تھر سے فرنکفرٹ تک۔۔۔مبارکہ منور

لکھنے والوں نے تھر پر بہت کچھ لکھا اور لکھتے رہیں گے اور پڑھنے والے پڑھتے رہیں گے. آج کچھ میں بھی لکھنا چاہتی ہوں باوجود اس کے کہ میرا اس معاملے میں مطالعہ اور مشاہدہ بہت قلیل ہے لیکن جو دیکھا وہ لکھنا چاہتی ہوں.

گزشتہ دنوں مٹھی شہر میں موجود المہدی اسپتال جانا ہوا جو کہ شاید ہمارے گاؤں سے قریباً100  کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ فاصلہ ہم نے بذریعہ موٹر سائیکل طے کیا. ویسے موٹر سائیکل پر اتنا لمبا سفر طے کرنا مشکل تو بہت ہے لیکن کیا کریں کہ ہمارے علاقے میں اس کے علاوہ اور کوئی سواری میسر بھی نہیں لہذا شکر گزاری کے ساتھ ہر بار یہ مصرعہ پڑھ کر اس پر سوار ہوتے ہیں کہ “ایک ستم کا ان سے گلہ کیا جس نے کرم فرمائے بہت”

نوکوٹ قلعہ کے قریب سے جب مشرق کی سمت مڑیں تو ریت کے اونچے نیچے ٹیلوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دکھائی دیتا ہے اور ان ٹیلوں کے ماتھے پر رقم “پیاس” زندگی کے کچھ اور ہی معانی و مطالب سے روشناس کرواتی ہے. ایسی پیاس جو جزوِ زندگی ہے کبھی بادل مہربان بھی ہوا تو بس اتنا کہ جیسے روزہ دار سے کہا جائے کہ تم اپنا آج کا روزہ افطار کرلو خدا معلوم کہ کل کا روزہ کتنا طویل ہوگا پھر یوں برستا پانی ملے نہ ملے اور عرصوں تک صرف شبنم پر ہی بسر ہو. بادل بے وفا مشہور تو ہے لیکن اس کے صحیح معنی تھر میں ہی سمجھ آتے ہیں. اور پھر یہاں کی حیات اتنی سخت جان واقع ہوئی ہے کہ پھر  واقعی شبنم پر ہی صابر و قانع ہوجاتی ہے اس بات کی گواہی تھر کے دامن میں چرتے مویشی، ان کے چرواہے، سر بلند تھوہر، کُنبھٹ کے درخت اور سرسبز آک کے پودے دیتے ہیں. بھوک و پیاس کے باجود اپنے حصے کی زندگی جفاکشی و جدوجہد سے جینا، لاغر اور زنگ کو اپنا رنگ عطا کرنے والے بدن جس پر شاید ہی کبھی پورا لباس سجا ہو بہت تندہی سے ہر حال میں جیتے ہیں.

کہتے ہیں کہ بھوک بہت بڑی بلا ہے بھوک کا مارا اپنے پرائے مال میں تمیز نہیں کرسکتا لیکن یہاں کے لوگوں نے اپنے حق میں یہ بات بھی باطل ثابت کردی کہ فاقہ چاہے کتنے وقتوں کا ہی کیوں نہ ہو لیکن پرائے مال کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے. یہاں لوگوں کے گھروں کو دروازہ نہیں ہوتا کیونکہ یہاں چوری جیسی قبیح برائی  نہیں ہوتی. مکین کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ میرے گھر کا در نہیں تو میری ا حدود کی حفاظت بھی نہیں ہوگی بلکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ میری موجودگی و غیر موجودگی میرے گھر کے حق میں یکساں ہے آنے والا گھر کی حدود سے پرے رہ کر مکین کے نام کی آواز لگاتا ہے مکین نکلا تو ٹھیک ورنہ وہ وہیں سے رخصت ہو جاتا ہے.

اپنی تمام تر کم مائیگی کے باوجود امن سے رہنا اور امن کا پیغام  دینا اخلاق کا وہ بلند منارہ ہے جس کی اس خطے میں ہمیشہ سے مثال دی جاتی ہے.

گھر سے نکلتے وقت سائل کو دینے کی غرض سے دس روپے کا نوٹ الگ کر کے رکھ لیا گھر سے نکلنے سے لیکر واپس گھر پہنچنے تک تمام سفر کے دوران مجھے کوئی سائل نہ ملا دس روپے کا نوٹ ہاتھ میں تھامے میں خود کو ہی اس طلب کی بھکاری محسوس کررہی تھی کہ کاش کوئی مجھے اس نوٹ کے لینے کی خیرات دیتا.

تھر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے قدرت نے اسے بے پناہ فیاضیوں سے نوازا ہے فیاضیوں کی تقسیم کی شرح کو اگر دیکھا جائے تو ملک کے دوسرے خطوں سے اگر یہاں ایک چیز کم ہے تو نسبت میں پانچ چیزیں زیادہ ہیں. لیکن ابھی تک وہ حکمران نصیب نہیں ہوا جو حقیقی دیانت داری سے ان وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے یہاں کی زندگی کو کشادہ اور خوشحال کرے نا صرف یہ کہ تھر کی زندگی مثالی بنے بلکہ پورے ملک کو ہی یہاں سے راحت و آرام نصیب ہو.

مضمون کا درج بالا حصہ میں نے گزشتہ سال نومبر کے آخر میں لکھا تھا اور اسی طرح لکھا پڑا رہا کسی ویب سائٹ کو نہ بھیج سکی. اس کے بعد اب لکھنا شروع کیا ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ کہاں سے شروع کروں میں جو تھر اور اس کے ارد گرد کے حالات لکھا کرتی تھی اور میں خود بھی اسی زندگی کا ایک حصہ تھی وہیں کی خاک و دھول میرے جسم پر زیور کی طرح تھے لیکن آج میں وہاں موجود نہیں ہوں. کہتے ہیں کہ جن چیزوں کو دوام حاصل ہے ان میں سے ایک چیز مسلسل تبدیلی بھی ہے اور یہ تبدیلی جب مجھ پر وارد ہوئی  تو میرا بہت کچھ تبدیل کر گئی  میرا رہن سہن، کھانا پینا، گھر، علاقہ،موسم، حتیٰ کہ میرا وقت بھی تبدیل ہو کر رہ گیا.

30 اپریل کو جب میں بچوں کے ساتھ کراچی ائیر پورٹ سے دبئی اور پھر دبئی سے فرنکفرٹ کے لیے روانہ ہوئی تو بہت کچھ ایسا تھا جو میرے لئے بالکل نیا اور انوکھا تھا. تھر کے رہائشی کے لیے تو کراچی بھی نئی  چیز ہے اور پھر کجا یہ کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ دبئی کا ائیر پورٹ دیکھنا اور پھر اس سے آگے منزل مقصود فرنکفرٹ تک آنا سب میرے مولا کے کام ہیں جس نے  صحرائے تھر کی مٹی کو یورپ کی سرزمین تک پہنچایا.

چونکہ فضائی سفر کا اس سے پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا تو کراچی ائیر پورٹ پر پیش آمدہ معاملات میں سہولت کے لیے قلی کرنے کا فیصلہ کیا جس نے چار سو روپے لیکر رسید کاٹی اور ایک ٹرالی پکڑی جس پر سامان رکھا لیکن سامان پھر بھی کچھ بچ گیا جس کے لیے اس نے دوسری ٹرالی لی اور سامان رکھنے کے بعد ہمارے حوالے کر دی کہ اس کو آپ خود دھکیلتے  لائیں اس ستم پر تلملائے تو بہت کہ اگر سامان ہم نے خود ہی لیکر جانا ہے تو آپ کو قلی کس لئے کیا؟ لیکن زبان سے حرف نہ نکال سکے اور اس کی ہدایت کے موجب بقیہ سامان خود ہی گھسیٹتے ہوئے اس کے ساتھ ہولئے. کہیں پر سامان اسکین ہوا تو کہیں پر ہم نے خود اپنی جامہ تلاشی دی اس کے بعد اگلے مرحلے میں پہنچ کر سامان کا وزن کروایا اور ٹکٹ لئے اتنا کچھ کروانے کے بعد قلی رخصت چاہنے لگا تو میں نے پوچھا اس کے بعد کیا کارروائی ہونی ہے اور کہاں ہونی ہے اتنا پوچھنا تھا کہ قلی کھل اٹھا کہنا لگا باجی آپ میرا خیال رکھو میں آپ کا رکھتا ہوں اور اس سے آگے بھی آپ کی رہنمائی کرتا ہوں لیکن آپ کو میرا خیال کرنا پڑے گا کہ ہم لوگ بھی آخر یہاں روزی روٹی کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہیں. اور اس نے پھر اپنا مطالبہ دہرایا تو میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو 300 سو روپے مزید یہ سوچ کر دیئے نامعلوم ابھی اور کتنے مرحلوں پر ہمیں اس کی رہنمائی کی ضرورت پڑے. پیسے پکڑتے ہی قلی نے کھڑے کھڑے وہیں سے حال میں ایک جانب موجود محرابی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دروازہ جس پر قائد اعظم کی تصویر لگی ہے اس  میں اندر داخل ہو جائیں میں اس سے آگے نہیں جا سکتا یہ کہہ کر اس نے پیسے جیب میں رکھے اور بھیڑ میں کہیں کھو گیا قلی کے روئیے پر افسوس کرتے ہوئے ہم خود ہی آگے بڑھے مختلف چیک پوسٹوں پر سے ہوتے ہوئے آخر کار ہم لوگ جہاز میں سوار ہونے کے مرحلے تک پہنچ ہی گئے ایک لمبے سے ٹنل سے گزر کر جہاز کے دروازے پر پہنچے تو دروازے کے دونوں اطراف موجود باوردی فضائی میزبانوں نے ہمیں غیرملکی زبان میں خوش آمدید کہا اور ہماری ٹکٹس دیکھ کر نشستوں کی نشاندہی کی مقررہ نشست پر بیٹھ جانے کے بعد ہماری ساری ٹینشن ختم ہو گئی اور لگا کہ قلعہ فتح کرلیا ہے. جہاز نے اُڑان بھری تو کچھ ہی دیر میں کھانا پیش کیا گیا جو ہمیں بالکل بھی پسند نہیں آیا سجاوٹ اچھی تھی اور کئی  قسم کی چیزیں چنی گئی تھیں لیکن کھانے میں سے جو مہک اٹھ رہی تھی وہ ہمارے ذوق سے مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے ہم نہ کھا سکے. البتہ بچوں کی ٹرے پر ان کے نام سے پرنٹ شدہ چٹ لگی ہونے کی وجہ سے بچوں نے خوب انجوائے کیا اور ایک دوسرے پر اپنے نام کا رعب جھاڑتے رہے. دبئی پہنچنے پر ہمارا اعتماد قدرے بہتر ہو چکا تھا بلاشبہ دبئی کا ائیر پورٹ بہت خوب صورت ہے لیکن ہم اس کی خوبصورتی سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکے کیونکہ ہمیں اگلی فلائٹ پکڑنی تھی اور ہم اس کے لیے سرگرداں کبھی برقی زینوں سے اوپر جاتے تو کبھی لفٹ کے ذریعہ نیچے آتے اور ایک جگہ الیکٹرک ٹرین کی سواری  کی اور دوسرے ٹرمنل پر پہنچے. دبئی میں اردو بولنے والے کافی افراد تھے لیکن بعض گلابی اردو بھی بولتے رہے. جب ہم دبئی سے رخصت ہونے لگے تو ڈیوٹی پر موجود افراد نے مسکرا کر ہمیں الوداعی سلام کہا اس بار جہاز میں نشست کی تلاش ہمارے لئے نئی  بات نہ تھی تاہم فضائی میزبان مسکرا مسکرا کر ہماری رہنمائی کرتی رہیں. روانگی سے قبل مختلف زبانوں میں  کئی قسم  کی ھدایات دی گئیں. آہستہ آہستہ جہاز چلنے لگا تو ہم سمجھے کہ اب تب میں اُڑان بھر لے گا لیکن جہاز زمین پر ہی دیر تک چلتا رہا حتیٰ کہ مجھے گمان گزرا کہ شاید یہ پیدل ہی ہمیں جرمنی تک لے جائے گا لیکن میرا یہ خیال خام ثابت ہوا اور جہاز پرواز کرنے لگا. مشروبات کے بعد ایک بار پھر کھانا پیش کیا گیا اور سارے طیارے میں وہی مخصوص مہک پھر پھیل گئی. کھانے کے ساتھ بھی مشروبات تھے اور بعض مشروبات پر انتظامیہ کو شائد مجبوراً حلال بھی لکھنا پڑا جن کے متعلق انہیں یقین تھا کہ یہ کسی مذہب میں حرام ہیں.

دبئی سے فرنکفرٹ تک کم و بیش سات گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم لوگ فرنکفرٹ ائیر پورٹ پر یہاں کے وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے سے کچھ پہلے اترے اور یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر چمک رہا تھا اور ابھی غروب ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے جبکہ ہم نے اپنے ملک میں شام ساڑھے سات بجے کبھی سورج نہیں دیکھا تھا. طیارے سے اترنے کے بعد ہمارے ساتھ جو قابل ذکر واقعہ پیش آیا وہ میرے لیے ایک یاد گار ہے. ہوا کچھ یوں کہ جب تمام تر ضروری کارروائی کے بعد ہم اپنے سامان کی تلاش میں نکلے تو ہمیں جو پہلا شخص ملا وہ کہیں اندر سے بہت سارا سامان اٹھا اٹھا کر لاتا اور باہر ایک طرف ترتیب سے رکھتاجا رہا تھا ہم سمجھے کہ شاید ہمارا سامان بھی وہیں سے ملے گا ادھر ہی کھڑے ہو گئے وہ شخص جو نیلے رنگ کے یونیفارم میں تھا ہمارے وہاں رکنے کا مطلب سمجھتے ہوئے پوچھا ? emirats ( مطلب امارات ائیر لائن سے اترے) ہم نے کہا yes تو ہال میں سامنے لیکن خاصے فاصلے پر موجود belt 55 پر جانے کو کہا. رش یہاں بھی بہت تھا باری باری سب کا سامان آگیا لیکن ہمارا نہ آیا اکثر لوگ اپنا سامان لیکر روانہ ہو گئے اور ہم یونہی انتظار میں کھڑے رہے کافی دیر بعد belt 56 پر ہمارا سامان نمودار ہوا لیکن ایک بکسہ ابھی بھی کم تھا اور دنوں بیلٹس رک گئیں. آچکا سامان باہر لے جانے کے لئے ٹرالی کو ہاتھ ڈالا  تو وہ بھی حرکت کرنے کو تیار نہیں ہوئی  میں سمجھی شائد لاک ایسا ہے جیسے کھولنے کی تیکنیک ہمیں نہیں آرہی بہت متھہ خوری کی لیکن ٹرالی پھر بھی ہاتھ نہ آئی. ہمارا تماشہ دیکھ کر انتظامیہ کا ممبر ایک گورا شخص آگے بڑھا اور آکر  کہا سلام لیکم میں نے خوش دلی سے وعلیکم السلام کہا اس کے بعد اس نے کیا کہا مجھے سمجھ نہیں اس نے پھر کہا اور مجھے پھر سمجھ نہیں آئی آخر وہ پھیکی سی  مسکراہٹ کے ساتھ کندھے اچکاتے ہوئے آگے بڑھ گیا. اس ساری صورتحال سے تھک کر شوہر کو فون کیا جو باہر ہمیں لینے آئے ہوئے تھے اور سب قصہ کہہ سنایا سن کر کہنے لگے آپ انتظار کریں میں کچھ کرتا ہوں. وہاں لگی کرسیوں پر انتظار میں بیٹھے تو معلوم ہوا کہ وہاں اتنے بڑے ہال میں ہمارے علاوہ اکا دکا افراد ہیں جن کا تعلق انتظامیہ سے تھا وہ جو جمِ غفیر تھا سب رخصت ہو چکا تھا اتنے میں وہ شخص جس نے بیلٹ پچپن کی طرف رہنمائی کی تھی وہیں اپنی جگہ سے آواز لگا کر پوچھنے لگا یہ بکس آپ کا ہے؟ جو کہ وہیں نیچے ہی پڑا تھا. میں نے کہا یس تو کہنے لگا لے جائیں یہ بات ساری میں نے اشارے ہی سے سمجھی ورنہ الفاظ تو اس کے مقامی زبان میں تھے جس سے واقفیت نہیں. اب ایک اور مشکل آن پڑی وہ 26  کلو کا بکسہ نہ اٹھانے کا نہ گھسیٹنے کا کبھی میں اور بچے مل کر اس کو اٹھاتے اور کبھی گھسیٹتے لیکن لگتا یہی تھا کہ چکنے فرش پر ہم آگے کے بجائے پیچھے جارہے ہیں. کچھ دیر وہ شخص ہمیں دیکھتا رہا پھر آگے بڑھ کر کہنے لگا اپنے شوہر سے بات کرواؤ میں نے بلا تاخیر فون پکڑا اور کال ملائی   یوفون کی سم کارڈ میں پاکستان سے چلتے ہوئے قریباً گیارہ سو بیلنس تھا لیکن قسمت خراب تھی کہ اس بار نمبر ملانے پر کمپنی نے ٹکا سا جواب دیا کہ کال نہیں جاسکتی جس پر شرمندگی اٹھانی پڑی اور اس شخص کو بتانا پڑا کہ بیلنس نہیں ہے کہنے لگا خیر ہے اس کا نمبر دو میں نے نمبر دیا اس نے اپنے موبائل فون  سے کال ملائی  کچھ دیر بات کی پھر اپنا موبائل مجھے تھما کر کہا بات کرو اور خود وہ شخص اندر کہیں چلا گیا. مجھے فون پر بتایا گیا چونکہ ٹرالی کے لئے پہلے پے منٹ کرنے پڑتی ہے جس سے کہ ہم واقف نہیں تھے لہٰذا اب ہمیں ٹرالی نہیں  مل سکتی. اس صورت میں یہ شخص کہہ رہا ہے کہ آپ بچوں سے کہہ دو میرے پیچھے آئیں میں انہیں آپ تک پہنچا دوں گا. تب تک ہمارا وہ محسن اندر سے ایک ریڑھی لے آیا جس پر سب سامان رکھا اور ساتھ آنے کا اشارہ کیا دیار غیر میں اس اجنبی کا یہ احسان دیکھ کر مجھے اپنے وطن کا وہ قلی یاد آگیا جس نے مقررہ اجرت کے علاوہ تین سو روپے مزید لے کر صرف قائد اعظم کی تصویر دکھائی تھی.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”تھر سے فرنکفرٹ تک۔۔۔مبارکہ منور

  1. ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ تحریر…تھر پارکر سے فرینکفرٹ تک کا سفر..عنوان ہی تھریوں کے لیے دلچسپ ہے.پڑھ کر مزا آیا سفر آپ کا تھا.سفرنامہ سے ہم بھی لطف اندوز ہوئے.پاکستانی قلی صاحب کی طرف سے معذرت قبول کرلیں 😂

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *