایک کالم نظروں سے گزرا جس نے میرے اوسان خطا کر دیئے کالم کا عنوان کچھ یوں تھا “کیا سرکاری افسر کی کوئی عزت نہیں ہوتی ہے”۔ یہ کالم ایک معاصر ویب سائٹ پر شائع ہواتھا جو میرے فیس بک پیج پر مجھے بھی ٹیگ تھا ۔جب تحریر سامنے آئی تو پتا چلا کہ صاحب تحریر بھی ملک کے ایک مایہ ناز بیوروکریٹ ہیں اور وہ بھی استاتذہ کو سبق سکھانے کے موڈ میں ہیں۔ اور ویسے بھی وہ ایک بلوچ ہیں اور بلوچوں کے ہاں تو عورت کی بے عزتی پر مردوں کو قتل کردیا جاتا ہے کیونکہ یہ عزت کا معاملہ ہو تا ہے ۔
عزت بچانے کے لئے انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے اور ایسا ہی کچھ انہوں نے اس تحریر میں کیا کیونکہ کہ کوٹ مومن کے واقع میں بھی ایک عورت ہی ملوث تھی اور وہ کوئی معمولی عورت تو تھی نہیں۔۔ ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ تو قانون کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کا فرمایا ہوا مستند ہو جاتاہے ۔ جو بات ان کے منہ سے نکل جائے کسی کی مجال ہے کہ اس پر کوئی انکار کرے ۔ اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے ان کا دل اکتا چکا تھا ۔کوئی سائل ان کے در پر نہیں آتا تھا ۔ کوئی ان کی جلالی طبیعت کے سامنے دم نہیں مار سکتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے اپنے دفتر کی فوج ظفر موج کو ایک حکم نامہ جاری کیا کہ سواری کا بندوبست کیا جائے ۔آج ہم کوٹ مومن کے کالج استاتذہ کو سبق سکھایئں گے۔ ان کو کسی کام کا نہیں پتا ۔ شہری اس کالج کے اساتذہ کے متعلق بہت شکایت کرتے رہتے ہیں۔ان لوگوںکو تو ایمانداری سے کام کرنے کا پتا ہی نہیں ہے۔امتحانی سنیٹروں پر نقلیں لگواتے ہیں۔ اپنی جیبوں کو گرم کرتے ہیں اور غریبوں کا خون نچوڑتے ۔ کبھی ہمارے دربار میں حاضری دینے ہی نہیں آئے۔
محترمہ نے امتحانی سنیٹر کا دورہ کیا ۔ اس کے بعد پزنسل کے دفتر میں آکر پرنسپل کی کرسی پر براجما ن ہو گئیں۔ وہاں کے اساتذہ کچھ باغی قسم کے واقع ہوئےہیں۔ باغی اساتذہ کو سبق سکھانے کے لئے اپنے اختیارات کوستعمال کیا اور ان کو جیل میں ڈال دینے کا عندیہ دے دیا اور پھر انہوں ایسا ہی کیا۔ یہ واقع ہونے کی دیر تھی کہ ملک کےبھر میں یہ خبرآ گ کی طرح پھیل گئی ۔سوشل میڈیا اور ٹی وی پر بھی یہ خبر چل گئی۔ اساتذہ برادری حرکت میں آگئی ۔سوشل میڈیا پر ایک احتجاج شروع ہو گیا۔
یہ خبر کیونکہ پورے ملک میں پھیل چکی تھی تو قمر زمان بلوچ ، اے سی ، جام پور نے اپنی پیٹی بہن کا حال احوال پوچھنے اور ان کو دلاسہ دینے کے لئے اساتذہ برداری پر دشنام طرازی شروع کردی۔ ساتھ ہی یہ بھی دلاسہ دیا کہ بہن آپ بے فکر ہو جایئں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں کوئی بھی آپ کو کچھ نہیں کہہ پائے گا جب تک ہم آپ کے ساتھ ہیں تو کوئی بھی آپ کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتاہے۔ آپ بے فکر ہو کر لمبی تان کر سو جائیں۔ باقی معاملات ہم خود دیکھ لیں گے۔ سیانوں نے کیا خوب کہا ہے کہـایک چوری اور اوپر سےسنیہ زوری۔ اسے کہتے ہیں بہادری اور ایک جواں مرد بلوچ کو ایسا ہی کرنا اور کہنا چاہیے تھا ۔ یہ لیجئے ان کی تحریر کا ایک نمونہ ، قمر زمان بلوچ لکھتے ہیںــ”موجودہ واقعہ میں بھی ایک غلط کار استاد کی غلط کاری کی مذمت کرنے کی بجائے اپنی عددی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اساتذہ کمیونٹی نے ایک ایماندار آفیسر کے ساتھ ہونے والے قابل افسوس واقعہ کی مذمت کرنے کی بجائے اپنی کالی بھیڑ کو ہیرو بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ آفیسر چونکہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ ہر ہر فورم پر اپنی صفائی دیتا پھرے اس لئے اس پر سنگ باری شروع کر دی گئی۔”
یہ ملک کی اعلیٰ ترین نوکری پر فائز ایک آفیسر کی زبان ہے جو اس نے ملک کے اساتذہ کے بارے میں استعمال کی ہے ۔ اس سے ہمیں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہمارے ملک کا ایک بہترین ادار ہ کس قسم کے زوال کا شکار ہے ۔ جن لوگوں نے اس ملک کے ایک عام آدمی سے لے کر بڑے سے بڑے آدمی کی حفاظت کرنی ہوتی ان کا یہ حال ہے تو باقی تو اللہ ہی حاٖفظ ہے۔ کوئی بھی استاد کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ کسی پر دشنام طرازی کرے ، ہاں جب اس کی عزت محفوظ نہیں ہو گی تو پھر وہ اپنے حق کے لئے آواز ضرور اٹھائے گا اور تما م اساتذ ہ برادری کو وہ اپنے ساتھ کھڑا پائے گا ۔ باقی ہم آپ پر چھوڑتے ہیں ، آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مسلئے کے۔
قمر زمان بلوچ جنہوں نے اپنی پیٹی بہن کے حق میں ایک کالم لکھا ،تاکہ کوئی تو ہو جو ان کو طرفداری کرے ۔طرفداری کرنے میں تو کوئی ہرج نہیں ہے کرنی چاہئے لیکن دوسروں کی عزت کو داؤ پر لگا کر نہیں۔۔ اور قمر زمان بلوچ نے اپنی پیٹی بہن کی طرف داری میں کچھ ایسا لکھا کہ سارا ملبہ ہی معاشرے کے ایک مظلوم طبقے پر ڈال دیا جو اپنی عزت اور سفید پوشی کو بچانے کے لئے دن رات سرگرداں رہتا ہے ۔ کیاہم کام چور ہیں اور ہم سے کوئی کام نہیں ہوتا ہے ، امتحانی ڈیوٹیوں پر ہم دیانتداری سے کام نہیں کرتے ہیں ۔
اے ۔سی جام پور نے اپنی تحریر میں مثالیں ایسی دیں جن کا اس واقعہ سے کوئی دو ر دور کا تعلق نہیں ہے ۔ جن لوگوں کی مثالیں آپ نے پیش کی ہیں جیسا کہ ایک کاراور موٹر سایئکل تو وہ ہمارے معاشرے میں کسی میں بھی اتنی برداشت ، صبر اور تحمل نہیں کہ دوسروں کی غلطی کو برداشت کریں ۔ اور پھر طاقت ور لوگ تو کمزور پر لٹھ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اور ہمارے ملک کے استاد وں کاطبقہ بھی ا نہی کمزور لوگوں میں سے ہی ہے۔ ہر کوئی ان پر طعن و تشنیع کرتا دکھائی دتیا ہے ۔ لیکن یہاں پرتو معاملہ ہی کچھ اور تھا جس میں آپ نے اساتذہ کو ہی جاہل قرار دے دیا ۔یہ بات تو طے ہے کہ ملک کی بیوروکریسی ا پنے بنگلوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتی ہے اور ایک استاد دربد ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔
آپ نے جو چارج شیٹ اپنی پیٹی بہن طرف سے پیش کی ہے اس کے جوابات کے ضمن میں کچھ آپ کی تحریر سے ہی بات کرتے ہیں اور اس کو آگے بڑھاتے ہیں۔
(١) یقنناََ کوئی بھی سرکاری آفیسر جس کی حدود میں کوئی امتحانی مرکز آتا ہو وہ اس کو چیک کر سکتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔سول سرونٹ ایکٹ 2016 ء اگر آپ کو یہ حق دیتا ہے کہ آپ کسی بھی ادار ے میں جا سکتے ہیں۔ ست بسم اللہ، جی ۔آیاں نوں ۔ مگر قمر زمان بلوچ صاحب ذرا اس ایکٹ میں کوئی ایسا اصول بھی ہے کہ جس ادارے میں آپ جائیں آپ اس ادارے کے ملازمین کی ماں ، بہن ایک کردیں اور اگر وہ ملازمین یہ استفسار کریں کہ کیا یہ آپ کے اختیارات میں ہے کہ کسی کے گھر میں جا کر وہاں پر غنڈہ گرد ی کرنا شروع کر دیں اور اس استفسار کی وجہ سے ان کو جیل میں ڈال دیں ۔ اگر وہ ایکٹ آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ تو پھر ہم کہ ٹھہرے اجنبی۔
ہمیں یہ نہیں پتا کہ سند ھ میں تعلیمی اداروں کی کیا صورت حال ہے ۔اگر وہاں پر کچھ ایسے معاملات ہیں یہ وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملات کو درست کرے ۔یہ ذمہ دار ی بھی کیا پنجاب کے اساتذہ کی ہے کہ وہاں پرجاکے امتحانی نظام کو درست کریں۔ یہ واقع پنجاب میں رونما ہوا ہے ۔ جہاں پر آپ امتحانی مراکز پر تعینات اساتذہ کی ساکھ پر انگلی اٹھا رہے ہیں ۔ یہاں پر بی۔اے اور بی ۔ ایس۔سی کے کچھ دن پہلے امتحان اختتام پذیر ہوئے ہیں اور پورے پنجاب میں کوئی بھی ایسا واقع نہیں ہوا جس کو بنیاد پر آپ یہ کہیں کہ یہ اساتذہ تو اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ کوئی کام کر سکیں یا صیح طریقے سے امتحانی مراکز کا نظام چلا سکیں۔ ذرا اپنے گریبان میں نظر ڈال کر دیکھیں کہ کوئی بھی ضلعی حکومت ان ہی اساتذہ کی مرہون منت ہے۔ جب الیکشن کروانے ہوں، یا پولیو کے قطرے پلوانے ہو تو ان اساتذہ کو ہی قربانی کا بکر ا بنایا جاتا ہے ۔ بیوروکریسی تو اپنے شان دار دفاتراور کلبوں میں موج مستی کر رہی ہو تی ہے۔
آپ نے موصوفہ کی وہ بات نہیں بتائی جب وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرتھیں تو اس وقت کی ایک بات انہوں نے جائے وقوعہ پر استاتذہ کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لئے کہ دیا کہ “تم تو وہ لوگ ہو جو کل تک میرے تلوے چاٹتے تھےـ”ملک میں ہر طرف کرپشن کا راج ہے اور اگر کسی سرکاری دفتر میں چلے جائیں تو بغیر نوٹوں کے کوئی جائز کام کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا ہے اور آپ بات کرتے ہیں کہ عید پر بھی چھٹی نہیں ملتی۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

شہباز احمد
شہباز احمد
اسٹنٹ پروفیسر ،شعبہ تاریخ ، گورنمنٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *